اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، مگر عالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ
یہ جنگ شاید اپنے جسمانی وجود میں ختم ہو رہی ہو، لیکن اس کے سیاسی اور تزویراتی اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
یہ جنگ شاید اپنے جسمانی وجود میں ختم ہو رہی ہو، لیکن اس کے سیاسی اور تزویراتی اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
آسام بتائے گا کہ شناخت کی سیاست کتنی طاقتور ہو سکتی ہے۔ بنگال یہ دکھائے گا کہ مزاحمت کب تک قائم رہ سکتی ہے۔ تامل ناڈو اور کیرالہ یہ ثابت کریں گے کہ ترقی کا ایک متبادل راستہ بھی ممکن ہے۔ مجموعی طور پر یہ انتخابات طے کریں گے کہ ہندوستان ایک یکساں سیاسی سمت میں آگے بڑھے گا یا اپنی وفاقی اور کثیر جہتی شناخت کو برقرار رکھے گا۔
اب عالمی منظر نامے پر صورتحال یہ ہے کہ حملہ آوروں کا لگ بھگ ہر مفروضہ، ہر تخمینہ، ہر ٹرگر اور ہر حساب وکتاب بری طرح ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔ تہران کی دیواریں گرنے کے بجائے بیرونی حملے کے نتیجے میں مزید آہنی دکھائی دے رہی ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اس وقت اسرائیل کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی اورمغربی ایشیاء میں اپنی قومی و انرجی سلامتی کے تحفظ کے بھنور کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔
ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ ہیں۔
زاویہ الہندیہ وہ مقام ہے جہاں برصغیر کے مسلمانوں کی روحانی تاریخ اور فلسطین ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ ایسے میں مودی کا زاویہ الہندیہ کو نظر انداز کر کے کنیسٹ کو اولیت دینا کسی ایسے رہنما کا اشارہ نہیں تھا جو پائیدار امن، فلسطینی وقار یا گلوبل ساوتھ کی لیڈرشپ کے لیے کوشاں ہو۔ اس کے علاوہ مودی ان گنے چنے چند سربراہانِ مملکت میں بھی شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیل کا سفر کیا ہے، جب اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی میں مصروف رہا ہے۔
اگر تہران جل سکتا ہے تو انقرہ اور استنبول دوحہ، بغداد، بیروت اور مغربی ایشیا کے دیگر شہر کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ عام لوگ محسوس کرتے ہیں کہ جغرافیہ اب حفاظت کی ضمانت نہیں۔ درست نشانے والے میزائل اور ڈرون فاصلے سکیڑ دیتے ہیں۔ نقشہ ممکنہ اہداف کے جال میں بدل چکا ہے۔
سفارتی احسان فراموشی کی اس سے بدتر مثال کیا ہوسکتی ہے، جب ایران نے نازک وقت میں ہندوستان کو عالمی رسوائی سے بچایا اور بدلے میں نئی دہلی نے اس کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر مغربی طاقتوں اور اسرائیل کا دامن پکڑا۔
دہلی کی سیاسی راہداریوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا میزبان کو اپنی غذائی ترجیحات مہمان پر نافذ کرنی چاہیے؟ اور کیا ضیافت سے بھوکے پیٹ لوٹتا مہمان کسی کامیاب سفارت کاری کی علامت ہے؟ جن رہنماؤں کی عادت بھنے ہوئے گوشت، اسٹیک، پائی، گرل مچھلی اور بھرپور کورسز کی ہو، ان کے لیے سبک سبزی خور پیشکشیں کسی معمہ سے کم نہیں ہے۔
اس خودنوشت کو ایک ایسی دستاویز کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے جو بتاتی ہے کہ اقتدار کے قریب رہنے والا شخص خود کو اور اپنے ملک کو کیسے دیکھتا ہے، مگر اسے بغیر تصدیق کے قابل اعتماد تاریخی ریکارڈ ماننے سے گریز کرنا چاہیے۔
ویسے تو اس کتاب میں کئی ایسے واقعات درج ہیں، جو مودی حکومت کے لیے پشیمانی کا باعث ہیں، مگر ان میں سب سے اہم مئی 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تصادم اور اس میں وزیر اعظم کا کردار ہے۔ بجائے فوج کو کوئی ہدایت یا حکم دینے، جو وہ اکثر پاکستان کے سلسلے میں دیتے ہیں، انہوں نے بس اپنا پلہ جھاڑ کر کارروائی کرنے کا طوق فوجی سربراہ کے گلے میں ڈال دیا۔
جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں کے احوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ادارہ سازی، عصری تعلیم، ملکی معیشت میں شمولیت اور سماجی خدمت ہی وہ راستے ہیں جو اکیسویں صدی میں وقار اور برابری کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
یہ خبر کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رفح دوبارہ کھل سکتا ہے، غزہ میں ایک نازک سی امید کی لہر پھیل گئی ہے۔ امن منصوبے کے حوالے سے فلسطینی علاقوں میں گہرے اور بجا شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک محتاط امید بھی موجود ہے۔
ڈاکٹر منظور عالم ان رہنماؤں میں نہیں تھے جو ہر مسئلے کا حل محض شکایت، احتجاج یا وقتی ردعمل میں تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے شعوری طور پر شکایت کی سیاست کو ترک کیا تھا اور فکر کی تشکیل، ادارہ سازی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا یقین تھا کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، اداروں اور مسلسل محنت سے بنتی ہیں۔
حال ہی میں امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ کو خریدنے کی تجویز، حتیٰ کہ ملٹری استعمال کرنے کی دھمکی دینا اور پھر یورپی ممالک کا ردعمل، اس بات کے واضح اشارے دے رہا ہے کہ اس گریٹ گیم کا وقت آچکا ہے۔ اگرچہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو آزادی دلوانے یا اس کو امریکی کالونی بنوانے پر چین اور روس کس طرح کے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔
پنڈت بزاز نے پوری زندگی امن، مفاہمت اور مکالمے کے لیے ثابت قدمی سے جدوجہد کی۔وہ کشمیری تاریخ کے ایک عظیم کردار پنڈت پریم ناتھ بزاز کے فرزند تھے، مگر ان کو بھی بھائی چارے اور کشمیریت کے علمبردار اور ایک اصول پسند کشمیری پنڈت آواز ہونے کے ناطے وسیع احترام حاصل تھا۔
اپنی قید تنہائی کا ذکرکرتے ہوئے اس فلسطینی قیدی نے کہا کہ ان کے خیال میں قید تنہائی شخصیت مٹانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ قید تنہائی میں وہ سیل میں رینگتے ہوئے کاکروچ اور دیگر کیڑے مکوڑوں سے باتیں کرتے تھے۔ خوف تھا کہ کہیں وہ بولنا ہی بھول نہ جائیں۔
’ہمیں خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن یہ خوفناک خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دبایا گیا غصہ اور مایوسی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو نفرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک محرک درکار ہے۔’
کم لوگوں کو علم ہے کہ منموہن سنگھ نے بڑی سریلی آواز پائی تھی، وہ ‘لگتا نہیں ہے جی میرا’ اور امریتا پریتم کی نظم ‘آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول’ بڑی پرسوز آواز میں گاتے تھے۔ اردو زبان پر عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ اردو ادب اور شاعری کا بھی ستھرا ذوق رکھتے تھے۔
انٹرویو: یہودی عالم ربی ڈیوڈ فیلڈمین کے مطابق، فلسطینیوں کی تکلیف دو برس کی نہیں بلکہ 70 برس پر محیط ہے۔ اسرائیل کا وجود ہی خدا کے خلاف بغاوت کا تسلسل ہے، اور جب تک یہ بغاوت ختم نہیں ہوتی، نہ فلسطین کو سکون ملے گا اور نہ یہودیوں کو۔
بشارالاسد کے زوال کے ایک سال بعد، دنیا کے میڈیا آوٹ لیٹ ’نئے شام’ کے بارے میں مختلف اور متضاد سرخیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں سب سے بنیادی سوال یہ نہیں کہ ملک کس سمت جا رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ رات کہاں گزاری جائے۔
چالیس سال بعد سوال اب یہ نہیں ہےکہ نیلی میں کیا ہوا؟ بلکہ یہ ہے کہ ہندوستان اب اس کھلے سچ کے ساتھ کیا کرے گا؟ اگر نیلی کے قاتل سزا پاتے، تو 1984 کا سکھ مخالف قتل عام شاید نہ ہوتا۔ اور اگر سکھوں کے قاتلوں کو فوری سزا ملتی، تو 2002 کے گجرات کے مسلم کش فسادات شاید نہ ہوتے۔ یہ صرف تاریخ نہیں، بلکہ سبق ہے۔
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ صرف ایک اور آزادیِ صحافت کو خوف زدہ کرنے کی کوشش نہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جب ایک ایسا اخبار، جو دہائیوں سے کشمیر کی سیاسی اتھل پتھل، انسانی تکالیف اور حکمتِ عملی کے مباحث کو دستاویزی شکل دیتا آیا ہے، اچانک کمزور حالت میں دھکیل دیا جائے تو کیا کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔
مؤخر روداد: غزہ ٹریبونل اپنی بنیاد میں ایک شہری عدالت ہے، جس کی بنیاد لندن میں 2024 کے آخر میں ڈالی گئی۔ جب ریاستیں خاموش رہیں، جب عالمی عدالتیں بے بس ہو گئیں، جب سلامتی کونسل کی میز پر بار بار ایک ہی ملک کا ویٹو ظلم کی سیاہی کو تحفظ دیتا رہا، تو انسانوں نے خود فیصلہ کیا کہ ضمیر کی عدالت قائم کی جائے۔
ظہران ممدانی ایک نئے عہد کا نمائندہ ہے، جو میل جول سے زیادہ سچائی پر اصرار کرتا ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کو اس کی شناخت کے حوالے سے پہچانیں — ایک مسلمان، افریقی اور جنوبی ایشیائی نژاد۔ ان کا کہنا ہے؛ ہمیں اپنی شناخت چھپانی نہیں چاہیے، بلکہ اُسے عزت دینی چاہیے۔
مسلم دنیا کا کوئی اتحاد جو ناٹو کی طرح طاقتور اور تزویراتی طور پر وسیع تر عوامل کا حامل ہے، وہ بس پاکستان، افغانستان اور ایران کا اتحاد ہوسکتا ہے، جس کو ترکیہ اور وسط ایشاء کی ترک ریاستوں کی پشت پناہی حاصل ہو۔ اس سے ان سبھی ممالک کو اسٹریٹجک گہرائی بھی حاصل ہوگی اور کسی دشمن کی ہمت نہیں ہوگی کہ ان میں کسی کو نشانہ بنا سکے۔
عمر عبداللہ کی حکومت ایک امید کے طور پر شروع ہوئی تھی مگر اب وہ ایک علامت بن گئی ہے — ایسی علامت جو بتاتی ہے کہ جموں و کشمیر میں اقتدار عوام کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ مرکز کی بیوروکریسی کے شکنجے میں ہے۔ جمہوریت کا چہرہ زندہ ہے مگر روح خالی ہے۔ اور یہی اس حکومت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
یہ احساس اب مسلمانوں میں گھر کرتا جا رہا ہے کہ وہ صرف گنتی میں ہیں، قیادت میں نہیں۔اسی خلا کو اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین اور پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی پُر کرنے کے لیے پر تول رہی ہے۔
فلسطینی انتظار کررہے ہیں کہ کیا وہ دنیا کے دیگر خطوں کی طرح معمول کی زندگی بسر کرپائیں گے؟ جنگیں ملبہ چھوڑتی ہیں، اور گونج بھی۔جنگ بندیاں نہ ملبہ مٹاتی ہیں نہ گونج۔ ماہرین کہتے ہیں یہ امن نہیں، بلکہ ایک وقفہ ہے۔ مگر غزہ کے لیے وقفہ بھی زندگی ہے۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران غزہ پر جاری قتل عام نے جدید تاریخ میں انسانی تباہی کی ایسی مثال قائم کی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ہزاروں بچوں کی شہادت، براہِ راست نشر ہونے والے قتل عام، دنیا بھر میں سب سے زیادہ معذور بچوں کی تعداد اور اتنے صحافیوں کی ہلاکت کہ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم سمیت تمام جنگوں کا مجموعہ بھی اس کے برابر نہیں آتا۔
غزہ کے صحافی وہ چراغ ہیں، جو شبِ سیاہ میں بجھا دیے جا رہے ہیں۔ مگر انہی کی قربانیوں نے غزہ کی کہانی کو دنیا تک پہنچایا ہے۔ اگر یہ نہ ہوں تو دنیا اندھی ہو جائے۔ تاریخ ان کے خون کو سطر سطر لکھے گی اور آنے والی نسلیں جانیں گی کہ ظلم کے اندھیروں میں بھی کچھ لوگ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر سچ کا چراغ جلاتے رہے۔
افغانستان کی طرح یہ خطہ بھی عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں یعنی گریٹ گیم کا شکار رہا ہے۔ مغلوں اور بعد میں برطانوی حکومت نے لداخ پر بر اہ راست علمداری کے بجائے اس کو ایک بفر علاقہ کے طور پر استعمال کیا۔
پروفیسر عبدالغنی بٹ محض سیاست دان نہیں تھے، ایک استاد تھے، ادیب تھے، اور ان سب سے بڑھ کر وہ ایک ایسے شخص تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو کشمیر کے دکھوں اور خوابوں کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔
رفح کراسنگ سے ایک رپورٹ: غزہ اب صرف جنگ کا نہیں بلکہ بھوک کو ہتھیار بنانے کا معاملہ ہے۔ رفح کے گیٹ پر کھڑی خوراک انسانیت کے مردہ ضمیر پر نوحہ پڑھ رہی ہے۔ دنیا بھر کی طاقتیں، اقوام متحدہ کی قرار دادیں اور عالمی عدالتوں کے فیصلے اس بھوک کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
آر ایس ایس کے پرچارکوں میں سے ایک نریندر مودی آج ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کا اثر قومی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں نظر آتا ہے۔
سال 2014کے سیلاب کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے 80 ہزار کروڑ روپے کے ایک پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیوں کی ڈریجنگ اور پشتوں کی مضبوطی کا کام ہونا تھا۔ مگر ایک آرٹی آئی کے مطابق،ایک دہائی کے بعد بھی 31 میں سے صرف 16 منصوبے مکمل ہو پائے ہیں۔یعنی 2014 کے سیلاب سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان پر عائد کیے گئے تجارتی جرمانوں نے ہندوستانی وزرا اور اہلکاروں کو ماسکو اور بیجنگ کی طرف دوڑنے پر مجبور کردیا ہے، مگر وہ اس کو ‘اسٹریٹجک چابک دستی’کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ماسکو اور بیجنگ اس چابک دستی کو ہندوستان کی مجبوری گر دانتے ہیں اور اس کی پوری وصولی کریں گے۔
آج کا غزہ صرف بموں اور ناکہ بندیوں کی کہانی نہیں۔ یہ بھوک کی کہانی ہے۔ ایسی قحط سالی جو قحط یا آفت سے نہیں، بلکہ منصوبہ بند جبر سے پیدا کی گئی ہے۔ غزہ کے عوام کے پیٹ ہی خالی نہیں بلکہ دنیا کی روح بھی خالی ہو چکی ہے۔
اس پابندی کو ایک بڑے بیانیہ کا حصہ سمجھنا چاہیے۔یہ یاداشتوں کو کھرچنے کا عمل ہے، جو کئی دہائیوں سے جاری ہے، اگرچہ 2019 کے بعد یہ بے حد بڑھ گیا ہے۔کشمیر کے اخبارات کے آرکائیوز بند کر دیے گئے ہیں۔ پچھلے تیس سالوں میں اس خطے پر کیا قیامت برپا ہوگئی، اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
اگر ہندوستانی حکومت کے پچھلے چھ سالوں کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے، تو ان کا ایک ہی مقصد معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ریاست کی مسلم اکثریتی آبادی کو بے اختیار بناکر مجبور بنایا جائے۔