فکر و نظر

روہت ویمولا کی موت میں سماج کے ایک بڑے طبقے کی کہانی جذب ہے

روہت ویمولا کایہ خط صرف اداس نہیں کرتا، ایک حوصلہ دیتا ہے۔ اس میں جسم کو ہونے والی تکلیف کو زبان نہیں دی گئی ہے بلکہ اس سچائی کو بیان کیا گیا ہے کہ خواب دیکھنا کتنا تکلیف دہ ہے۔

Rohith_Ambedkar

روہت ویمولا

ایک انسان کی قیمت اس کی فوری پہچان میں اور سب سے آسان امکانات میں سمیٹ‌کر رکھ دی گئی ہے۔ محض ایک ووٹ۔محض ایک نمبر۔ ایک چیز۔ کبھی بھی انسان سے ایسے پیش نہیں آیا جاتا کہ اس میں ایک دماغ بھی ہے، وہ سوچ سکتا ہے۔ وہ ستاروں سے بنی ہوئی ایک جگمگاتی چیز ہے۔ ہر معاملے میں، پڑھائی میں، سڑکوں پر، سیاست میں، مرنے اور جینے میں۔

تین سال ہو گئے، جب پہلی بار لکھے گئے اس آخری خط نے اس ملک کے ضمیر کو جھکجھور دیا۔ کم سے کم اس کی آواز ہر اس دماغ تک پہنچی جس میں دیکھنے کی ایک نگاہ اور سوچنے کے لئے کچھ لمحے موجود تھے۔ لوگ متفق ہوئے، غیرمتفق ہوئے، دکھی  ہوئے، ناراض ہوئے، لیکن اس خط کے بارے میں اپنی رائے کو لےکر ان میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔

روہت ویمولا کے اس خط کے آنے کے بعد یہ بات واضح  ہونے میں دیر نہیں لگی کہ ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے تھے، جہاں سے نئی شروعات کے امکانات پیدا ہو رہے تھے۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا، جس نے خیالات کی ہی دنیا میں نہیں، حقیقی دنیا میں بہت کچھ بدلنے کی شروعات کی اور جس کی گہری، اندرونی دھارائیں  ابھی تک جاری ہیں۔ بہت کم خط ایسے ہوتے ہیں، جو کسی سماج کو اتنی گہرائی تک چھوتے ہیں۔

یہ بات صاف ہونی چاہیے کہ ان تبدیلیوں کے پیچھے محض ایک خط نہیں تھا۔ ایک شخص تھا، جس کی موت ہو چکی تھی اور جس کو اداراتی قتل کہا گیا۔ اس موت سے پہلے مہینوں تک ظلم وستم کی ایک داستان تھی، جو چھپی ہوئی نہیں تھی۔ روہت کی اس داستان اور اس کی اس موت میں سماج کے ایک بڑے طبقے کی کہانی جذب تھی۔

لیکن آخر میں یہ خط ایک کھائی کی نشانی بن گیا ۔ روہت  کے وجود(جس کو اس کی کاسٹ سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا) اور اس کے چلے جانے کے بیچ بنی کھائی۔ روہت سے ملاقات اور اس کی غیرحاضری کے درمیان بنی کھائی۔ خط کی شروعات ہی اس کھائی کو قبول  کرنے، بلکہ پڑھنے والے کو اس کی اطلاع دینے سے ہوتی ہے۔ جیسےجیسے ہم آگے بڑھتے ہیں، اس کھائی کو کئی سطحوں پر پھیلتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

 ایک خواب ہے ایک سائنسی قلمکار بننے کا۔ اور ایک حقیقت ہے جس میں ایک جسم کو محض ایک فوری پہچان میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ایک سمجھ ہے کہ لوگ ستاروں سے بنے ہیں۔ اور اس کا احساس ہے کہ ان کی اہمیت ختم کر دی گئی ہے۔ لوگ ہیں اور لوگوں کے لئے پیار ہے، لیکن ان کے بیچ میں ایک کھائی ہے جو چوٹ پہنچاتی ہے۔

اکثر یہ غلطی کی جاتی ہے کہ اس خط کو ایک سوسائڈ نوٹ کی طرح پڑھا جاتا ہے۔ اس نظریہ سے خط کو پڑھتے ہوئے ہم ایک جسم اور اس کی مصیبت سے رو برو ہوتے ہیں۔ ایک فیصلے سے رو برو ہوتے ہیں جو ان دونوں کا خاتمہ کر دینے سے جڑا ہے۔ ایک چاہت کی جھلک پاتے ہیں جو پوری نہیں ہو سکی۔ ایک حقیقت ہم سے مخاطب ہوتی ہے، جس سے قلمکار اپنے وجود کو گھرا ہوا پاتا ہے۔ یہ نظریہ کہے‌گا ، ایک جسم تھا اور آخری خط کے طور پر بچی رہ گئی زبان تھی۔

rohith_vemula-PTI

لیکن یہ جسم محض کوئی بھی ایک جسم نہیں تھا۔ وہ نسلی سماج کی پہچان، حیثیت اور علیحدگی میں قید ایک جسم تھا۔ وہ ان سے اوپر اٹھنا چاہتا تھا، اس کا خواب ایک ایسی ہمہ گیر جگہ کو حاصل کرنا تھا، جہاں پہچان کے یہ بٹوارے بےمعنی بن جاتے۔ یہ چاہت اپنے میں ایک ایسی زبان لئے ہوئے تھی-یکسانیت اور انصاف کی زبان-جس کے بارے میں جمہوریت وعدے تو کرتی ہے، لیکن وہ ان کے ساتھ اپنا تال میل نہیں بٹھا پاتی۔


یہ بھی پڑھیں : امبیڈکر سے محبت کا دعویٰ کرنے والے روہت ویمولاکے نام سے کیوں گھبراتے ہیں؟


ایسا اس لئے کہ جمہوریت کی ہماری جو سمجھ ہے اس میں تمام طرح کے فرق اور اختلافات کی عزت کئے جانے کا وعدہ ہے۔ وعدہ ہے کہ ان کو سنجویا جائے‌گا۔ اس لئے، جس پر الاں بادیو اپنی انگلی رکھتے ہیں، یہاں فوراً ہی ایسی کسی بھی بات کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس کو زیادتی کہہ‌کر مسترد کردیا جاتا ہے جس میں ہر بات کو اپنے حساب سے تشریح کرنے، دیکھنے اور رچنے کا جذبہ شامل ہو۔ جو فرق سے آگے جاکر ایک یونیورسلٹی کی پیروی کرتی ہو۔

سیاست کی زبان میں روہت جو کر رہا تھا، لکھ رہا تھا، سوچ رہا تھا، وہ جمہوریت کی ہماری اس سمجھ سے ٹکرا رہی تھی۔ اور اس کو اپنے لکھے اور کہے کا، اپنے سوچے ہوئے اور دیکھے ہوئے خواب کی قیمت اپنے جسم کو ملنے والی سزاؤں کے ساتھ چکانی پڑی۔ ‘ زبان کے دائرے میں جو ہوتا ہے، جسم اس کی قیمت چکاتے ہیں، ‘ الاں بادیو کہتے ہیں۔

’میں اپنے جسم اور اپنی روح کے درمیان بڑھتی ہوئی کھائی کو محسوس‌کر رہا ہوں۔ ‘ روہت نے لکھا تھا۔ اس لئے، یہ خط ایک سوسائڈ نوٹ نہیں تھا، جو صرف جسم اور اس کی تکلیف کی بات کرتا ہو۔ اسی لئے، اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ روہت نے ان لوگوں کے نام نہیں لئے جو سیدھے سیدھے اس کی موت کے ذمہ دار تھے۔ بلکہ اس نے لکھا کہ اس کی موت کے لئے کوئی بھی ذمہ دار نہیں ہے۔

کیونکہ یہ آخری خط اس کی سب سے بڑی گواہی ہے کہ اس کی ضرورت محض جسم تک محدود نہیں تھی (چاہے اس کا اپنا جسم ہو یا ان کا جو اس کو موت کی کگار تک دھکیل‌کر لے گئے)، نہ ہی وہ زبان کے دائرے میں محدود رہنا چاہتا تھا (الزام لگانا، اپنی نجی  وجوہات گنانا)۔ بلکہ اس کی نگاہ ایک تیسری بات پر تھی۔ وہ بات تھی اپنے وقت کی سچائیاں۔ اس کے چھوٹے سے خط میں ہمارے وقت کی سب سے باریک اور سب سے واضح سچائیوں کا بیان ہے ۔

 ایک دنیا جو علیحدگی کو بڑھاوا دیتی ہے اور جمہوریت کے نام پر ان کی عزت کرتی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ علیحدگی ،حقیقی  زندگیوں کو زندگی سے محروم کر دیتی ہے۔ ان سے ان کی عزت، برابری اور انصاف چھین لیتی ہے۔ ان کو محض تعداد میں، ووٹ اور خریداروں میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خط صرف اداس نہیں کرتا، یہ ایک حوصلہ دیتا ہے۔ اس میں جسم کو ہونے والی تکلیف کو زبان نہیں دی گئی ہے۔ بلکہ اس سچائی کو بیان کیا گیا ہے کہ خواب دیکھنا کتنا تکلیف دہ ہے۔

 لیکن اس سے بچا نہیں جا سکتا  کہ ایک ایسی زبان کو اپنے اختیار میں لینا کتنا ضروری ہے جو بٹواروں اور علیحدگی کے پار جا سکے۔ جو سب کی زندگیوں سے مخاطب ہو سکے۔ جو سچائیوں کو سمجھ سکے اور لوگوں کو سمجھا سکے۔