Author Archives

سدھارتھ بھاٹیہ

(فوٹو بہ شکریہ: گروڑ پرکاشن(

دہلی فسادات پر متنازعہ کتاب کو بلومسبری سے چھپوانے کی وجہ کیا تھی؟

نظریاتی دنیا میں اعتبارحاصل کرنارائٹ ونگ کی تمنا رہی ہے، لیکن جب تک وہ اس بنیادی بات کو نہیں سمجھ لیتا کہ اعتبارحاصل کرنا پڑتا ہے، اس کو خریدا نہیں جا سکتا یہ کبھی بھی زیادہ دوری نہیں طے کر پائےگا۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

کورونا: مودی حکومت کے پاس نہ حکمت عملی ہے، نہ ہی انسانیت

پچھلے چھ سالوں میں مودی حکومت کے کئی فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کو عوام میں دہشت اور خوف و ہراس پھیلانا پسند ہے۔ نوٹ بندی میں لمبی قطاروں میں کھڑے ہوکر پرانے نوٹوں کو بدلنا ہو، شہریت ثابت کرنے کے لئے کاغذ اکٹھا کرنا ہو یا اچانک ہوئے لاک ڈاؤن میں انہونی کے ڈر سے ہجرت اورحکومت کے فیصلوں کی مار سماج میں اقتصادی طور پر کمزور طبقے پر ہی پڑی ہے۔

 نصیرالدین شاہ(فوٹو : دی وائر)

کون ہے ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ؟‘ اگر کوئی ہے، تو حکمراں پارٹی ہے: نصیر الدین شاہ

خصوصی انٹرویو: گزشتہ دنوں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ بھاٹیا کے ساتھ بات چیت میں معروف فلم اداکار نصیرالدین شاہ نے سی اے اے-این آر سی-این پی آر کے خلاف جاری احتجاج اورمظاہرہ، فرقہ پرستی کے عروج اور دیگراہم مسائل پرانڈسٹری کے نامور ہستیوں کی خاموشی اوردوسرے کئی اہم موضوعات پر اظہار خیال کیا۔

فوٹو: رائٹرس

پریس کی آزادی کے اصلی دشمن باہر نہیں، بلکہ اندر ہی ہیں

مودی کے انتخاب جیتنے کے بعد یا پھر اس سے کچھ پہلے ہی میڈیا نے اپنا غیر جانبدارانہ رویہ طاق پر رکھنا شروع کر دیا تھا۔ ایسا تب ہے جب حکومت اور وزیر اعظم نے میڈیا کو پوری طرح سے نظرانداز کیا ہے۔ میڈیا اہلکاروں کی جتنی زیادہ توہین کی گئی ہے، وہ اتنا ہی زیادہ اپنی وفاداری دکھانے کے لئے بےتاب نظر آ رہے ہیں۔

فوٹو : دی وائر

جب صحافی سسٹم کی زبان بولنے لگے…

حکومت کی مداخلت یا انتظامیہ کے دباؤ کا الزام لگانا ایک کمزور بہانہ ہے-میڈیا پیشہ وروں نے خود ہی خود کو اپنے اصولوں سے دور کر لیا ہے۔ وہ بےآواز کو آواز دینے یا حکمراں طبقے سے جوابدہی کی مانگ کرنے والے کے طور پر اپنے کردارکو نہیں دیکھتے ہیں۔ اگر وہ خود سسٹم کا حصہ بن جائیں‌گے، تو وہ ان سے سوال کیسے پوچھیں‌گے؟

فوٹو : رائٹرس

کشمیر میں جو ہوا اس کا مقصد کشمیریوں  پر کنٹرول ہی نہیں، ان کو ذلیل کرنا بھی ہے

ابلاغ کے سارے ذرائع کو کاٹ‌کر، ان کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے سکیورٹی اہلکاروں کے استعمال کا مقصد کشمیریوں کو یہ یاد دلانا ہے کہ ان کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے-ان کا وجود اقتدار کے ہاتھ میں ہے، وہ اقتدار جس کی نمائندگی وہاں ہرجگہ موجود فوج کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی(فوٹو : رائٹرس)

راشٹر واد کی آڑ میں سوالوں کو دبایا جا رہا ہے

میڈیا کا ایک بڑا طبقہ، جس کا مذہب اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے سوال پوچھنا ہونا چاہیے، گھٹنے ٹیک چکا ہے اور ملک کے کچھ سب سے طاقتور لوگوں نے خاموشی اختیار کرلی ہے، لیکن عام لوگ ایسا نہیں کرنے والے ہیں۔ ان کی آواز اونچے تختوں پر بیٹھے لوگوں کو سنائی نہیں دیتی، لیکن جب وقت آتا ہے وہ اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔

nasseruddin-shah-the-wire-1200x531

ہندوستان کو نصیرالدین شاہ جیسےلوگوں کی ضرورت کیوں ہے؟

جہاں ہندوستانی سنیما کے زیادہ تر اداکار سچ سے منھ موڑنے اور خاموش رہنے کے لئے جانے جاتے ہیں، وہیں صاف گوئی نصیرالدین شاہ کی شناخت رہی ہے۔ ان کی شخصیت ان کو فلم انڈسٹری کی اس بھیڑ سے الگ کرتی ہے، جس کے لئےطاقتور کی پناہ میں جانا، گڑگڑاتے ہوئے معافی مانگنا اور کبھی بھی من کی بات نہ کہنا ایک روایت بن چکی ہے۔

کرن آچاریہ کی بنائی گئی ہنومان کی تصویر ان کی روایتی امیج سے الگ تاثر  پیش کرتی ہے(فوٹو: amazon.com )

’وزیر اعظم نے جس ہنومان کی تعریف کی ہے وہ ہندتووادی امیج کے ساتھ فٹ بیٹھتی ہے‘

بھگوا اور کالے رنگ سے بنی ہنومان کی تصویر ، جس میں ان کی بھنویں تنی ہوئی ہیں اور تیوریاں چڑھی ہوئی ہیں۔ ہندو گرنتھوں سے الگ موجودہ تصویرخود ساختہ ہندتووادی مرد کی امیج کے ساتھ فٹ بیٹھتی ہے۔

فلم پیڈمین میں اکشے کمار

بالی ووڈ کا نیا نیشنل ازم…

اب فلموں میں ایک نئی چیز نظر آ رہی ہے۔ یہ ہے مشتعل وطن پرستی کا تیور ، جو نہ صرف سوشل میڈیا اور سماج کے ایک خاص طبقے میں دکھائی دینے والے نیشنلزم سے میل کھاتا ہے، بلکہ موجودہ حکومت کے ایجنڈے کے ساتھ بھی اچھے سے قدم ملاکر چلتا ہے۔

صحافی جوگیندر سنگھ، گوری لنکیش اور رام چندر چھترپتی

قاتلوں کی بھیڑ اور علاقائی زبانوں کے جاں باز صحافی

انگریزی متاثر کن زبان ہے، مگر اس کی رسائی محدود ہے۔ علاقائی زبانوں کے صحافی اصلی اثر پیدا کر سکتے ہیں۔ چھوٹے شہروں کے ایسے کئی جاں باز صحافی ہیں، جنہوں نے اپنے حوصلے کی قیمت اپنی جان دےکر چکائی ہیں۔ ہندوستان کا دایاں بازو محاذ طوطے کی […]

Don`t copy text!