چیف الیکشن کمشنر اکیلے الیکشن کمیشن نہیں، فیصلے اکثریت سے ہوتے ہیں: سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار (درمیان میں)، الیکشن کمشنر ڈاکٹر ایس ایس سندھو (بائیں جانب) اور ڈاکٹر وویک جوشی کے ساتھ، نئی دہلی میں ایک بیٹھک کی صدارت کر رہے ہیں ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن میں فیصلے اکثریت کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر اکیلے پورے کمیشن کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب الیکشن کمشنروں کے درمیان ایس آئی آر کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔
نئی دہلی: ہندوستان کے سابق چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) ایس وائی قریشی نے جمعرات (5 نومبر) کو کہا کہ الیکشن کمیشن میں فیصلے کرنے کی بنیاد اکثریت ہونی چاہیے۔ اگر کسی معاملے پر اتفاق رائے نہیں بنتا تو تین میں سے دو الیکشن کمشنر مل کر کمیشن کا فیصلہ طے کر سکتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اکیلے الیکشن کمیشن نہیں ہوتے۔
قریشی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ضوابط کے مطابق، سب سے پہلے اتفاق رائے سے فیصلہ کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا،’چیف الیکشن کمشنر ہی الیکشن کمیشن نہیں ہیں۔ ضوابط میں پہلے اتفاق رائے سے فیصلے کی بات کہی گئی ہے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ تین الیکشن کمشنروں میں سے کوئی بھی دو، جن میں چیف الیکشن کمشنر بھی شامل ہو سکتے ہیں، کمیشن کا فیصلہ طے کر سکتے ہیں۔ اگر چیف الیکشن کمشنر اقلیت میں ہیں تو وہ کمیشن کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ‘
قریشی نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ چار مہینے سے الیکشن کمیشن کی کوئی بیٹھک نہیں ہوئی۔ ایسے میں اتفاق رائے یا اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق، وہ جمعرات کی شام کولکاتہ کے جی ڈی برلا آڈیٹوریم میں ہاشم عبدالحلیم یادگاری خطبہ دے رہے تھے۔ یہ پروگرام مرحوم سی پی ایم رہنما اور مغربی بنگال اسمبلی کے سابق اسپیکر ہاشم عبدالحلیم کے نام سے قائم ایک فاؤنڈیشن کی جانب سے ہر سال منعقد کیا جاتا ہے۔
قریشی کا یہ بیان دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمیشن کے تینوں ممبرکے درمیان مئی سے اگست تک کوئی مکمل بیٹھک نہیں ہوئی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے مبینہ یکطرفہ فیصلوں پر 10 مہینوں میں باضابطہ طور پر 14 اعتراض کیے تھے۔
یہ اختلافات متنازعہ ایس آئی آرکے دوران کیے گئے فیصلوں کو لے کر تھے۔ اس عمل کے تحت 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ سے زیادہ نام ہٹائے گئے۔
اعتراضات میں ووٹر رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے قانونی فارم 6 میں تبدیلی، ووٹر فہرستوں سے متعلق سافٹ ویئر کو دہلی میں مرکزی سطح پر محدود کرنا اور دیگر الیکشن کمشنروں کو فیصلوں سے آگاہ نہ کرنا جیسے معاملے شامل تھے۔ اس کے علاوہ کمیشن کی منظوری کے بغیر کام کی تقسیم سے متعلق احکامات جاری کرنے اور مغربی بنگال میں 16.10 لاکھ مبینہ غیر مجاز یا فرضی اپیلوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا تھا۔
قریشی نے 2008 کے جموں و کشمیر الیکشن کی مثال دی
قریشی نے الیکشن کمیشن میں اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے طریقہ کار کی وضاحت کے لیے 2008 کے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کی مثال دی۔
اس وقت این گوپال سوامی چیف الیکشن کمشنر تھے، جبکہ قریشی اور نوین چاولہ دیگر دو الیکشن کمشنر تھے۔
یہ انتخابات امرناتھ اراضی منتقلی تنازعہ کے بعد ہوئے تھے۔ اس تنازعہ کے نتیجے میں وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کی حکومت نے بعد میں اراضی کی منتقلی کا حکم واپس لے لیا تھا۔ آزاد نے 7 جولائی 2008 کو استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد ریاست میں صدر راج نافذ ہو گیا تھا۔
دسمبر میں ہوئے انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کے لیے کشمیر کا دورہ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، پی ڈی پی رہنما محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے کمیشن سے کہا تھا کہ تشدد کے حالات میں انتخابات کرانا ممکن نہیں ہوگا۔
قریشی کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر گوپال سوامی بھی اس رائے سے متفق نظر آ رہے تھے۔ تاہم قریشی اور چاولہ کا خیال تھا کہ الیکشن طے شدہ وقت پر ہی ہونا چاہیے۔
قریشی نے کہا،’ہم نے کہا کہ الیکشن ابھی کرا لینے چاہیے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا۔ مستقبل میں حالات اور غیر یقینی ہو سکتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ گوپال سوامی نے اکثریت کی رائے قبول کر لی تھی۔ قریشی کے مطابق، ’انہوں نے اس فیصلے کو اتفاق رائے سے لیا گیا فیصلہ قرار دیا اور آگے بڑھ کر قیادت کی۔ انتخابات میں 60 فیصد سے زیادہ ووٹنگ ہوئی۔ یہ ایک تاریخی انتخاب تھا۔‘