حراست کی خوفناک رات: پٹائی، پرائیویٹ پارٹس پر چوٹ، فون چھینے اور نابالغوں کو بھی نہیں بخشا

گزشتہ 11 اکتوبر کی رات، دہلی پولیس کے ذریعے پنڈوالان خوردڈٹینشن سینٹر میں رکھے گئے لوگ بند گیٹ کے پیچھے سے اپنے وکیلوں سے بات کرتے ہوئے۔ (تصویر: ارینجمنٹ)
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ پر ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران دہلی پولیس کناٹ پلیس اور جنتر منتر سے حراست میں لیے گئے کم از کم 50 لوگوں، جن میں نابالغ بھی شامل تھے، کو سینٹرل دہلی سے تقریباً 40 کلومیٹر دور پنڈوالان خورد کے ایک کمیونٹی سینٹر لے گئی۔ حراست میں لیے گئے لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ان کی پٹائی کی، پرائیویٹ پارٹس پر چوٹ پہنچائی، کئی لوگوں کے فون چھینے اور اس سے احتجاج کی تصویریں اور ویڈیو ڈیلیٹ کر دیے۔
نئی دہلی:چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر اتوار (11 اکتوبر) کو ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران دہلی پولیس نے لگاتار دوسرے دن مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی۔
کناٹ پلیس اور جنتر منتر سے حراست میں لیے گئے کم از کم 50 لوگوں کو، جن میں نابالغ بھی شامل تھے، سینٹرل دہلی سے تقریباً 40 کلومیٹر دور پنڈوالان خورد کے ایک کمیونٹی سینٹر میں لے جایا گیا۔ دی وائر سے بات کرنے والے حراست میں لیے گئے لوگوں نے بتایا کہ دہلی پولیس نے ان پر بہت زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔
حراست میں لیے گئےلوگوں نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کی پٹائی کی، ان کے پرائیویٹ پارٹس پر چوٹ پہنچائی، کئی لوگوں کے فون چھین لیے اور ان کے موبائل فون کی گیلری سےاحتجاجی مظاہروں کی تصویریں اور ویڈیو ڈیلیٹ کر دیے۔ مظاہرین کو پہلے چھاؤلا پولیس تھانے لے جایا گیا اور پھر پنڈوالان خورد کے ایک کمیونٹی سینٹر میں لے جایا گیا، جہاں انہیں وکیلوں اور طبی امداد تک رسائی نہیں دی گئی۔
بعد میں پنڈوالان خورد کے کمیونٹی سینٹر پہنچنے والے وکیلوں نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکار انہیں حراست میں لیے گئے لوگوں سے ملنے نہیں دے رہے تھے، جبکہ سپریم کورٹ نے اتوار کو ہی حکم دیا تھا کہ وکیلوں اور صحافیوں کو اپنے فرائض انجام دینے سے نہیں روکا جا سکتا۔
تیس سالہ وکیل ارجن انی کرشنن بھی حراست میں لیے گئے لوگوں میں شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کناٹ پلیس میں اپنے دوستوں کے ساتھ تھے۔ شام تقریباً چار بجے انہوں نے دیکھا کہ کچھ مرد پولیس اہلکار ایک جوڑے کو گھسیٹ کر لے جا رہے ہیں اور وہاں کوئی خاتون پولیس اہلکار موجود نہیں تھی۔ جب انی کرشنن اور ان کے دوستوں نے اس پر اعتراض کیا، تو انہیں بھی حراست میں لینے والی بسوں میں بٹھا دیا گیا۔
انی کرشنن نے بتایا،’وہ ہمیں کناٹ پلیس میں پنڈ بلوچی ریستوراں کے پاس ایل آئی سی کی عمارت کے نزدیک ایک سنسان سڑک پر لے گئے۔ اس سڑک پر چاروں طرف بیریکیڈ لگے ہوئے تھے۔ انہوں نے ہمیں فون نکالنے اور مدد مانگنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے ہمیں سڑک پر پانچ قطاروں میں بٹھایا، ہر قطار میں 10 لوگ تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہمیں گولی مارنے کے لیے قطار میں کھڑا کیا گیا ہو۔ ہمیں لگا کہ وہ ہمیں گولی مار دیں گے۔ اس گروپ میں نابالغ بھی تھے، جن کی عمر شاید 16 سے 17 سال رہی ہوگی۔‘
انہوں نے مزید کہا،’اس کے بعد پولیس ان لوگوں کی پہچان کرنے لگی، جنہیں انہوں نے پہلے ویڈیو بناتے یا تصویریں لیتے ہوئے دیکھا تھا۔ ان کے فون چھین لیے گئے۔ پولیس نے ہم سے فون کے پاس ورڈ مانگے۔ جب لوگوں نے پاس ورڈ دینے سے انکار کیا تو ان کی پٹائی کی گئی۔‘
انی کرشنن کے مطابق، ایک شخص کا فون ضبط کرنے کے بعد کئی پولیس اہلکار اس کی گیلری میں موجود تصویریں اور ویڈیودیکھتے ہوئے ’ہنس رہے تھے‘۔ حراست میں لیے گئے لوگ بار بار ان سے ایسا نہ کرنے کی درخواست کر رہے تھے، لیکن اس کے باوجود پولیس اہلکار ان کی پرائیوسی کی خلاف ورزی کرتے رہے۔

یہ حراست میں لیے گئے لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کی شروعات محض تھی۔
انی کرشنن کے مطابق، اس کے بعد دہلی پولیس کی ایک نیلی وین وہاں پہنچی۔ اس میں پہلے سے لوہے کی ریلنگ اورکمپارٹمنٹ بنے ہوئے تھے۔ حراست میں لیے گئے لوگوں کو قطار سے نکال کر ان میں دھکیل دیا گیا۔
انہوں نے کہا،’پولیس اہلکار ایک قطار میں کھڑے ہو گئے اور ہمیں ایک دوسرے کے پاس سے آگے بڑھاتے ہوئے تھپڑ مارنے لگے۔ انہوں نے ہمارے پرائیویٹ پارٹس پر مارا اور بری طرح پیٹا۔ ہمارے ساتھ موجود نابالغوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ہم بھاگ بھی نہیں سکتے تھے، کیوں کہ وین میں جیل جیسی لوہے کی ریلنگ والے کمپارٹمنٹ تھے۔ کہیں جانے کی جگہ نہیں تھی۔ یہ بہت بھیانک تھا۔‘
بیس سالہ ایک طالبعلم نے، جنہوں نے اپنی پہچان ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، بتایا کہ انہیں بھی جنتر منتر کے پاس سے اسی طرح حراست میں لیا گیا اور اس بس میں بٹھا دیا گیا، جس میں پہلے ہی درجنوں لوگ موجود تھے۔
انہوں نے بتایا،’پولیس نے لوگوں کو پیٹا اور ان کے فون چھین لیے۔ پولیس نے کہا کہ ڈٹینشن سینٹر میں فون واپس کر دیے جائیں گے۔ میں نے اپنا فون انہیں نہیں دیا اور اسے اپنے بیگ میں ہی رکھا۔‘
طالبعلم نے ان بسوں کا موازنہ جیل سے کیا۔ اس نے بتایا کہ ہر شخص کو پانچ پولیس اہلکاروں نے باری باری سے پیٹا۔ انہوں نے مزید کہا، ’میرے چہرے پر تھپڑ مارا گیا۔ انہوں نے میرے سر پر مارنے کی کوشش کی، لیکن میں ہٹ گیا۔ لیکن، میرے پورے جسم پر چوٹیں آئی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا،’اس کے بعد جب بس چلی تو ہمیں یہ بھی سمجھ نہیں آیا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ آخرکار ہمیں اس جگہ لے جایا گیا، جس کے بارے میں بعد میں پتہ چلا کہ وہ پنڈوالان خورد کا کمیونٹی سینٹر تھا۔ وہاں کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ ہم نے اپنے فون واپس مانگے، کیوں کہ اگر فون ان کے پاس ہیں تو وہ ہماری جانکاری کا کسی بھی طرح استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن انہوں نے فون واپس نہیں دیا۔‘
خبروں کے مطابق، حراست میں لیے گئے لوگوں میں صحافی ایم راج شیکھر بھی شامل تھے، جو دی وائر اور دیگر آزاد میڈیا اداروں کے لیے باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔
انی کرشنن نے بتایا کہ اس کے بعد انہیں دوارکا کے چھاؤلا تھانے لے جایا گیا، جہاں بس کچھ دیر کے لیے رکی۔ پوری شام حراست میں لیے گئے لوگوں کواس بات کی کوئی جانکاری نہیں تھی کہ انہیں لے جا رہی گاڑیاں کہاں جا رہی ہیں۔
انی کرشنن نے کہا،’انہوں نے ہمیں کوئی جانکاری نہیں دی کہ وہ ہمیں کہاں لے جا رہے ہیں یا ہمیں حراست میں کیوں لے رہے ہیں۔‘
انی کرشنن نے بتایا کہ جن لوگوں کے پاس فون تھے، وہ اپنے دوستوں اور وکیلوں کو جانکاری دے پائے، لیکن نابالغ کافی الجھن میں اور ڈرے ہوئے تھے۔ انی کرشنن نے کہا،’وہ بار بار ہم سے پوچھ رہے تھے کہ ہمیں کہاں لے جا رہے ہیں، کیا ہوگا؟‘
انی کرشنن نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس نے حراست میں لیے گئے سارے لوگوں کی تفصیلات درج کیں، جن میں نابالغ بھی شامل تھے۔ ان کی عمر کی تصدیق بھی دو مرتبہ کی گئی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ واقعی نابالغ ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پولیس کو پتہ تھا کہ وہ نابالغوں کو حراست میں لے رہی ہے۔
فہد ایم خان اور ان کے ساتھی گورو سائیکل والا رات آٹھ بجے کے بعد کمیونٹی سینٹر پہنچے۔ انہیں وکیلوں کے ایک گروپ میں شیئر کیے گئے پیغام سے پتہ چلاتھا کہ حراست میں لیے گئے لوگوں کو وہاں لے جایاگیا ہے۔ تاہم، اسی صبح سپریم کورٹ کی جانب سے وکیلوں کو اپنے فرائض انجام دینے کی اجازت دینے کے حکم کے باوجود انہیں کمیونٹی سینٹر کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
خان کی جانب سے دی وائر کے ساتھ شیئر کیے گئے ویڈیو میں دونوں وکیل کمیونٹی سینٹر کے لوہے کے دروازے کے باہر کھڑے ہو کر پولیس اہلکاروں کو آواز دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ پولیس سے حراست میں لیے گئے لوگوں سے ملنے کی اجازت مانگتے ہیں اور سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔
خان نے دی وائر کو بتایا، ’اس کے بعد ہم نے پولیس کنٹرول روم کی ایک وین بلائی۔ جب وہ پہنچی تو ہم اس کے ساتھ اندر گئے۔‘
خان نے کہا کہ ان کے وہاں پہنچنے کے بعد ہی گھائلوں کو میڈیکل جانچ کے لیے لے جایا گیا۔ جن لوگوں کے فون چھین لیے گئے تھے، ان میں سے کئی اب پولیس میں شکایت درج کرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، خان نے بتایا کہ چھاؤلا پولیس تھانے کے انچارج اور دوارکا کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) کو بھی شکایت بھیجی جا رہی ہے۔
تاہم، مظاہرین کو حراست میں لینے کی یہ کارروائی کئی بنیادوں پر اب بھی غیر قانونی بنی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ صرف سپریم کورٹ کا حکم نہیں، بلکہ حراست میں لیے گئے لوگوں کے ساتھ کیا جانے والا سلوک بھی ہے۔
خان نے کہا،’یہ حراست غیر قانونی تھی، کیوں کہ حراست میں لینے کی وجوہات بتانے والا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ خواتین کو حراست میں لیا گیا اور غروب آفتاب کے بعد بھی انہیں حراست میں رکھا گیا۔ نابالغوں کو حراستی مراکز میں رکھا گیا، فون چھین لیے گئے اور لوگوں کی پٹائی کی گئی۔ یہ سب غیر قانونی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا،’اس کے علاوہ، اس بات کا کیا جواز ہے کہ آپ لوگوں کو سینٹرل دہلی سے اٹھا کر 40 کلومیٹر دور چھوڑ دیں، جہاں سے وہ اپنے آپ واپس نہیں لوٹ سکتے؟ سپریم کورٹ کے حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وکیل اور صحافیوں کو اپنے فرائض انجام دینے سے نہیں روکا جا سکتا۔‘
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔