خبروں کے مطابق، لاہور کے محلوں کے نام تقسیم ہند سے قبل کے ناموں پر رکھنے کی اس پہل کا مقصد شہر کی تاریخی شناخت کو بحال کرنا اور اس کے کثیرثقافتی ماضی کو تسلیم کرنا ہے ۔
یہ نمائش محض ہتھیاروں کے بارے میں نہیں تھی، بلکہ یہ ترکیہ کے اندر ابھرنے والے ایک نئے جیو پولیٹیکل تخیل کی عکاس تھی۔ ایک ایسا ملک جو نیٹو کے حاشیے پر کھڑے ایک دفاعی درآمد کنندہ سے ارتقا پا کر ایک ایسی تکنیکی عسکری قوت بن رہا ہے جو اب یورپ سے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے افریقہ تک کے سکیورٹی توازن پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ناروے کے دورے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے وہاں کی ایک صحافی نے میڈیا کے سوال لینے سے متعلق سوال کیا، لیکن وہ بغیر جواب دیے آگے بڑھ گئے۔ بعد میں ہندوستانی سفارت خانے کی پریس بریفنگ میں بھی انسانی حقوق اور پریس کی آزادی سے متعلق سوال پوچھے گئے۔
سر ڈیوڈ ایٹن برو آج اپنی زندگی کے سو سال پورے کر رہے ہیں۔ یہ محض کسی نامور دستاویزی فلمساز یا براڈکاسٹر کی سالگرہ نہیں ہے؛ یہ اس شخصیت کے سو سال ہیں، جس نے کروڑوں لوگوں کو پہلی بار یہ احساس دلایا کہ زمین صرف انسانوں کی ملکیت نہیں بلکہ مشترکہ وراثت ہے۔
غزہ آج بھی وہاں کھڑا ہے جہاں کل تھا تنہا، زخمی اور سسکتا ہوا صرف اس فرق کے ساتھ کہ اب اس کی تکلیف عالمی سرخیوں میں نہیں، بلکہ صرف تاریخ کے خونی صفحات میں لکھی جا رہی ہے۔
ایران پر حملوں کے 57ویں دن پاکستان میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، تاہم ایران نے امریکہ سے براہ راست بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے سفیر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دہلی میں برکس اجلاس بغیر مشترکہ اعلامیے کے ختم ہوا، جو عالمی اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔
لبنان میں جنگ بندی کو تین ہفتے بڑھانے کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور امریکی محاصرہ جاری ہے۔ غزہ میں انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے، جبکہ جنوبی لبنان اور مغربی کنارے پر اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔
لبنانی عوام کے ایک وسیع حلقے کے ساتھ بات کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سودے بازی کو بھی رد کر دیتے ہیں۔ایک بڑا حلقہ ابھی بھی حزب اللہ کو ہی لبنانی قوم پرستی کی علامت اور اسرائیل کے خلاف قوت کے بطور تسلیم کرتا ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 53 ویں دن بھی کشیدگی برقرار ہے۔ ٹرمپ نے مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کی وارننگ دی ہے، جبکہ ایران نے دباؤ میں آ کر بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔ لبنان میں حملے جاری ہیں اور امریکہ میں جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر رہے ہیں۔
ایران پر حملوں کے 52 ویں دن امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی جہاز ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ مجوزہ مذاکرات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ ایران نے امریکہ کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے تیل بازارکے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
ایران پر حملوں کے 47 ویں دن امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کا دعویٰ کیا ہے، جس کے باعث سمندری تجارت ٹھپ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ ادھر اسرائیل لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ کئی ممالک نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور امریکہ کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔
یہ جنگ شاید اپنے جسمانی وجود میں ختم ہو رہی ہو، لیکن اس کے سیاسی اور تزویراتی اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
ہنگری میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہے وکٹر اوربان کو پیٹر ماجیار نے انتخابات میں شکست دے دی ہے۔ تسزا پارٹی کو برتری حاصل ہوئی ہے، تاہم دو تہائی اکثریت غیر یقینی ہے۔ اس نتیجے کو یورپ کی دائیں بازو کی سیاست کے لیے ایک جھٹکا مانا جا رہا ہے اور یہ ملک کی سیاسی سمت میں تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی سپلائی چین میں آئی رکاوٹوں سے پیدا ہونے والی مزدوروں کی کمی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ کے سبب ہندوستان کا مینوفیکچرنگ سیکٹر مشکلات سے دو چار ہے۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں مزدوروں کی کمی کی شکایت بھی سامنے آئی ہے۔
چین نے اروناچل پردیش کے 23 مقامات کے نئے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ اس پر ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’جھوٹے دعوے پیش کرنے اور بے بنیاد بیانیہ تشکیل دینے کی کوششیں اس ناقابل تردید حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ یہ مقامات اور علاقے، جن میں اروناچل پردیش بھی شامل ہے، ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ‘
ایران پر حملوں کے 42 ویں دن اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تیاری ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والی یہ بات چیت تنازعہ کے مستقل حل کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم، عارضی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں حملے اور آبنائے ہرمز کے بند رہنے کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔
ہندوستان 2028 میں ہونے والے 33 ویں سالانہ کلائمیٹ کانفرنس (سی او پی 33) کی میزبانی سے دستبردار ہو گیا ہے۔ ماہرین نے اس فیصلے کو ’اسٹریٹجک موقع گنوانے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے عالمی کوششوں کے لیے بڑا ’دھچکا‘ بتایا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر ہی لبنان میں اسرائیل کے حملوں نے صورتحال کو بگاڑ دیا ہے۔ سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت کے درمیان ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ متضاد دعوے اور عسکری تیاریوں کے باعث پورا معاہدہ اب سنگین بحران کا شکار ہے۔
امریکہ نے ایران پر حملے کی طے شدہ آخری تاریخ سے پہلے اچانک دو ہفتے کے لیے فوجی کارروائی روک دی ہے۔ ایران نے اسے قبول کرتے ہوئے شرط رکھی ہے کہ حملے مکمل طور پر بند ہوں۔ دونوں فریق بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن عدم اعتماد، سخت شرائط اور علاقائی کشیدگی کے باعث صورتحال اب بھی نازک ہے۔
اسرائیلی اور ہندوستانی فلمساز، صحافی، ماہرین تعلیم اور کارکنوں نے ایک خط میں ہندوستان کے سینٹرل فلم سرٹیفیکیشن بورڈ کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی کو جائز ٹھہرانے کے لیے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کا حوالہ دینے کی سخت مذمت کی ہے۔ خط میں ہندوستان اور اسرائیل میں تکثیریت، جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کو بنائے رکھنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔ ٹرمپ نے نئے سرے سے وارننگ دی ہے، جبکہ تہران نے صاف کر دیا ہے کہ مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت کے بغیر وہ جنگ ختم نہیں کرے گا۔ خطے میں کشیدگی اور بے یقینی بدستور قائم ہے۔
امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ 38 ویں دن مزید پرتشدد ہو گئی ہے۔ تہران اور بیروت میں حملوں سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کی نئی دھمکیوں نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس جنگ کے باعث ہندوستان میں ایل پی جی کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے عام لوگوں کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 36ویں دن دو امریکی فوجی طیارے مار گرائے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک فوجی کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دوسرا لاپتہ ہے۔ اس دوران 365 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں اور خلیجی ممالک تک ان حملوں کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 35 ویں دن بھی ایران میں کشیدگی برقرار ہے۔ نوروز کے اختتامی جشن کے دوران ایک امریکی حملے میں 8 افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کے 34ویں دن ٹرمپ نے حملے تیز کرنے کی بات کہی اور جنگ کو’سرمایہ کاری‘قرار دیا۔ ان کے جنگ بندی کے دعوے کو ایران نے مسترد کر دیا ہے۔ وہیں، آبنائے ہرمز اب بھی بند پڑی ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اثر پڑ رہا ہے۔
اب عالمی منظر نامے پر صورتحال یہ ہے کہ حملہ آوروں کا لگ بھگ ہر مفروضہ، ہر تخمینہ، ہر ٹرگر اور ہر حساب وکتاب بری طرح ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔ تہران کی دیواریں گرنے کے بجائے بیرونی حملے کے نتیجے میں مزید آہنی دکھائی دے رہی ہیں۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو ریا ہے، جہاں ٹرمپ کے ایران سے بات چیت کے دعوے کو تہران نے خارج کر دیا ہے۔ وہیں،اسرائیل کی لبنان میں فوجی کارروائی، امریکہ کی دھمکیاں اور سفارتی عدم اعتماد نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن آف انڈیا نے شہری ہوا بازی کی وزارت کے سکریٹری اور ڈی جی سی اے کو لکھے گئے خط میں مسافروں، فضائی عملے اور طیاروں کی حفاظت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی فعال جنگی علاقے کے اندر یا اس کے بہت قریب پروازیں چلانا انسانی جانوں کو جان بوجھ کر خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
ایران پر امریکہ–اسرائیل حملوں کے 31 ویں دن تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ خلیجی ممالک تک حملے پھیلنے کے درمیان کویت میں ایک ہندوستانی شہری کی موت ہو گئی ہے۔ ٹرمپ کے تیل پر قبضے والے بیان سے تنازعہ بڑھ گیا ہے، جبکہ جنگ کا اثر ہندوستان میں ایندھن کے بحران کی صورت میں واضح طور پرنظر آنے لگا ہے، جہاں گھریلو ضروریات کے لیے مٹی کے تیل کی عارضی واپسی ہوئی ہے۔
امریکہ میں ’نو کنگز‘ تحریک کے تحت ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ 50 ریاستوں میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر اترے۔ مینیسوٹا میں کلیدی پروگرام منعقد ہوا، جہاں پولیس کارروائی میں ہلاک ہونے والے شہریوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ مظاہرین نے جمہوریت اور حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا 29واں دن جاری ہے۔ جوہری ٹھکانوں پر حملوں کے بعد ایران نے’بھاری قیمت‘چکانے کی وارننگ دی ہے۔ وہیں، ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک پروگرام میں نیٹو کو’کاغذی شیر‘قرار دیتے ہوئے اس کے رخ پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا 28واں دن بھی بمباری کے ساتھ جاری ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے توانائی تنصیبات پر حملے 10 دن مؤخر کرنے کی بات کہی ہے، جبکہ امن مذاکرات کے دعوے جاری ہیں۔ ایران نے امریکی ’امن تجویز‘ کو ’یکطرفہ اور غیر منصفانہ‘ قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک پروگرام کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران کے لوگ انہیں اپنا سپریم لیڈر بنانا چاہتے ہیں، لیکن انہیں اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا سلسلہ 27ویں دن بھی تشدد کے ساتھ جاری ہے، اصفہان میں شدید حملوں کی خبرہے۔ اس دوران ہندوستان کی حکومت نے پی این جی کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ جہاں پائپڈ گیس دستیاب ہے، وہاں صارفین کو ایل پی جی سے پی این جی میں شفٹ ہونا ہوگا۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ایل پی جی کی سپلائی بند کی جا سکتی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اس وقت اسرائیل کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی اورمغربی ایشیاء میں اپنی قومی و انرجی سلامتی کے تحفظ کے بھنور کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوا ایران تنازعہ اکیسویں دن اور سنگین ہو گیا ہے۔ جوابی حملوں، توانائی کے مراکز پر حملوں اور کویت تک پھیلتے اثرات کے درمیان جرمنی نے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے، جبکہ امریکہ جنگ کے لیے بھاری اضافی فنڈ کی تیاری میں ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد جاری جنگ میں متعلقہ ممالک کے حکام کے مطابق, ایران میں کم از کم 1,300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لبنان میں 960 سے زائد اور اسرائیل میں 14 افراد کی جان گئی ہے۔ وہیں،امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں اس کے 13 اہلکار ہلاک اور تقریباً 200 زخمی ہوئے ہیں۔
وی-ڈیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، 2025 کے اختتام تک دنیا میں 92 آمریت والے ممالک اور 87 جمہوری ممالک موجود تھے۔ ہندوستان ابھی بھی ایک ’انتخابی آمریت‘ یعنی الیکٹورل آٹو کریسی بنا ہوا ہے، اس زمرے میں وہ 2017 میں شامل ہوا تھا۔ 179 ممالک میں ہندوستان لبرل ڈیموکریسی انڈیکس میں 105ویں مقام پر ہے، جبکہ پچھلے سال یہ 100 ویں مقام پر تھا۔
ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ ہیں۔
افغانستان نے الزام لگایا ہے کہ سوموار کی رات دیر گئے دارالحکومت کابل میں ایک اسپتال پر پاکستان کے فضائی حملے میں 400 لوگوں کی جان چلی گئی۔ وہیں،پاکستان نے اسپتال پر حملے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے حملے، جو مشرقی افغانستان میں بھی کیے گئے، میں کسی بھی شہری مقام کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔