فکر و نظر

سرسید احمدخان کا نظریۂ ذات پات

سرسید نے انگلینڈ اور ہندستان میں سول سروس کے یکساں امتحان کی مخالفت کی، کیوں کہ ان کے نزدیک اگر ہندستان میں بھی یہ امتحان ہونے لگےگا تو اس میں (مزعومہ) رذیل برادریوں کے لوگ امتحان پاس کر کے کلکٹر اورکمشنر ہوسکتے ہیں۔

SIR مولانامحمدقاسم نانوتوی(شیخ 1833-1880ء)کے استاذ مولانا مملوک علی نانوتوی(متوفی 1851ء) کے شاگرد(اکرام، شیخ محمد:موجِ کوثر،ص 80, )سرسید احمد خان (1898ء- 1817ء)جنھوں نے قرآن مجید کی”تفسیر القرآن وھوالھادی والفرقان”کے نام سے لکھی اور علی گڑھ میں ۱۸۷۵ء میں”محمڈن اینگلو اورینٹل کالج/مدرسۃ العلوم”کھولا ، جو ۱۹۲۰ء  میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، میں بدل گیا۔ وہ کشتئ تعلیمی مشن کے ملاح تھے، مگر ساتھ ہی ساتھ وہ برطانوی حکومت کے بہت بڑے وفادار بھی تھے، جس کا اعتراف انھوں نے متعدد بار کیا(خان ،سر سید احمد:خطبات سرسید ،مرتب :محمداسماعیل پانی پتی ،2/09-10)اور مزعومہ شرفاء کو بھی انگریزی حکومت کا وفادار بننے کی تلقین کرتے رہے۔ وہ دو قومی نظریہ (ہندو مسلم کے لئے الگ الگ ملک)کے حامی تھے ۔(Panikkar, K.M.: A survey of Inidan History, P.234.) انھوں نے پوری مسلم قوم کی فلاح وبہبود کے لیے کبھی نہ سوچا، وہ صرف مفروضہ شرفاء کی رفاہ کے لیے کام کرتے رہے۔ وہ اونچ نیچ کو باقی رکھنا اور موہوم نیچی اقوام کو ہر طرح سے دبا کررکھنا چاہتے تھے، انھیں گالی گلوج کے الفاظ سے مخاطب کرتے تھے ۔ 1857ء  میں مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، اس میں مسلمانوں کو ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا۔ ان (مسلمانوں )کو کافی جانی ومالی نقصان ہوا۔سرسید صاحب نے انگریزوں کو باور کرانے کی کوشش کی کہ اس بغاوت میں(مزعومہ)بڑی ذاتوں کے مسلمانوں کا ہاتھ نہیں ہے وہ تو  ان کے وفا دار ہیں اور موہومہ شرفاء کو نصیحت بھی کرتے رہے کہ تم حکومت کے ساتھ وفاداری کرو اور حکومت کی نظر میں اپنے کو مشکوک مت بناؤ۔ 28دسمبر 1887ء میں لکھنؤ کے اندر”محمڈ ن ایجو کیشنل کانگریس [کانفرنس]”کے دوسرے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا:

“جو ادنیٰ خاندان کے لوگ ہیں وہ ملک یا گورنمنٹ کے لیے مفید نہیں ہیں اور اعلیٰ خاندان والے رئیسوں کی عزت کرتے ہیں اور اچھا برتاؤ کرتے ہیں اور انگلش قوم کی عزت اور برٹش گورنمنٹ کے انصاف کا نقش لوگوں کے دلوں پر جماتے ہیں اور ملک اور گورنمنٹ کے لیے مفید ہیں…کیا تم نے نہیں دیکھا کہ غدر میں کیا حالت [حالات]تھے؟ نہایت مشکل وقت تھا۔ اس کی فوج بگڑ گئی تھی۔ چند بدمعاش ساتھ ہوگئے تھے اور گورنمنٹ نے غلطی سے سمجھ لیا تھا کہ رعایا باغی ہے…اے بھائیو! اے میرے جگر گوشو!یہ حال گورنمنٹ کا اور تمہارا ہے۔ تم کو سیدھے طور پر رہنا چاہیے نہ اس طرح شورو غل سے کہ کوّے جمع ہوگئے۔

اے بھائیو!میں نے گورنمنٹ کو ایسے سخت لفظوں میں الزام دیا ہے؛ لیکن وہ وقت آتا جاتا ہے کہ ہمارے بھائی پٹھان، سادات، ہاشمی اور قریشی جن کے خون میں ابراہیم کے خون کی بو آتی ہے،وہ ایک دفعہ زرق برق کی وردیاں پہنے ہوئے کرنیل اور میجر بنے ہوئے فوج میں ہوں گے؛لیکن اس وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔ ضرور گورنمنٹ متوجہ ہوگی، بشرطیکہ تم اس کو مشکوک نہ ہونے دو…انصاف کرو کہ گورنمنٹ کی عمل داری کو کَے [کتنے]دن ہوئے؟ غدرْ کے کَے دن ہوئے؟ اور وہ صدمہ جو گورنمنٹ کو پہنچا، گو جاہلوں سے تھا اور رئیسوں سے نہ تھا۔ اس کو بتلائیے کہ کَے دن ہوئے؟…میں سچ کہتا ہوں کہ جو چیز تم کو اعلیٰ درجے پر پہنچانے والی ہے، وہ صرف ہائی ایجوکیشن [اعلیٰ تعلیم]ہے۔ جب تک ہماری قوم میں ایسے لوگ پیدا نہ ہوں گے ہم ذلیل رہیں گے اور اوروں سے پست رہیں گے اور اس عزت کو نہ پہنچیں گے جس پر پہنچنے کاہمارا دل چاہتا ہے۔ یہ دل سوزی کی چند نصیحتیں ہیں جو میں نے تم کو کی ہیں، مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کوئی مجھے دیوانہ کہے یا اور کچھ۔”(خان ،سر سید احمد:خطبات)

دی لائل محمڈنس آف انڈیا نامی ہفت روزہ میگزین -جو اردو اور انگریزی میں شائع ہوتی تھی اور جس کا اردو نام”رسالہ خیر خواہان مسلم”تھا- میں سرسید صاحب نے اس بات کی وکالت کی کہ (مزعومہ)اونچی ذاتوں میں پیدا ہوئے مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف مہم میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ (अनवर,अली: मसावत की जंग, पसेमंजर बिहार के पसमांदा मुसलमान, पृ.101)

غدر1857ء  کے متعلق انہوں نے”اسباب بغاوت ہند”لکھی، اس میں ایک جگہ زمینداروں اور مزعومہ طبقۂ اشراف کی بغاوت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے یہ بھی لکھ دیا:

“جولاہوں کا تارتو بالکل ٹوٹ گیا تھا جو بدذات سب سے زیادہ اس ہنگامہ میں گرم جوش تھے۔”(خان،سرسید احمد:اسباب بغاوت ہند،مع مقدمہ فوق کریمی،ص60 ۔)

اس کتاب کا انگریزی ترجمہ”سرآکلینڈ کو لبِن”اور”جی.ایف.آئی گراہم”نے کیا۔یہ کتاب ” The causes of Indian Revolt” کے نام سے 1873ء میں شائع کی گئی تاکہ انگریز حکمراں مسلم طبقۂ شرفاءکی وفاداری اور مسلم پس کردہ طبقات کی غداری اوربغاوت سے واقف ہوسکے۔1894ء تک سر سید انگریزوں کو یہ سمجھا نے میں کامیاب بھی ہوگئے کہ(مزعومہ)بڑی ذاتوں کے مسلمان برطانیہ حکومت کے  حامی ہیں۔چنانچہ اسٹریچی (Strachey)نے سر کاری طور سے کہا  تھا کہ بڑی ذاتوں کے مسلمان انگریزی حکومت کی طاقت کے سرچشمہ تھے۔ ( Panikkar, K.M: A survey of Inidan History, P. 233)

یہ بھی پڑھیں : جب سرسید نےگھنگھرو باندھے

28دسمبر 1987ء کو محمڈ ن ایجو کیشنل کانگریس لکھنؤ کے دوسرے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے سرسید نے لیجسلیٹو کونسل میں منتخب ممبران کو بھیجنے کی مخالفت اس لیے کی کہ چنے ہوئے ممبران عام لوگوں کے درمیان سے آئیں گے جو وائسرائے سے مخاطب ہونے یا (مزعومہ)اشراف کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھنے کے لائق نہ ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ(موہومہ)اونچے خاندان میں پیدا ہوئے شخص ہی وائسرائے کی کونسل میں بیٹھنے کے قابل ہیں۔ اور کونسل ممبران کا انتخاب ذات کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ لیاقت اور قابلیت کی وجہ سے، انھوں نے کہا:

 “گورنمنٹ ہندستانی رئیسوں میں سے جن کو وہ اس کرسی پر بیٹھنے کے قابل اور بہ اعتبار عزت کے مناسبسمجھتی ہے، ان کو بھی [ہی ]بلاتی ہے۔ شاید اس بات پر لوگوں کو شبہ ہوا ہوگا کہبہ اعتبار عزت کے کیوں بلاتی ہے؟ بہ اعتبار لیاقت کے کیوں نہیں بلاتی ؟”(خان، سرسید احمد: خطبات سرسید  ،2/5)

اس کا سبب بیان کرتے ہوئے وہ خود فرماتے ہیں:

“وائسرائے کے ساتھ کونسل میں بیٹھنے کے لیے واجبات[میں]سے ہے کہ ایک معزز شخص ملک کے معزز شخصوں میں سے ہو۔ کیا ہمارے ملک کے ریئس اس کو پسند کریں گے کہادنی درجے کا آدمی، خواہ اس نے بی۔ اے کی ڈگری لی ہو یا ایم.اے کی اور گو وہ لائق بھی ہو،ان پربیٹھ کر حکومت کرے، ان کے مال، جائیداد اور عزت پر حاکم ہو؟ کبھی نہیں۔ کوئی ایک بھی پسند نہیں کرے گا۔(چیئرز)گورنمنٹ کی کونسل کی کرسی نہایت معزز ہے۔ گورنمنٹ مجبورہے کہ سوائے معزز کے کسی کو نہیں بٹھا سکتی اور نہ وائسرائے اس کو”مائی کلیگ”یا”مائی آنریبل کلیگ”یعنی برادریا معزز صاحب کہہ سکتا ہے نہ شاہانہ ڈنروں [رات کا کھانا]میں اور نہ شہنشاہی جلسوں میں، جہاں ڈیوک اور ارل اور بڑے بڑے معززین شامل ہوتے ہیں، بلایا جاسکتا ہے۔ غرض کہ گورنمنٹ پر یہ الزام کسی طرح عائد نہیں ہوسکتا کہ رئیسوں کو کیوں منتخب کرتی ہے۔”(حوالہ سابق، ص ،2/6 ۔)

سرسید نے انگلینڈ اور ہندستان میں سول سروس کے یکساں امتحان کی مخالفت کی، کیوں کہ ان کے نزدیک اگر ہندستان میں بھی یہ امتحان ہونے لگےگا تو اس میں (مزعومہ) رذیل برادریوں کے لوگ امتحان پاس کر کے کلکٹر اورکمشنر ہوسکتے ہیں۔ انگلینڈ میں ہر ایک چاہے وہ درزی کا بیٹا ہو یا ڈیوک کا امتحان پاس کرکے عہدہ پاسکتا ہے۔ مگروہ کہتے ہیں کہ انگلینڈ اور ہندستان کے حالات میں فرق ہے۔ ان کے مطابق ہندستان میں(خودساختہ) بڑی ذات کے لوگ ہی برٹش گورنمنٹ کے وفادار ہیں (موہومہ) نیچ قوم کے لوگ نہ تو ملک کے لیے مفید ہیں اور نہ گورنمنٹ کے لیے۔ (مزعومہ) بڑی ذاتوں کے لوگ کبھی برداشت اور پسند نہیں کریں گے کہ(موہومہ) رذیل ذاتوں کا کوئی آدمی ان پر حکومت کرے، وہ فرماتے ہیں:

“یہ امر آپ کو ظاہر ہے کہ ولایت میں ہرشخص اعلیٰ اور ادنیٰ، ڈیوک اور ارل یا کسی جنٹلمین و شریف خاندان کا بیٹا اور ایک درزی یا کسی ادنی درجے کے خاندان کا بیٹا برابر امتحان دے سکتا ہے۔ جو یورپین ولایت سے کمپٹیشن کا امتحان دے کر آتے ہیں، ادنی خاندان کے بھی ہوتے ہیں اور اعلیٰ خاندان کے بھی ہوتے ہیں۔ آپ سب یقین کرتے ہوں گے اور میں کہتا ہوں کہ یقین کرتے ہوں گے کہجو ادنی خاندان کے لوگ ہیں وہ ملک یا گورنمنٹ کے لیے مفید نہیں ہیں اور اعلیٰ خاندان والے رئیسوں کی عزت کرتے ہیں اور اچھا برتاؤ کرتے ہیں اور انگلش قوم کی عزت اور برٹش گورنمنٹ کے انصاف کا نقش لوگوں کے دلوں پر جماتے ہیں اور ملک اور گورنمنٹ کے لیے مفید ہیں؛ لیکن انگلستان سے جو آتے ہیں، وہ ہماری آنکھ سے اتنی دور ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ لارڈ کے بیٹے ہیں یا ڈیوک کے یا ایک درزی کے(چیئرز)اور اس سبب سے یہ امر کہ ہم پر ایک ادنی آدمی حکومت کرتا ہے، ہماری آنکھ سے چھپا ہوا رہتا ہے؛ لیکن ہندوستان میں یہ خیال نہیں ہے۔ ہندوستان کی شریف قومیں ہندوستان کے ادنی درجے کےشخص کو، جس کی جڑ بنیاد سے وہ واقف ہیں،اپنی جان ومال پر حاکم ہونا پسند نہیں کریں گے(چیئر ز)۔” (حوالہ سابق، 2/12-13)

“محمڈن اینگلواور ینٹل کالج/مدرسۃ العلوم” کو قائم کرنے کے پیچھے سرسید کا کیا مقصدتھا اس کی وضاحت ابو خالد بن سعدی انور صاحب نے اپنے ایک مضمون میں کی ہے۔ذات پات کے غیر اسلامی نظریہ کی مذمت کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

“سرسید مرحوم کی اکثر تحریر وں سے ظاہر ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کے طبقۂ شرفاء کے غدر کے نتیجے میں تباہی کے بعد ان کی باز آباد کاری کے لیے مدرسۃ العلوم علی گڑھ قائم کیا تھا۔ چنانچہ علی گڑھ کے فارغین کے کیر یکٹر سرٹی فیکیٹ میں یہ جملہ ۱۹۴۷ء  تک برابر لکھا جاتا رہا کہ “سائل اپنے ضلع کے شریف خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔”یہ دوسری بات ہے کہ تاریخی عوامل نے اس مرکز تعلیم کو ہندوستانی مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم کی واحد امید گاہ بنادیا ۔” (خان، اشفاق محمد(مرتب):ہندوستانی معاشرے میں مسلمانوں کے مسائل،ص -341)

عبد الرحمن عابد صاحب نے اپنے ایک مضمون”قضیہ اشراف واجلاف کا”میں ذات پات کو سراسر غیر اسلامی بتایا ہے اور یہ چیز مسلمانوں میں کس طرح آئی اس کی نوعیت اور صورت حال پر گفتگو کی ہے۔ اس سے جو علماء متاثر ہوئے ان کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

“سر سید کی علی گڑھ تحریک میں بھی ان کا مطمح نظر اشراف تھے، اشراف کے لیے ہی انھوں نے علی گڑھ کا لج کی بنیاد ڈالی۔”( اردوقومی آواز، نئی دہلی،27 نومبر1994ء ۔)

یہ بھی پڑھیں : جب سرسید نے غالب کی بات نہیں مانی تھی

اشفاق حسین انصاری صاحب(1931-2008ء)سابق ممبر پارلیمنٹ(ساتویں)، سابق ممبر ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن (پہلا) نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ کانگریس کے لیڈر شپ میں کسی سطح پر پسماندہ مسلمان نظر نہیں آتے ہیں۔ ہر جگہ(مفروضہ) اشراف مسلمان کا ہی قبضہ ہے۔(اردو راشٹریہ سہارا،نئی دہلی،19دسمبر 2001۔) ان کے اس مضمون پر مشہور دانشور، سیاست داں ، سابق ممبر پارلیامینٹاور سابق ریڈر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ڈاکٹرمحمد ہاشم قدوائی نے ایک تنقیدی مراسلہ لکھا۔ اس میں انھوں نے مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی اونچ نیچ کی سوچ کو اسلامی تعلیمات کے روسے غلط بتایا اور اس کو ختم کرنے پر زور دیا اور لکھا کہ اس وقت مسلمانوں کو باہمی اتحاد کی شدید ضرورت ہے ؛لیکن “بدقسمتی سے اس مضمون سے مسلمانوں کے باہمی اختلافات دور نہیں ہوئے۔”(اردو راشٹریہ سہارا، نئی دہلی،30دسمبر2001ء ، ص3) وہ اپنے مراسلہ کا اختتام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“بد قسمتی سے اشراف بنام اجلاف کا فتنہ پچھلی صدی میں شروع ہوا اور افسوس کہ سید احمد خان صاحب نے بھی اس فتنے کا مقابلہ نہیں کیا۔ بلکہ اپنے میدان میں انھوں نے اس کے خلاف سپر ڈال دی اور انھوں نے مغربی یا انگریزی تعلیم کو صرف اشراف تک محدود رکھنے کو کہا۔”(حوالہ سابق،ص3۔)

مسٹر گیبوریاؤ (Gaborieau)لکھتے ہیں کہ’سر سید احمد خان کا تعلق طبقۂ اشراف سے تھا اور وہ طبقۂ اشراف کے بھلائی ہی کے لیے کام کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ علی گڑہ کالج جلاہوں کے لیے نہیں ہے۔’ (Pakistan: Nationalism without a Nation?, Christophe Jaffrelot (ed.), pp. 59-60)

مذکورہ بالا حضرات کی بات بالکل حقیقت پر مبنی ہے، اس کا ثبوت سرسید کی اس تقریر میں جابجا موجود ہے جس کو انھوں نے 28دسمبر 1887ء میں محمڈ ن ایجوکیشنل کا نگریس لکھنؤ کے دوسرے جلسہ میں کی تھی، جس کے کچھ اقتباسات اوپر گزرچکے ہیں۔حتی کہ انھوں نے تقریر کی شروعات میں ہی کہہ دیا تھا:

“میری کبھی عادت پولیٹکل امورپرلیکچر دینے کی نہیں ہے اور نہ مجھے یاد ہے کہ میں نے کبھی پولیٹیکل امور میں [پر]کوئی لیکچر دیا ہو۔ میری توجہ ہمیشہ اپنے بھائی مسلمانوں کی تعلیم کی طرف مائل رہی اور اسی کو میں ہندوستان کے لیے اور قوم کے لیے بہت مفیدسمجھتا ہوں؛لیکن اس زمانے میں بعض حالات ایسے درپیش آئے جن کے سبب ضرور [ضروری]ہواکہ اپنی رائے سے اپنے بھائیوں کو جس کو ان کے حق میں مفید سمجھتا ہوں اطلاع دوں۔”(خان، سرسید احمد:خطبات سرسید،2/3۔)

انھوں نے اس تقریر میں کہا ہے کہ میری توجہ ہمیشہ اپنے مسلمان بھائیوں کی تعلیم کی طرف مائل رہی ہے اور ان کی ایک تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک مسلمان صرف مزعومہ طبقۂ اشراف ہی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ انھوں نے اس تقریر میں”اپنے بھائی مسلمانوں”،”اپنے بھائیوں”کے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ ان کے نزدیک ان سے کون لوگ مراد ہیں اس کی وضاحت ان کی تقریر کے اگلے حصہ سے ہوجاتی ہے جو اوپر گزر چکی ہے، جس میں تھا:

“ہمارے بھائی پٹھان، سادات، ہاشمی اور قریشی جن کے خون میں ابراہیم کے خون کی بوآتی ہے۔”(حوالہ سابق،2/3۔)

سر سید  نے پنجاب میں تعلیم نسواں پر جو تقریر کی تھی اس میں صرف مفروضہ طبقۂ شرفاء کی لڑکیوں کی تعلیم کی بات کہی تھی۔ اس سے ان کے علی گڑھ کالج کھولنے کے مطمح نظر کو سمجھا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اسے کن لوگوں کے لیے کھولا تھا۔ 20اپریل 1894ء  بمقام جالندھر پنجاب، تعلیم نسواں پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں لڑکیوں کو اسکول بھیجنے کے سخت خلاف ہوں، پتہ نہیں کس طرح کی لڑکیوں سے ان کی صحبت ہوگی۔ پھر فرماتے ہیں:

“مگر میں نہایت زور سے کہتا ہوں کہ اشراف لوگ جمع ہوکر اپنی لڑکیوں کی تعلیم کا ایسا انتظام کریں جو نظیر ہو پچھلی تعلیم کی جو کسی زمانہ میں ہوتی تھی۔ کوئی شریف خاندان کا شخص یہ نہیں خیال کرسکتا کہ وہ اپنی بیٹی کو ایسی تعلیم دے [جو]ٹیلیگراف آفس میں سگنلر ہونے کا کام دے یا پوسٹ آفس میں چٹھیوں پر مہر لگایا کرے۔”(خان، سرسید احمد: خطبات سرسید ،2/279)

بریلی کے”مدرسہ انجمن اسلامیہ”کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے سر سید کو بلایا گیا تھا جہاں مسلمانوں کے نچلے طبقے کے بچے پڑھتے تھے۔ اس موقع پر جو ایڈریس ان کو پیش کیا گیا تھا اس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا:

“آپ نے اپنے ایڈریس ]تقریر[میں کہا ہے کہ ہم کو دوسری قوموں کے علوم پڑھانے میں بھی عذر نہیں ہے۔ شاید اس فقرے سے انگریزی پڑھانے کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ایسے مدرسے میں جیسا کہ آپ کا مدرسہ ہے انگریزی پڑھانے کا خیال ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری قوم میں انگریزی زبان اور انگریزی علوم کی تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔ ہماری قوم کے سرداروں اور شریفوں کو لازم ہے کہ اپنی اولاد کو انگریزی علوم کی اعلیٰ درجے کی تعلیم دیں۔ مجھ سے زیادہ کوئی شخص نہ نکلے گا جو مسلمانوں میں انگریزی تعلیم و علوم کو ترقی دینے کا حامی و خواہش مند ہو۔ مگر ہر امر کے لیے ایک موقع اور محل ہے۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ آپ کے مدرسے میں مسجد کے صحن میں جس کے قریب آپ مدرسہ بنانا چاہتے ہیں پچھترّ [75]لڑکے پڑھ رہے ہیں۔ جس حیثیت اور جس درجے کے یہ لڑکے ہیں ان کو انگریزی پڑھانے کا کوئی فائدہ مرتب نہیں ہونے کا۔ ان کو اسی قدیم طریقہ تعلیم میں مشغول رکھنا ان کے حق میں اور ملک کے حق میں زیادہ تر مفید ہے…مناسب حال یہ ہے کہ آپ ایسی کوشش کریں کہ ان لڑکوں کو کچھ لکھنا پڑھنا اور ضروری کارروائی کے موافق حساب کتاب آجاوے اور ایسے چھوٹے چھوٹے رسالے ان کو پڑھا دیے جاویں جن سے نماز روزے کے ضروری مسائل جو روز مرّ ہ پیش آتے ہیں اور مسلمانی مذہب کے سیدھے سادھے عقائد ان کو معلوم ہوجاویں۔”(صدیقی،عتیق:سرسید احمد خان ایک سیاسی مطالعہ، ص144-145)

سرسیدصاحب مزعومہ چھوٹی برادریوں کو”ادنی ٰقوم، رذیل برادری”اور”بد ذات”ہی کہنے اور ان کو دبا کر رکھنے، ترقی اور علم نہ حاصل کرنے دینے کی حد تک ہی نہیں جاتے ہیں؛ بلکہ ان کی ایک تحریر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ان کو مسلمان ہی تسلیم نہیں کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک مسلمان صرف شرفاء ہیں چناں چہ اپنی کتاب “اسباب بغاوت ہند”میں بغاوت کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“مفلسی اورتنگئ معاش ہندوستان کی رعایاکو ہماری گورنمنٹ کی حکومت میں کیوں نہ ہوتی سب سے بڑی معاش رعایائے ہندوستان کی نوکری تھی اور یہ ایک پیشہ گنا جاتا تھا اگر چہ ہر ایک قوم کے لوگ روزگار نہ ہونے کے شاکی تھے مگر یہ شکایت سب سے زیادہ مسلمانوں کو تھی۔ غور کرنا چاہیے کہہندو جو اصلی باشندے اس ملک کے ہیں زمانہ سلف میں ان میں سے کوئی شخص روزگار پیشہ نہ تھا بلکہ سب لوگ ملکی کا روبار میں مصروف تھے۔ برہمن کو روزگار سے کوئی علاقہ نہ تھا،بیش برن جو کہلاتے تھے وہ ہمیشہ بیوپار اور مہاجنی میں مصروف تھے ، چھتری جو اس ملک کے کسی زمانہ میں حاکم تھے پرانی تار یخوں سے ثابت ہے کہ وہ بھی روزگار پیشہ نہ تھے؛ بلکہ زمین سے اور ٹکڑہ زمین کی حکومت سے بطور بھیا چارہ علاقہ رکھتے تھے، سپاہ ان کی ملازم نہ تھی بلکہ بطور بھائی بندی کے وقت پر جمع ہو کر لشکر آراستہ ہوتا تھا جیساکہ کچھ تھوڑا سا نمونہ روس کی مملکت میں پایا جاتا ہے۔البتہ قوم کا یت [کائستھ]اس ملک میں قدیم سے روزگار پیشہ دکھلائی دیتے ہیں۔مسلمان اس ملک کے رہنے والے نہیں ہیں، اگلے بادشاہوں کے ساتھ بوسیلہ روزگار کے ہندوستان میں آئے اور یہاں تو طن اختیار کیا۔ اس لیے سب کے سب روزگار پیشہ تھے اور کمی روزگار سے ان کو زیادہ تر شکایت بہ نسبت اصلی باشندوں اس ملک کے تھی۔عزت دار سپاہ کاروزگار جو یہاں کی جاہل رعایا کے مزاج سے زیادہ تر مناسب [تناسب]رکھتا ہے ہماری گورنمنٹ میں بہت کم تھی۔سرکاری فوج جو غالباً مرکب تھی تلنگوں سے اس میں اشراف لوگ نوکری کرنی معیوب سمجھتے تھے، سواروں میں البتہ اشرافوں کو[کی]نوکری باقی تھی مگر وہ تعداد میں اس قدرقلیل تھی کہ اگلی سپاہ سوار سے اس کو کچھ نسبت نہ تھی علاوہ سرکاری نوکری کے اگلے عہدکے صوبہ داروں اورامیروں کے نج کے نوکر ہوتے تھےکہ ان کی تعدادبھی کم خیال نہیں کرنی چاہیے۔”(خان،سرسید احمد:اسباب بغاوت ہند،مع مقدمہ فوق کریمی ،ص59۔)

یہاں کسی قسم کے تبصرہ کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ہے کہ سرسیدصاحب کے نزدیک ان کی اس تحریر کی روشنی میں صرف کون لوگ مسلمان ہیں؟ مزید وضاحت اور شرح صدر کے لیے  اوپر نقل کی گئی ان کی تقریر کے اس ٹکڑے پر غور کرنا چاہیے جس میں انھوں نے کہا تھا:

“ہمارے بھائی پٹھان ، سادات، ہاشمی اور قریشی …..” (خان، سرسید احمد:خطبات سرسید،2/24۔)

مذکورہ بالا عبارتوں کے بعد کسی کو کسی طرح کا تردد نہیں ہوناچاہیے، اگر پھر بھی کسی کو تردد ہے تو ان کاتردد سر سید صاحب کی ایک دوسری عبارت سے دور ہو جانا چاہیے، انہوں نے اظہار جرأ ت کرتے ہوے “اسبابِ بغاوت ہند”میں مذکورہ بالا عبارتیں لکھنے کے بعد اس کی وضاحت تک کرڈالی ہے۔ ان عبارتوں کے لکھنے کے بعد فوراً دوسرے صفحہ پر صنعت وحرفت سے جڑی ہوئی مسلم برادریوں کی بغاوت کے اسباب کا تذکرہ کیا ہے؛لیکن ان کو”مسلمان”کہنے کے بجائے “اہل حرفہ” ،”جولاہا” اور”بد ذات”کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

“اہل حرفہ کاروزگار بسبب جاری اور رائج ہونے اشیائے تجارت ولایت کے بالکل جاتا رہا یہاں تک کہ ہندوستان میں کوئی سوئی بنانے والے اور دیا سلائی بنانے والے کو بھی نہیں پوچھتا تھا۔جولاہوں کا تار تو با لکل ٹوٹ گیا تھا جوبدذات سب سے زیادہ اس ہنگامہ میں گر م جوش تھے۔” (خان،سرسید احمد:اسباب بغاوت ہند،مع مقدمہ فوق کریمی ، ص60۔)

یہ بھی پڑھیں : سرسید کا نظریہ تعلیم اور تعلیم نسواں

سر سید صاحب نے نہ صرف مزعومہ رذیل اقوام کے ساتھ تعصبانہ رویہ اپنایا اوران کو برے القاب سے نوازا، بلکہ اپنی ذات پات کی سوچ کی وجہ سے انہو ں نے اُن صحابہ کرامؓ تک کو نہ چھوڑا جن کو جنت کی بشارت دنیا میں ہی دے دی گئی تھی، جنہیں اصطلاح میں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے۔ چنانچہ علامہ شبلی نعمانی (1867-1914ء) نے جب”الفاروق” لکھنا شروع کیا تو بہت سے لوگوں نے ان کو اس سے روکنا چاہا۔ خود سرسید صاحب کو سب سے زیادہ اختلاف تھا۔ مسلم اورینٹل کالج علی گڑھ (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)کے ایک شیعہ ہمدرد نواب عماد الملک سید حسین بلگرامی (1844-1926ء) کو انہوں نے اس سلسلہ میں ۲۰مارچ۱۸۸۹ء میں ایک خط لکھا۔ علامہ سید سلیمان ندوی (1884-1953ء) نے”حیات شبلی”میں ان کا یہ خط نقل کیا ہے، اس خط کے آخر میں ہے:

“میں تو ان صفات کو جو ذات نبوی میں جمع تھیں، دو حصوں پر تقسیم کرتا ہوں، ایک سلطنت اور ایک قدوسیت ،اول کی خلافت حضرت عمرؓ کو ملی، دوسری کی خلافت حضرت علیؓ، ائمہ اہل بیت [سادات]کو۔ مگر یہ کہہ دینا تو آسان ہے، مگر کس کی جرأت ہے کہ اس کو لکھے [کہ]حضرت عثمانؓ نے سب چیزوں کو غارت کر دیا، حضرت ابوبکرؓ تو صرف برائے نام بزرگ آدمی تھے۔ پس میری رائے میں ان کی نسبت کچھ لکھنا اور امور خانہ تحریرات کا زیر مشق بنانا نہایت نامناسب ہے، جو ہوا سو ہوا، جو گذرا سو گذرا۔”(ندوی، سید سلیمان:حیات شبلی، ،ص 232-233)

سرسیدنمالوگ

سرسیدصاحب کی طرح بہت سے لوگ تھے جن کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ مزعومہ بڑی ذاتوں کے لوگ ہی تعلیم حاصل کریں۔ انھوں نے پس کردہ برادریوں کے لیے تعلیم کی تحدید تک کرڈالی تھی چنانچہ:

“مولانا عبد الکریم جن کی تقرری انگریزی حکومت میں بنگال کے مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کا پتہ لگا نے کے لیے کی گئی تھی، نچلے طبقے کے مسلمانوں کے لیے سفارش کی کہ ان کی تعلیم پرائمری تک ہی ہونی چاہیے۔”(Education Commission Report: Bengal, volume: 1884 pp. 2137 qouted in अनवर,अली: मसावत की जंग, p. 103. )

رائٹ آنریبل سید امیر علی(1849-1928ء)سرسیدصاحب کے ہمعصر تھے۔ تاریخوں میں آتا ہے کہ آپ بہت ہی اعلیٰ پایہ کے بیرسٹر تھے۔ آپ کی نظر اسلامی قانون پر بہت گہری تھی، آپ وہ شخص ہیں جنھوں نے مسلمانوں کی ساری امیدیں پوری کیں، شیعہ ہوتے ہوئے بھی شیعہ و سنی اختلاف کو اپنی زندگی میں کوئی جگہ نہ دی، اسلام کی خدمت کے لیے کافی کتابیں لکھیں اور لندن میں اپنی انگریز عیسائی بیوی ،جو”لارڈ ڈفرن وائسرائے ہند”کی سالی تھی، کے ساتھ مقیم تھے؛ لیکن وہاں بھی انھوں نے اسلام کا بھر پور دفاع کیا، اس طرح وہ یورپ میں اسلام کے ترجمان تھے۔(اکرم، شیخ محمد:موج کوثر ، ص168-177)

سید صاحب اتنی زیادہ خوبیوں کے مالک تھے ،مگر مزعومہ رذیل برادریوں کے سلسلہ میں ان کا رویہ مذکورہ بالا خصوصیات سے بالکل ہی الگ تھا۔

“انھوں نے اونچی ذاتوں کے مسلمانوں اور نیچی ذاتوں کے مسلمانوں کے لیے یکساں تعلیم کی مخالفت کی۔ چھوٹی ذاتوں کے مسلمانوں کے لیے انھوں نے علیحدہ تعلیم کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ مدرسہ اور مکتب ان کی مرکز ہونے چاہیے۔” (मसावत की जंग, p. 104)

دہلی کے ایک صوفی عالم دین خواجہ سید حسن نظامی(1873-1955ء)-جو ایک ماہنامہ جریدہ “تبلیغ نسواں” نکالا کرتے تھے-نے دہلی سے شائع ہونے والے ایک جریدہ”مولوی”میں لکھا:

“آج کل کے زمانے میں انگریزی تعلیم میں پیشہ ور قومیں جولاہا وغیرہ تعلیم حاصل کرکے سرکاری ملازمت حاصل کرتی ہیں، جس کی وجہ سے شرفاء کے لڑکے بے کار رہ جاتے ہیں ۔ گورنمنٹ کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔” (: मसावत की जंग ,p. 129)

ہندو دھرم کو بچانے اور اچھوتوں کو ہندودھرم میں باقی رکھنے کے واسطے منصوبہ بند سازش کے تحت مفروضہ بڑی ذاتوں کے ہندؤں کے ذریعہ ان کو ہندوتسلیم کروانے کے لیے ہندو دانشوران 1925ء میں آر.ایس.ایس کی بنیاد ڈال رہے تھے؛ لیکن عین اسی وقت 1925ء میں خواجہ سیدحسن نظامی صاحب نے مزعومہ رذیل ذاتوں کے مسلمانوں کے متعلق لکھا:

“مسلمانوں کے بیچ ایسے لوگ جو رذیل [گھٹیا]پیشوں سے جڑے ہوئے ہیں جیسے حجام، دھوبی، بنکر، پانی ڈھونے والے[بھشتی]ان سے نفرت نہیں کرنی چاہیے، ان کو اونچی ذات کے مسلمانوں کے ساتھ کھانے اور بیٹھنے کا موقع دیا جانا چاہیے اور ہم مذہب سمجھنا چاہیے؛ لیکن اس طرح کے کاموں میں لگے ہوئے مسلمانوں کو یہ بھی نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ دولت مند اور اونچے منصب پر فائز مسلمانوں کی برابری میں ہیں۔ وہ دینی لحاظ سے تو برابر ہیں؛ لیکن دنیاوی نقطۂ نظر سے ان کی حیثیت الگ ہے، خدا نے کچھ طبقوں پر خاص مہربانی کی ہے اور دوسرے طبقوں پر ان کی برتری خدا کی قائم کردہ ہے۔ اس لیے رذیل پیشوں سے منسلک مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وے اونچے مناصب پر بیٹھے لوگوں کے حکم کو مانیں۔” (Ibid)

وہ آگے مزید تحریر فرماتے ہیں:

“یوں تو اسلام میں مساوات ہے مگر خدا وندِ پاک نے جولاہاہوں کو بڑی قوموں کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔”(Ibid)

(مضمون نگار خواجہ معین الدین چشتی اردو عربی فارسی یونیورسٹی، لکھنؤ میں شعبۂ عربی کے صدر ہیں.)

نوٹ: طوالت کی وجہ سے مکمل حوالہ نہ دیکر صرف، مصنف، کتاب اور صفحہ ذکر کیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات اور حوالہ جات کے لئے مضمون نگار کی کتاب “ہندستان میں ذات پات اور مسلمان(آئيڈيل فاونڈيشن،ڈسٹریبیوٹر:فريد بك ڈبو،نئی دہلی، جدید اڈیشن، 2009ء) ملاحظہ کریں۔