Custodial deaths

کیا ہندوستانی جیلوں میں  ہو رہی قیدیوں کی موت ’فطری‘ ہے؟

ہندوستان کی جیلوں میں جان گنوانے والے قیدیوں کی موت کو اکثر ’فطری موت‘ کے زمرے میں درج کیا جاتا ہے، جبکہ ممکن ہے کہ بروقت اور مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے یہ موتیں ہوئی ہوں، جو فطری نہیں ہیں۔ جب تک حراست میں ہونے والی موتوں کی روٹین طریقے سےجانچ نہیں ہوگی اور انہیں سخت اور آزاد عدالتی جائزہ کے عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا، تب تک لمبی بیماری میں مناسب علاج کے منتظر قیدی اپنی جان گنواتے رہیں گے۔

کشمیر: حراست میں لیے جانے کے بعد نوجوان کی موت، گھر والوں نے پولیس پر لگایا قتل کا الزام

جموں وکشمیر پولیس نے دہشت گردوں کو پناہ دینے کےالزام میں23سالہ عرفان احمد ڈار نام کے ایک نوجوان کو حراست میں لیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ عرفان حراست سے بھاگ گئے تھے اور بعد میں ان کی لاش ملی تھی، لیکن اس نے موت کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔

پولیس انکاؤنٹر: کیا ’فوری انصاف‘ کے نام پر لاقانونیت کو قبول کیا جاسکتا ہے؟

ایک ملک اور ایک مجرم میں یہی فرق ہوتا ہے کہ ملک قانون کا پابند ہوتا ہے جبکہ مجرم اس کو توڑتا ہے۔ اگر ملک ایک بار بھی قانون توڑ دےتو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ بھی مجرم کےخانے میں آ گیا اور اس کو حکومت کرنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔

پولیس حراست میں ہرروز پانچ موت، ہلاک ہو نے والوں میں بیشتر غریب، پسماندہ، دلت، قبائلی اور مسلمان: رپورٹ

یہ تشویش ناک رپورٹ ایسے وقت آئی ہے جب جنوبی ریاست تمل ناڈو میں پولیس کی طرف سے مبینہ تشدد کے نتیجے میں ایک شخص اور اس کے بیٹے کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔

گراؤنڈ رپورٹ: غفران کے بھائی کیوں کہہ رہے ہیں، تڑپا تڑپا کر مارنے سے اچھا ہوتا بہار پولیس اس کو تلوار سے کاٹ دیتی؟

غفران کے چچا زاد بھائی نےکہا- تڑپا تڑپا کر مارنے سے اچھا تھا پولیس اس کو تلوار سے کاٹ دیتی۔اس معاملے میں قتل کے ملزم ڈمرا تھانہ انچارج سمیت آٹھ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیاگیا ہے۔ فرار تھانہ انچارج اور پولیس اہلکاروں کی تلاش جاری ہے۔