Masnavi

UmraoJan

ورق در ورق: مثنوی امراؤجان کو نئے تناطر میں منقلب کرتی ایک کتاب

مراؤ جان کے دلچسپ اور خیال انگیز نثری متن کو شعری اظہار کا محور بنانا اور اس کی تخلیقی دبازت کو ایک نئے حسی تناطر میں منقلب کرنا بہت دشوار گزار عمل ہے مگر مقام مسرت ہے کہ ایک ایسے عہد میں جب نئی نسل میں اپنے کلاسیکی سرمایہ، قدیم اصناف اور زبان و بیان کے مختلف پیرایوں بشمول بحور سے شناسائی مفقود ہوتی جا رہی ہے، نوجوان ناقد رشید اشرف نے مرزا رسوا کی بے مثال نثری کاوش کو عہد ماضی کی مقبول صنف ‘مثنوی’ کا پیرایہ عطا کیا ہے۔

Don`t copy text!