امریکہ میں ہندوستانی  وزیر خارجہ کا انتباہ – آنے والے مہینوں میں ’بڑے غذائی بحران‘ کا خدشہ

نیویارک میں وزیر خارجہ ایس جئے شنکر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقد ایک بات چیت کے دوران کہا کہ روس – یوکرین جنگ اور ایران – خلیج تنازعہ کے گلوبل ساؤتھ کی معیشتوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ آنے والے مہینوں میں ایک بڑا غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

نئی دہلی:وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں ’بڑا غذائی بحران‘ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یوکرین اور ایران سے متعلق جاری تنازعات کی وجہ سے دنیا پہلے ہی کھاد کی شدید قلت کا سامنا کر رہی ہے اور ’گلوبل ساؤتھ‘ (ترقی پذیر ممالک) کی معیشتوں کے لیے یہ صورتحال ’انتہائی دباؤ والی‘ ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، سوموار کو نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کے زیراہتمام ایک بات چیت کے دوران جئے شنکر نے کہا کہ یوکرین جنگ اور ایران-خلیج تنازع کے گلوبل ساؤتھ کی معیشتوں پر ’تباہ کن اثرات‘ مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا،’…یہ ہمارے لیے تشویش کی بات ہے۔ اگر آپ ان دونوں تنازعات-یوکرین اور اب ایران-خلیج تنازعہ—کو دیکھیں تو ان کا گلوبل ساؤتھ کی معیشتوں پر واقعی بہت برا اثر پڑا ہے۔‘

جئے شنکر نے کہا کہ توانائی کی صورتحال خصوصی طور پر باعث تشویش ہے، کیونکہ ’بازار میں سپلائی بہت کم ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تیل کی فراہمی کو متاثر کرنے والے سیاسی فیصلے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور ایسے وقت میں قیمتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں جب ممالک کو قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا،’اس کا ایک حصہ دراصل تیل کی سپلائی کے تحفظ سے متعلق ہے اور دوسرا حصہ تیل کی سپلائی کی سیاست سے۔ دونوں ایک دوسرے کو متاثر کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں دوہرا بحران یا اس سے بھی زیادہ شدید بحران پیدا ہو رہا ہے۔‘

جئے شنکر نے غذائی اجناس اور کھاد کی کمی کا ذکر کیا

عالمی غذائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جئے شنکر نے کہا کہ کچھ بڑے اناج ایکسپورٹ کرنے والے ممالک اپنی کھیپیں باہر نہیں بھیج سکیں گے، خصوصی طور پر بحیرۂ اسودکے راستے سے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کو کھاد کی شدید قلت کا سامنا ہے، کیونکہ اس کے بڑے پیداواری مراکز مغربی ایشیا اور روس میں ہیں اور وہاں پیداوار متاثر ہوئی ہے۔

جئے شنکر نے کہا کہ اگر اس کے ساتھ سوپر ال نینوجیسی موسمیاتی صورتحال بھی پیدا ہو جائے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’آنے والے مہینوں میں ایک بڑے غذائی بحران کے پیدا ہونے کا امکان ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ دباؤ صرف خوراک اور کھاد کی فراہمی  تک محدود نہیں ہے بلکہ توانائی اور مالیاتی شعبے بھی صورتحال کو اور مشکل بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’اگر توانائی کی شدید کمی ہو اور اس کے ساتھ خوراک اور کھاد کا دباؤ بھی ہو، اور مالیاتی شعبہ بھی دباؤ میں ہو-کیونکہ جب بھی کوئی تنازعہ ہوتا ہے تو سرمایہ محفوظ سمجھی جانے والی منڈیوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور گلوبل ساؤتھ سے باہر نکل جاتا ہے-تو اس کا نتیجہ مجموعی  طور پر انتہائی دباؤ والی صورتحال کی صورت میں نکلتا ہے۔‘

’ممالک کو اتنا خود غرض نہیں ہونا چاہیے‘

جئے شنکر نے کہا کہ پالیسی ساز اپنے فیصلوں کے وسیع تر نتائج کو یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کر سکتے کہ کہیں اور معاشی مشکلات پیدا کرنا ان کا مقصد نہیں تھا۔

انہوں نے کہا،’ممالک کو اتنا خودغرض نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ہی دنیا میں رہیں، اپنا فیصلہ کریں اور کہیں کہ ’دوسروں کی زندگی مشکل بنانا میرا مقصد نہیں تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’صحیح سمجھ بوجھ‘ کے ذریعے یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ممالک کی بنیادی ضروریات کو نظر انداز نہ کیا جائے، جس کے نتیجے میں وہ مشکلات کا شکار ہو جائیں۔’اور یہی ہماری تشویش ہے۔‘

توانائی کے بحران سے عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے

جئے شنکر نے یہ بھی کہا کہ توانائی کا بحران سیاسی عدم استحکام کو فروغ دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہم یوکرین جنگ کے بعد اسے پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔ ہم نے اپنے پڑوس میں اس کے براہ راست نتیجے کے طور پر سیاسی عدم استحکام دیکھا ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ ایران اور خلیج میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسے مزید بڑھا دے گا اور صورتحال کو اور سنگین کر دے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ عالمی تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دباؤ کے باوجود کچھ ممالک اپنی آزادی اور خودمختاری برقرار رکھیں گے، جبکہ دیگر ممالک کے لیے ایسا کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’کچھ دوسرے ممالک کے لیے ایسا کرنا مشکل ہوگا۔ اس لیے ہم میں سے جو ممالک خودمختار ہیں، ہم چاہیں گے کہ ایسے اور زیادہ ممالک ہوں جو خودمختار رہیں۔ لیکن یہ کوئی صاف صاف ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ والی صورتحال نہیں ہے۔ یہ معاملے اور اس میں شامل داؤ پر منحصر ہوگا۔ ایسے معاملے ہوں گے جہاں ممالک کچھ سمجھوتے کریں گے۔ ایسے معاملے بھی ہوں گے جہاں وہ مزاحمت کریں گے۔‘