بی جےپی

اوم پرکاش راج بھر ،فوٹو : فیس بک

یوگی کے وزیر بولے، شہرو ں کے نام بدلنے کے بجائے تعلیم اور صحت میں خرچ ہوتا تو تبدیلی آتی

اتر پردیش حکومت میں کابینہ وزیر اوم پرکاش راج بھر نے کہا کہ ہندوستان گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے۔جتنا خرچ نام بدلنے میں ہورہا ہے اتنا خرچ کرکےتعلیم ،روزگار، صحت اورغریبوں کی بھلائی میں تیزی لائی جاتی تو ملک کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

کرناٹک ضمنی انتخابات : کانگریس –جے ڈی ایس اتحاد کو ملی بڑی جیت

کرناٹک ضمنی انتخاب میں کانگریس –جے ڈی ایس اتحاد نے 5 میں سے 4 سیٹیں جیت لی ہیں۔کرناٹک وزیر اعلیٰ کما رسوامی نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی ، کانگریس اور جے ڈی ایس کے ایم ایل اے کواپنی طرف لانے کے لیے تقریباً 25سے 30 کروڑ روپے دینے کا آفر کر رہی ہے۔

(فوٹو : رائٹرس)

مودی حکومت نے ساڑھے 4سالوں میں اشتہار پر خرچ کئے 5000 کروڑ روپے

مودی حکومت میں اشتہار پر خرچ کی گئی رقم یو پی اے حکومت کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔یو پی اے نے 10سال کی مدت میں اشتہار پر اوسطاً 504کروڑروپے سالانہ خرچ کیا تھا، وہیں مودی حکومت میں ہرسال اوسطاً 1202 کروڑ کی رقم خرچ کی گئی ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

رویش کا بلاگ: نیوز چینل اب عوام کا نہیں، حکومت کا ہتھیار ہے

2019 کا انتخاب عوام کے وجود کا انتخاب ہے۔اس کو اپنے وجود کے لئے لڑنا ہے۔جس طرح سے میڈیا نے ان پانچ سالوں میں عوام کو بے دخل کیا ہے، اس کی آواز کو کچلا ہے، اس کو دیکھ‌کر کوئی بھی سمجھ جائے‌گا کہ 2019 کا انتخاب میڈیا سے عوام کی بے دخلی کا آخری دھکا ہوگا۔

فوٹو: منیزہ حفیظی

کیا ڈسالٹ بنا دباؤ کے ایسی کمپنی کو پارٹنر بنائے گی جس کا کوئی تجربہ نہ ہو: ارون شوری

رافیل ڈیل کو لے کر فرانس کے سابق صدر فرانسوا اُولاندکے بیان ، سنگھ کے سہ روزہ پروگرام میں موہن بھاگوت کا بیان اور میڈیا کے رول پر سینئر رہنما ارون شوری سے دی وائر کے بانی مدیر ایم کے وینو کی بات چیت۔

(علامتی فوٹو : پی ٹی آئی)

تریپورہ : بی جے پی نے پنچایت ضمنی انتخاب میں 96 فیصد سیٹوں پر بلا مقابلہ جیت حاصل کی

حزب مخالف پارٹیوں اور بی جے پی سے الگ دیہی ضمنی انتخاب لڑ رہی آئی پی ایف ٹی نے الزام لگایا ہے کہ منتخب نمائندوں کو بی جے پی نے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور ان کے امیدواروں کو انتخاب کے لئے نامزدگی کی اجازت نہیں دی۔

لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

سمترا مہاجن کیوں بھول جاتی ہیں کہ وہ صرف بی جے پی لیڈر نہیں لوک سبھا اسپیکر بھی ہیں؟

ایس سی ایس ٹی ایکٹ کو لےکر سمترا مہاجن نجی طور پر کوئی بھی رائے رکھیں، لیکن لوک سبھا اسپیکر کے طور پر ان کا چاکلیٹ والا بیان کہیں سے بھی جائز اور ان کے عہدے کے وقار کے مطابق نہیں مانا جا سکتا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

چھتیس گڑھ : بی جے پی اٹل جی کی موت کو الیکشن کے لیے استعمال کر رہی ہے : اٹل جی کی بھتیجی

اٹل بہاری واجپائی کی بھتیجی اور کانگریس لیڈر کرونا شکلا نے کہا کہ اٹل کے آخری سفر میں 5کیلومیٹر چلنے کے بجائے اگر نریندر مودی ان کے دکھائے گئے راستے پر چلیں تو ملک کے لیے اچھا ہوگا۔

shah-bano-case-file photo

شاہ بانو معاملہ : راجیو گاندھی کو سپریم کورٹ کی مخالفت پر آماده کرنے والا اصل شخص کون تھا؟

کچھ لوگوں کا تو یہ بھی ماننا ہے کہ شاہ بانو پر لیے گئے اسٹینڈنے کانگریس کو سیاسی طور پر کافی نقصان پہنچایا اوربی جےپی جیسی سیاسی جماعت کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا۔

نورالحسن کے گیراج میں جلی ہوئی ٹرک۔(فوٹو :امیش کمار رائے /دی وائر)

بہار :فساد متاثرہ دکانداروں کو کیوں لگ رہا ہے کہ نتیش حکومت ان کو ٹھگ رہی ہے؟ 

گراؤنڈ رپورٹ :بہار کے اورنگ آباد میں مارچ میں رام نومی کے وقت ہوئے فرقہ وارانہ تشدد میں کئی دکانوں میں لوٹ پاٹ کرکے آگ لگا دی گئی تھی۔اس وقت نتیش حکومت نے متاثر دکانداروں کو معاوضہ دینے کی بات کہی تھی، لیکن چار مہینے کے بعد بھی زیادہ تر دکانداروں کو ایک روپیہ بھی معاوضہ نہیں ملا ہے۔

اندرا گاندھی۔  (فوٹو بشکریہ : وکیمیڈیا کامنس)

کیا کانگریس والے 1978 کی تاریخ 2019 میں دوہرا سکتے ہیں؟

اگر 1977 ہندوستان کی پہلی غیرکانگریسی حکومت کے اقتدار میں آنے کی وجہ سے ہندوستانی سیاست کا ایک بڑا پڑاؤ ہے تو 1978 کو اندرا گاندھی کو اس قوت ارادی اورسوچ کی وجہ سے یاد رکھا جانا چاہیے، جس کی بنا پر انہوں نے اپنی واپسی کی عبارت لکھی۔

Sushil Modi Tweet

ارریہ : کیا ہے ’پاکستان زندہ باد‘ والے وائرل ویڈیو کا سچ؟

اگر آپ ویڈیو سنیں تو آپ کو پس منظر میں ایک گاڑی کی آواز سنائی دے‌گی، جو ٹکٹک گاڑی کی آواز لگتی ہے۔  بیک گراؤنڈ میں شور بھرا ہلچل بھی ہے۔  لیکن جب قابل اعتراض نعرے کی آواز سنائی دیتی ہے تب شور سنائی نہیں دیتا ہے جو […]

Photo: Reuters

مرکز کی ہیلتھ کیئر اسکیم مغربی بنگال میں نافذ نہیں ہوگی : ممتا بنرجی 

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ مرکزی حکومت کی نیشنل ہیلتھ کیئر اسکیم میں 40 فیصد پیسہ ریاستی حکومت کو دینا ہے۔ جب ریاست کے پاس پہلے سے ہی ایسی اسکیم موجود ہے تو کسی اور اسکیم پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔