Parliament

میڈیا بول: نفرت کی سیاست اور ٹی وی چینل کا پروپیگنڈہ

میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے ایک ٹی وی شو کے دوران ہوئی ہاتھاپائی ، سوامی اگنیویش پر ہوئے حملے اور عدم اعتماد تجویز کی میڈیا کوریج پر سینئر صحافی مکیش کمار اور سینئر صحافی شیبا اسلم فہمی سے ارملیش کی بات چیت۔

عدم اعتماد تجویز : راہل گاندھی نے کہا ،وزیر اعظم مجھ سے آنکھ نہیں ملا سکتے

مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن کے پہلے عدم اعتماد تجویز پر لوک سبھا میں بحث جاری ہے۔ بحث کی شروعات ٹی ڈی پی کے جے دیو گلا نے کی۔ بی جے ڈی کے ممبر عدم اعتماد تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ عدم اعتماد تجویز پر ووٹنگ کے دوران شیو سینا غیر حاضر رہی۔

مودی حکومت کے خلاف عدم اعتماد تجویزپر جمعہ کو لوک سبھا میں ہوگی بحث

پارلیامنٹ کے مانسون سیشن کی ہنگامے دار شروعات ہوئی ہے۔ پارلیامنٹ کا سیشن شروع ہوتے ہی دونوں ایوان میں ہنگامہ شروع ہوگیا۔ لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے مودی حکومت کے خلاف عدم اعتماد تجویز کو بحث کے لیے منظور کیا ہے۔

راہل  گاندھی نے وزیر اعظم کو لکھا خط: مانسون سیشن میں خواتین ریزرویشن بل کو پاس  کیا جائے

خواتین ریزرویشن بل 2010 میں راجیہ سبھا سے پاس ہو چکا ہے لیکن گزشتہ 8 سالوں سے لوک سبھا میں اسے پاس نہیں کیا جا سکاہے۔اس بل کا مقصدخواتین کو لوک سبھا اور اسمبلی سیٹوں میں 33 فیصد ریزرویشن دینا ہے۔

ویڈیو: کیا نریندر مودی نے پارلیامنٹ میں حامد انصاری کی بے عزتی کی تھی؟

سابق نائب صدر جمہوریہ  حامد انصاری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ان کی الوداعی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی کا طریقہ’مناسب برتاؤ ‘نہیں تھا۔ اس  مدعے پر سابق نائب صدر کے او ایس ڈی گردیپ سنگھ سپل اور سی ایس ڈی ایس میں فیلو حلال […]

اپوزیشن کے سخت تیور برقرار، پارلیمنٹ میں چھٹے دن بھی نہیں ہوسکا کوئی کام

اسپیکر سمترا مہاجن نے جیسے ہی لوک سبھا کی کارروائی شروع کی تیلگو دیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس کے رکن آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دےئے جانے ، اے آئی اے ڈی ایم کے رکن کاویری آبی تنازعہ معاملہ ، تلنگانہ راشٹر سمیتی کے رکن ریاست میں ریزرویشن کا کوٹہ بڑھانے اور کانگریس رکن بینک گھپلہ کے معاملہ میں ہنگامہ کرنے لگے ۔

’ایک ملک، ایک انتخاب‘ جمہوریت کا گلا گھونٹ دے‌گا 

ایک ملک، ایک انتخاب ‘کے ورد کے پیچھے چھپے مقصد سمجھنے کے لئے بہت باریکی میں جانے کی بھی ضرورت نہیں اور کچھ موٹی موٹی باتوں سے ہی اس کا پتا چل جاتا ہے۔ ان میں پہلی بات یہ کہ ابھی تک نہ ملک میں ایک تعلیمی نظام ہے، نہ ہی سارے شہریوں کو ایک جیسی طبی سہولت مل رہی ہے۔

کیاسپریم کورٹ حکومت کے دباؤ میں ہے؟

پریس کانفرنس کے بعد پورے ملک میں ہلچل مچ گئی ہے ،آزادی اور جمہوریت کی بقا پر بحث چھڑی ہوئی ہے ،ملک کے بیشتر ماہرین قانون عدلیہ پر حکومت کے بڑھتے دباوٗکو بے نقاب کرنے والے چاروں ججز کے اس اقدام کی تعریف کررہے ہیں اور ان کو سلام کررہے ہیں۔

مرکزی حکومت کے محکموں میں 4 لاکھ سے زیادہ عہدے خالی : وزیر

جتیندر سنگھ نے کہا؛ مرکزی حکومت کے عہدوں میں خواتین کو ریزرویشن دینے کی کوئی تجویز حکومت کے پاس زیر غور نہیں ہے۔ نئی دہلی / لکھنؤ : مرکزی حکومت نے بدھ کوپارلیامنٹ میں بتایا کہ مرکزی حکومت کے مختلف محکموں  میں چار لاکھ سے زیادہ عہدےخالی ہیں۔متعلقہ […]

پارلیامنٹ میں بحث کے نام پر ہمارے آئینی حقوق کو نہیں چھینا جا سکتا : سپریم کورٹ

اگر حکومت کسی معاملے پر قانون نہیں بناتی ہے تو سپریم کورٹ اس کے لئے قدم اٹھا سکتا ہے۔ نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ کسی مسئلے پر پارلیامنٹ میں بحث کے نام پر اس کے آئینی حقوق کو نہیں چھینا جا سکتا ہے۔ چیف […]