فکر و نظر

سرسید کا نظریہ تعلیم اور تعلیم نسواں

ان کی کسی بھی طرح کی خدمات سے انکارکرنا میرا مقصد نہیں لیکن تصویر کے دوسرے رخ کا سرے سے ذکر ہی نہ کرنا ، میں صحیح نہیں سمجھتی۔

sir syed_amuسر سید احمد خاں(پ: 17اکتوبر 1817 و: 28مارچ 1898)کی جشن ولادت کے موقعے پر آج کا یہ دن ‘سر سید ڈے ‘کے نام سے منایا جاتا ہے۔سر سید کسی تعارف کے محتاج نہیں ،اردو ادب میں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت میں ان کی اہم خدمات کو سب ہی جانتے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آج بھی اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔سر سید کی بیش بہا خدمات کا ذکر آئے دن ہوتا ہی رہتا ہے ،کبھی کسی مقالے کی صورت میں تو کبھی کسی کتاب کی صورت میں۔میں یہاں ان تمام باتوں کا ذکر کر کے آپ کا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی ،خود میں نے ‘سر سید کی ادبی خدمات’ ٹائپ کے کئی ٹرم پیپر لکھے اور سیمینار اٹینڈ کیے ہیں۔میں یہاں ادبی اور تعلیمی شعبے میں اپنی نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیت سر سیداحمد خاں کےلڑکیوں کی تعلیم سے متعلق ان کے خیالات کا ذکر کرنا چاہوں گی تاکہ تعلیم سے متعلق ان کے ‘دوجے رویے’ کواجاگر کیا جا سکے جو لڑکوں کے لیے کچھ اور  ہیں اور لڑکیوں کے لیے کچھ اور۔

 سر سید ڈے منا نے کے ساتھ ساتھ ان کی خدمات کو وقتاًفوقتا سیمینار کراکے یا کسی میگزین کا شمارہ نکال کر یاد  کیا جاتا رہا ہے اور انھیں خراج عقیدت بھی پیش کی جاتی رہی ہے۔لیکن سر سید کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے لوگ اکثر ان کی اس پدری ذہنیت کا ذکر کرنا بھول جاتے ہیں۔ جو عورت کو ہمیشہ اپنے ‘دوجے'(The Other)کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔

لڑکوں کے لیے اعلیٰ مغربی تعلیم کی حمایت کرنے والے روشن خیال سر سید جب لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق بولتے ہیں تو اپنے’ قدیم بزرگوں کے خیالات کی پیروی’ کرتے نظر آتے ہیں۔ان کے مطابق لڑکیوں کی تعلیم ‘مذہب اسلام اور طریقہ شرفائے اہل اسلام ‘کےمطابق ومناسب ہونی چاہیے،اس کی وضاحت بھی انھوں نے کافی کھل کر کی ہے۔اسی طرح کی تعلیم دینے کے لیے” زنانہ مکتب” قائم کیے جانے والے رزولیوشن کو  منظور کیے جانے میں سر سید نے کسی طرح کا اعتراض ظاہر نہیں کیا ۔انھوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے جن طریقوں کا ذکر کیا ہے ، جس کا رواج  ان کے خاندان میں بھی تھا ،اس کا مطالعہ ہر کسی کوایک بار ضرور کرنا چاہیے۔ اس میں تین قسم کی عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔جو  سینے پرونے سے لے کر خانہ داری کے کاموں کو سیکھنے میں مہارت حاصل کرتی تھی۔انھیں ایسی چیزیں پڑھائی جاتی تھی جو ‘عورتوں کے لیے ضروری’ ہے ،ساتھ ہی خاندان کا طریقہ اور سلیقہ بھی سکھایا جاتا تھا،اور تو اور ان کی نگرانی بھی کی جاتی تھی ۔جمعہ کے دن کا ذکر کافی دلچسپی کے ساتھ کیا گیا ہے جب لڑکیاں مل کر مختلف قسم کے کھانے پکاتی تھیں ، اس میں کبھی کبھی بھائیوں کو بلاکر کھانا کھلانے کا رواج بھی تھا۔یہ تھی لڑکیوں کی وہ تعلیم جس کا ذکر سر سید نے محمڈن ایجوکیشنل کانگریس کے تیسرے سالانہ اجلاس(لاہور) میں کیا تھا۔لڑکیوں کی کل تعلیم دینیات اور اخلاقی درس پر محمول تھی ، یہ کہا جا سکتا ہے کہ بنیادی طور پر انھیں اچھی بیوی بننے کا درس دیا جاتا تھا۔ قابل توجہ رہے کہ  لڑکیوں کی تعلیم کے یہ طریقے شرفا میں رائج تھے، پس ماندہ طبقے کی تعلیم کے کسی طریقے کا ذکر انھوں نے نہیں کیا؟

وہ لڑکیوں کو ایسی تعلیم دینا چاہتے تھے جس سے مرد آسانی سے ان پر حکومت کر سکیں۔لڑکیوں کی تعلیم کا عمدہ طریقہ ان کی نظر میں وہ تھا جس سے ‘لڑکیوں کے دل میں نیکی اور خدا ترسی، رحم اور محبت اور اخلاق ‘ پیدا ہو۔ ایک اقتباس دیکھیے:

”یہی تعلیم ان کے دین اور دنیا دونوں کی بھلائی کے لیے کافی تھی اور اب بھی یہی تعلیم کافی ہے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ عورتوں کو افریقہ اور امریکہ کا جغرافیہ سکھانے اور الجبرا اور ٹر گنامٹری کے قواعد بتانے اور احمد شاہ اور محمد شاہ اور مرہٹوں اور دہلیوں کی لڑائیوں کے قصے پڑھانے سے کیا نتیجہ ہے۔ ” (خطبات سرسید : جلد دوم)

عورتوں کی تعلیم کے ضمن میں سر سید کے یہ خیالات بھی ملاحظہ کیجیے:

“عورتوں کی تعلیم ، نیک اخلاق،نیک خصلت ،خانہ داری کے امور ،بزرگوں کا ادب، خاوند کی محبت ، بچوں کی پرورش، مذہبی عقاید کا جاننا ہونی چاہیے۔اس کا میں حامی ہوں ، اس کے سوا اور کسی تعلیم سے بیزار ہوں ۔”

سر سید اپنے تمام خیالات میں کھل کر لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں ، ان کی نظر میں عورتوں کو ایسی تعلیم کی ضرورت قطعی نہیں تھی  جن سے انھیں اپنے انسان ہونے کا ذرا سا بھی احساس ہو ۔سر سید دراصل لڑکوں کی تعلیم کے ذریعے لڑکیوں کی تعلیم کا غائبانہ انتظام کر رہے تھے ۔ کہتے ہیں:

“ہمارا منشا یہی ہے کہ یہ تعلیم جو ہم دلا رہے ہیں ،لڑکوں کی نہیں ہے بلکہ لڑکیوں کی ہے جن کے وہ باپ ہوں گے۔”

”جب مرد لائق ہو جاتے ہیں، عورتیں بھی لائق ہو جاتی ہیں۔ جب تک مرد لائق نہ ہوں عورتیں بھی لائق نہیں ہو سکتیں۔ یہی سبب ہے کہ ہم کچھ عورتوں کی تعلیم کا خیال نہیں کرتےہیں۔”

AMU_Clg

میرے خیال میں تو سر سید صاحب الٹی بات کہہ گئے ہیں ، عورت پڑھی لکھی ہوتی ہے تو بچے کی پرورش بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔خود سرسید نے اپنی والدہ  سے ‘گلستان’کے کچھ سبق پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔

 وہ مرد کو  عورت کا خدا گردانتے ہیں ؟ شاید یہی وجہ ہے کہ عورت کی تعلیم مرد کے توسط سے کروانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ “خدا کی برکت زمین سے نہیں آتی بلکہ آسمان سے اترتی ہے ۔ سورج کی روشنی بھی نیچے سے نہیں آتی بلکہ اوپر سے آتی ہے ۔اسی طرح مردوں کی تعلیم سے عورتوں کی تعلیم ہوتی ہے”۔

گویا مرد عورت کا خدا ہے ، اس کا سورج ہے ؟ان کے اس طرح کے خیالات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی نظر میں’ترقی پسندی’ کے کیا معنی تھے۔ ان کا تعلیمی منصوبہ نوآبادیاتی دور سے زیادہ مختلف نہیں ،نوآبادکاروں نے خود کو  ہندوستانیوں کے سامنے اعلیٰ تعلیم کی مثال کے طور پر پیش کیا تھا ،سر سید نے مردوں کو عورتوں کے سامنے اسی طرح رکھا۔

“میری رائے میں عورتوں کی تعلیم کا ذریعہ مرد ہی ہوں گے۔”

عورتوں کی تعلیم کا واحد ذریعہ ان کی نظر میں مرد تھے، اور تو اور وہ اسے ‘قانون قدرت  کے موافق ‘قرار دیتے ہیں۔ اب یہ کہنے کی ضرورت شاید نہیں رہ جاتی کہ سر سید کا شمار بھی انھیں لوگوں میں ہوتا ہے جو عورت کو مرد کی دسترس میں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کے خیالات بعد میں بدل گئے ،انھوں نے جو باتیں 1888 میں لاہور میں کہی تھیں ،6 سال بعد علی گڑھ میں بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اسے قانون قدرت کی موافقت سے منسلک کرکے اپنی بات میں زیادہ اثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہی کوشش ہے جو نوآبادکاروں نے ہندوستانیوں کے ساتھ اپنائی تھی، خود کو فطری طور پر حاکم اور ہندوستانیوں کو محکوم بتا کر اپنی حکومت مضبوط کی تھی ۔ یوں دیکھا جائے تو سر سید کے تعلیم نسواں سے متعلق خیالات نوآبادیاتی جبر کی علامت کہے جا سکتے ہیں ۔

قابل توجہ بات یہ  ہے کہ وہ عورت کے ‘دوجے ‘ہونے کا احساس بار بار کراتے ہیں ،گویا حوا کی بیٹیوں کا وجود آدم کا مرہون منت ہے۔ ایک طرف جہاں وہ انگریزی تعلیم حاصل کرنے کو وقت کی ضرورت کہتے ہوئے اہمیت دیتے ہیں تو وہیں دوسری طرف لڑکیوں کو اس سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔بظاہر اس کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی کہ اتنا پڑھا لکھا انسان ، وقت اور زمانے کے لحاظ سے چلنے والا لڑکیوں کی تعلیم کو نظر انداز کیوں کر دیتا ہے ۔ نہ صرف نظر انداز کرتا ہے بلکہ اس کی مخالفت بھی کرتا ہے:

“اس میں کچھ شک نہیں کہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عام اسکول کے بنانے کو ،جہاں کہ عام لڑکیاں بلا لحاظ اس کے کہ کس قوم و خاندان کی ہیں ، چادر یا برقعہ اوڑھ کر یا ڈولی میں بٹھا کر بھیجی جاویں ، میں پسند نہیں کرتا۔”

اس سے ایک بات اور صاف ہو جاتی ہے کہ سر سید حصول تعلیم کے تحت جو بھی خدمات انجام دے رہے تھے ،اس میں اشرافیہ طبقہ ہی ان کی توجہ کا مرکز تھا۔ مختلف قوم و خاندان کی لڑکیاں ایک ساتھ جمع ہوں، وہ اس کے سخت خلاف نظر آتے ہیں۔

ویڈیو : آج ہمیں ایک نہیں پانچ سر سید چاہیے : عارفہ خانم شیروانی

یہ کہنا درست ہوگا کہ سر سید پدری ثقافت میں بری طرح جکڑے ہوئے تھے اور عورتوں کو مرد کے تابع دیکھنا پسند کرتے تھے۔اپنی ایک تقریر میں انھوں نے واضح کیا کہ وہ تعلیم نسواں کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ان کے لیے اس طرح کی تعلیم کا تصور رکھتے ہیں جس کا ذکر اوپر کے اقتباس میں کیا گیا۔ میری نظر میں اس طرح کی تعلیم کا تصور ہی’ عورت کے پیدا ہونے سے زیادہ عورت کے بنائے جانے’ کا ذمہ دار ہے ، جس کا ذکر سیمون دی بووا نے  The Second Sexمیں کیا ہے۔

“حقیقی عورت” تہذیب کی بنائی ہوئی ایک مصنوعی پیداوار ہے‘ جیسا کہ پہلے محشوں کو بنایا گیا تھا۔ ناز و ادا اور اطاعت گذاری کے لئے اس کی پہلے سے فرض کردہ “جبلتیں”اسی طرح ذہن نشین کرائی گئی ہیں جس طرح مرد کا اپنے عضو پر غرور۔ (ص498، The Second Sex)

ان کی کسی بھی طرح کی خدمات سے انکارکرنا میرا مقصد نہیں لیکن تصویر کے دوسرے رخ کا سرے سے ذکر ہی نہ کرنا ، میں صحیح نہیں سمجھتی۔اور میری نظر میں اس کا ذکر بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ان کی دوسری خدمات کا ۔ اس سے یہ بھی جاننے میں آسانی ہوگی کہ ہمارے ملک کے نام نہاد ‘ترقی یافتہ’ لوگ اپنی سوچ اور ذہنیت میں کتنے ترقی یافتہ تھے۔ صدیوں بعد آج بھی عورت کی حالت میں خاطر خواہ  تبدیلی نہیں آئی تو اس کی وجہ کہیں نہ کہیں مردوں کی یہی ذہنیت ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس ذہنیت میں پڑھے لکھے ،باشعور ، اعلیٰ تعلیم حاصل کیے ہوئے مردوں نے کافی اہم رول ادا کیا ہے۔