کمیشن نے کہا کہ الیکٹورل بانڈ اسکیم اور کارپوریٹ فنڈنگ کو محدود نہ کرنے سے سیاسی جماعتوں کو ملنے والے چندے کی شفافیت پر سنگین اثر پڑےگا۔ سیاسی جماعتوں کو غیر منضبط غیر ملکی فنڈنگ کی اجازت ملےگی اور اس سے ہندوستانی پالیسیاں غیر ملکی کمپنیوں سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
مرکز اور مہاراشٹر حکومت میں بطور معاون شیوسینا کے ذریعے بی جے پی حکومت کی کافی تنقید کرنے کے باوجود شیوسینا نے آئندہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔
مودی حکومت کے ذریعے کئے گئے معاہدے کے تحت گارنٹی سے متعلق اہتماموں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سی اے جی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاہدہ ٹوٹنے کی صورت میں ہندوستان کو پہلے پنچاٹ یا ثالثی کے ذریعے سیدھے طور پر ہوائی طیارے کے فرانسیسی فراہم کنندگان کے ساتھ معاملے کو سلجھانا پڑےگا۔
وشو ہندو پریشد کو اپنی رام مندر تحریک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ اس کی مہم سے بی جے پی کو سیاسی فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کو لےکر کسی بھی طرح کی شدت پسندی مودی حکومت کے خلاف جائےگی، اس لئے اس نے مدافعتی رویہ اختیار کرتے ہوئے کچھوے کی طرح اپنے ہاتھ پاؤں سمیٹ لئے ہیں۔
کیا واقعی بہتر شرطوں پر ڈیل ہوئی؟ سی اے جی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ یہ ڈیل صرف اور صرف داسو کی شرطوں پر ہوئی۔ میک ان انڈیا کی شرط کا کیا ہوا، کچھ نظر نہیں آیا۔
یہ دونوں بل لوک سبھا سے پہلے ہی پاس ہوچکے ہیں جبکہ راجیہ سبھا میں اس کو پاس کرنے کے لیے حکومت کے پاس آج آخری دن تھا ۔ چوں کہ یہ بل بجٹ سیشن کے آخری دن بھی پاس نہیں ہوسکے اس لیے اب اس کو رد مانا جائے گا۔
ویڈیو: آج کی ماسٹر کلاس میں بابری مسجد اور اس کے متنازعہ مقام پر مندر بنائے جانے کے بارے میں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے ساتھ اپوروانندکی بات چیت۔
رام مندر کے لئے آرڈیننس کی مانگکر رہے وشو ہندو پرشد کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ رام مندر لوک سبھا انتخاب میں مدعا بنے، اس لئے انتخاب تک مندر تعمیر کی تحریک کو روکا جا رہا ہے۔
لوک پا ل کی تقرری کے مطالبے کو لے کر بھوک ہڑتال پر بیٹھے انا ہزارے کی حمایت میں بی جے پی کی اتحادی پارٹی شیو سینا نے ان سے گزارش کی ہے کہ وہ جئے پرکاش نارائن کی طرح بدعنوانی کے خلاف تحریک کی قیادت کریں۔
شاردا پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی سوروپ آنند سرسوتی نے سہ روزہ’پرم دھرم سنسد’میں رام مندر کے سنگ بنیاد کے لئے 21 فروری کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انکورواٹ مندر کی طرح ایودھیا میں ایک عظیم الشان مندر بنےگا اور بعد میں اس کو ویٹکن سٹی کی طرح درجہ دیا جائےگا۔
انا ہزارے نے کہا کہ ہڑتال تب تک جاری رہے گی جب تک مرکزی حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے کیے گئے اپنے وعدوں جیسے – لوک آیکت قانون بنانے ، لوک پال کی تقرری کیے جانے اور کسانوں کے مدعے کو سلجھانے کا کام پورا نہیں کردیتی۔
سنگھ رہنما بھیا جی جوشی نے کہا کہ جب رام مندر کو بنانے کا کام شروع ہو جائے گا تو ملک تیزی سے وکاس کرنے لگے گا۔
85سالہ اکانومسٹ اور نوبل ایوارڈ یافتہ امرتیہ سین نے کہا کہ ملک میں آئینی اداروں پر حملہ ہورہے ہیں۔اظہار رائے کی آزادی پر پابندی عائد کی جارہی ہے ،یہاں تک کہ صحافیوں کو پریشان کیا جارہا ہے۔
نریندر مودی کے ذریعے رام مندر پر آرڈیننس کو لےکر دیے گئے بیان پر وشو ہندو پریشد نے کہا کہ رام مندر پر فیصلے کے لئے ابدی انتظار نہیں کر سکتے ہندو۔ شیوسینا نے کہا کہ کیا مودی کے لئے قانون بھگوان رام سے بھی بڑا ہے۔
شیو سینا نے کہا کہ ،آج ایودھیا میں بھگوان رام اور سیاست میں بی جے پی سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی بن باس میں ہیں جبکہ اقتدار کے آکسیجن پر دوسرے ہی لوگ جی رہے ہیں ۔
حکومت سرکاری بینکوں میں ایک لاکھ کروڑ روپے کیوں ڈال رہی ہے؟ کسان کا لون معاف کرنے پر کہا جاتا ہے کہ پھر کوئی لون نہیں چکائےگا۔ یہی بات صنعت کاروں کے لئے کیوں نہیں کہی جاتی؟
الیکشن کمیشن نے گزشتہ 26 مئی 2017 کو وزارت قانون کے سکریٹری کو خط لکھکر اپنی تشویش کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد وزارت قانون نے کمیشن کے اعتراضات کو شامل کرتے ہوئے وزارت خزانہ کے محکمہ اخراجات کو تین خط بھیجا تھا۔
دہلی کے رام لیلا میدان میں وشو ہندو پرشد کی ریلی میں اتوار کو ہزاروں لوگ ایودھیا میں رام مندر بنانے کی مانگ کے ساتھ جمع ہوئے تھے۔ اس دوران آر ایس ایس کے سینئر رہنما بھیاجی جوشی نے کہا کہ جو لوگ اقتدار میں ہیں، ان کو مندر بنوانا چاہیے۔
شترمرغ کی طرح اس مسئلہ سے منہ چرانا کوئی حل نہیں ہے۔ابھی وقت ہے کہ کانگریس پارٹی کا خصوصی اجلاس طلب کر کے اپنے کارکنان کے خیالات جانے اور قرارداد لا کر ملک و قوم کے سامنے ایک نیا راستہ پیش کرے۔
اس پورے ڈرامے کا سنگین پہلویہ ہے کہ بی جے پی شایداب کشمیر کو ملک کی انتخابی سیاست کےلیے مہرے کے طور پر استعمال نہیں کرپائے گی،اس صورت میں وہ انتخابی کارڈ کو پاکستان کی طرف موڑ دے گی۔
آر ایس ایس رہنمااندریش کمار چنڈی گڑھ کی پنجاب یونیورسٹی میں منعقد ایک پروگرام’جنم بھومی سے انیائے کیوں‘میں اظہار خیال کر رہے تھے ۔
رام جنم بھومی-بابری مسجد معاملے میں پارٹی رہے ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری نے ایودھیا میں دھرم سبھا کے نام پر بھیڑ جمع کرنے کی منشا پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو ودھان بھون یا پارلیامنٹ کا گھیراؤ کرنا چاہیے اور ایودھیا کے لوگوں کو سکون سے رہنے دینا چاہیے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر عدم اعتماد کی تجویز کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں کو ڈرانے کا بھی الزام لگایا ہے۔ کانگریس رہنما کپل سبل نے جوابی حملے میں کہا کہ مودی کورٹ کے خلاف تبصرہ کر رہے ہیں ۔
ایودھیا میں رام مندر بنانے کو لے کر چل رہے تنازعہ پر بی جے پی صدر نے واضح کیا ہے کہ ان کی پارٹی عدالت کے فیصلے کا انتظار کرے گی اور ونٹر سیشن میں کوئی آرڈیننس یا بل نہیں لائے گی۔
شیوسینا نے اپنے ماؤتھ پیس میں لکھے اداریہ میں بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مندر بنانے کا مدعا آپ کے ہاتھ سے نکل گیا تو 2019 میں آپ کی روزی-روٹی کے علاوہ کئی لوگوں کی زبان بند ہو جائےگی۔
اپنے ایودھیا دورے سے ٹھیک پہلے شیو سینا چیف ادھو ٹھاکرے نے رام مندر کے مدنظر ایک نیا نعرہ دیا ہے؛ہر ہندو کی یہی پکار، پہلے مندر ،پھر سرکار۔
ہندوستان میں زیادہ تر لوگ جب ووٹ دینے جاتے ہیں، تو صرف امیدوار کی ذات اور مذہب دیکھتے ہیں نہ کہ اس کا مجرمانہ پس منظر۔
اس ادائیگی کا حساب لگانے سے پتا چلتا ہے کہ ہر لوک سبھا رکن پارلیامان کو ہر سال اوسطاً 71.29 لاکھ روپے کی تنخواہ-بھتہ ملا، جبکہ ہر راجیہ سبھا رکن پارلیامان کو اس مد میں ہر سال اوسطاً 44.33 لاکھ روپے کی رقم ادا کی گئی۔
جس وقت رافیل سودے پر بات چیت جاری تھی اسی وقت ریلائنس کر رہی تھی اس وقت کے فرانسیسی صدر کے پارٹنر کی مدد۔
پارٹی کے سینئر لیڈر اور ترجمان ایس جے پال ریڈی نے دعویٰ کیا کہ ؛یہ وزیراعظم نریندر مودی اور انل امبانی کے بیچ کا سیدھا سودا ہے۔ میں یہ کیوں کہہ رہا ہوں؟اس کی کچھ ٹھوس بنیاد ہے۔
میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سیلاب کی تباہی کی میڈیا کوریج اور اٹل بہاری واجپائی کی شخصیت کے بارے میں سینئر صحافی پورنیما جوشی اور جنتا کا رپورٹر کے مدیر رفعت جاوید سےارملیش کی بات چیت۔
یوپی کے ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ نے کہا ہے کہ اگر ایودھیا میں رام مندر کے لیے کوئی راستہ نہیں بچتا تو ایسی حالت میں بی جے پی حکومت پارلیامنٹ میں بل لاسکتی ہے۔
لوگوں کا ماننا ہے کہ آگرہ سربراہ کانفرنس اور رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ حل کرنے میں اٹل بہاری واجپائی کو کامیابی ملی ہوتی تو ملک کی صورتِحال آج کچھ اور ہوتی۔ لیکن تاریخ میں اگر مگر کی گنجائش ہی کہاں ہوتی ہے!
کانگریس کو لگتا ہے کہ اس نے بی جے پی کی کمزور نبض پکڑ لی ہے اور وہ اس کو 2019 کے عام انتخابات تک ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی ہے۔
‘ چتر ‘وزیر اعظم نے انتخاب کے لئے طےشدہ وقت سے پہلے ہی خود کو اپنی پارٹی کےانتخابی مہم کی قیادت والے لیڈر کی صورت میں بدل لیا ہے۔ سرکاری نظام اور حمایتی میڈیا کی ہمنوائی کے ذریعے عوام کو یہ یقین کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ ان کی حکومت خوب کام کر رہی ہے۔
بد عنوانی روک تھام ترمیمی بل-2018 کے تحت رشوت دینے والے کو 7 سال کی سزا یا جرمانہ یا دونوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔
2019 کے عام انتخابات کے لئے گاندھی پریوار پر لگاتار حملہ کرتے ہوئے خود کو قومی سلامتی کے واحد محافظ کے طور پر پیش کرنا ہی نریندر مودی کا سب سے بڑا داؤ ہوگا۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ اس سے پارلیامنٹ کے خصوصی اختیارات کی پامالی ہوگی۔ وزارت کے مطابق بلیک منی سے متعلق رپورٹ گزشتہ سال 21 جولائی کو پارلیامنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیج دی گئی تھی، لیکن اس کو شیئر نہیں کیا جا سکتا ہے۔
وزیر دفاع نرملا سیتارمن بول چکی تھیں کہ وہ کچھ بھی نہیں چھپائیںگی، ملک کو سب بتائیںگی۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد مکر گئیں اور کہہ دیا کہ فرانس اور ہندوستان کے درمیان خفیہ قرار ہے اور وہ معاہدے کی معلومات عام نہیں کر سکتی ہیں۔
ہمارے وزیر اعظم گفتار کے غازی ہیں۔اپنی اسی صلاحیت کی بنا پر وہ یہاں تک پہنچے ہیں۔پارلیامنٹ میں اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے اپنی اس صلاحیت کا بھرپور استعمال کیا مگر سننے والوں کے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ حقیقتاً ان سے جواب بن نہیں پڑ رہا ہے۔
RahulGandhi_Modi