فکر و نظر

سینما گھر 15 اگست اور26 جنوری کا لال قلعہ نہیں ہے

سینما گھر نہ تو پندرہ اگست اور 26 جنوری کا لال قلعہ ہے، نہ ہی ان تمام اسکولوں اور کالجوں کا میدان، جہاں ان دو دنوں پر قومی ترانہ  ہوتا ہے اور ‘ رنگارنگ پروگرام ‘ بھی۔

Photo: PTI

Photo: PTI

انوپم کھیر صاحب جب سنجیدگی سے کوئی بات کہتے ہیں تو اس پر دھیان دینا چاہئے۔ منجھےہوئے فنکار اور نو نان سینس محب وطن ہیں وہ۔ جس شخص نے مرحوم امریش پوری کی بولتی بند کر دی تھی، اس کے لفظوں میں کچھ وزن، کچھ گہرائی تو ہوگی۔یاد آتا ہے فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں‘‌گے کا آخری سین ، جہاں اپنے بیٹے کے بارے میں وہ بدکلامی برداشت نہیں کر پاتے، ‘بس۔۔۔بس ۔۔۔س۔۔۔س۔۔۔ س۔۔۔میرا بیٹا میرا غرور ہے، میرے غرور کو مت للکارئیے ‘۔ پنجاب کے اس چھوٹے سے گاؤں کی حویلی کے کمرے اور ساتھ میں ملک بھر‌کے سنیما گھروں میں گونج گئی تھی ان کی یہ بات۔

بات اس بار بھی سنیما گھر وں کی ہی ہے، لیکن للکار بیٹے نہیں، ملک کے لئے ہے۔ کھیر پوچھتے ہیں کہ بھلا کیا اعتراض ہے لوگوں کو کہ وہ سنیما گھروں میں قومی ترانہ کے لئے باون سیکنڈ بھی کھڑے نہیں ہو سکتے۔جب لوگ سنیما گھروں میں جانے کے لئے باہر قطار میں لگ سکتے ہیں، ریستوراں میں گھسنے کے لئے کھڑے ہوکرانتظار کر سکتے ہیں، تو سنیما شروع ہونے سے پہلے بجنے والے قومی ترانہ کے لئے کھڑے کیوں نہیں ہو سکتے۔

بہت سوچتے رہنے کے بعد بھی اس موازنہ کی منطق مجھے تو سمجھ میں نہیں آئی۔پہلی بات تو یہ کہ باون سیکنڈ پر اتنا زور کیوں؟

میرے کچھ دوستوں نے بھی پہلے کہا تھا کہ:

دوست باون سیکنڈ کھڑے رہنے پر کیا بگڑ جائے‌گا۔ میرا جواب ہے کہ کچھ بھی نہیں۔لیکن اگر ہمارا قومی ترانہ 52نہیں، دو منٹ باون سیکنڈ کا ہوتا تو کیا ان میں سے کچھ لوگوں کے پاؤں میں درد شروع ہو جاتا؟ کیا وہ اس لئے کھڑے ہونے پر راضی ہیں کیونکہ ترانہ کا دورانیہ  صرف باون سیکنڈ ہے؟

اگر بات یہ ہے تو کس کی قومیت پر سوال اٹھنا چاہئے؟ نہ کھڑے ہونے والوں کی یا کھڑے ہونے والوں کی؟

یہاں کھیر کوترانے کے دورانیہ  کو سامنے رکھ‌کر کھڑے نہ ہونا چاہنے والوں کی پرورش و پرداخت پر سوال اٹھانے پر ایک ہندی کہاوت یاد آتی ہے، دوسرے کے کندھے پر بندوق رکھ‌کر گولی چلانا!

anupam-kher-PTI

Photo : PTI

کھیر صاحب!سنسکار کو گھسیٹنا تھوڑااوچھا ہو گیا۔

کھیر صاحب سیاسی مسائل پر بےجھجھک اپنی بات رکھتے ہیں، اس لئے ان سے یہ امید رکھنا تو لازمی ہے کہ بات چاہے وہ جس بھی زاویہ فکر، رنگ یا نظریہ کی کہیں، اس میں دلیل کی کمی نہ آ پائے۔یہ بات بالکل واضح رہے کہ یہاں مسئلہ  نہ تو وقت کا ہے نہ سنسکار کا۔ ہر تقریب  اور جگہ کی اپنی شان ہوتی ہے۔ اس کا سیاق بھی اسی دائرے میں معنی رکھتا ہے۔

سنیما گھر نہ تو پندرہ اگست اور 26 جنوری کا لال قلعہ ہے، نہ ہی ان تمام اسکولوں اور کالجوں کا میدان، جہاں ان دو دنوں پر قومی ترانہ بھی ہوتا ہے اور ‘رنگارنگ پروگرام ‘ بھی۔سنیما گھر میں ہر شو سے  پہلے قومی ترانہ بجانے کی وجہ کیا ہے، یہ تو کھیر صاحب نے بتلایا نہیں۔ اگر ان کی دلیل یہ ہوگی کہ ترانہ پر کھڑے ہونے سے قومیت کی توانائی اور طاقت کی سننے والوں میں حب الوطنی پیدا کرے گی، تو ان کو اس پر پھر سےغورکرنے کی ضرورت ہے۔

جو چیزیں اہم ہوتی ہیں ان کو عام نہیں بنا نا چاہئے۔ اگر میں ان کے نظریات سے اتفاق رکھتا، جو میں واضح طور سے نہیں رکھتا ہوں، تب بھی میں قومی ترانہ کو سنیما گھر میں بجائے جانے کی مخالفت کرتا۔ کہیں آپ اس کو بار بار بجاکر اس کی اہمیت تو نہیں گرا رہے ہیں؟پندرہ اگست اور 26جنوری کو قومی ترانہ بجانے کا ایک سیاق ہے۔ملک/ریاست کی تاریخ کا سیاق، کچھ علامتوں سے اہم تاریخوں  کو یاد رکھنے کاسیاق۔

کرکٹ اور فٹ بال کے میدان پر بھی اس کے سیاق کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ملک دوسرے ملک کے ساتھ کھیلتا ہے، ہر ملک کی علامت اس کاقومی ترانہ بن جاتا ہے۔ ممکن ہے بہتوں کو یہ بھی پسند نہیں آئے لیکن کچھ منطقی سیاق سوچے جا سکتے ہیں۔سنیما گھروں میں قومی ترانہ کیوں؟ سنیما تفریح اور کاروبار پر مبنی ہے۔ اس کو دکھانے سے  پہلے ملک/ریاست کو یاد کرنے کا کیا معنی ہے؟ وہاں کوئی ایسا علامتی دن یا وقت بھی نہیں ہے، دن میں چاربار بجنا ہے۔ کیوں؟

ہم چاہتے تھے کہ آپ کو یہ پڑھنے میں باون سیکنڈ سے زیادہ نہ لگے لیکن شاید کچھ زیادہ لگ گیا ہوگا۔ اس کے لئے معافی چاہیں‌گے۔آخر میں پھر سے کھیر صاحب کے موازنہ پر لوٹتے ہیں۔ ریستوراں کی قطار میں لگنا اور کتنی دیر تک لگے رہنا یہ دو باتوں پر منحصر ہوتا ہے،وہاں کھانا کتنا اچھا ملتا ہے اور بھوک کتنے زور کی لگی ہے۔

اگر مطمئن ہیں کہ کھانے کا ذائقہ عمدہ ہے تو بھوک زیادہ دیرتک برداشت کی جا سکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کھڑے رہنا ہے یا دوسرے ریستوراں کی طرف جانا ہے یہ آپ کے وقت، کھانے کی خاصیت کے علاوہ آپ کی  بھوک پر منحصر کرتا ہے۔اگر آپ قطار سے نکل جاتے ہیں تو  قطار والے دوست نہ ہی آپ کو تھپڑ ماریں‌گے، نہ زبردستی آپ کے منھ میں پنیر ٹکہ ٹھونس دیں‌گے۔

اگر کھیر صاحب اپنے اس موازنہ سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سب کو اپنے وقت، اندازہ اور بھوک کے مطابق یہ طے کرنے کا حق ہے کہ وہ کھڑے رہنا چاہتے ہیں کہ نہیں، تو کھیر صاحب کو مبارکباد۔ انہوں نے انجانے میں ایک بہت بڑی بات کہہ دی ہے۔ہر آدمی کو سنیما گھر کے اندر یہ طے کرنے کا حق ہوگا کہ کھڑے ہونا ہے یا نہیں۔ کھیر صاحب، اگر یہ بات آپ کو اٹ پٹی سی لگ رہی ہے تب آپ شاید سمجھ گئے ہوں‌گے کہ آپ کی اصل بات کتنی اٹ پٹی تھی۔

(مضمون نگار زیڈ ایم او (سینٹر فار ماڈرن اورینٹل اسٹڈیز)، برلن میں سینئر ریسرچ فیلو ہیں۔)