وزیر داخلہ امت شاہ نے آبادیاتی تبدیلی کے جائزے کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کو سرحدی علاقوں،میٹروپولیٹن سٹی اور صنعتی شہروں میں آبادی کے ڈھانچے میں آئی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے کی ہدایت دی۔ اس دوران، کمیٹی میں کسی ماہر آبادیات کے شامل نہ ہونے پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
بی جے پی نے خواتین کے لیے ریزرویشن لاگو کرنے کے لیے 2011 کی مردم شماری کو بنیاد کیوں بنایا، یہ سوال مسلسل اٹھ رہا ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد حاشیائی طبقے کی تعداد میں اضافے سے او بی سی خواتین کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ تیز ہو سکتا ہے۔ اسی طرح حد بندی کے حوالے سے بھی اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ پہلے ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے، اس کے بعد ہی حد بندی کی جائے۔
لوک سبھا میں مرکزی وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ’ گھروں کی کوئی ذات نہیں ہوتی‘- سننے میں ایک سادہ سا بیان لگ سکتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ اس سچائی سے آنکھ چرانے جیسا ہے، جسے ملک کا ایک بڑا حصہ روز جیتا ہے۔ آج بھی ملک کے کئی حصوں میں بستیاں ذات کی بنیاد پرمنقسم ہیں اور یہ تفریق صرف سماجی رویوں تک محدود نہیں ہے۔