ادبستان

یہ کون سا راج دھرم ہے؟

بیدبا فیلسوف نے اپنی چپی توڑی اور کہا ،سن اُو راجن اسلاف کے قصے اور کہانیاں اس لئے بیان کی جاتی ہیں کہ آنکھ والے عبرت حاصل کر سکیں۔

hindu-modiجب کلیلہ نے بیدبا فیلسوف سے پوچھا کہ گروور ‘راج دھرم’ کیا ہوتا ہے؟ تو بیدبا نے کہا ہے راجن !راجہ کا راج دھرم یہ ہے کہ وہ اپنی پرجا کے دکھ سکھ میں برابر کا شریک ہو ۔اپنے سے زیادہ ان کا خیال رکھے۔

کہتے ہیں یہاں سے کوسوں دور پورب میں ایک دیش ہے،ایودھیا؛جہاں شوریہ ونشی گوتر کے راجا راج کیا کرتے تھے۔ان میں سب سے زیادہ مشہور دشرتھ کےپتررام ہوئے۔جن کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ اپنی ریاست میں عام آدمی  کا بہروپ بھر کر نکلتے اور پرجا کے حال سے واقف ہوا کرتے تھے،وہیں بیٹھا دمنہ جو بیدبا کی باتوں کوغور سے سن رہا تھا، اچانک بول پڑا ہم نے بھی ان کے عدل و انصاف کے قصے اپنی دادی اور نانی سے خوب سنے ہیں۔کہتے ہیں ان کے دورحکومت میں بھیڑ اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے،اور خوش و خرم زندگی بسر کرتے تھے۔طاقت ور ہو یا  کمزور سب برابر تھے،اکثریت اور اقلیت کا  کوئی فرق نہیں تھا،اکثریت کی آستھا کو اقلیتوں پر تھوپنا تو دور اس کے بارے میں سوچنا بھی گناہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی انہیں مریادا پرش اتم  بھگوان شری رام کے نام نامی سے یاد کیا جاتا ہے،اور جب تک اس دھرتی پر انسان رہے گا ان کا نام جپتا رہے گا۔وہیں زاہدمرتاض،صوفی،دنیا کی موہ مایا سے بے نیاز،اپنے گیان دھیان میں گم الو بیٹھا ہوا تھا جس کی عمر کا صحیح اندازہ لگانا بہت مشکل ہے ، مگر کہنے والے کہتے ہیں کہ اس کے زمانے کے گدھ اب اس دھرتی پر نہیں پائے جاتے۔

اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور ایک لمبا سانس لیا اور کہنا شروع کیا کہ آج سے سیکڑوں سال پہلے جب تم لوگ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے میں ایسے ہی گھومتا پھرتا ،مگدھ  پہنچا جہاں میری مترتا ایک بندر سے ہو گئی وہ بڑا عالم فاضل تھااور زبان ایسی بولتا تھاکہ”وہ کہیں اور سنا کرے کوئی”ہم ایسے ہی ایک دن وارتا لاپ کر رہے تھے ، باتوں کا سلسلہ ایودھیا تک جا پہونچا۔میں نے بیچ میں اس کی بات کاٹی اور کہا میں نے بھی اس نگر کی چرچا بہت سن رکھی ہے ،تم اس نگر کے بارے میں کچھ کہو تو ہم جانے،میرا اتنا کہنا تھا کہ وہ  روہانسی انداز میں کہنے لگا کہ متر میں نے ایک دنیا دیکھ رکھی  ہے،لیکن جو خوشحالی میں نے ایودھیا نگری میں دیکھی کہیں اور نہیں دیکھی ،وہاں کی دھرتی سونا اور ہیرے موتی اگلتی ہے،اور آسمان سے ھن برستا ہے۔ایسا راج تنتر کہ راجا اور رنک میں کسی طرح کا بھید بھاؤ نہیں،جیو اور جینے دو کا شاہی فرمان پوری ریاست میں لاگو ہے،سب کو اپنے دھرموں اور پنتھوں کے اعتبار سے عبادت کرنے کی آزادی کے ساتھ اظہار رائے اور اظہار خیال کی بھی آزادی ہے۔

متر کیا تمہیں دھوبی اور دھوبن کا قصہ نہیں معلوم،جس نے دھوبن کو طعنے دیتے ہوئے کہا تھا “میں کوئی راجا رام نہیں ہوں جو سیتا کو دوبارہ اپنا لوں”یہ بات شری رام جی نے سن لی اور سیتا جی کو گھر سے نکال دیا،اور دھوبی شاہی عتاب سے محفوظ رہا،اسی لئے ان کے دور حکومت کو رام راج کہا جاتا ہے ۔ بیدبا فیلسوف نے اپنی چپی توڑی اور کہا ،سن اُو راجن اسلاف کے قصے اور کہانیاں اس لئے بیان کی جاتی ہیں کہ آنکھ والے عبرت حاصل کر سکیں۔

راجن میری بات کان دھر کے سن تہارے درباریوں اور حواریوں میں چاٹو کاروں اور پرشنسکوں کی بھیڑ ہوگی،جو تمہاری شان میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتے ہو نگے،تم ان پر کان نہ دھرنا ان کی کہی، سنی ان سنی کر دینا۔اپنے آلوچکوں اور نندا کرنے والوں کا احترام کرنا،ان کو اپنے قریب رکھنا کیونکہ ان کی باتیں کڑوی اور کسیلی تو ہوتی ہیں ،لیکن حقیقت میں سچی ہوتی ہیں۔بقول کبیر’نندک نیئرے راکھئے آنگن کوٹی چھوائے”آج جب میں رام راج کی اپنے من مندر میں کلپنا کرتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ راجیہ کاصحیح ادھیکاری بن باس کا بانا اوڑھے جنگل میں پرویش کر رہا ہے۔

کیوں کہ راج دھانی کی فضا رگھو پتر کو راس نہیں آئی۔اچھا ہوا رام سریو کنارے سے پاؤں دھوئے بنا چلے گئے،ان کے جانشینوں نے سریو اور گنگا کے مقدس پانی کو سرخ کر دیا ہے، جو آج کوچہ و بازار میں سوال بن کر کھڑا ہے کہ ہم کس یوٹوپیائی رام راجیہ کی کلپنا کئے جی رہے تھے ،جہاں اقلیتوں کو خوف کے فوبیا میں مبتلا کر کے فکری معذور اور ذہنی کوڑ پن میں محصور کر دیا جائے.؟ یا بھارت کو وہ ضحاکی سماج بنانے کی نا سمجھی کی جارہی ہے جہاں ستا  اہنکاراورغرور کی بھاشا بولتا ہے،تو قلم کا مزدور اپنے سیاہی کے سچ سے ان کالے کارناموں کو سفید زمین پر لکھ دیتا ہے،یہیں سے ستیہ اور ستا کا تصادم ہوتا ہے، گوری لنکیش کو جان جان آفرین کے سپرد کرنی پڑتی ہے،ستا کی ناز برداری کرنے والوں کی ایسی تکریم کی جاتی ہے کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔وہیں حکومتی پالیسیوں کے خلاف اپنی رائے رکھنے والوں کو گالیاں اور گولی ملتی ہے۔

ہم نے نادر شاہ کی نادریت کے قصے سنے ہیں،آج پورا بھارت مودی کے یگ میں جی رہا ہے۔جس کی کثافت اور گھٹن سے سچ کی سانسیں اکھڑی ہوئی ہیں۔

(خان محمد آصف گوتم بدھ یونیورسٹی، نوئیڈا میں لیکچرار ہیں۔)