مکہ کا یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان کاپیاں تبدیل کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ، خلیج اور جنوبی ایشیا کی جیواسٹریٹجک سیاست میں ایک ایک نئی اور اہم فصل کا آغاز ہے۔تاہم، اس معاہدے کا حقیقی مستقبل اور تاریخ میں اس کا مقام اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا یہ تینوں ممالک اپنے سیاسی بیانات کو حتمی عملی صورت دے پاتے ہیں یا نہیں۔
حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 42 صفحات پر مشتمل ایک تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت کے بعد اس پر مہر لگ گئی کہ کس طرح بین الاقوامی انسانی ضابطوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہندوستان نے اسرائیل کی جنگی دفاعی سپلائی چین میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔
انقرہ کے بیش تپہ صدارتی محل میں منعقدہ یہ ناٹو سربراہی اجلاس صرف ایک فوجی اتحاد کی معمول کی سالانہ بیٹھک یا رسمی مصافحوں کا مروجہ میلہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی کثیر القطبی دنیا کا ایک واضح اور مجسم عکاس تھا جہاں اب طاقت، اثر و رسوخ اور ٹیکنالوجی کے روایتی مراکز مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دوٹینکروں پر ایرانی کروز میزائل حملے میں ایک ہندوستانی ملاح کی موت ہوگئی اور کئی دوسرے لوگ زخمی ہو گئے۔ زخمی لوگوں میں چھ ہندوستانی اور دو یوکرینی شہری شامل ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ہندوستان نے ایران کے ڈپٹی چیف آف مشن سمیت اعلیٰ سطحی ایرانی سفارت کاروں کو وزارت خارجہ میں طلب کیا ہے۔
ایران آخر اس مقام تک کیوں پہنچا؟اس کا جواب صرف موجودہ جنگ میں نہیں بلکہ گزشتہ دو دہائیوں کی عالمی سیاست میں پوشیدہ ہے۔امریکہ نے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کیں، اس کی تیل کی برآمدات محدود کیں، بینکاری نظام تک رسائی ختم کی اور اسے عالمی مالیاتی نظام سے بڑی حد تک الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ برسوں سے پابندیوں، ڈالر، بینکاری نظام اور ٹکنالوجی پر اپنی گرفت کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے۔ ایران نے شاید اسی منطق کو الٹ دیا ہے۔
جسٹس مرلی دھر نے اسرائیل کے خلاف ایک ایسی واٹر ٹائٹ چارج شیٹ دنیا کی عدالت میں پیش کر دی ہے، جس پر تاریخ کے منصف جب بھی قلم اٹھائیں گے، صہیونی ریاست کو مجرموں کے کٹہرے میں ہی کھڑا پائیں گے۔
اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی 94 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق، جنگ کے ابتدائی دو برسوں میں غزہ میں کم از کم 20,179 بچے ہلاک ہوئے اور 44,143 زخمی ہوئے، جو مجموعی اموات کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ہلاکتوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ مانا جا رہا ہے کہ ہزاروں بچے اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
تل ابیب کے سامنے صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے؛ کیا وہ اس تزویراتی شکست سے سبق سیکھ کر دوبارہ پرانے امن فریم ورکس کی طرف لوٹے گا اور فلسطینیوں کو ان کا جائز سیاسی و معاشی حق دے کر خطے میں حقیقی بقائے باہمی کا راستہ چنے گا؟ یا پھر وہ اپنی اس تنہائی کے غصے میں پورے خطے کو کسی نئے اور زیادہ ہولناک لاوے کی طرف دھکیل دے گا؟
وزیر اعظم نریندر مودی نے جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے حال ہی میں امریکی فوجی حملے میں تین ہندوستانی شہریوں کی موت کےپس منظرمیں اس ملاقات کے لیے وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سوموار کی صبح امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اس مذاکراے میں ثالث کا کردارادا کر رہے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس کی جانکاری دی۔ وہیں، امریکہ-ایران معاہدے کے اعلان کے بعد ایشیا میں شروعاتی کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں گراوٹ درج کی گئی، جبکہ ایشیائی شیئر بازاروں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
امریکہ ایک اسٹریٹجک پارٹنر ہے، لیکن جب کسی اسٹریٹجک پارٹنر کی فوج آپ کے شہریوں کی جان لیتی ہے ،تو اسٹریٹجک خودمختاری کا تقاضہ ہے کہ اس کی مذمت کی جائے۔ نئی دہلی کی جانب سے ایسا نہ کر پانا ہندوستان کی ’اسٹریٹجک خودمختاری‘ کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
دو ماہ قبل ہوئی جنگ بندی کے بعد اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے کے علاقوں پر براہ راست حملے کیے ہیں۔ بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران نے میزائل داغے، وہیں اسرائیل نے ایران کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
خبروں کے مطابق، لاہور کے محلوں کے نام تقسیم ہند سے قبل کے ناموں پر رکھنے کی اس پہل کا مقصد شہر کی تاریخی شناخت کو بحال کرنا اور اس کے کثیرثقافتی ماضی کو تسلیم کرنا ہے ۔
یہ نمائش محض ہتھیاروں کے بارے میں نہیں تھی، بلکہ یہ ترکیہ کے اندر ابھرنے والے ایک نئے جیو پولیٹیکل تخیل کی عکاس تھی۔ ایک ایسا ملک جو نیٹو کے حاشیے پر کھڑے ایک دفاعی درآمد کنندہ سے ارتقا پا کر ایک ایسی تکنیکی عسکری قوت بن رہا ہے جو اب یورپ سے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے افریقہ تک کے سکیورٹی توازن پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ناروے کے دورے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے وہاں کی ایک صحافی نے میڈیا کے سوال لینے سے متعلق سوال کیا، لیکن وہ بغیر جواب دیے آگے بڑھ گئے۔ بعد میں ہندوستانی سفارت خانے کی پریس بریفنگ میں بھی انسانی حقوق اور پریس کی آزادی سے متعلق سوال پوچھے گئے۔
سر ڈیوڈ ایٹن برو آج اپنی زندگی کے سو سال پورے کر رہے ہیں۔ یہ محض کسی نامور دستاویزی فلمساز یا براڈکاسٹر کی سالگرہ نہیں ہے؛ یہ اس شخصیت کے سو سال ہیں، جس نے کروڑوں لوگوں کو پہلی بار یہ احساس دلایا کہ زمین صرف انسانوں کی ملکیت نہیں بلکہ مشترکہ وراثت ہے۔
غزہ آج بھی وہاں کھڑا ہے جہاں کل تھا تنہا، زخمی اور سسکتا ہوا صرف اس فرق کے ساتھ کہ اب اس کی تکلیف عالمی سرخیوں میں نہیں، بلکہ صرف تاریخ کے خونی صفحات میں لکھی جا رہی ہے۔
ایران پر حملوں کے 57ویں دن پاکستان میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، تاہم ایران نے امریکہ سے براہ راست بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے سفیر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دہلی میں برکس اجلاس بغیر مشترکہ اعلامیے کے ختم ہوا، جو عالمی اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔
لبنان میں جنگ بندی کو تین ہفتے بڑھانے کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور امریکی محاصرہ جاری ہے۔ غزہ میں انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے، جبکہ جنوبی لبنان اور مغربی کنارے پر اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔
لبنانی عوام کے ایک وسیع حلقے کے ساتھ بات کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سودے بازی کو بھی رد کر دیتے ہیں۔ایک بڑا حلقہ ابھی بھی حزب اللہ کو ہی لبنانی قوم پرستی کی علامت اور اسرائیل کے خلاف قوت کے بطور تسلیم کرتا ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 53 ویں دن بھی کشیدگی برقرار ہے۔ ٹرمپ نے مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کی وارننگ دی ہے، جبکہ ایران نے دباؤ میں آ کر بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔ لبنان میں حملے جاری ہیں اور امریکہ میں جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر رہے ہیں۔
ایران پر حملوں کے 52 ویں دن امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی جہاز ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ مجوزہ مذاکرات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ ایران نے امریکہ کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے تیل بازارکے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
ایران پر حملوں کے 47 ویں دن امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کا دعویٰ کیا ہے، جس کے باعث سمندری تجارت ٹھپ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ ادھر اسرائیل لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ کئی ممالک نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور امریکہ کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔
یہ جنگ شاید اپنے جسمانی وجود میں ختم ہو رہی ہو، لیکن اس کے سیاسی اور تزویراتی اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
ہنگری میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہے وکٹر اوربان کو پیٹر ماجیار نے انتخابات میں شکست دے دی ہے۔ تسزا پارٹی کو برتری حاصل ہوئی ہے، تاہم دو تہائی اکثریت غیر یقینی ہے۔ اس نتیجے کو یورپ کی دائیں بازو کی سیاست کے لیے ایک جھٹکا مانا جا رہا ہے اور یہ ملک کی سیاسی سمت میں تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی سپلائی چین میں آئی رکاوٹوں سے پیدا ہونے والی مزدوروں کی کمی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ کے سبب ہندوستان کا مینوفیکچرنگ سیکٹر مشکلات سے دو چار ہے۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں مزدوروں کی کمی کی شکایت بھی سامنے آئی ہے۔
چین نے اروناچل پردیش کے 23 مقامات کے نئے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ اس پر ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’جھوٹے دعوے پیش کرنے اور بے بنیاد بیانیہ تشکیل دینے کی کوششیں اس ناقابل تردید حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ یہ مقامات اور علاقے، جن میں اروناچل پردیش بھی شامل ہے، ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ‘
ایران پر حملوں کے 42 ویں دن اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تیاری ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والی یہ بات چیت تنازعہ کے مستقل حل کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم، عارضی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں حملے اور آبنائے ہرمز کے بند رہنے کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔
ہندوستان 2028 میں ہونے والے 33 ویں سالانہ کلائمیٹ کانفرنس (سی او پی 33) کی میزبانی سے دستبردار ہو گیا ہے۔ ماہرین نے اس فیصلے کو ’اسٹریٹجک موقع گنوانے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے عالمی کوششوں کے لیے بڑا ’دھچکا‘ بتایا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر ہی لبنان میں اسرائیل کے حملوں نے صورتحال کو بگاڑ دیا ہے۔ سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت کے درمیان ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ متضاد دعوے اور عسکری تیاریوں کے باعث پورا معاہدہ اب سنگین بحران کا شکار ہے۔
امریکہ نے ایران پر حملے کی طے شدہ آخری تاریخ سے پہلے اچانک دو ہفتے کے لیے فوجی کارروائی روک دی ہے۔ ایران نے اسے قبول کرتے ہوئے شرط رکھی ہے کہ حملے مکمل طور پر بند ہوں۔ دونوں فریق بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن عدم اعتماد، سخت شرائط اور علاقائی کشیدگی کے باعث صورتحال اب بھی نازک ہے۔
اسرائیلی اور ہندوستانی فلمساز، صحافی، ماہرین تعلیم اور کارکنوں نے ایک خط میں ہندوستان کے سینٹرل فلم سرٹیفیکیشن بورڈ کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی کو جائز ٹھہرانے کے لیے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کا حوالہ دینے کی سخت مذمت کی ہے۔ خط میں ہندوستان اور اسرائیل میں تکثیریت، جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کو بنائے رکھنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔ ٹرمپ نے نئے سرے سے وارننگ دی ہے، جبکہ تہران نے صاف کر دیا ہے کہ مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت کے بغیر وہ جنگ ختم نہیں کرے گا۔ خطے میں کشیدگی اور بے یقینی بدستور قائم ہے۔
امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ 38 ویں دن مزید پرتشدد ہو گئی ہے۔ تہران اور بیروت میں حملوں سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کی نئی دھمکیوں نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس جنگ کے باعث ہندوستان میں ایل پی جی کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے عام لوگوں کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 36ویں دن دو امریکی فوجی طیارے مار گرائے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک فوجی کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دوسرا لاپتہ ہے۔ اس دوران 365 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں اور خلیجی ممالک تک ان حملوں کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 35 ویں دن بھی ایران میں کشیدگی برقرار ہے۔ نوروز کے اختتامی جشن کے دوران ایک امریکی حملے میں 8 افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کے 34ویں دن ٹرمپ نے حملے تیز کرنے کی بات کہی اور جنگ کو’سرمایہ کاری‘قرار دیا۔ ان کے جنگ بندی کے دعوے کو ایران نے مسترد کر دیا ہے۔ وہیں، آبنائے ہرمز اب بھی بند پڑی ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اثر پڑ رہا ہے۔
اب عالمی منظر نامے پر صورتحال یہ ہے کہ حملہ آوروں کا لگ بھگ ہر مفروضہ، ہر تخمینہ، ہر ٹرگر اور ہر حساب وکتاب بری طرح ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔ تہران کی دیواریں گرنے کے بجائے بیرونی حملے کے نتیجے میں مزید آہنی دکھائی دے رہی ہیں۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو ریا ہے، جہاں ٹرمپ کے ایران سے بات چیت کے دعوے کو تہران نے خارج کر دیا ہے۔ وہیں،اسرائیل کی لبنان میں فوجی کارروائی، امریکہ کی دھمکیاں اور سفارتی عدم اعتماد نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن آف انڈیا نے شہری ہوا بازی کی وزارت کے سکریٹری اور ڈی جی سی اے کو لکھے گئے خط میں مسافروں، فضائی عملے اور طیاروں کی حفاظت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی فعال جنگی علاقے کے اندر یا اس کے بہت قریب پروازیں چلانا انسانی جانوں کو جان بوجھ کر خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔