ادبستان

بک ریویو : شمس الرحمن فاروقی کا شعری مجموعہ’مجلس آفاق میں پروانہ ساں‘

اردو شاعری خصوصاً جدید اردو شاعری میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے ـ۔

Author Photo : Mayank Austen Soofi/The Delhi Walla

Author Photo : Mayank Austen Soofi/The Delhi Walla

شمس الرحمن فاروقی کی ادبی فتوحات کا سلسلہ بہت طویل ہے اور اس طویل سلسلہ میں کہیں ایک شاعر بھی موجود ہے جس پر گفتگو کم کم ہی ہوتی ہے ۔ تنقید اور فکشن کے علی الرغم فاروقی کی شاعری کے تعلق سے منفی تاثرات کثرت سے ملتے ہیں ۔

کلیات میں فاروقی کے چار مجموعہ ہائے کلام، گنج سوختہ، سبز اندر سبز، چار سمت کا دریا اور آسماں محراب کے ساتھ غیر مطبوعہ کلام بھی شامل ہے، یعنی وہ کلام جو اب تک کتابی شکل میں یکجا نہیں کیا گیا تھا۔ کلیات میں کلام کی ترتیب اصناف کے اعتبار سے ہے جن میں غزلیں، نظمیں، تراجم، بچوں کی نظمیں، قطعات  اور رباعیات شامل ہیں ۔

فاروقی کی شاعری میں تجرید، تعقل، تفکر، گہرائی، داخلیت، مابعدالطبیعیاتی اور ماورائی جہتیں، اسلوب اور ڈکشن کی پیچیدگی، یہ ساری چیزیں مل کر اپنے پڑھنے والوں سے خاصی علمیت اور غور و خوض کا تقاضا کرتی ہیں ۔ مثال کے طور پر ان کی غزلوں کے کچھ اشعار دیکھیں جو ان کے پہلے مجموعہ کلام ‘گنجِ سوختہ’ (1969) میں شامل ہیں:

میں بھی شہیدِ شوخیِ حسنِ نمود تھا

یعنی حریفِ آتشِ پنہانِ دود تھا

دروازہ وجود تھا بند آئینے کی طرح

ہر حرفِ ہست خاکِ بیابانِ بود تھا

عطرِ گیسو قاصدِ رنگیں نوائے خندہ ہے

عکسِ آئینہ رخِ حیرت نمائے خندہ ہے

سنگ و آہن کا چھناکا یوں تو ہے حرفِ شکست

شیشے ایسے بھی ہیں جن کو یہ صدائے خندہ ہے

غالب کی زمین اور غالب کے رنگ کی ابتدائی غزلوں سے لے کر ‘اک شخص کے تصور سے’ کی بارہ غزلوں تک (یہ غزلیں فاروقی نے جمیلہ فاروقی کے انتقال پر کہی تھیں) فاروقی کی غزلوں میں کئی رنگ ملتے ہیں ۔ کچھ مزید اشعار ملاحظہ ہوں؛

کرب کے ایک لمحے میں لاکھ برس گذر گئے

مالکِ حشر کیا کریں عمرِ دراز لے کے ہم

ڈوب کر آنکھوں میں تیری بے کراں تک گھومتا

جسم سے اپنے نکل کر آسماں تک گھومتا

چشمِ شفق تھی خوں نشیں، چہرہء شب تھا تیغِ تیز

خواب پڑے تھے تارتار صبروقرار کس کو تھا

سرحدِ آسماں کے پاس جال بچھے تھے ہر طرف

کس نے کیا ہمیں اسیر شوقِ شکار کس کو تھا

اس دل کے دشتِ شورہ پہ ٹکتا نہیں ہے کچھ

حیراں ہوں تیرے قصر یہاں کس طرح بنے

عدم میں کچھ نہ خبر تھی کہ کون ہوں کیا ہوں

کھلی جو آنکھ تو پہلی نظر اسی سے ملی

یہ کس بدن کا تصرف ہے روئے صحرا پر

لگائی پیٹھ جو میں نے کمر اسی سے ملی

قدم ٹھہرتے نہیں قصرِ پست و بالا میں

زمیں ہے فرش تو ہے قوس آسماں محراب

بنائے بنتی نہیں منہدم بنائے دل

کدھر ستوں ہے کہاں کرسی اور کہاں محراب

لفظوں کی کفایت، خیال کی گہرائی، تجریدیت اور داخلیت کے ذریعے فاروقی نے اپنے اشعار میں جو جہان آباد کیا ہے، اس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ادب کے عام قارئین کو خاصی ریاضت درکار ہوگی ۔ شعری اظہار میں فاروقی نے جن استعاروں، تمثالو ں اور علامتوں کا استعمال کیا ہے وہ عام قارئین کے لیے ایک حد تک نامانوس ہیں ۔ لیکن یہ بات راہِ فرار اختیار کرنے کا کوئی جواز نہیں فراہم کرتی ۔ رچرڈس کا قول ہمارے سامنے ہے کہ بہترین شاعری کا بڑا حصہ اپنے فوری تاثر کے لحاظ سے غیر واضح اور مبہم ہوتا ہے ۔ اور پھر فاروقی کی شاعری کا ایک حصہ وہ بھی ہے جس میں سہل زبان میں شعر کہے گئے ہیں اور جن کے سامنے کے معنی ہر قاری کو بآسانی سمجھ میں آ جاتے ہیں ۔

بادل کا آسمان پہ بنتا بگڑتا روپ

یادِ مزاجِ یار کی اک لہر بن گیا

چاندنی رات کی ہوائے سرد

لے گئی اس کی بے حجابی سب

دل کے کنویں میں گرتے ہیں

سات سمندر سنتا ہوں

وہم وخیال سے نازک تر

تانے بانے بنتا ہوں

کلیات کا ایک قابلِ ذکر حصہ نظموں پر مشتمل ہے ۔ جن تجربات کو فاروقی نے ان نظموں کا حصہ بنایا ہے ان کا ادراک صرف جذباتی، فکری اور روحانی سطح پر ہی ممکن ہے ۔ فاروقی کی نظموں کے تعلق سے بہت کچھ کہا جاتا رہا ہے، غیر معمولی علمیت سے گراں بار، بے لطف وغیرہ ۔ میری ناقص رائے میں اپنی علمیت وغیرہ کے باوجود یہ نظمیں اپنے علامتی طرزِ اظہار کے سبب جن وسیع تر مفاہیم کو محیط ہیں، وہ پڑھنے والوں کے اندر ایک طرح کا Frisson پیدا کرتے ہیں ۔ یہاں چار نظموں کے اقتباسات لکھنے کے بجائے مثال کے لیے ایک مکمل نظم پیش کرنا بہتر معلوم ہوتا ہے ۔ نظم کا عنوان ہے ‘شیشئہِ ساعت کا غبار’

میں زندہ تھا

مگر میں تیرے سرخ نیلگوں، سفید بلبلے میں قید تھا

ہوا وسیع تھی، مگر حدود سے رہا نہ تھی

نہ میرے پر شکستہ تھے نہ میری سانس کم

تھا بلبلے کی کائنات میں مرا ہی دم قدم

مگر مری اڑان سرخ نیلگوں سفید مقبرے کے

آخری خطوط سے سوا نہ تھی

میں حال کے اتھاہ پانیوں میں غرق

یا گذشتہ وقت کے بھنور کے دستِ آتشیں میں ایک صیدِ زرد تھا

تو میں نے کیا کیا

کہ اپنی سانس روک کر کے، آنکھیں میچ کر کے، سر کو آگے کر کے، شانوں کو جھٹک کر

ایک جست میں ہی جست کی سی سرد چھت کو توڑ کر

میں اس کے پار ہو گیا

طلسم سے صدا اٹھی: ”ہمیں شکست ہو گئی….

شکست ہو گئی…. کست ہو گئی…. است ہو گئی….

تو گئی …. او گئی ….”

شب برات،

آتشیں تماشوں کا سماں:

اٹھا کے میری بچیوں نے ناگہاں

پچاس پیسے کے انار کے لبوں پہ ایک قطرہ نار رکھ دی،

خاک کو یہ گرم بوسہ کب نصیب تھا!

انار میں جو قید تھا، جو ذرہ ذرہ صید تھا

وہ جن ابل پڑا

سیاہیاں سفید، سرخ، نیلگوں طیور سے چمک اٹھیں

مگر نہ جانے پھر کدھر طیور اڑ گئے

انار کو شب برات نے ندی میں دفن کر دیا

صدائے بازگشت

قطرہ قطرہ کنکروں کی طرح

غرق ہو گئی…

طلسم رہ گیا

… مگر طلسم میں جو قید تھا

وہ اس صدا کے ساتھ

کھو گیا

رباعی سے فاروقی کو غیر معمولی شغف رہا ہے اور اپنے مجموعہ رباعیات ‘چار سمت کا دریا’ (1977) میں انھوں نے رباعی کے تمام اوزان کو برتا ہے ۔ اس کے علاوہ بھی انھوں نے کثرت سے رباعیاں کہی ہیں ۔ دو ایک آپ بھی پڑھئے:

اک آتشِ سیال سے بھر دے مجھ کو

اک جشنِ خیالی کی خبر دے مجھ کو

اے موجِ فلک میں سر اٹھانے والے

کٹ جائے تو روشن ہو وہ سر دے مجھ کو

جو عقل کے جھانسے میں نہ آئے وہ ہے دل

جو من مانی کرتا جائے وہ ہے دل

اک بوند گنہ پر سو قلزم روئے

پھر ناکردہ پر پچھتائے وہ ہے دل

کلیات میں مشرق و مغرب کے ادبی شہ پاروں کے تراجم بھی شامل ہیں ۔ ترجمہ کے لیے فاروقی نے جن تخلیقات کا انتخاب کیا ہے وہ ان کے ایک خاص مزاج کا پتہ دیتی ہیں ۔ فاروقی نے بچوں کے لیے بھی نظمیں کہی ہیں جو اس کلیات میں شامل ہیں ۔

کلیات کو پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ فاروقی کا یہ شعری سفر مشکل پسندی اور پیچیدہ گوئی سے شروع ہوکر سادگی اور برجستگی کی طرف گامزن رہا۔ تقریباً تمام اصناف میں جذبہ و فکر اور طرزِ اظہار کی شعوری آرائش صفحات پلٹنے کے ساتھ ساتھ کم سے کم تر ہوتی چلی گئی ہے ۔ ابتدائی صفحات میں جو شخص بہت مرعوب اور حیرت زدہ کرتا تھا، وہ آخر آخر ہم سے سرگوشیاں کرتا نظر آتا ہے ۔

صوری اعتبار سے کتاب بہت خوبصورت ہے ۔ کتاب کی ضخامت کو دیکھتے ہوئے 500 روپے قیمت کچھ زیادہ نہیں معلوم ہوتی ۔ اردو شاعری خصوصاً جدید اردو شاعری میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے ۔

(تبصرہ نگار جے این یو میں ریسرچ اسکالر ہیں)