ادبستان

یوم وفات پر خاص : انٹر نیٹ کے زمانے میں غالب…

انٹرنیٹ نے موبائل فون میں بھی گھس پیٹھ کر لی ہے، سو ہر کس و نا کس کے ہاتھ یہ جالِ جدید لگ گیا ہے۔ اب ہر ایرا غیرا نتھو خیرا غالب کے نام سے بے تُکی باتیں نیٹ پر ڈال دیتا ہے۔

Ghalib

برق رفتار تکنیکی انقلابات کے اس دور میں ایک غیر مرئی جال نے سب کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ انٹرنیٹ نام کے اس جال سے کوئی بچ کر رہ جائے، یہ بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے۔ ایسے محیط بر حیات وسیلے سے ادب کا اچھوتا رہ جانا بھی ممکن نہیں ہے۔ اب ادب خاص طور سے ہندوستانی ادب کی بات ہو اور غالب کا اس میں نام نامی نہ ہو یہ بھی نا ممکنات میں سے ہے۔ تو مرزا اسداللہ خان غالب المعروف بہ میرزا نوشہ، المخاطب بہ نجم الدولہ، دبیرالملک، اسداللہ خان بہادر نظام جنگ انٹرنیٹ پر بھی اپنے شہرہ آفاق کروفر سے،  پورے طمطراق کے ساتھ جلوہ افروز ہیں۔

دورِ جدید کے انٹرنیٹ نامی مایاجال میں غالب کی شاعری کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ان کا تمام کلام معہ غیر مطبوعہ تخلیقات، محبانِ غالب نے انٹرنیٹ پر ڈال دیا ہے۔ غالب کی کتابوں کے ساتھ ان سے متعلق سیکڑوں کتابیں یہاں اپنی اصلی شکل میں موجود ہیں۔ مغنیانِ خوش نوا نے کلامِ غالب کو اپنی آوازوں سے جس طرح سجایا ہے، اسے بھی یہاں سنا اور دیکھا جا سکتا ہے۔عشقِ غالب میں گرفتار خطاط نے اپنے محبوب شاعر کی کاوِشات کو موئے قلم سے جو خوبصورت انداز بخشے ہیں، اُن کے حسن کا دیدار کر یہاں اپنی آنکھیں ٹھنڈی کی جا سکتی ہیں۔ غالب پر بنی فلمیں، ٹی وی سیریلس اور ڈرامے بھی انٹرنیٹ کے ذریعے پردہ سیمیں پر اتارے جا سکتے ہیں۔ غرض اب انترجال پر بھی جہانِ غالب آباد ہے اور ‘خبر کرو میرے خرمن کے خوشہ چینوں کو’ والا معاملہ ہے۔

انٹرنیٹ پر کچھ بھی کھوجنے کے لیے سرچ انجن گوگل عالمی شہرت رکھتا ہے۔ اُس پر مرزا غالب سرچ کیا (24 دسمبر 2018 کو) تو پہلی بار میں 9 لاکھ 19 ہزار رزلٹس دکھنے لگا۔ یہ نتائج صرف صِفر اعشاریہ 52 سیکنڈس میں دے دیے گئے تھے۔ اگلی بار سرچ کرنے پر 5 لاکھ 90 ہزار نتائج صِفر اعشاریہ 63 سیکنڈس میں پیش کر دیے۔ مگر انگریزی کا یہاں بھی دبدبہ دیکھیے کہ انگلش میں مرزا غالب ٹائپ کرنے پر صفر اعشاریہ 52 سیکنڈس میں 20 لاکھ 70 ہزار رزلٹس آ گئے۔

گوگل جب نتائج بتاتا ہے تو اسکرین کے دائیں جانب بُکس یعنی کتب کی مختصر معلومات دی جاتی ہیں۔ اس میں مرزا غالب کی کتابوں سمیت ان پر لکھی 35 سے زائد کتابوں کا ذکر ہے۔ ان میں انگریزی کتب زیادہ ہیں۔ چند ہندی کتابوں کا بھی ذکر ہے۔ انگریزی کتب میں ‘غزلس آف غالب’، ‘لو سانیٹس آف غالب’، ‘د فیمس غالب’، ‘غالب: ہِز لائف اینڈ پوئٹری’، ‘د لائٹنگ شّڈ ہیو فالن آن غالب’، ‘غالب ان ٹرانسلیشن’، آکسفورڈ انڈیا کلیکشن کی کتابیں شامل ہے۔ان کے علاوہ بہت سی کتب کی معلومات پہلی نظر میں سامنے آ جاتی ہیں۔ ان کتابوں کو آن لائن خریدنے کی سہولیت بھی دی گئی ہے۔ دیوانِ غالب تو یہاں کئی زبانوں میں دستیاب ہے۔

mirza_ghalib_google_doodle

مرزا غالب کا گوگل ڈوڈل

نتائج بتاتے ہوئے گوگل صفحے کے نچلے حصے میں سرچ کے لیے کچھ متبادل پیش کرتا ہے۔ آپ ان کے ذریعے متعلقہ موضوع کی بابت سرچ کر سکتے ہیں۔ غالب کے سلسلے میں گوگل مرزا غالب اشعار، غالب کا تصورِ غم، غالب کی مشکل پسندی، دیوانِ غالب، غالب کی شخصیت جیسے متبادل بتاتا ہے۔ انگریزی میں سرچ کرنے پر مرزا غالب پوئٹری، غزلس آف غالب، مرزا غالب بایوگرافی ان اردو، مرزا غالب بکس اِن انگلش پی ڈی ایف وغیرہ بتاتا ہے۔

اب اُن چند ویب سائٹس کا ذکر جن پر غالب کی یا ان پر لکھی کتب موجود ہیں؛

ریختہ ڈاٹ او آر جی

ریختہ ڈاٹ اوآرجی نام کی ویب سائٹ اردو زبان و ادب کے لیے وقف ہے۔ اب مقبولِ خاص و عام ہوتی جا رہی اس ویب سائٹ پر غالب کے اشعار سے لے کر ان کی تقریباً سبھی کتابیں و غالب پر لکھی گئی کتابیں بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ ایسی ویب سائٹ ہے جو آپ کو دوسری ویب سائٹس سے تقریباً بے نیاز کر دیتی ہے۔ اردو کے نایاب گوہروں سے مالامال ریختہ غالب کی 234 غزلیں، 358 اشعار، 34 رباعیات، ایک مرثیہ، 3 سہرے اور 248 غیر مطبوعہ غزلیں پیش کر دیتی ہے۔ مزید یہ کہ اس وقیع ویب سائٹ پر غالب سے متعلق 783 ای کتب ہونے کی جانکاری بھی دی گئی ہے۔

حالانکہ یہ ساری کتب 25/26 دسمبر 2018 کو دیکھنے میں نہیں آ پا رہی تھیں، پھر بھی یہاں پہلی نظر میں ہمیں ‘آہنگِ غالب’ جیسی نادر کتاب مل جاتی ہے۔ یہ غالب پر لکھی منشی پریم چند کی وقیع تصنیف ہے۔ اسے دوآبہ ہاؤس موہن لال روڈ لاہور سے شائع کیا گیا ہے۔ کتاب کے عنوان کے نیچے لکھا ہے؛دیوانِ غالب (اردو) کی بہترین و مکمل شرح معہ سوانحیات و تنقید کلام۔ دیوان غالب کے تقریباً تمام تر نسخوں کے ساتھ قادرنامہ، اردوئے معلّیٰ، قاطع برہان، سبدِ چین، دیوانِ فارسی وغیرہ کے ساتھ غالب کے فکروفن کا احاطہ کرتی متعدد کتب یہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ‘آثارِ غالب’ از قاضی عبدالودود بھی اس سائٹ پر ہے۔ 30 مارچ 1949 کو اس کا عرضِ حال لکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آئینہ افکارِ غالب از شان الحق حقی، ادبی خطوط غالب، افاداتِ غالب، افکارِ غالب، احسن الانتخاب وغیرہم بھی سامنے ہی نظر آ جاتی ہیں۔

اردو چینل ڈاٹ ان

اردو چینل ڈاٹ ان  نامی ویب سائٹ ماہنامہ ‘اردو چینل’ کی ویب سائٹ ہے، جس کے سرِورق پر ‘اردو زبان و ادب کی کتابوں اور رسالوں کا ذخیرہ’ تحریر ہے۔ یہ سرِورق شاعر مشرق علامہ اقبال اور گرودیو رابندرناتھ ٹیگور کی تصاویر سے مزین بھی ہے، جو پل پل بدلتی رہتی ہیں۔

اپنے دعوے کے مطابق ہی اس ویب سائٹ پر مختلف موضوعات سے تعلق رکھنے والی خاصی تعداد میں کتابیں و رسائل موجود ہیں۔ یعنی یہاں ادبی کتب و رسائل کے ساتھ مائکروسافٹ ورڈ اور ایکسل جیسی کمپیوٹر اپلی کیشنز پر یا اور دیگر موضوعات پر لکھی گئی تصانیف بھی مل جاتی ہیں۔ ویب سائٹ کے پہلے صفحے سے ہی ‘فن خطاطی اور مخطوطہ شناسی’ از ڈاکٹر فضل الحق، ‘اردو مثنوی کا ارتقاء’ از ڈاکٹر عبدالقادر سروری اور قرۃالعین حیدر کی ‘میرے بھی صنم خانے’ جیسی کتابیں ڈاون لوڈ کی جا سکتی ہیں۔ اس میں ‘ای بکس’ کا شعبہ الگ سے دیا گیا ہے، جس میں (16 جنوری 2019 کو) 55 صفحات موجود تھے۔ ہر صفحے پر 6 کتابیں ہیں۔


یہ بھی پڑھیں: غالب پر منٹو کی ایک خاص تحریر


مرزا غالب سے متعلق کئی وقیع کتب یہاں قارئین کی تشنگی بجھانے کے لیے مہیا کرا دی گئی ہیں۔ جس ترتیب سے انہیں ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا ہے، اسی ترتیب سے وہ یہاں درج کی جاتی ہیں۔ فرہنگِ غالب از امتیاز علی خان عرشی، نشاطِ غالب از وجاہت علی سندیلوی، ارمغانِ غالب از شیخ محمد اِکرام، روحِ غالب از محی الدین قادری زور، غالب از غلام رسول مہر، آثارِ غالب از قاضی عبدالودود، مشکلاتِ غالب از نیاز فتحپوری، مرزا غالب شخصیت اور فن از پروفیسر ابوالکلام قاسمی، غالب کے لطیفے مرتبہ انتظام اللہ شہابی، غالب کے سو اشعار مرتبہ محمود علی خان، محاسنِ غالب از ڈاکٹر عبدالرحمٰن بجنوری، غالب شکن از یاس یگانہ چنگیزی، ذکرِ غالب از مالک رام، مرزا غالب کا روزنامچہ از حسن نظامی، نکاتِ غالب مرتبہ نظامی بدایونی، شرح دیوانِ غالب از مولانا حسرت موہانی اور غالب از کالیداس گپتا رضا۔ غالب پر درج بالا کتب کے ساتھ مختلف النوع کتب، رسالے و ماہنامہ اردو چینل کے پرانے شمارے بھی یہاں دستیاب ہیں۔

کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ او آرجی

اس ویب سائٹ کے سرنامے پر ‘اردو کی برقی کتابیں’ اور ‘آن لائن کتب خانہ’ درج ہے۔ اس آن لائن کتب خانے میں اچھی خاصی کتابیں موجود ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہاں سے کتابوں کو ورڈ فائلس یا ٹیکسٹ فائلس کی شکل میں ڈاون لوڈ کرنے کی سہولیت دی گئی ہے۔ ان لوگوں نے اتنی محنت کی ہے کہ کتابوں کی کتابیں اردو میں کمپوز کر کے فائلس اپ لوڈ کی ہیں۔ جن کا نام برقی مجموعے دیا گیا ہے۔

علامتی تصویر

علامتی تصویر

غالب کی کتابوں میں یہاں دیوانِ غالب نسخہ حمیدیہ و نسخہ کالی داس گُپتا رِضا، دیوان غالب اردو ویب و دیوانِ غالب اضافہ شدہ نسخہ اردو ویب، مثنوی قادرنامہ، گلِ رعنا، اردوئے معلّیٰ وغیرہ موجود ہیں۔ ان کے علاوہ شرح دیوانِ غالب از نظم طباطبائی، مرثیہ غالب از الطاف حسین حالی، کلام غالب کا فنی و جمالیاتی مطالعہ از ذکا صدیقی، مرزا اسداللہ خاں غالب کا خودنوشت خاکہ از ڈاکٹر اشفاق احمد وِرک، غالب تنقید از جاوید رحمانی بھی یہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

اردو لائبریری ڈاٹ او آرجی

اس ویب سائٹ کا کام جاری ہے (24 دسمبر 2018)۔ یہ مطلع کرتی ہے کہ ابھی یہاں کتابیں صرف پڑھی جا سکتی ہیں۔ فارمیٹِنگ کے بعد انہیں یہاں سے ڈاون لوڈ کیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔اس سائٹ پر دیوانِ غالب نسخہ اردو ویب از مرزا اسداللہ بیگ خان (غالب) کے موجود ہے۔ اس نسخے کے مولّف جویریہ مسعود اور اعجاز عبید ہیں۔ نسخہ اردو ویب کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ دیوانِ غالب کے کئی نسخوں کی مدد سے یہ ایڈیشن ترتیب دیا گیا ہے۔

اردو لائبریری ڈاٹ او آر جی تک اردو ویب ڈاٹ او آر جی کے ذریعے بھی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اردو ویب پر مضامین و بحث مباحثوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ یہاں مختلف مضامین پوسٹ کیے جاتے ہیں۔ جن پر قارئین کے تبصرے و آرا آتی رہتی ہیں اور مکالمے جاری رہتے ہیں۔ سید شہزاد ناصر نے ‘بزمِ سُخن’ کے ذیل میں 15 اپریل 2013 کو ‘مرزا غالب سنہ 1857 کے حوالے سے شمیم طارق کی دو اہم کتابیں – محمد شعیب کوٹی’ اس موضوع کا آغاز کیا۔ اس پر تبصروں کی شکل میں تحریری مذاکرات کا دور جاری تھا۔

‘اردو ویب’ کی ‘محفل’ میں تو غالبیات کے عنوان سے ایک الگ سیکشن قایم ہے۔ اس میں کوئی 62 موضوعات پر (دسمبر 2018 آخر تک) 883 مراسلے آ چکے تھے۔ موضوعات بھی دیکھ لیجیے: دیوانِ غالب نسخہ ویب اب مزید بہتر، یادگارِ غالب، دستنبو (اردو ترجمہ)، دیوانِ غالب نسخہ حمیدیہ، مرزا غالب کا تاریخ کہنے سے معذرت کا انداز، مرزا غالب کے ایک شعر کی “حر حرکیاتی” تشریح، دیوانِ غالب کامل نسخہ رِضا، مثنوی قادِرنامہ، اردو میں غالب کے ہم تخلص شعرا، کلامِ غالب سرائیکی میں، غالبیانہ، مثنوی اشتہار پنج آہنگ، بیاضِ غالب ڈاون لوڈ کریں، تخمیس بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے، انتخاب بیاضِ غالب، کلامِ غالب کا فنی اور جمالیاتی مطالعہ، شرح دیوانِ غالب نظم طباطبائی، پیش گفتار دیوان غالب، انتخاب فارسی کلام غالب مع منظوم تراجم، غالب کا پنجابی ترجمہ، غالبیات: تکمیل شدہ عنوانات، دیوانِ غالب کا پولش ترجمہ، غالب اور ماریشس وغیرہ۔

ان موضوعات پر یہاں اظہارِ خیال کے ساتھ قارئین کے جوابات، تجسُّسات کا سلسلہ بھی موجود ہے۔ کچھ مضامین و کتب کی پی ڈی ایف فائلس دی گئی ہیں، جنہیں آسانی سے ڈاون لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ کاپی پیسٹ تو کیا ہی جا سکتا ہے۔ اسی سلسلے میں دیوانِ غالب کے ساتھ ان کا کلام بھی ردیف وار دیا گیا ہے ویب سائٹِ ہذا پر اسی قبیل کا اقبالیات کا شعبہ بھی موجود ہے۔

اسی طرح ‘یو ٹیوب’پر جائیں تو وہاں بھی غالب کے بارے میں زمانے بھر کی چیزیں دیکھنے، سننے کو مل جاتی ہیں۔ 1954 میں بنی مشہور فلم ‘مرزا غالب’یہاں دیکھ لیجیے اور ایسا گمان مت پالیے کہ آپ نے اسے دیکھ کر کوئی بڑا کام کر لیا ہے۔ ویب سائٹ بتاتی ہے کہ حضور اس فلم کو اب تک 298 ہزار بار دیکھا جا چکا ہے۔ 1988 والی مرزا غالب بھی یہاں موجود ہے اور اسے بھی کوئی 190 ہزار مرتبہ دیکھ لیا گیا ہے۔ مشہور فلمی گیت کار، شاعر، ادیب و ہدایت کار گلزار نے جو شہرہ آفاق سیریل غالب پر بنایا تھا، وہ یو ٹیوب پر نہ ہو، یہ کیسے ممکن ہے؟ اس کی قسطیں و حصے اس سائٹ پر یہاں وہاں گردش کرتے مل جاتے ہیں۔ اس سیریل میں شامل مرزا کی معروف غزل ‘ہر اک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے’ تولگ بھگ 3 ملین بار دیکھی جا چکی ہے۔ مختلف مغنیوں نے غالب کا جو کلام گایا ہے، وہ بھی یو ٹیوب پر خاصی تعداد میں موجود ہیں اور انہیں ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں دیکھا، سنا جا چکا ہے۔

انٹر نیٹ کے ساتھ سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ اس پر لوڈ کیے گئے مواد کے استناد کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے۔ یہ ایسی چوپال ہے، جس پر سب کو من چاہی آزادی حاصل ہے۔ اس جمہوریت کا ہر کوئی فائدہ اٹھاتا ہے اور جس کی جو سمجھ میں آئے پوسٹ کر دیتا ہے۔ لیکن اب صورتِ حال بدل رہی ہے۔ مکمل کتابیں پی ڈی ایف کی شکل میں اپ لوڈ کی جانے لگی ہیں۔ انہیں آپ اپنی اصلی شکل میں دیکھ و پڑھ سکتے ہیں۔ جن ویب سائٹ نے سہولیت دی ہے، وہاں سے انہیں ڈاون لوڈ کر کے محفوظ بھی کر سکتے ہیں۔ یہ اصل کتاب ہی ہوتی ہیں کہ پی ڈی ایف فائل اصل کا عکس ہوتی ہیں۔ تادمِ تحریر ان فائلس میں تحریف و تنسیخ کی کسی صورت کا علم نہیں ہے۔ سو بڑی حد تک یہ فائلس مستند مانی جا سکتی ہیں۔

کویتا کوش پر غالب کا نمائندہ کلام و دیوانِ غالب بھی ہے۔ یہاں بنایا گیا غالب کا صفحہ 3 لاکھ 65 ہزار 341 بار دیکھا جا چکا تھا۔ مختلف ویب سائٹس پر غالب سے متعلق مضامین اپ لوڈ کر دیے گئے ہیں۔ گوگل پر ‘غالب پر مضامین’ تلاش کریں تو ان مضامین کے عنوانات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ ان میں تحقیقی و تنقیدی مضامین کے ساتھ اخباروں کے وہ مضامین بھی شامل ہیں جو کسی مخصوص موقعے کے لیے لکھے گئے ہیں۔ اس ضمن میں ایک بات کا ذکر ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر غالب ہی کیا کسی بھی موضوع کو تلاش کرتے وقت اس کی چھان پھٹک کر لینا ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اردو ویب ڈاٹ او آر جی میں ‘محفلِ ادب’ کے تحت ‘غالب، مرزا اسداللہ خاں حالاتِ زندگی’ عنوان سے سید ناصر شہزاد نے کافی معلومات جمع کر دی ہیں۔ کسی بیدار و فعال قاری نے اس کا نوٹس لیا اور ناصر شہزاد سے استفسار کیا تو انہوں نے اس ویب سائٹ کا نام بتایا، جہاں سے یہ مواد لیا گیا ہے۔ تب انہیں یہ صلاح دی گئی اصل ویب سائٹ کا حوالہ بھی دے دیتے تو ٹھیک رہتا۔ 2 مارچ 2013 کو یہ پوسٹ ڈالی گئی تھی۔ 3 مارچ کو یعنی محض ایک دن میں یہ مراسلت ہو گئی۔اس میں ناصر شہزاد نے بتایا کہ انہوں نے یہ معلومات بایو ببلوگرافیز سے لی ہیں۔


یہ بھی پڑھیں: جب سرسید نے غالب کی بات نہیں مانی تھی…


مذکورہ بالا یعنی bio-bibliography.com کے متعلقہ صفحے پر پہنچے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ یہاں غالب کے مختصر حالاتِ زندگی کے بعد 1261ھ کے ایک مشاعرے میں شامل 60 شعراء کے نام، غالب کی جن سے خط و کتابت رہی، ان 89 لوگوں کے نام، غالب کے 92 شاگردوں کے نام، مرزا کی کتب معہ سنہ اشاعت و مطابع درج ہیں۔ یہی نہیں، ان معلومات کے بعد نیچے کتابیات دی گئی ہے۔ اس میں تقریباً 148 کتابوں کے نام دیے گئے ہیں۔ ویسے انٹرنیٹ پر ادھر کی چیز ادھر کرنے کی وبا عام ہے اور آسان بھی۔ آسان یوں کہ اس کے لیے کوئی خاص محنت نہیں کرنا پڑتی بس مطلوبہ مواد کو کاپی کر کے پیسٹ کرنا ہوتا ہے۔

اب چونکہ انٹرنیٹ نے موبائل فونس میں گھس پیٹھ کر لی ہے، سو ہر کس و نا کس کے ہاتھ یہ جالِ جدید لگ گیا ہے۔ ایسے میں غالب کے نام کا سب سے زیادہ ‘دُرُپیوگ’ بھی نیٹ پر ہی نظر آ رہا ہے۔ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا غالب کے نام سے بے تُکی باتیں بھی نیٹ پر ڈال دیتا ہے۔ آزادیِ اظہار کا اس سے ظالمانہ استعمال شاید ہی کہیں دیکھنے میں آئے۔ ایک دوست نے اس میں مثبت پہلو یہ نکالا کہ یہ غالب کی چہار دانگ عالم میں پھیلی شہرت کی علامت ہے کہ ہر شخص خود کو اس سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ ہر انسان کا اپنا غالب ہوتا ہے، جسے وہ اپنے الفاظ میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

(مضمونگاراندور میں مقیم صحافی اورمترجم ہیں۔)