ایس آئی آر: وکیلوں کی تنظیم نے سابق ججوں پر مشتمل انکوائری کمیشن بنایا، دسمبر میں رپورٹ

علامتی تصویر: پی ٹی آئی
لائرز ایسوسی ایشن فار کانسٹی ٹیوشن نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس اے کے پٹنایک اور مدن بی لوکور سمیت پانچ سابق ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ججوں کا یہ پینل ایس آئی آر کی آئینی اور قانونی حیثیت، اس کے طریقہ کار اور اہل ووٹروں پر اس کے مجموعی اثرات کی جانچ کرے گا۔
نئی دہلی:الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں میں کیے گئےایس آئی آرکے آزادانہ جائزے کے لیے لائرز ایسوسی ایشن فار کانسٹی ٹیوشن (ایل اے ایف سی)نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس اے کے پٹنایک اور مدن بی لوکور سمیت پانچ سابق ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔
وکیلوں کی اس تنظیم نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ شہریوں کی جانب سے ایس آئی آر کے طریقہ کار اور اس کے نتائج کے حوالے سے اٹھائے گئے خدشات کے بعد کیا گیا ہے۔ ایس آئی آر کی شروعات 2025 میں بہار سے ہوئی تھی اور اس کے بعد سے یہ 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔
جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس بدر دریز احمد، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس ریکھا شرما اور پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس انجنا پرکاش بھی اس آزاد انکوائری کمیشن کا حصہ ہوں گی۔
ایل اے ایف سی نے کہا کہ یہ جج ایک آزاد انکوائری کمیشن کے طور پر کام کریں گے اور دسمبر تک ایس آئی آر سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔ یہ جانچ خودمختار طور پر کی جائے گی۔ پانچ ججوں کا یہ پینل ایس آئی آر کی آئینی اور قانونی حیثیت، اس کے طریقہ کار اور اہل ووٹروں پر اس کے مجموعی اثرات کا جائزہ لے گا۔
ایس آئی آر کے تحت ملک بھر میں 13 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کوڈرافٹ ووٹر فہرستوں سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ان میں تقریباً 5.8 کروڑ ایسے ووٹر شامل ہیں جن کے نام 10 ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ڈرافٹ فہرستوں میں شامل نہیں ہو سکے۔ پورے ملک میں خارج کیے گئے ووٹروں کی حتمی فہرست ابھی شائع نہیں ہوئی ہے۔
دی انڈین ایکسپریس نے حال ہی میں الیکشن کمیشن کے اندر ایس آئی آر کے معاملے پراندرونی اختلافات کے بارے میں رپورٹ شائع کی تھی۔
سپریم کورٹ نے پہلے کہا تھا کہ اگر ووٹر فہرستوں سے بڑے پیمانے پر نام حذف کیے گئے تو وہ اس معاملے میں مداخلت کرے گا۔ تاہم، حال ہی میں عدالت نے مغربی بنگال میں ہونے والے دو ضمنی انتخابات سے قبل ایک درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ نندی گرام اور ریجی نگر، جہاں ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں، وہاں تقریباً 18,000 ووٹروں کی اپیلیں ڈرافٹ ووٹر فہرستوں میں نام شامل نہ کیے جانے کے خلاف زیر التوا تھیں۔
بار اینڈ بنچ کے مطابق، چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی)نے کہا تھا،’یہ صرف ضمنی انتخابات ہیں، بس۔‘
آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے سے متعلق ایک درخواست پر سماعت ہونے والی ہے۔ اس دوران دہلی، ممبئی، لکھنؤ اور دیگر مقامات پر جمعہ( 2اکتوبر) کو ہوئے مظاہروں میں گیانیش کمار کا استعفیٰ مظاہرین کے اہم مطالبات میں شامل تھا۔
اس انکوائری کمیشن کے دائرے میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کیا ایس آئی آر کے ذریعے تمام اہل شہریوں کے نام ووٹر فہرستوں میں برقرار رکھے جا سکتے ہیں اور ساتھ ہی نااہل افراد کے نام مناسب طریقے سے ہٹائےجا سکتے ہیں۔اس مقصد کے لیے ملک بھر میں عوامی سماعتیں منعقد کی جائیں گی۔ کمیشن کے مرکزی اور علاقائی بنچ ان عوامی سماعتوں کے لیے ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کریں گے۔
ایل اے ایف سی نے کہا کہ کمیشن متاثرہ شہریوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور ماہرین کے بیان سنے گا۔
کمیشن ملک بھر میں ووٹر فہرستوں میں شامل کیے گئے اور حذف کیے گئے ناموں کے حوالے سے ایک الگ ریسرچ سیل بھی قائم کرے گا اور اس کی رپورٹ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرے گا۔ اس کام میں ایک قانونی ٹیم مدد کرے گی۔
سینئر وکیل کپل سبل، راجو رام چندرن، ریبیکا میمن جان اور ورندا گروور کے ساتھ پرشانت چندر سین، چندر ادے سنگھ، وریشہ فراست اور پرشانت بھوشن کمیشن کے قانونی مشیروں میں شامل ہوں گے۔