ادبستان

گلزار کا انٹرویو : زبان بچے گی تو اسکرپٹ بچے گا، زبان اگر زندہ ہے تو اسکرپٹ آپ سیکھ لیں گے…

” زبان بچے گی تو اسکرپٹ بچے گا زبان اگر زندہ ہے تو اسکرپٹ آپ سیکھ لیں گے۔ مجھے بنگلہ زبا ن خوبصورت لگتی تھی میں بولنا چاہتا تھا تو میں نے سیکھ لی…” آج نامور شاعر اور نغمہ نگار گلزار کا یوم پیدائش ہے. اس موقع پر پیش ہے ان کے ساتھ زمرد مغل کی بات چیت –

Gulzar_PTI

زمردمغل: اعلیٰ ادبی شاعری اور عوامی سطح کی شاعری آپ نے دونوں طرح کے پڑھنے والوں کو متاثر کیا ہے ۔ اعلیٰ ادبی شاعری اور عوامی سطح کی شاعری کرتے ہوئے آپ کو کن تجربات سے گزرنا پڑا ؟

گلزار: میرا خیال ہے عوام میں فرق ہے یا ان سطحوں میں فرق ہوگا شاعری میں تو نہیں ۔ جاوید اختر اگر پاپولر ہیں تو ان کا ادبی مقام بھی ہے اس سے آپ انکار نہیں کرسکتے ۔ مجروح صاحب فلم کے لیے بھی لکھتے رہے اور ان کی کتاب بھی بہت پسند کی گئی یا وہ شاعر جو رسالوں میں لکھتے ہیں یا کتابیں ہیں جن کی اب ان کتابوں سے بھی چیزیں فلموں میں لی گئی ہیں ۔ ان کا رتبہ ان کا درجہ تو کم نہیں ہوگیا ۔ جیسے میں کہوں کہ ساحرصاحب کی نظمیں اور غزلیں فلموں میں بھی آ گئی پھر اسے عوامی شاعری کہیں گے یا آپ اسے ادبی شاعری کہیں گے ۔ وہ تو دونوں جگہ وہی ہے تو فرق عوام میں ہوا جو فلم دیکھنے والے ہیں وہ بھی سن رہے ہیں اور جو پڑھنے والے ہیں وہ بھی پڑھ رہے ہیں۔ فلم میں بات کرتے ہوئے شاعر اپنا کمینٹ نہیں دے سکتا وہ اس Statement نہیں ہے اس کا بیان نہیں ہے ایک Commissioned کام ہے ایک خاص کہانی ہے ایک Situation ہے اس Situation میں ایک کردار اس کردار کی ایک زبان ہے اس زبان میں لکھنا ہے۔ فلموں میں لکھی گئی شاعری اس کا اپنا بیان نہیں اپنا بیان اس کی نجی شاعری میں ہے اپنی کتابوں میں ہے۔

زمردمغل: گلزار صاحب کچھ لوگوں نے جیسے شہریار ہیں جنہوں نے امراؤ جان ادا اور گمن جیسی فلموں کے لیے لکھا یا ایک نام آپ کا ہے آپ کی چیزیں جب ہم سنتے ہیں چاہے وہ جگت سنگھ کی آواز میں ہوں یا آپ کی خود کی آواز میں پھر ان کو پڑھتے بھی ہیں ویسے ہی ان چیزوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ میں یہ جاننا چاہ رہاتھا کہ گلزار یا شہریار ایک توازن رکھنے میں کامیاب رہے باقی لکھنے والوں کے یہاں گلزار صاحب ہمیں چیز دیکھنے کو نہیں ملتی کہ اگر ان کی کوئی چیز گائی گئی ہے تو وہ بہت کمزور ہے ادبی سطح پر اس کا مقام و مرتبہ نہیں ہے۔ لیکن آپ کے ساتھ ایسا نہیں ہے ۔

گلزار:سوال یہ ہے کہ اگر وہ کمزور ہے تو وہ شاعری ہی کمزور ہے پھر جیسے میں ایک مثال دوں کیوں کہ یہ ادب اور فلم کے میڈیم کی بات شروع ہو گئی ہے اس لیے کہ :
میرا جوتا ہے جاپانی
یہ پتلون انگلستانی
سر پہ لال ٹوپی روسی
پھر بھی دل ہے ہندوستانی
شیلندر

یہ زبان عام ہے کیوں کہ اس میڈیم کے لیے ہے شاید نظم یا کسی اور کتاب میں لکھنا ہوتا تو کوئی دوسری طرح کی زبان استعمال کرتے لیکن یہ اس جگہ کی زبان ہے اس میں بھی وہ عام آدمی کے بارے میں کہتے ہیں کہ

ہوں گے راج راج کنور
ہم بگڑے دل شہزادے
ہم سنگھاسن پہ جا بیٹھیں
جب جب کریں ارادے

یہ عام آدمی کی ووٹنگ کی طاقت کا ذکر ہے تو وہ شاعری چھوٹی نہیں ہوتی۔ عام شاعری نہیں ہوگی وہ اس نے اس Situationر رہتے ہوئے بھی ایک بہت بڑی بات کہی میڈیم الگ ہے بات کرنے کو تو جو جس میڈیم میں جائے اس میڈیم میں بات کرے گا تو بات تو شاعری کی ہے تو یہ شاعری چھوٹی تو نہیں ہو جاتی۔ سوال صرف یہ ہے کہ آپ کن خوبصورتی سے اپنی Commissioned کام نبھاتے ہیں کہ اس Situation پر بھی اور ایک سطح اور کھول کے رکھ دیتا ہے اگر کرید کر دیکھیں گے تو وہ بھی مل جائے گی اور وہ اپنی بات عام لوگوں کے لیے بھی کہہ گئے اور اس Situation پر بھی کہہ گئے اور یہ گانوں میں ممکن نہیں ہوسکتا۔

زمردمغل: اردو زبان کی بقا کے لیے ہم لوگ جو لکھ رہے ہیں، شاعری کر رہے خاص طور سے ہندوستان کے حوالے سے یہ کتنی کار آمد ہے کیا اس شاعری کی وجہ سے زبان کو فائدہ ہورہاہے لوگ اسے پسند کر رہے ہیں۔ اور لوگ اسے سیکھنا چاہتے ہیں ۔

گلزار: کچھ سیکھنا تو میں بھی چاہتاہوں اور جاننا بھی چاہتا ہوں اردو زبان کیاہے ؟ کون سی ہے جس زبان میں ہم بات چیت کررہے ہیں کیا یہ اردو ہے؟ اگر یہ ہندوستانی ہے تو پھر یہ اردو ہے۔ سب لوگ ہندوستانی بولتے ہیں عوام کی زبان ہے فلموں میں بھی ہے پھر اردو کو کیا شکایت ہے اردو ، اردو ہے ۔ 90 فیصد زبان جو بھی بولی جارہی ہے جو فلموں میں ہے وہ اردو ہے اسی کو تو آپ ہندوستانی کہتے ہیں اگر ہندوستانی اردو ہے تو اردو ہندوستانی ہے۔

زمردمغل: گلزار صاحب رسم الخط کا ایک مسئلہ ہے نا؟

گلزار: زبان اور رسم الخط دو الگ چیزیں ہیں آپ کو زبان کا مسئلہ ہے یا رسم الخط سکا مسئلہ ہے؟

زمردمغل: رسم الخط بچے گا تبھی زبان بچے گی

گلزار : نہیں ! زبان بچے گی تو اسکرپٹ بچے گا زبان اگر زندہ ہے تو اسکرپٹ آپ سیکھ لیں گے۔ مجھے بنگلہ زبا ن خوبصورت لگتی تھی میں بولنا چاہتا تھا تو میں نے سیکھ لی۔

زمرد مغل: گلزر صاحب فلموں میں جو بالکل اردو سے ناواقف ہیں وہ بھی بہت اچھے ڈائیلاگ بولتے ہیں ۔ وہ یا تو ہندی میں یا رومن میں لکھا ہوا ہوتا ہے ۔ اسکرپٹ کا مسئلہ تو ہے ہی نا؟

گلزار: مسئلہ تو پھر اسکرپٹ کا ہوا نہ زبان کا نہیں پھر اردو زبان کا مسئلہ نہیں ہے اردو کا مسئلہ اسکرپٹ کا ہے ۔ اردو بولی بھی جارہی ہے سنی بھی جا رہی ہے پڑھی بھی جارہی ہے صرف لکھی دکھائی نہیں دے رہی ہے کیوں کہاردو لکھا نہیں جا رہاہے اردو اسکرپٹ کا مسئلہ جسے حل کرنا چاہیے ایمانداری کے ساتھ کہوں تو نوحہ گری کی عادت تھوڑی اردو والوں کو روتے رہیں گے کہ بڑا ظلم ہورہاہے ہماری زبان کے ساتھ ظلم کیا ہورہاہے آپ کی زبان ہے آ پ اسے اپنا نہیں رہے ہیں اردو جو انیسویں صدی میں بولی جا رہی تھی آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہی اردو ہے کوئی بھی زندہ زبان اپنے دور کے ساتھ ساتھ بدلے گی۔ ہندی کیا وہی ہے سجو تقسیم سے پہلے بولی جا رہی تھی ۔ انگریزی کیا وہی ہے جو پنڈت نہرو اور ملک راج آنند بول رہے تھے آج کی انگریزی تو وہ نہیں ہے ۔ آپ کو اسکرپٹ کا پرابلم حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ زبان تو آپ بول رہے ہیں اور کہ میں بول رہاہو ں اگر یہی اردو ہے تو پھر پریشانی کس چیز کی ہے۔

زمردمغل: یہ مسئلہ تو ہندوستان کی باقی زبانوں کو بھی درپیش ہے مگر ہم لوگ کچھ زیادہ شور کرنے لگتے ہیں ۔

گلزار: اردو کے پاس کوئی وطن نہیں تھا کوئی صوبہ نہیں تھا کوئی علاقہ نہیں تھا۔ آج ایک پورا ملک ہے اردو کے پاس جسے پاکستان کہتے ہیں اس طرح اردو ترقی پر ہوئی یا تنزل کا شکار ہے تو پھر آپ کس بات کی شکایت کررہے ہیں ۔ اردو ایک زبان ہے جس نے صرف زبان کی وجہ سے اپنی بستیاں بسا لی ہیں امریکہ میں بھی ناروے میں اتنی بڑی بستی اردو کی ہے تو پھر تکلیف کس بات کی ہے ۔ آپ اردو کو صرف اپنی جگہ میں ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اردو پھیل رہی ہے اس کا دائرہ لکھنؤ اور دلی سے باہر ہی نہیں نکلتے۔ پاکستان میں تو لکھا بھی اردو اسکرپٹ میں جارہاہے آپ کے ہاں اگر یہ پرابلم میں ہے تو آپ کو کہ خوشی نہیں ہوتی کہ دوسری جگہ کتنی پھیل رہی ہے اردو اسکرپٹ کا مسئلہ جو ہمارے یہاں ہے تو پنجابی تو یہاں بھی بولی جاتی ہے اور پاکستان میں اگر پنجابی اسکرپٹ ہوجائیں تو کیا تکلیف ہے ۔ شبانہ اعظمی ، نصیرالدین شاہ یہ لوگ دیوناگری میں لکھتے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ اردو زبان نہیں جانتے ۔ اردو رسم الخط کا مسئلہ حل کیجئے میں نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کو مشورہ دیا تھاکہ اردو Calligraphy اس قدر خوبصورت Calligraphy بہت کم زبانوں میں ہے جن کے پاس اس طرح کی Calligraphy ہے جس میں بنگلہ ایک ہے ۔ آپ ان کے ڈیزائن بنائیے نہ آپ اردو ڈیزائن کروائیے اس کی فوٹو نکالیے۔ آدمی پوچھے تو صحیح کون سی زبان ہے ۔ لوگوں کو اردو اسکرپٹ کی طرف توجہ تو دلوائیے۔ میں نے قاعدہ بنا کردیا تھا منظوم اردو زبان کا میں نے کہا میں اس کو ریکارڈ کر دیتا رہوں تاکہ بچوں کا تلفظ صحیح ہو جائے۔ اردو کے قاعدے تو اچھے خوبصورت بنائیے۔

  • Iqbal

    Great
    Gulzar saheb told that he has written Urdu Qaida and in poetical style, we would like to get this

    • Shah Nawaz Khan

      Yes we should have it.

  • Abu Xaigham Khan

    بہت عمدہ انٹرویو. میں خود بھی اس بات کا قائل ہوں کہ رسم الخط میں سدھار ھو، اگر خط نستعلیق میں دقت ہے تو کیوں نہ ہم رومن رسم الخط کو اپنالیں.

    • AK Gupta

      رومن رسم الخط کے بجائے دیوناگری میں کیوں نہ لکھیں جسسے زیادہ سے زیادہ لوگ اردو کو پڑھ سکے

      • Abu Xaigham Khan

        دراصل دیوناگری رسم الخط، خط نستعلیق سے بھی کمزور ہے، اردو کے بہت سارے تلفظ کو دیوناگری میں ھم ظاہر ہی نہیں کر سکتے.
        آپ کو کئی ایسے ھندی داں مل جائیں گے جو خود دیوناگری کو ھندی کے لسانی ارتقاء میں رکاوٹ سمجھتے. اور رومن میں ھندی کو لکھنے کی وکالت کرتے ہیں.

        • AK Gupta

          جہاں تک میری سمجھ ہے ، آنے والے سالوں میں ہندی اور اردو دونوں ہی رومن سکرپٹ میں لکھے جاینگے. میرے اور آپکے خیال مختلف ہو سکتے ہیں، مگر رومن رسم الخط کی مقبولیت کے سامنے اس انٹرنیٹ کے زمانے میں نستعلیق اور دیوناگری کا بچ پانا مشکل ہے .

          آپنے کہا ک “اردو کے بہت سارے تلفظ کو دیوناگری میں ھم ظاہر ہی نہیں کر سکتے”. میں جاننا چاہتا ہوں آپ کس تلفظ کی بات کر رہی ہیں. دیوناگری میں ‘ج’ اور ‘ز’ کا فرق تو کیا جا سکتا ہے.مگر ‘ذ’ ، ‘ض’ ، ‘ظ’ جیسے تلفظ کا فرق نہیں کیا جا سکتا ہے. مگر یہ تلفظ عربی زبان کے ہیں اور کوئی بھی اردو بولنے والا ان تلفظ کو ‘ز’ جیسا ہی بولتا ہے.

          • Abu Xaigham Khan

            جی درست، مگر تلفظ میں مخرج کی تبدیلی اسکے حسن میں اضافے کا باعث بنتی ہے، بات عربی مخرج کی نہیں اردو میں بھی مخرج.
            اپنا کردار نبھاتا ہے
            مثلاً مژدہ، ژالہ، غ، ق، خ،ح
            ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اگر نستعلیق رسم الخط کو دیوناگری کا جامع پہنانے کی بات ھندوستاں میں ھوگی تو پاکستان کیا ہندوستان میں بھی اسکو شاید ہی کوئی قبول کرے.

    • Snehan Gorain

      اردو کی نستعلیق رسم الخط تو اردو کی ایک شناخت ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ اردو صرف ہندوستان میں نہیں بولی جاتی ہے، نتیجاً اگر ہندوستان میں اردو دیوا ناگری یا رومن میں لکھی جاتی، تو یقیناً پاکستان اور غالباً دوسرے ممالک میں اردو نستعلیق میں لکھا جاتا رہے گا۔ اردو کے لئے بہتر یہ ہوگا کہ سارے اردو بولنے والوں ایک مشترکہ رسم الخط کو استعمال کریں، اس طرح ہم اور زبان زیادہ متحدہ ہونگے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب انٹرنیٹ اور ٹکنالاگی کہ طور پر اردو (اور اس کی نستعلیق خط) کی موجودگی بڑھتی جا رہی ہے اور اس کی ترقی بھی جاری ہے۔

      میں نے ۳ سال پہلے اردو رسم الخط سیکھی تو اگر میں نے کچھ الفاظ غلط لکھی یا استعمال کی تو میں معافی چاھتا ہوں۔

      • Ahmed Malik

        اردو نستعلیق میں ھی لکھی جانی چاھیے…. دیوناگری میں لکھو گے تو وہ ھندی ھو گی… اردو نہیں

      • Abu Xaigham Khan

        آپ نے بہت اچھا لکھا ہے. ماشاء اللہ، جی میں آپ کی سے کچھ حد تک مطمئن ھوں، مگر میرا خیال ہے کہ اگر رومن رسم الخط کو پاکستان اور بھارت کے اردو حلقے اپنانے کی طرف گامزن ھوں، تو اردو کے لسانی ارتقاء میں کافی حد تک مدد مل سکتی ہے، رسم الخط کوئی الھامِ خداوندی نہیں ہے کہ اسمیں تبدیلی نہ ہو. دنیا کے کئی ممالک ہیں جنہوں نے اپنے رسم الخط کو تبدیل کیا اور اب وہ اسکا فائدہ اٹھا رہے ہیں، اسکی سب سے بڑی مثال ترکی ہے.
        شکریہ

  • Faisal Farooque

    #Good