Author Archives

فیاض احمد وجیہہ

ماڑی گاؤں میں واقع مسجد: فوٹو: دی وائر

بہار: مذہبی شدت پسندی کے اس دور میں نالندہ کی مسجد کو آباد رکھنے والے ہندو انسانیت کا سبق پڑھا رہے ہیں

بہار کے نالندہ ضلع کے ماڑی گاؤں میں تقریباً 200 سال پرانی مسجد کی دیکھ بھال پچھلے کئی سالوں سے ہندو آبادی کر رہی ہے۔ملک کے موجودہ سیاسی ماحول اور مذہبی شدت پسندی کے اس دور میں ایک دوسرے کے عقیدے کوقائم رکھنے والے ان ہندوؤں میں صوفی اور بھکتی روایات کاعکس نظر آتا ہے۔

Photo : rajasthantoursindia.com

آج رنگ ہے…

کوئی بھی جشن اور تہوار مذہب سے زیادہ انسان کےعشق و محبت کے جذبے کو بیدار کرتا ہے۔ہولی بھی ایک تہوار سے زیادہ کچھ ہے اس لئے ہندومسلمان میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔

NavalKishorePress

’اگر نول کشور نہ ہوتے تو ہم  تخیلاتی ادب کے عظیم ترین کارناموں سے محروم رہ جاتے‘

’یہ کہنا شاید صحیح نہیں کہ ہمیں اپنے اسلاف کے کارناموں کا علم نہیں ‘ لیکن کیا کیجیے کہ ہم اپنے کلچر ہیرو کو کہانیوں میں تلاش کرتے پھرتے ہیں۔منشی نولکشورکو میں کلچر ہیرو کے طور پر جانتا ہوں کہ انہوں نے کتابوں کی صورت آب حیات کے چشمے جاری کیے۔‘

فوٹو: پی ٹی آئی

رام مندر کی تحریک آزادی کی جدوجہد سے بڑی تھی: وشو ہندو پریشد

وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے کہا کہ ملک کو سیاسی آزادی1947میں ملی لیکن مذہبی اور ثقافتی آزادی رام مندر کی تحریک کے ذریعے حاصل ہوئی۔ جین نے یہ بھی کہا کہ چندے کی مہم نے پورے ملک کو ساتھ لاکر بتایا کہ صرف رام ہی ملک کو متحد کر سکتے ہیں۔ سیکولر سیاست نے صرف ملک کو تقسیم ہی کیا ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

پچھلے تین سالوں میں پولیس حراست میں 348 لوگوں کی موت ہوئی: مرکزی حکومت

وزیرمملکت برائے داخلہ نتیانند رائےنے لوک سبھا میں بتایا کہ گزشتہ تین سالوں میں پولیس حراست میں 1189 لوگوں کو اذیت جھیلنی پڑی۔ پولیس حراست میں اموات اور ہراسانی کے لیےپولیس کے خلاف ہوئی کارروائی کی تفصیلات مانگنے پر وزارت داخلہ نے کہا کہ پولیس اور عوامی نظم ونسق ریاست کے موضوع ہیں اس لیے ریاستی سرکاروں کو ایسے جرائم سے نمٹنے کا حق ہے۔

0503 Faiyaz Interview Master.00_44_40_17.Still003

’شرمشٹھا صرف سنگل مدر کی جدوجہد نہیں خوددار عورت کی کہانی بھی ہے‘

ویڈیو: نوجوان فکشن نویس اور شاعرہ انوشکتی سنگھ کا پہلا ناول‘شرمشٹھا’گزشتہ دنوں منظر عام پرآیا ہے۔ اس ناول کے تناظرمیں ان سے اسطوری اور دیومالائی کرداروں میں عورت کی موجودگی، سنگل مدر کی جدوجہد، عورت مرد کی مبینہ جائز اور ناجائزمحبت اور اس کے بعض دوسرے مندرجات پر فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

maxresdefault (16)

شاہین باغ میں شہر یت قانون کے خلاف مظاہرہ: ہندی فلموں کے رومانٹک گانے کیوں بن رہے ہیں انقلابی؟

ویڈیو: نئی دہلی کے شاہین باغ میں شہریت قانون کے خلاف تقریباً ایک مہینے سے مظاہرہ جاری ہے ۔لوگ یہاں مختلف طریقوں سے اپنا احتجاج درج کررہے ہیں ، وہیں گزشہ دنوں’چپی توڑو گروپ‘کے شارق حسین اور شائقہ شوکت نے وہاں مشہو ر زمانہ نغمہ’تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم‘کی پیروڈی کے توسط سے شاہ رخ خان جیسے فلم اسٹار کی خاموشی پر سوال اٹھایا ۔ اس گروپ نے مختلف ہندی نغموں کے ذریعے امیتابھ بچن،عامر خان اور اکشے کمار وغیرہ پر بھی سوال کھڑے کیے ہیں۔ ان سے فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

2511 Faiyaz Interview.00_39_12_22.Still004

’کرشن چندر آج لکھ رہے ہو تے تو تہاڑ جیل میں ہو تے‘

ویڈیو: گزشتہ دنوں آئی سی ایس ای نے معروف فکشن نویس کرشن چندر کی کہانی’جامن کا پیڑ‘کو دسویں جماعت کے نصاب سے ہٹا دیا تھا۔ ان کی فکشن نویسی اور ان کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں ان کے بھتیجے پون چوپڑہ سے فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

فوٹو بہ شکریہ، میتھیکل انڈیا

اندر کمار گجرال: ’پابندیوں میں جکڑی صحافت آخر میں معاشرہ اور لوگوں کے رشتے ڈھیلے کر دیتی ہے‘

جس کو ہم ’ایمرجنسی‘ کہتے ہیں اس زمانے میں گجرال نے اندرا گاندھی کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ میڈیا کو آزادی دینی چاہیے اور اس سلسلے میں کچھ اقدامات ضروری ہیں ،انہو ں نے دستاویز بھی تیار کیے ،لیکن جب جے پی تحریک سامنے آئی تو اندرا پیچھے ہٹ گئیں ،گجرال کہتے ہیں؛’اقتدار کے قلعے کی فصیلوں پر جئے پرکاش نرائن کی تحریک کی یلغار شروع ہوگئی ۔مسز اندرا گاندھی نے محاصرے کی اس حالت میں یہ محسوس کیا کہ میڈیا ان کے لیے صحافتی ڈھال بن سکتی ہے ،اس طرح وہ میڈیا کو آزادی دینے کی بات سے پیچھے ہٹ گئیں ۔

والدین کے ساتھ شبانہ اعظمی

شوکت کیفی؛ آخر شب کی سحر…

شوکت کیفی جہاں اپنے اندر کے انسان اور فنکار کو ایک دقیانوسی سماج میں اس عورت کے طور پر تیار کر رہی تھیں جس کا اپنا سرمایہ ہوجس کا اپنا جیتا-جاگتا وجود ہو، وہیں اپنے پورے وجود کو تلاش کرنے والی شوکت ایک ایسے آدمی سے عشق کرنے کا جرم کر رہی تھیں، اوربعد میں اس کو مثال بنا دینے کی راہ میں قدم اٹھا رہی تھیں-جو ان کے عقیدے کا آدمی تھا ہی نہیں۔

Iqbal 2

سڑکوں پر نام پتہ پوچھنے والا ’جئے شری رام‘ کا نعرہ اب اسکولوں میں اپنے پاؤں پسار رہا ہے

رام کو امامِ ہند کہنے والے اقبال نے کیا نہیں لکھا،لیکن اب ملک کی سیاست زیادہ شدت سے پہچان کی سیاست کے گرد ناچ رہی ہے۔ زبان و ادب یا کوئی بھی ایسی چیز جو ان دو ملکوں کو جوڑ سکتی ہے اس پرحملہ تیز ہو گیا ہے اتفاق سے ہندوستان میں ایسی تمام چیزیں کسی نہ کسی طور پرمسلمانوں سے جوڑ دی گئی ہیں اس لئے مسلمان اس حملے کی زد میں ہے۔

فوٹو: سوشل میڈیا

خیام، جن کی موسیقی میں خاموشی اپنی فطرت کے ساتھ بول اٹھتی ہے…

ایک مذہبی گھرانے میں بچپن سے ہی آوازوں کے پیچھے بھاگنے والے خیام کو ان کے جرم کی سزا سنائی گئی اور گھر کے دروازے بند کر دئے گئے۔اب فلموں کے عاشق خیام ہیں اور پیچھے بند دروازہ۔ مگر ان کی دستک کسی اور دروازے پر تھی ،جس کی تھاپ میں زندگی کو رقص کرنا تھا۔

Faiyaz 0802.00_30_32_46.Still010

ویڈیو: ’ولایت خاں اپنے آس پاس کی ہر شے کو موسیقی میں ڈھال دیتے تھے‘

صحافی اور مصنفہ نمیتا دیوی دیال سے مشہور ستار نواز استاد ولایت خاں پر ان کی تاز ہ ترین کتاب ، The Sixth String Of Vilayat Khan کے تناظر میں ولایت خاں اور ہندوستانی موسیقی کی روایت کے بارے میں فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

فوٹو : ٹوئٹر

لوگ آسان سمجھتے ہیں قادر خان ہونا…

ایک مسجد میں امامت کرنے والے باپ کے بیٹے قادر خان نے چٹائی پر بیٹھ‌کر تعلیم حاصل کی تھی اور بعد میں جھگی میں پرورش پانے والا یہی بچہ منٹو سے بھی متاثر ہوا تھا۔اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، منٹو نے مجھے سکھایا کہ آئیڈیاز بڑے ہونے چاہیے لفظ نہیں۔

new (1)

ویڈیو: اس اُردو اخبار کی کہانی ،جس میں جلیبی لپیٹ کر بھگت سنگھ کو پیغام دیا گیا تھا

ویڈیو: جنگ آزادی میں روزنامہ ملاپ کی خدمات ،فکر تونسوی کا کالم پیاز کے چھلکے،اردو رسم الخط میں ہندی کا استعمال اور اردو صحافت کے مستقبل پر ملاپ کے مدیر نوین سوری سے فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

آدتیہ کمار

’ہمرا نام پرپینڈی کلر ہے اور ہم آپ کی دکان لوٹنے آئے ہیں‘

گینگس آف واسع پور سے مشہور ہونے والے ایکٹر آدتیہ کمار عرف پرپینڈی کلر کا کہنا ہے کہ ایکٹنگ میرے لئے صرف اسکرپٹ نہیں ہےزندگی کا تجربہ بھی ہے۔ ہمرا نام   پرپینڈی کلر ہے۔  فیضل خان ہمرے بڑے بھائی ہیں۔  ہم آپ کی دکان لوٹنے آئے ہیں۔  پولیس […]

Don`t copy text!