Manto

فوٹو: رائٹرس

جنگ یہ بتاتی ہے کہ انسان کے پاگل پن کی آخری منزل کیا ہوسکتی ہے

بوڑھے جنگی سپاہی کی ڈائری کا ایک ورق: جنگ یہ بتاتی ہے کہ انسان کے پاگل پن کی آخری منزل کیا ہوسکتی ہے۔ جنگ یہ بھی بتاتی ہے کہ دوسروں سے نفرت کی انتہا کیا ہے؟ جنگ یہ بھی بتاتی ہے کہ انسانی دلوں میں محبت، مروت، درگزر اور ترحم کے وہ سب جذبات کس طرح اچانک دم توڑ دیتے ہیں، جنھیں پیغمبروں، فلسفیوں اور فنکاروں نے اعلیٰ ترین اقدار بنا کر پیش کیا ہے۔

Intizar Husain, Credit: Tanveer Shehzad, White Star/Herald

جب انتظار حسین کے افسانے کا عنوان منٹو نے رکھا…

انتظار حسین کی پانچویں برسی پر خصوصی تحریر: پھر آئے گی، جی یہی نام ہے اُس افسانے کا اور یہ نام منٹو کا رکھا ہوا ہے۔انتظار حسین کے مطابق منٹو نے افسانے کا مسودہ نکال کر کہا یہ تم نے کیا لکھا ہے۔یہ “وہ” کون ہے۔ “وہ” اس کہانی کا پہلا نام تھا۔ انہوں نے کچھ اور اعتراض بھی کیے اور نہ نظر آنے والی لڑکی کا کردار ایک بار پھر لکھنے کو کہا۔ وہ تبدیل شدہ افسانہ لکھ کر لے گئے تو منٹو نے کہا “یہ عنوان بھی ٹھیک نہیں۔ “وہ” کیا ہوتا ہے؟ “بکواس”۔

محمد حمید شاہد اور آصف فرخی، فوٹو بہ شکریہ، فیس بک محمد حمید شاہد

پیارے آصف فرخی ! کیاکوئی یوں بھی مرتا ہے!

انتظار حسین مر گئے تو آصف جنازے میں شریک ہونے کے لیے کراچی سے فلائٹ لے کے لاہور پہنچے تھے۔ادھر اسلام آباد سے میں اور کشور ناہید وہاں پہنچے توآصف پہلے سےپہنچ گئے تھے ۔ مجھے دیکھا ، لپک کر آئے اور میرے گلے لگ کر یوں دھاڑیں مار مار کر روئے کہ میرے دل کا بوجھ بھی اتر گیا تھا۔ مجھے اپنے دل کا بوجھ اتارنا تھا کسی سے گلے لگ کر اور اُسی طرح دھاڑیں مار کر رونا تھاجیسے آصف اور میں انتظار حسین کی موت پرروئے تھے ۔

ghalib

غالب پر منٹو کی ایک خاص تحریر : قرض کی پیتے تھے…

’’حضرت، روپے کی ادائیگی، شاعری نہیں آپ تکلّف کو برطرف رکھیے۔ میں آپ کا مداح ہوں مجھے آج موقع دیجیے کہ آپ کی کوئی خدمت کرسکوں۔‘‘ غالبؔ بہت خفیف ہوئے؛’’لاحول ولا…آپ میرے بزرگ ہیں…مجھے کوئی سزا دے دیجیے کہ آپ صدرالصدور ہیں۔‘‘ ایک جگہ محفل جمی تھی۔ مرزا […]

lovejihad

محبت ،شادی اور مذہب : دوقومیں

”جاﺅ….چلے جاﺅ….ہمارا ہندو مذہب بہت برا ہے….تم مسلمان بہت اچھے ہو۔”شاردا کے لہجے میں نفرت تھی۔ وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کردیا۔ مختار اپنا اسلام سینے میں دبائے وہاں سے چلا گیا۔ مختار نے شاردا کو پہلی مرتبہ جھرنوں میں سے دیکھا۔ وہ اوپر […]

Don`t copy text!