سابق نوکرشاہ آشیش جوشی نے بتایا کہ دہلی پولیس انہیں مارننگ واک کے بیچ اچانک اپنے ساتھ لے گئی اور ان سے پوچھ گچھ کی۔ اس دوران انہوں نے پولیس سے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کی کاپی مانگی، لیکن انہیں یہ کاپی نہیں دی گئی۔تاہم، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متعلق ان کی پوسٹ پر درج ہوئے کیس کی تفتیش میں ان سے وزیر داخلہ اور ہوم سکریٹری کے درمیان ’ٹکراؤ‘ سے متعلق پوسٹ اور اس کے ذرائع کے بارے میں بھی سوال کیے گئے۔
ریٹائرڈ بیوروکریٹ آشیش جوشی سے دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے 2 ستمبر کو تقریباً 10 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ وہ سوشل میڈیا پر نریندر مودی حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں ۔ 13 اگست 2026 کو ان کی ایک پوسٹ سے حکومت اس قدر ناراض ہوئی کہ اس نے ایکس کو ہندوستان میں اس پوسٹ کو روکنے کا آرڈر دیا تھا۔
ازبکستان کی حکومت نے وزیراعظم نریندر مودی کو غیر ملکی رہنماؤں کے لیے اپنا سب سے بڑا اعزاز دیا ہے۔ اب تاریخ کی کچھ بے چینی فطری ہے۔ کیونکہ ہندوستان میں بابر کا نام سنتے ہی پانچ سو سال پرانی تلواریں نیام سے باہر آنے لگتی ہیں۔ لیکن خارجہ پالیسی میں وہی تلوار کسی دوسرے ملک پہنچتے پہنچتے گلدستہ بن جاتی ہے۔
نیپال کی حالیہ قدرتی آفت خطے کے لیے ایک کڑا انتباہ ہے؛ ایسے میں ’نیچر‘ گروپ کے جریدے میں شائع ہونے والی تازہ ترین سائنسی تحقیق، جو جموں و کشمیر کے پہاڑی سلسلوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے سنگین خطرات کو اجاگر کرتی ہے، ہندوستان اور پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہونی چاہیے۔
نیپال-تبت بارڈر پر بدھ کو اچانک آئے شدید سیلاب اور اس کے بعد لینڈ سلائیڈنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے، جبکہ تقریباً 2,000 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ نیپال میں 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں اور اب تک 84 افراد کو حفاظت کے ساتھ بچا لیا گیا ہے۔ اس دوران سیلاب کے بعد تبت میں ایک جھیل بن گئی ہے۔ چین کو خدشہ ہے کہ اگر یہ جھیل اچانک ٹوٹ گئی تو دوبارہ بڑے پیمانے پر سیلاب آ سکتا ہے۔
نیپال-تبت بارڈر کے قریب اچانک آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ میں کم از کم 98 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ کیلاش مان سروور یاترا پر گئے 133 ہندوستانی شہریوں سمیت سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔ نیپال نے بچاؤ اور راحت کے کاموں کے لیے ہندوستان اور چین سے مدد مانگی ہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے انٹلی جنس بیورو کے ایک پروگرام میں دہرایا کہ یہ ملک کوئی دھرم شالہ نہیں ہے اور یہاں رہنے کا حق صرف شہریوں کو حاصل ہے۔ درانداز ملک کی سلامتی اور معیشت کے لیے خطرہ ہیں اور وہ غیر فطری آبادیاتی تبدیلیوں کو جنم دیتے ہیں۔ جنوری 2026 میں امت شاہ کی سربراہی والی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اس کے پاس ملک بھر میں آئے ’دراندازوں‘ سے متعلق کوئی مرکزی ڈیٹا نہیں ہے۔
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے اور رکن پارلیامنٹ راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ذات کی تفصیلات درج کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے اختیار کیا گیا ’اوپن اینڈیڈ سوال‘، یعنی لوگوں کو اپنی ذات کا نام خود لکھنے کی اجازت دینا الجھن اور غلط اعداد و شمار کا سبب بن سکتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں ایک ہی ذات کے مختلف نام، ذیلی ذاتیں اور ان کے ہجے ہو سکتے ہیں۔ اگر ایک ہی ذات کے لوگوں کا رجسٹریشن الگ الگ ناموں سے کیا جاتا ہے، تو ایک ذات کئی الگ الگ گروپوں کے طور پر درج ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم کی شبیہ بچانے کے لیے خود نریندر مودی، امت شاہ اور اب آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت الگ الگ کردار میں نظر آ رہے ہیں۔ بھاگوت کا اپنے آپ کو غیر جانبدار ظاہر کرنا بھی اسی پرانی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
لوک سبھا میں کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی نے پرہلاد جوشی کو نیا وزیر تعلیم بنائے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے شخص کو وزیر تعلیم بنایا گیا ہے جس نے حاملہ خاتون کے ساتھ ریپ کرنے والوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کی اور خوشی کا اظہار بھی کیا۔ وزیر اعظم اس ملک کی کروڑوں خواتین کو کیا پیغام دینا چاہتے تھے؟ وہیں راہل گاندھی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ’ریپ کرنے والوں کا دفاع کرنے والے‘ شخص کو ملک کا نیا وزیر تعلیم بنایا ہے۔
سینسر بورڈ کے چیئرپرسن اور بی جے پی کے تمام دوسرے حمایتی اچانک ’صنفی بنیاد پر توہین آمیز گالیوں اور نازیبا الفاظ‘ کے موضوع پر حد درجہ حساس نظر آ رہے ہیں۔ اصل میں نوجوانوں کی ’فحش‘ زبان پر تنقید کے پس پردہ یہ نریندر مودی کی شبیہ کو بچانے کی کوشش ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے حال ہی میں امریکی فوجی حملے میں تین ہندوستانی شہریوں کی موت کےپس منظرمیں اس ملاقات کے لیے وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
نریندر مودی حکومت کے تیسرے دور کے دو سال پورے ہونے پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے ’پرچار بنام حساب‘کے نام سے 75 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 12 سال’بڑے بڑے اعلان‘والے رہے ہیں، لیکن عوام کی زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ حکومت خاطر خواہ روزگار پیدا کرنے میں ناکام رہی اور نریندر مودی کے دورحکومت میں روپیہ سب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں میں سے ایک رہا۔
مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان ایک طرف پیٹرولیم کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری دعویٰ کر رہے ہیں کہ ملک میں توانائی کی کوئی کمی نہیں ہے، جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم متبادل توانائی کے ذرائع پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ کیا یہ محض احتیاطی تدبیر ہے یا پھر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے توانائی انحصار اور مستقبل کے ممکنہ بحران کی ایک واضح علامت؟
میڈیا کا کام حکومت کی طے شدہ باتوں کو من وعن دہرانا نہیں، بلکہ سوال پوچھنا ہے۔ حکومت کی باتوں کا پروپیگنڈہ کرنا اس کے ترجمانوں کا کام ہے۔ اس معاملے میں ہیلی لیونگ حق بجانب ہیں کہ، ’صحافت بعض اوقات تصادم پر مبنی ہوتی ہے۔‘ اگر شہریوں کو بھیڑوں میں تبدیل نہیں ہونے دینا ہے یا ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کرنا ہے، تو سوال ضروری ہیں۔
پی ایم مودی سے میڈیا کی آزادی پر سوال پوچھنے کے بعد نارویجین صحافی ہیلی لیونگ سوشل میڈیا پر حملوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہیں ’اینٹی انڈیا‘ اور ’سیاسی ایجنٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ تنقید اب پیشہ ورانہ اختلاف سے آگے بڑھ کر ذاتی زندگی پر حملے اور کردار کشی کی مہم تک پہنچ گئی ہے۔ یہاں تک کہ صحافت کے پیشے سے وابستہ بعض اینکر بھی ان کےسوال پوچھنے سے ناراض ہیں۔
اب سفارت کاری کا دائرہ صرف ممالک تک محدود نہیں رہا تھا ، اس میں ’ساکھ کے تحفظ‘ کا ایک نیا پہلو بھی شامل ہو چکا تھا۔ خارجہ پالیسی کو غیر رسمی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ پہلا، دنیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے رکھنا۔ دوسرا، دنیا کو یہ یقین دلاتے رہنا کہ کوئی پریشان کن سوال دراصل پریشان کن تھا ہی نہیں۔
ناروے کے دورے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے وہاں کی ایک صحافی نے میڈیا کے سوال لینے سے متعلق سوال کیا، لیکن وہ بغیر جواب دیے آگے بڑھ گئے۔ بعد میں ہندوستانی سفارت خانے کی پریس بریفنگ میں بھی انسانی حقوق اور پریس کی آزادی سے متعلق سوال پوچھے گئے۔
ہندوستان جیسے معاشی طور پر غیر مساوی معاشرے میں جب ایثار و قربانی یا ترک آسائش کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ قربانی کون دے گا؟ وہ جو پہلے ہی راشن، کرایہ، فیس اور ای ایم آئی کے جال میں گرفتار ہے، یا وہ جو دولت کو کپڑے کی طرح زیب و تن کر سکتا ہے؟ یہاں سوال حسد کا نہیں، اخلاقی توازن کا ہے۔ اور یہ تعصب نہیں بلکہ عوامی انصاف کا سوال ہے۔
جمہوری حق سے محروم رائے دہندگان کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اہم نہیں تھے۔ یہ جمہوریت میں کسی کے ساتھ کی جانے والی سب سے بڑی ناانصافی تھی، مگر غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا کہ وہ یہ اعلان کرتیں کہ جب تک ان لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق نہیں دیا جاتا، وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔ اگر سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ رائے دہندگان ان کے ساتھ کھڑے ہوں، تو پہلے انہیں یہ دکھانا ہوگا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بی جے پی نے 15 سال پرانی ترنمول حکومت کو ہٹا کر اکثریت حاصل کر لی۔ ممتا بنرجی حکومت کے خلاف عدم اطمینان، بدعنوانی اور حکمرانی سے متعلق سوال، ہندو-مسلم پولرائزیشن اور ایس آئی آر کا تنازعہ اس بڑی سیاسی تبدیلی کے اہم اسباب بن کر سامنے آئے۔
مغربی بنگال میں اپوزیشن میں رہتے ہوئے بی جے پی نے مرکز میں اپنی حکومت اور الیکشن کمیشن کے اختیارات کے بے دریغ غلط استعمال کی معرفت جس طرح 293 نشستوں کے اسمبلی انتخابات میں زور آزمائی کی اور بے مثال جیت درج کی، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے اکھلیش یادو کی تشویش میں کئی گنا اضافہ ہو جانا چاہیے۔ خصوصی طور پر اس لیے کہ اتر پردیش اور مرکز دونوں میں برسر اقتدار ہونے کی وجہ سے اس ریاست میں بی جے پی کے لیے ایسا کرنے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔
سال 2024 کے بعد کے واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا امت شاہ صرف دوسرے نمبر کے لیڈر ہیں، جنہیں نریندر مودی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لیے آگے کر رہے ہیں یا پھر 2029 پر نظر جمائے بی جے پی-جو 2024 جیسی صورتحال دوبارہ نہیں چاہتی— جانشینی کے کسی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
اگر مودی حکومت اور بی جے پی کی نیت صاف ہوتی تو یہ خواتین ریزرویشن 2024 کے عام انتخابات میں ہی لاگو کیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مقصد خواتین کو اقتدار میں حقیقی حصہ دینا نہیں، بلکہ ان کے نام پر ووٹ کی سیاسی فصل کاٹنا تھا۔
سی پی آئی (ایم) کی سینئر لیڈر برندا کرات نے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ قوم سے خطاب میں خواتین کے لیے آنسو بہانے والے وزیراعظم مودی کئی بار خواتین ریزرویشن کے نام پر ملک کی خواتین کو دھوکہ دے چکے ہیں۔
گزشتہ 18اپریل کو اپنے خطاب میں نریندر مودی نے پارلیامنٹ میں تین بلوں کے پیکیج کو منظور نہ کروا پانے پر ’ملک کی ماؤں اور بہنوں‘ سے ’معافی‘ مانگی۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں ایسے کئی مواقع سامنے آئے ہیں، جہاں وزیر اعظم مودی کے لیے معافی مانگنا زیادہ موزوں ہوتا۔
جمہوریہ میں نصف نمائندگی صرف فیمنسٹ اصرار نہیں بلکہ جمہوری منطق کا فطری انجام ہے۔ آدھی دنیا کو ایک تہائی پر محدود کر دینا نمائندگی کی اصلاح ہے، انصاف نہیں۔ اگر بی جے پی واقعی ’ناری شکتی وندن‘کی سیاست کرتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وندن کا اخلاقی مطلب علامت نہیں ،شراکت ہے؛ اور شراکت کا مطلب 33 نہیں بلکہ 50 ہے۔
بیک اسٹوری: حد بندی کے معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو پارلیامنٹ میں کئی یقین دہانیاں کرائیں، لیکن گہرائی سے جائزہ لینے پر وہ گمراہ کن ثابت ہوتی ہیں۔
لوک سبھا کی توسیع اور وسیع حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131واں ترمیمی) بل 2026 لوک سبھا میں منظور نہ ہونے پر اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن نے خواتین کے نام پر آئین کو توڑنے کے لیے غیر آئینی طریقہ استعمال کرنے کی کوشش کو روک دیا۔ وہیں، بل خارج ہونے کے بعد این ڈی اے کی خواتین اراکین پارلیامنٹ نے پارلیامنٹ کے احاطے میں دھرنا دیا۔
لوک سبھا کی توسیع اور بڑے پیمانے پر حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131ویں ترمیم) بل، 2026 لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا۔ ایوان میں موجود 528 اراکین میں سے 298 نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 230 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ دو تہائی اکثریت کے لیے 352 اراکین کی حمایت ضروری تھی۔
مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں متفقہ طور پر منظور ہونے کے 940 دن اور راجیہ سبھا میں 939 دن کی تاخیر کے بعد جمعرات کو106ویں ترمیمی ایکٹ، 2023 ، جو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے، کو نوٹیفائی کیا ۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس نوٹیفکیشن کو قانون کو بچانے کی ایک مایوس کن کوشش قرار دیا ہے، کیونکہ حکومت کے پاس نئے بل منظور کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے۔
دس سال پہلے کی نوٹ بندی کی طرح اچانک لیا جارہا حد بندی کا فیصلہ ہندوستان کے بڑے حصوں کو سیاسی طور پر کمزور کر دے گا، اور اس کے ساتھ ہی یہ ملک کے جمہوری ڈھانچے پر دور رس اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ وہی علاقے ہیں، جو معیشت کے مرکز، روزگار فراہم کرنے والے اور سماجی ترقی کی نمایاں مثال رہے ہیں۔
نریندر مودی کی حکومت ہندوستان کی آبادی میں اضافے کے بارے میں تشویش میں مبتلا نظر آتی رہی ہے، لیکن اب ایک ڈرامائی موڑ میں مودی حکومت آبادی میں اضافے کو انعام دینے کی سمت میں قدم اٹھاتی دکھائی دے رہی ہے۔ پارلیامنٹ میں پیش کیے گئے تین مجوزہ بلوں کی ساخت کے مطابق، حکومت جان بوجھ کر زیادہ آبادی والے علاقوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔
نریندر مودی اور امت شاہ کی زندگی کی ایک بڑی حصولیابی یہ ہے کہ انہوں نے ثابت کر دیا کہ بہار کا سیاسی شعور باقی ریاستوں سے مختلف نہیں ہے۔ نتیش کمار نے جس بہار کے دم پر مودی کو چیلنج کرنا چاہا، مودی نے اس بہار سے ہی نتیش کو باہر کر دیا۔ یہ حقیقت ہے اور ہندوستانی سیاست میں حساب چکانے کا ایک بڑا واقعہ ہے۔
آسام بتائے گا کہ شناخت کی سیاست کتنی طاقتور ہو سکتی ہے۔ بنگال یہ دکھائے گا کہ مزاحمت کب تک قائم رہ سکتی ہے۔ تامل ناڈو اور کیرالہ یہ ثابت کریں گے کہ ترقی کا ایک متبادل راستہ بھی ممکن ہے۔ مجموعی طور پر یہ انتخابات طے کریں گے کہ ہندوستان ایک یکساں سیاسی سمت میں آگے بڑھے گا یا اپنی وفاقی اور کثیر جہتی شناخت کو برقرار رکھے گا۔
فاشسٹ یا نیم فاشسٹ سیاست سے لڑنے کا پہلا قاعدہ یہ ہے کہ آپ اپنے حقیقی اور ثانوی حریف کے درمیان فرق بنائیں رکھیں۔ کیرالہ میں ایل ڈی ایف کو شکست دینے کی بے چینی سمجھ میں آتی ہے؛ مگر راہل گاندھی کی زبان اسٹریٹجک ہوشمندی کا اشارہ نہیں دے رہی۔ ایل ڈی ایف کو آر ایس ایس کے مساوی قرار دینا سیاسی شعور کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک نوع کی ناسمجھی اور بے صبری کا اظہارہے۔
وزارت تعلیم کی ہدایات پر یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی جانب سے تمام جامعات کے وائس چانسلر کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی چاہتے ہیں کہ جامعات مختلف سرکاری سروے میں حصہ لیں اور اپنے صحافت کے نصاب کا جائزہ لیں تاکہ انہیں ’مزید مؤثر‘بنایا جا سکے۔
گجرات کی سینٹرل یونیورسٹی نے ایک نوٹس میں گیس سپلائی کی کمی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے میس کا نظام متاثر ہوا ہے اور مینو میں کمی کی گئی ہے۔ یہ صورتحال مرکزی حکومت کے اس دعوے کے برعکس ہے، جس میں ملک میں ایل پی جی کی وافر دستیابی کی بات کہی گئی تھی۔
صحافی رویش کمار بتا رہے ہیں کہ ملک کے نام چٹھی میں ہندوستانی روپیہ کہتا ہے کہ ’کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک ڈالر کے سامنے میری قدر 95 تک پہنچ جائے گی۔ مجھے کمزور کہا جائے گا۔ میری کمزوری کے نام پر ایک مضبوط حکومت آئی، جو ہر دن مضبوط ہوتی چلی گئی اور میں کمزور ہوتا گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ میں کسی کام کا نہیں ہوں۔ اس کمزوری میں بھی میں ووٹر کے کھاتے میں پہنچ کر نتیجہ نکال دیتا ہوں۔ مجھے بانٹ کر ووٹ مل جاتا ہے۔‘
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے سلسلے میں منعقد آل پارٹی میٹنگ کے دوران جب اپوزیشن نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد کے بیک چینل ثالث کے طور پر ابھرنے پر سوال اٹھایا، تو حکومت نے جواب دیا کہ ہندوستان پاکستان کی طرح’دلال ملک‘ نہیں ہے۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت نے اجلاس میں تمام سوالوں کے جواب دے دیے ہیں اور اپوزیشن نے اپنی حمایت ظاہر کی ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کو’غیر تسلی بخش‘ قرار دیا۔