ادبستان

جھارکھنڈ : جب مدھو منصوری کا گیت سن‌کر ایک دوشیزہ نے گنوائی تھی اپنی جان…

70 کی دہائی میں ماں کو کینسر ہوا تو والد عبدالرحمان منصوری نے علاج کے لئے گھر سمیت زمین کو اونے پونے میں بیچ دیا تھا۔

MadhuMansuriJharkhand

اس رات …مسلسل ایک بار میں کئی راگوں میں گائے 44 گیت  کا ذکر کرتے ہوئے مشہور لوک گلوکار مدھو منصوری ہنس مکھ کا بدن  سہر اٹھتا ہے۔ یہ بات بہت کم لوگ اور مدھو منصوری کے قریبی ہی جانتے ہیں کہ 2اکتوبر 1987 کی رات کو گملا بشن پور تھانہ کے بناری چوک پر رونگٹے  کھڑے کر دینے والا واقعہ ہوا تھا۔ منصوری کے مطابق؛  موقع ثقافتی پروگرام کا تھا اور اسٹیج پر منصوری کے ساتھ رام دیال منڈا، بی پی کیسری موجود تھے۔ انہوں  نے جب گانا شروع کیا تو سامنے بیٹھی  بھیڑ جھومنے لگی۔

تبھی اچانک آخری لائن میں بیٹھی ایک  دوشیزہ لوگوں کو روندتے ہوئے منصوری کی طرف دوڑنے لگی۔ وہ دوڑتی ہوئی اسٹیج سے محض بیس قدم کی دوری پر پہنچی ہی تھی کہ اس کے بھائی دھرجو بڑائیک نے نیزہ سے  اس کی گردن پر وار کیا۔ وار ایسا تھا کہ دوشیزہ کا سر دھڑ سے الگ ہوکر زمین پر گر گیا اور چار قدم آگے جاکر وہ بھی گر پڑی۔ منصوری یہ سب دیکھ کر بےہوش ہو گئے۔ منصوری یاد کرتے ہیں:

 اس دوشیزہ کو یکایک میری طرف دوڑتا دیکھ کر لوگ حیران تھے۔ خود میں بھی۔ حیرت زدہ منظر دیکھ کر پرسکون بھیڑ بھگدڑ  میں تبدیل ہو گئی۔ جب مجھے ہوش آیا تو وہاں کے تھانے دار نے پھر سے اسٹیج پر آکر گانا گانے کو کہا۔ میں نے انکار کیا تو انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جان بچانے کا یہی ایک راستہ ہے۔ کیونکہ اگر بھیڑ جنگل کی طرف بھاگتی ہے تو کئی لوگ جنگلی جانور کے شکار ہو سکتے ہیں۔ پھر بہت مشکل سے لوگوں کو خاموش کیا گیا۔ اسٹیج کے سامنے دوشیزہ کی لاش خون کے دھبوں سے بھری پڑی ہوئی سفید چادر میں ڈھکی رکھی تھی۔ تبھی میں نے دل پر پتھر رکھ کر آنکھ بند کی اور صبح چھ بجے تک ایک بار میں مسلسل 44 گیت گایا۔ “

اتفاق سے واقعہ کے وقت اسٹیج پر منصوری کے بغل میں بیٹھے رام دیال منڈا اور بی پی کیسری دونوں اب اس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن اس پروگرام میں شامل رہے وکاس بھارتی کے سابق سکریٹری بھیکاری بھگت کو یہ واقعہ آج بھی یاد ہے۔ وہ اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں، واقعہ اصل میں درد ناک  تھا۔ وہ لڑکی مدھو منصوری کی طرف بڑھ رہی تھی، جو اس کے بھائی کو ناگوار گزرا اور اس نے اپنی بہن کا قتل کر دیا۔

منصوری اس کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا واقعہ مانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کو کئی سال بعد گاؤں والوں نے بتایا کہ وہ لڑکی ان کے گیتوں سے کافی متاثر ہوئی تھی۔ اس لئے تحفہ میں انعام اور ان سے ہاتھ ملانے کے لئے ان کی طرف دوڑی تھی۔ گاؤں چھوڑب نہیں…، ناگ پور کر کورا…، جیسے مقبول عام گیت گانے والے مدھو منصوری کے متعلق لوگوں کا یہ لگاؤ کوئی ایک نہیں ہے، ایسی دیوانگی کے کئی قصے کہانیاں ہیں۔

مدھو منصوری جھارکھنڈ کی وہ شخصیت ہیں  جنہوں نے دو ہزار سے بھی زیادہ لوک گیت گایا اور لکھا ہے۔ انہوں نے مردانی جھومر، انگنئی  (زنانی جھومر)، پاوس، اداسی، پھگوا جیسے راگ میں سینکڑوں ششٹ اور ٹھیٹ ناگپوری گیت گائے ہیں، جس میں جھارکھنڈ کی  تہذیبی  وراثت کو سمیٹا اور دکھایا گیا ہے۔ جھارکھنڈ تحریک میں بھی سب سے زیادہ  گیت گانے کا ریکارڈ بھی انہی کے نام بتایا جاتا ہے۔

راتو پرکھنڈ کے سملیا گاؤں میں 1948 میں پیدا ہوئے  منصوری بچپن سے ہی گاؤں میں  تہوار کے موقع پر ہونے والے ثقافتی پروگرام میں جایا کرتے تھے۔ وہاں ناگپوری، منڈاری زبان میں موسیقی ، رقص کو دیکھ سن کر  سیکھتے۔ سیکھنے کی چاہت ایسی تھی کہ صرف 7سال کی عمر میں ہی اپنی آواز کا جادو بکھیر دیا۔ دن دو اگست 1956 کا تھا اور موقع راتو پرکھنڈ کے افتتاح پر منعقد ثقافتی پروگرام کا۔ ناگپوری کے شاعر گھاسی رام کے لکھے گیت (کانؤ نا قصور دئیا بچھوں رلا دئیا  مور پیا… ) کے بول کو جب منصوری نے اپنی آواز دی تو بہتوں کا دل مچل اٹھا۔ تب چھوٹاناگپور مہاراجا چنتامنی شرن ناتھ شاہ دیو نے ان کو بدلے میں دس روپے  کا انعام دیا تھا۔

MadhuMasuri_Jharkhand

70 کی دہائی میں ماں کو کینسر ہوا تو والد عبدالرحمان منصوری نے علاج کے لئے گھر سمیت زمین کو اونے پونے میں بیچ دیا۔ علاج کے دو سال بعد ماں کا انتقال ہو گیا۔ 9ویں میں ہی تنگ حالی نے منصوری کو پڑھائی چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ 1974 میں والد بھی چل بسے۔ اسی دوران مدھو منصوری رانچی میکان میں بطور فورتھ کلاس ملازم کام کرنے لگے۔ ان کی شادی چونکہ بچپن میں ہی کرا دی گئی تھی اس لئے ذمہ داری کا بوجھ بڑھ چکا تھا۔ لیکن گیت اور موسیقی کے جنون کے درمیان کبھی بھی غربت کو آڑے نہیں آنے دیا۔

ادھر منصوری کی مقبولیت رانچی ہی نہیں بلکہ جھارکھنڈ کے دیگر شہروں تک اپنا پیر پھیلا چکی تھی۔ لوگ بتاتے ہیں، منصوری میکان میں کارگزار رہتے ہوئے بھی ثقافتی اور سماجی پروگرام میں حصہ لیتے تھے۔ آل انڈیا ریڈیو پر بھی ان کے گیت نشر ہوتے۔ لوک گلوکار اور پدم شری مکند نائیک کہتے ہیں کہ سریلی آواز کے دھنی  مدھو منصوری صرف گیت ہی نہیں، بلکہ وہ ایک حساس  شاعر بھی ہیں۔

اس بارے میں منصوری نے کہا، ان کے گیت کے مرید غیر منقسم بہار کے گورنر اے آر قدوائی، وزیر جگن ناتھ مشرا، کھیل وزیر اور رانچی ڈی سی تک تھے۔ ان لوگوں نے میکان کو خط لکھ‌کر ان کو سماجی پروگرام میں حصہ لینے کے لئے خاص چھٹی  دینے کی سفارش کی تھی۔ ویسے تو مدھو منصوری کا ہر گیت لوگوں کو پسند  آتا، لیکن خود وہ اپنے ایک گیت کو سب سے پسند دیدہ بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

 1972 میں ‘ ناگ پور کر کورا ‘ (ناگ پور کر کورا…، ندی نالا ٹاکا ٹکو بن رے پتیرا، بھرلے کوسا کاسی پھول، ڈنڈا سمئے جھولا جھول…، بنا انجن بنا تیل گاڑی لوہردگا میل… ) نامی گیت میں نے خود لکھا اور گایا۔ یہ گیت اتنا مشہور ہوا کہ ابتک میں اس کو تقریباً 950 مرتبہ گا چکا ہوں۔

 ہر محفل، پروگرام میں میرے اس گیت کا تذکرہ ہوتا ہے۔ یہ گیت ریاست میں ثقافتی ماحول بنانے میں کافی معنی خیز ثابت ہوا۔ ملک بیرون ملک میں کئی جگہوں پر اس کو گایا گیا۔ ” حال میں آئی فلم ‘ گاڑی لوہردگا میل ‘ میں بھی اس گانے کو فلمایا گیا ہے، جس کے کردار میں خود مدھو منصوری ہیں۔  انقلابی  گیت کب سے اور کیوں گانا شروع کیا اس سوال پر منصوری کہتے ہیں، ” ترقی کے نام پر رانچی میں کسانوں اور آدیواسیوں کی ہزاروں ایکڑ زمین لی  جا رہی تھی۔ رانچی میں بنی ہرمو کالونی ، آشوک نگر  کالونی ، ایچ ای سی اور تپودانا جیسی فیکٹری کا قیام  جھارکھنڈ کے لوٹ اور نقل مکانی پر قائم کی گئی۔

 یہی حال دیگر شہروں کا بھی بعد میں ہوا۔ یہ سب دیکھتے ہوئے بڑا ہوا۔ بچپن سے ہی میرے من  میں یہ بات بہت کھٹکتی تھی کہ ہمارے پانی، جنگل اور زمین، وکاس  کے جھوٹے  نام پر چھینے جا رہے  ہیں۔ ہم کہاں جائیں‌گے۔ ایسی  کئی بات من  میں رہ رہ کر ابھر آتی۔

مدھو منصوری کا یہی غصہ کھونٹی کے جھارکھنڈ آندولن منچ میں 10 دسمبر کو 1960 میں پھوٹاتھا۔ جب انہوں نے پہلی بار آندولن  گیت پیش کیا تو تیور اور ارادے صاف تھے۔ اور اس کے بول تھے۔ ” پہیلے رہیلی ہم گورا کے دھنگروا، دھن دھرم ڈگمگ، آبے ہی صاحیبک  پانی بھروا۔ (ارے! پہلے تو ہم گورے انگریزوں کے غلام  تھے جس کی وجہ سے ہماری خوشحالی اور مذہب کی کوئی بساط نہیں تھی۔ اور آج ہم اپنے دیسی صاحبوں  کے یہاں پانی بھر رہے ہیں)۔ “

1963 کا وہ مشہور واقعہ جس نے مدھو منصوری کو ثقافتی اور سماجی لوک گلوکار سے  جھارکھنڈکے  آندولن کاری کی صورت  میں پہچان دلائی۔ اس کے  تذکرے  بھی خوب ہوتے ہیں ۔ ہوا یوں تھا کہ کہ جے پال سنگھ منڈا اپنے 33 ایم ایل اے والی مرغا چھاپ  جھارکھنڈ پارٹی کو کانگریس میں انضمام کرکے رانچی لوٹے تھے۔ اس کے کچھ ہی دن بعد رانچی بر سا چوک پر ایک جلسہ  ہوا جس میں جے پال  سنگھ منڈا شامل ہوئے۔ جے پال سنگھ کے فیصلے کو لےکر مدھو منصوری میں غصہ تھا اور وہ گاؤں سے سائیکل کی سواری کرکے منڈا سے ملنے برسا چوک پہنچے تھے۔ من میں اتنا غصہ تھا کہ منڈا کو دیکھ کر منصوری نے  ان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے طنزیہ  گیت گایا۔ ” بیچلے مروغا چھاپ، دوئیو گالے کھالے  تھاپ۔ سب کے بنالے بنیہار، کاٹی بن جھار، چور کے دیئی دیلے اپہار۔ “

ویڈیو : گاؤں چھوڑب نہیں، جنگل چھوڑب نہیں، مائی ماٹی چھوڑب نہیں، لڑائی چھوڑب نہیں…

جب نیشنل اوارڈ یافتہ فلم ساز  میگھناتھ کے لکھے گیت (2007) گاؤں  چھوڑب نہیں  کو منصوری نے گایا تو اس گیت کا پیغام ہندوستان سے بیرون ملک تک جا پھیلا۔ میگھناتھ بتاتے ہیں کہ اس گیت کو لکھ‌کر مدھو منصوری کو دکھایا تو انہوں نے اس میں کچھ اصلاح اور تبدیلی کرنے کی بات کہی۔ پھر اس کو اپنے انداز میں لکھا جس کے بول تھے۔ ” گاؤں چھوڑب نہیں، جنگل چھوڑب نہیں، مائی ماٹی چھوڑب نہیں، لڑائی چھوڑب نہیں… “

بتایا جاتا ہے کہ یہ گانا اتنا مشہور ہوا کہ ابتک 20 سے بھی زیادہ ریاست اور 10 ممالک میں الگ الگ زبانوں میں گایا جا چکا ہے۔ بعد میں اس پر سوا پانچ منٹ کی میوزک فلم بنائی گئی (گاؤں چھوڑب نہیں)۔ فلم میں گاؤں، جنگل، پہاڑ اور قدرتی وسائل کو بچانے کی لڑائی لڑ رہے آدیواسیوں کے احتجاج  کو دکھایا گیا۔ میگھناتھ کہتے ہیں،

” گاؤں چھوڑب نہیں، گیت جھارکھنڈ ی الگلان  کو مناسب اور معنی خیز طور پر تشریح کرتاہے ۔ میں نے جتنے بھی لوک گلوکار، گیت کار کو دیکھا سنا، ان میں مدھو منصوری الگ تھے۔ ان کے انقلابی گیتوں میں پانی، جنگل ،زمین اور جھارکھنڈکی  تہذیب کو بچانے کا پیغام اور جذبہ ملتا ہے۔ انہوں نے اپنی بیباکی قائم رکھی اور چاپلوسی کبھی نہیں کی۔ “

ایک بات آج بھی مدھو منصوری کو ہمیشہ کچوٹتی  ہے کہ ان کے نام کا اعلان کرنے کے بعد بھی ان کو پدم شری نہیں ملا۔ وہ کہتے ہیں کہ 2014 میں ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کو پدم شری  اعزاز کے لئے ان کے نام کی سفارش کر دی تھی۔ تب کے اخباروں میں ان کا نام بھی چھپ گیا تھا، اور ان کو مبارکباد دی جا رہی تھی۔ لیکن وہ صرف اعلان اور سفارش تھی۔