مسلمانوں کی سیاسی شکست کے فلسفے سے انتخابی فہرستوں کی تطہیر تک

فوٹو: پی ٹی آئی
موجودہ حالات اور ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹوں سے کروڑوں شہریوں کے اخراج کو سمجھنے کے لیے ہمیں 2014 نہیں، بلکہ 61 برس پیچھے جا کر اس فکری سرچشمے کو دیکھنا ہوگا جہاں مسلمانوں کو سیاسی طور پرغیرمؤثر بنانے کا باقاعدہ نظریہ پیش کیا گیا تھا۔ یوں مسلمانوں کو سیاسی، انتخابی اور آئینی طور پر بے اثر اور بے اختیار بنانا محض بی جے پی کی انتخابی مجبوری یا 2014 کے بعد کا اتفاقیہ عمل نہیں ہے۔ یہ سنگھ پریوار کا کم و بیش ساٹھ سال پرانا منصوبہ ہے جس پر دہائیوں تک مختلف مراحل میں کام کیا گیا۔
ہندوستانی دارالحکومت نئی دہلی میں انتخابی فہرستوں کی مبینہ تکنیکی صفائی یا تطہیر کی کاروائی جب پچھلے ماہ شروع ہوئی، تو معلوم ہوا کہ میرا اور میری اہلیہ کا نام لسٹ سے غائب ہے۔
جہاں تک مجھے یاد آرہا تھا کہ 1998 سے میں اس لسٹ میں موجود تھا اور کئی بار ووٹ بھی ڈالے ہیں۔ بتایا گیا کہ صرف میری بیٹی کا نام لسٹ میں ہے، اور اب ثابت کرنا ہے کہ ہم اس کے والدین ہیں۔ خیر جب کسی طرح اسناد وغیرہ جمع کرواکے نام شامل ہوا تو دیکھا کہ میرے والد کا نام منوج گیلانی درج کیا گیا ہے۔
اب شاید ہی کوئی عام حالات میں ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کےلئے تگ و دو کرتا، مگر معلوم ہوا کہ پاسپورٹ کی تجدید ، بینک اکاونٹ وغیرہ اس کے ساتھ لنک کردیے گئے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک 13 کروڑ افراد کو ووٹر لسٹ سے نکالا گیا ہے۔ جب خاندانی منصوبہ بندی کے تمام روایتی طریقے ناکام ہو گئے، تو ایسا لگتا ہے کہ 30 ریاستوں میں ووٹر لسٹوں سے بیک جنبشِ قلم 13 کروڑ افراد کو خارج کر کے آبادی پر قابو پانے کا یہ سب سے ’مثالی‘ اور انوکھا طریقہ نکال لیا گیا ہے۔
اس تطہیر کو عمومی طور پر ایک معمول کا دفتری عمل قرار دے کر قبول کیا جاسکتا تھا۔ لیکن تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ فسطائیت کبھی بھی بغیر کسی فکری اور نظریاتی سانچے کے جنم نہیں لیتی۔
ہندوستان کے موجودہ حالات اور اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر) کے تحت ووٹر لسٹوں سے کروڑوں شہریوں کے اخراج کو سمجھنے کے لیے ہمیں 2014 نہیں، بلکہ 61 برس پیچھے جا کر اس فکری سرچشمے کو دیکھنا ہوگا جہاں مسلمانوں کو سیاسی طور پر غیرمؤثر بنانے کا باقاعدہ نظریہ پیش کیا گیا تھا۔ 17 مئی 1965 کو آندھرا پردیش میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے افسران کے تربیتی کیمپ میں بھارتیہ جن سنگھ کے دسویں صدر پنڈت دین دیال اپادھیائے نے ایک چشم کشا اور تاریخی خطاب کیا تھا۔
اپادھیائے اس خطاب میں نام نہاد ’مسلم مسئلے‘ پر بحث کر رہے تھے۔ انہوں نے گاندھی جی کے روحانی جانشین سمجھے جانے والے ونوبا بھاوے اور آر ایس ایس کے دوسرے سرسنگھ چالک یعنی سربراہ ایم ایس گولوالکر یعنی گرو جی کے درمیان ہونے والے ایک نجی مکالمے کو کیمپ کے تربیت یافتہ کیڈرز کے سامنے دہرایا۔
اپادھیائے نے کہا کہ گولوالکر نے ونو بابھاوے کو بتایا کہ مسلم مسئلہ کا صرف اور صرف ایک ہی راستہ ہے،’ مسلمانوں کو مکمل سیاسی شکست دینی ہے ۔ اس سیاسی شکست کے بعد ہی ہم انہیں اپنے اندر ضم یا یکجا کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔‘
جب ونوبا بھاوے نے گولوالکر کو بتایا کہ کہ سنگھ مسلمانوں کی دشمن ہے، تو گرو جی نے وہ جملہ کہا جو آگے چل کر سنگھ کی پوری سماجی فکر کا محور بن گیا۔ ’ہم مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں۔ مسلمانوں میں کچھ افراد اچھے ہو سکتے ہیں اور ہندوؤں میں کچھ برے ہو سکتے ہیں۔ لیکن غور طلب نکتہ یہ ہے کہ ایک ہندو انفرادی طور پر برا ہو سکتا ہے مگر اجتماعی طور پر وہ فطرتاً اور پیدائشی طور پر اچھا ہے۔ اس کے برعکس، ایک مسلمان انفرادی طور پر اچھا ہو سکتا ہے، لیکن اجتماعی طور پر وہ فطرتاً ہی برا ہے۔‘
یہ تاریخی مکالمہ ثابت کرتا ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی، انتخابی اور آئینی طور پر بے اثر اور بے اختیار بنانا محض بی جے پی کی انتخابی مجبوری یا 2014 کے بعد کا اتفاقیہ عمل نہیں ہے۔ یہ سنگھ پریوار کا کم و بیش ساٹھ سال پرانا بنیادی منصوبہ ہے جس پر دہائیوں تک مختلف مراحل میں کام کیا گیا۔
ہندوستان کے جمہوری اور پارلیامانی نظام میں ہندو قوم پرستوں کو ہمیشہ ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ہندوؤں میں ذات پات، لسانی و علاقائی تقسیم کے بعد مسلم ووٹرز کا سیکولر یا علاقائی پارٹیوں کے پلڑے میں ووٹ ڈالنے سے پاور کی طرف ان کے جانے کا راستہ مسدود ہو گیا تھا۔
لہذا گولوالکر کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہندو قوم پرستی کی سیاست نے تین باقاعدہ ادوار طے کیے ۔1984 کے انتخابات میں بی جے پی پارلیامنٹ میں صرف دو نشستوں پر سمٹ گئی تھی۔
اس لیے ذات پات کی تقسیم میں الجھی ہندو آبادی کو ایک مشترکہ مذہبی تشخص دینے کے لیے ایودھیا میں بابری مسجد کے تنازعہ کو ہتھیار بنادیا گیا۔ ایل کے اڈوانی کی 1990 کی رتھ یاترا اور 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی شہادت نے شمالی ہندوستان میں مذہبی پولرائزیشن کو گہرا کردیا۔
اگرچہ اٹل بہاری واجپائی کے دور میں بی جے پی اقتدار تک پہنچی، لیکن وہ ایک ایسے مخلوط اتحاد (این ڈی اے) کی محتاج تھی جس میں شامل علاقائی پارٹیاں مسلم ووٹرز پر منحصر تھیں۔ یوں سنگھ کا پہلا مرحلہ طے ہوگیا یعنی اس کو سیاسی جواز ملا، مگر ابھی تک نظریاتی حاکمیت حاصل نہ ہو سکی تھی۔
اس لیے دوسرے مرحلے میں پولرائزیشن کا سہارا لےکر اکیلے اقتدار میں آنا تھا۔ 2013 کے مظفر نگر فسادات کے بعد اتر پردیش میں نریندرمودی کے دست راست امت شاہ نے ذات پات میں بٹی ہندو برادریوں کو مسلمانوں کے خلاف ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر کھڑا کر دیا، جسے تجزیہ کاروں نے ’ریورس پولرائزیشن‘ کہا۔
سابق رکن پارلیامنٹ اور معروف صحافی شاہد صدیقی نے اپنی خود نوشت میں امت شاہ سے ہونے والی نجی گفتگو قلمبند کی ہے۔ صدیقی نے جب دریافت کیا کہ مسلمانوں کے تئیں بی جے پی کی پالیسی کیا ہوگی، تو شاہ نے کھلے لفظوں میں کہا کہ انہیں مسلم ووٹوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ اس پر کئی سال بعد ہی غور کریں گے۔
انہوں نے دو ٹوک کہا، ’انتخابات اچھے کاموں پر نہیں، بلکہ جذبات پر جیتے اور ہارے جاتے ہیں۔‘
اس فارمولے کا اصل جوہر یہ تھا کہ مسلم اکثریتی یا مسلم اثر و رسوخ والے حلقوں میں متعدد سیکولر امیدوار کھڑے کر کے مسلم ووٹ کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا جائے، جبکہ تمام غیر مسلم ووٹ بی جے پی کے ایک امیدوار کے پیچھے جمع کر دیے جائیں۔ 2014 میں جن 87 نشستوں پر مسلم آبادی 20 فیصد سے زیادہ تھی، بی جے پی نے ان میں سے 43 سیٹیں جیت لیں۔ مسلم ووٹ کی تزویراتی اہمیت کو صفر کر دیا گیا۔
سال 2019 میں پلوامہ حملے اور بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک نے پاکستان اور قومی سلامتی کو داخلی پولرائزیشن کا ایسا نعم البدل بنا دیا جس نے ہندو ووٹر کو تمام اندرونی معاشی و سماجی تضادات بھلا کر بی جے پی کو 303 نشستیں دلا دیں۔
لیکن 2024 کے عام انتخابات میں اس فارمولے کی قلعی کھل گئی۔ پاکستان کارڈ بار بار نہیں چل سکتا تھا، چنانچہ انتخابی مہم پوری طرح مسلمانوں، دراندازوں اور ہندوؤں کی دولت چھیننے کےمنفی بیانیے پر مرتکز کر دی گئی۔ اس کھلی منافرت کے باوجود بی جے پی 303 سے گر کر 240 پر آ گئی اور دہائی بعد اپنی واحد اکثریتی حاکمیت گنوا بیٹھی۔
زمینی مبصرین کا خیال تھا کہ اگر سرکاری مشینری بالخصوص انتخابی عملے کی مبینہ معاونت نہ ہوتی تو پارٹی 200 کے پار بھی نہ جا پاتی۔2024 نے بی جے پی قیادت کو خبردار کر دیا کہ ہندو یکجہتی کا نعرہ اب ہر بار اکثریت کی ضمانت نہیں بن سکتا۔
یہیں سے گولوالکر کے 1965 کے فکری حکم کے مطابق وہ خطرناک ترین تیسرا مرحلہ شروع ہوا؛ جب ووٹر کی سوچ کو اپنے حق میں نہ موڑا جا سکے، تو خود ووٹر ہی کو فہرست سے مٹا دیا جائے۔ جون 2025 کو الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ریاست بہار میں اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر) نافذ کرنے کا حکم جاری کیا۔
جواز پیش کیا گیا کہ چونکہ 2003 کے بعد بہار میں ایسی کوئی تفصیلی مہم نہیں چلی، اس لیے نقل مکانی اور اموات کے پیش نظر لسٹوں کی ‘تطہیر’ناگزیر ہے تاکہ کوئی نااہل فرد شامل نہ رہے اور کوئی اہل محروم نہ ہو۔ ایس آئی آر سے قبل بہار میں 7 کروڑ 89 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز تھے۔ابتدائی ڈرافٹ میں سے لگ بھگ 65 لاکھ ووٹرز کے نام یک جنبشِ قلم غائب کر دیے گئے۔بعد ازاں اپیلوں اور درستیوں کے نام نہاد عمل کے بعد بھی حتمی فہرست 7 کروڑ 42 لاکھ تک محدود رہی، یعنی کم و بیش 47 لاکھ ووٹرز کو مکمل طور پر منہا کر دیا گیا۔
غور طلب پہلو یہ ہے کہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے اور اپوزیشن کے مہاگٹھ بندھن کے درمیان جیت ہار کا فرق صرف 57 لاکھ ووٹوں کا تھا۔ یعنی جس فرق سے حکومت بنی، اس سے کہیں زیادہ ووٹرز لسٹوں سے کاٹ دیے گئے تھے۔
بہار کے بعد دوسرے مرحلے میں یہ مشق 12 ریاستوں تک پھیلا دی گئی، جہاں ووٹروں کی کٹوتی کے ہوش ربا اعداد و شمار سامنے آئے۔اتر پردیش، جو لوک سبھا میں 80 ارکان بھیجتا ہے، وہاں 15 کروڑ 44 لاکھ کے الیکٹوریٹ میں سے 2 کروڑ 4 لاکھ سے زائد ووٹرز فائنل لسٹ سے کاٹ دیے گئے۔ تامل ناڈو میں تقریباً 74 لاکھ نام خارج ہوئے۔
گجرات میں 68 لاکھ، مدھیہ پردیش میں 34 لاکھ 25 ہزار، راجستھان میں 31 لاکھ اور چھتیس گڑھ میں 25 لاکھ ووٹرز کی چھانٹی کر دی گئی۔لیکن اس حربے کی سب سے شاندار سیاسی کامیابی مغربی بنگال کے 2026 کے اسمبلی انتخابات میں دیکھی گئی۔ بنگال میں بی جے پی کی راہ میں ہمیشہ مسلمانوں کی 27 فیصد سے زائد آبادی رکاوٹ رہی ہے۔ بنگال میں ایس آئی آر کے تحت لگ بھگ 90 لاکھ ووٹرز کے نام کاٹ دیے گئے، یعنی کل ووٹروں کا دسواں حصہ انتخابات کے وقت لسٹ سے باہر تھا۔
مسلم اکثریتی اضلاع جیسے مرشد آباد اور مالدہ میں کٹوتیوں کی شرح غیر معمولی تھی۔بی جے پی کو 2 کروڑ 92 لاکھ ووٹ ملے اور اس نے 207 نشستیں جیت کر بنگال پر تاریخ میں پہلی بار قبضہ کیا۔ترنمول کانگریس 2 کروڑ 60 لاکھ ووٹ حاصل کر کے 80 نشستوں پر ڈھیر ہو گئی۔بی جے پی کی برتری محض 32 لاکھ 11 ہزار ووٹ تھی، جبکہ دوسری طرف 90 لاکھ ووٹرز کاٹے جا چکے تھے اور 27 لاکھ افراد اپنی بے دخلی کے خلاف الیکشن کے وقت ٹریبونلز کے چکر کاٹ رہے تھے۔
مئی 2026 کو شروع ہونے والے فیز 3 میں دہلی، مہاراشٹر، کرناٹک، تلنگانہ سمیت 16 ریاستوں کے 36 کروڑ ووٹرز کو لپیٹ میں لے لیا گیا۔ دہلی میں مجموعی الیکٹوریٹ کے 32.8 فیصد یعنی 47 لاکھ 56 ہزار نام ڈرافٹ سے باہر کر دیے گئے۔ مہاراشٹر میں 2 کروڑ 6 لاکھ سے زائد 21.14 فیصدنام نکالے گئے۔ شہروں کا حال یہ ہے کہ بنگلورو میں 45.4 فیصد، حیدرآباد میں 37.7 فیصد اور ممبئی میں 35.2 فیصد ووٹرز معطل یا خارج کیے گئے۔
ملک بھر میں مجموعی طور پر اب تک تقریباً 11 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جا چکے ہیں۔ یہ اتنی بڑی تعداد ہے جو دنیا کی کئی بڑی جمہوریتوں کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ اتفاقی ہے یا اس کے پیچھے کوئی سائنسی اور انتظامی نظام کام کر رہا ہے؟ اس کا جواب الیکشن کمیشن کے نئے مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ای سی آئی نیٹ کے ڈیزائن میں چھپا ہے۔
الیکشن کمیشن کی ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی ڈاکٹر سیما کھنہ نے ٹکنالوجی کو انتخابی شفافیت کا انقلابی ستون قرار دیا تھا۔ لیکن ستمبر 2026 میں جو حقائق سامنے آئے، اس نے ظاہر کر دیا کہ یہ سافٹ ویئر دراصل الیکٹورل رجسٹریشن افسران (ای آر او) کے اختیارات چھین کر فیصلوں کو چند مرکزی نادیدہ ہاتھوں میں منتقل کرنے کا آلہ ہے۔
؎گوا کا واقعہ اس ڈیجیٹل جبر کی کھلی دستاویز ہے۔ وہاں 97 باقاعدہ شہریوں کے نام سافٹ ویئر نے مبینہ ”لاجیکل تضاد“ کے تحت خارج کر دیے۔ جب مقامی الیکشن افسران نے زمینی تحقیق کر کے پایا کہ یہ تمام افراد قانونی طور پر مکمل حقدار ہیں، تو گوا کے چیف الیکٹورل آفیسر نے دہلی کو آٹھ بار خط لکھا کہ سافٹ ویئر میں ان ناموں کو بحال کرنے کی اجازت دی جائے۔
مگر جواب ملا کہ ای سی آئی نیٹ میں فارم 7 کے تحت ڈیلیٹ کیے گئے ناموں کو واپس لانے کی کوئی سہولت ہی نہیں رکھی گئی۔ یعنی نظام میں جان بوجھ کر ایسا تالا لگایا گیا جس میں اخراج تو ممکن ہے مگر بحالی کا کوئی دروازہ نہیں ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہ سافٹ ویئر مسلم ناموں کو از خود ڈیلیٹ کردیتا ہے اور پھر کلیم کرنے پر ہی اور افسر کی صوابدید پر دوبارہ شامل کیا جاتا ہے۔
اس تکنیکی عمل کا سب سے ہولناک چہرہ جھارکھنڈ کے ضلع گودا میں روزنامہ انڈین ایکسپریس کی 2 ستمبر 2026 کی تحقیقاتی رپورٹ نے بے نقاب کیا۔ گودا کے چار بوتھوں میں بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹس نے ووٹر لسٹوں سے ڈرافٹ میں شامل ووٹروں کے نام کاٹنے کے لیے فارم 7 کے بلک بنڈل جمع کرائے۔ جب بوتھ لیول افسران (بی ایل او) نے جانچ کی، تو پتہ چلا کہ جن ووٹروں کے نام خارج کرنے کی درخواستیں دی گئیں، وہ مسلمان تھے۔
بی جے پی کے ایک بوتھ ایجنٹ نے کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس کو مسلمانوں کے نام والے فارم دیے تھے جو اس نے نذر آتش کر دیے تھے۔
راجستھان کے الور میں مسلم نما ناموں کے خلاف مشتبہ تحریروں والے ہزاروں فارم 7 جمع ہوئے اور حیدرآباد کے بہادر پورہ میں ایک ہی جھٹکے میں 85.9 فیصد مسلم ووٹرز کے نام کاٹ دیے گئے۔
اس صورتحال سے خود الیکشن کمیشن کے اندر دراڑیں پڑ گئیں ہیں۔ انڈین ایکسپریس کی سینئر صحافی ریتیکا چوپڑا کے مطابق، الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے کم از کم 14 بار ریکارڈ پر اختلافی نوٹ لکھے کہ فارم 6 اور ڈیٹا بیس تک فیلڈ افسران کی رسائی کو آئی ٹی ونگ کے ذریعے سلب کرنا سراسر غیر قانونی اور غیر مجاز ہے۔
اگرچہ 26 ستمبر کو فل کمیشن کے اجلاس میں بعض نمائشی رعایات کا اعلان کیا گیا،مگر اس نے کمیشن کے غیر جانبداری کے پردے کو چاک کر دیا۔
ایس آئی آر محض ووٹ کاٹنے کی مہم نہیں، بلکہ یہ ہندوستان کے پسماندہ ترین طبقات بالخصوص مسلمانوں کو شہری حقوق سے محروم کرنے کی منظم کوشش ہے۔
حق معلومات (آر ٹی آئی) کے ذریعے حاصل کردہ اعداد و شمار، جن کا حوالہ ششی تھرور اور کرن تھاپر نے دیا، بتاتے ہیں کہ ٹریبونلز نے جن 82 ہزار کیسز کا فیصلہ کیا، ان میں سے 91 فیصد ووٹرز کو درست پایا گیا اور ان کے نام بحال کرنے پڑے۔
یہ 91 فیصد کا ہندسہ چیخ چیخ کر گواہی دے رہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی یہ مہم تکنیکی نہیں بلکہ دانستہ انتقامی اور غیر قانونی تھی۔ لیکن اس کا کیا علاج کہ الیکشن کے وقت 37 لاکھ سے زائد اپیلیں زیر التوا تھیں اور وہ شہری ووٹ ڈالنے سے محروم رہے۔
سب سے لرزہ خیز پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اب انتخابی فہرست سے نام خارج ہونے کا تعلق سیدھا فرد کے بنیادی وجود اور اس کی بقا کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ بنگال میں حکومت بنتے ہی بی جے پی کی وزیر اگنی مترا پال نے کھلے عام اعلان کیا کہ جن لوگوں کے نام ایس آئی آر میں ووٹر لسٹوں سے کٹ گئے ہیں، انہیں سرکاری فلاحی اسکیموں، اناج اور راشن سے محروم کر دیا جائے گا۔
البتہ جو ہندو غیر قانونی تارکینِ وطن ہیں، وہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)کے تحت درخواست دے کر مراعات کے حقدار رہیں گے۔ ووٹر لسٹ سے نام کٹنے کے بعد شہریوں کے پاسپورٹ کی تجدید روک دی گئی ہے۔ تھانوں میں ویریفکیشن کے دوران ووٹر کارڈ نہ ہونے کو شہریت پر شکوک کی بنیاد بنا دیا جاتا ہے، جیسا کہ معروف انگریزی اخبار دی ٹیلی گراف کے ایڈیٹر آر راج گوپال کے معاملے میں ہوا۔
عام شہریوں کو بینکوں کی طرف سے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں کہ وہ انتخابی فہرست میں اپنے نام کی موجودگی کے ثبوت لائیں، ورنہ ان کے اکاؤنٹس منجمد کر دیے جائیں گے۔
یوں آئین میں کسی بھی رسمی ترمیم کے بغیر ہندوستان کے اندر ایک ایسی ہولناک درجہ بندی قائم کر دی گئی ہے جس میں ایک وہ شہری ہے جس کی شہریت ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے، اور دوسرا وہ مظلوم مسلم یا پسماندہ شہری ہے جسے قدم قدم پر اپنی ہی مٹی پر اپنی وفاداری اور وجود کا دستاویزی ثبوت پیش کرنا پڑتا ہے۔ اب ذرا گولوالکر کے 1965 کے اس فکری ایجنڈے پر دوبارہ غور کیجیے کہ مسلم مسئلے کا واحد حل مسلمانوں کی مکمل سیاسی شکست ہے۔
ہندوستان کے انتخابی نقشے پر نظر ڈالیں تو ملک کے اندر لوک سبھا کے تقریباً 138 ایسے حلقے ہیں جہاں مسلم ووٹرز کی تعداد 15 فیصد یا اس سے زائد ہے، اور 87 حلقے ایسے ہیں جہاں وہ 20 فیصد سے تجاوز کرتے ہیں۔ یہ وہ نشستیں ہیں جو اتر پردیش، بنگال، بہار، آسام، مہاراشٹر اور تلنگانہ میں بکھری ہوئی ہیں۔موجودہ ووٹنگ سسٹم میں کسی حلقے میں الٹ پھیر کرنے کے لیے تمام مسلمانوں کو فہرست سے نکالنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
اگر 35 فیصد مسلم آبادی والے حلقے میں سے منصوبہ بندی کے تحت صرف 5 یا 7 فیصد مسلم ووٹوں کو فارم 7 یا ’لاجیکل ڈسرپینسی‘کے نام پر منہا کر دیا جائے اور بقیہ ہندو ووٹرز کو یکجا کر لیا جائے، تو اقلیتی آبادی کی تزویراتی قوت پلک جھپکتے ہی راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہے۔بھوانی پور میں ممتا بنرجی کی 15 ہزار ووٹوں سے شکست اور نئی دہلی میں اروند کیجریوال کا چار ہزار ووٹوں سے ہارنا اس امر کا ثبوت ہے کہ جہاں جیت کا فرق اتنا معمولی ہو، وہاں ہزاروں اور لاکھوں ووٹرز کی کٹوتی کس طرح اقتدار کا دھارا موڑ دیتی ہے۔
آج 18ویں لوک سبھا کا چہرہ دیکھیے: 15 فیصد آبادی رکھنے والے مسلمانوں کے 543 کے ایوان میں محض 24 ارکان منتخب ہو سکے ہیں، یعنی کل ایوان کا محض 4.4 فیصد۔ حکمران بی جے پی کا ایک بھی مسلم رکن پارلیامنٹ نہیں ہے۔ 1965 میں پنڈت دین دیال اپادھیائے نے آر ایس ایس کے جس کیڈر کو گرو گولوالکر کا فلسفہ پڑھایا تھا، ایس آئی آر (ایس آئی آر) کی شکل میں اس فکری مہم کا دائرہ مکمل ہو چکا ہے۔
پہلا مرحلہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو قانون ساز اداروں کی نمائندگی سے بے دخل کیا جائے۔ اور اب دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ان سے یہ طاقت بھی چھین لی جائے کہ وہ یہ طے کر سکیں کہ حکومت کون کرے گا۔
یہ معاملہ کسی الیکشن کمیشن کی کلیریکل غلطیوں کا نہیں ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے اندر آئین کا گلا گھونٹ کر ایک اکثریتی نسلی ریاست تعمیر کرنے کا سوچا سمجھا سائنسی منصوبہ ہے۔
اگر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت، آزاد ادارے اور بیدار شہری اس ڈیجیٹل اور انتخابی بے دخلی کے خلاف سینہ سپر نہ ہوئے، تو ہندوستان کے مسلمان اپنے ہی وطن میں قانونی اصطلاح میں تو شاید شہری کہلائیں گے، لیکن حقیقت میں وہ ووٹ، وقار اور وجود سے محروم ایک بے دست و پا رعایا بن کر دوسرے درجے کے شہری بن کے رہ جائیں گے۔
اور یہی وہ گھناؤنی منزل تھی جس کی نشاندہی ایم ایس گولوالکر نے 1965 کے اس تربیتی کیمپ میں کی تھی۔