پریس کی آزادی

نارتھ بلاک (فوٹو بہ شکریہ : وکی میڈیا کامنس)

افسروں سے اجازت لینے کے بعد ہی وزارت خزانہ میں داخل ہو پائیں گے صحافی: مرکزی حکومت

بجٹ پیش ہونے سے کچھ دن پہلے پرائیویسی بنائے رکھنے کے لئے وزارت خزانہ میں صحافیوں کے داخلہ پر پابندی لگا دی جاتی ہے، لیکن بجٹ پیش ہونے کے بعد یہ پابندی ہٹا لی جاتی ہے۔ حالانکہ، اس بار ایسا نہیں کیا گیا۔

freedom-expression

بی جے پی سے پہلے اظہار رائے کی آزادی پر کانگریس نےحملہ کیا

وزیراعظم نریندر مودی 44 سال پہلے یعنی اسی ماہ جون میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے لیے نہرو، اندرا گاندھی اور کانگریس کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ اب مودی اور امت شاہ کی قیادت والی بی جےپی کو ایسے اندیشوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، جن کے مطابق ایمرجنسی جیسے حالات بنتے جا رہے ہیں۔ اس سے انہیں بنگال میں ممتا کو کنارے کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

anupamkher

رویش کا بلاگ: انوپم کھیر کو صحیح غلط کم ہندو اور مسلمان زیادہ دکھتا ہے

انوپم کھیر جیسے کچھ فنکار تختی لےکر میڈیا کو مدعا دیتے ہیں۔ ان کی تصویر اسکرین پر دکھاکر گھر بیٹھے لوگوں کے ذہن میں زہر بھرا جاتا ہے۔ اس عمل میں مسلمان کو دوئم درجے کا شہری بنایا جاتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے جن کے ذہن میں یہ کچرا بھرا جاتا ہے ان کو دوئم درجے کا شہری بنایا جا چکا ہوتا ہے۔ اس لئے وسیع ہندو مفاد میں یہ ضروری ہے کہ تمام نیوز چینل دیکھنا بند کر دیں۔ کیونکہ چینلوں میں مذہب کے نام پر ہندوؤں سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔

فوٹو: رائٹرس

میانمار: روہنگیا مسلمانوں پر رپورٹنگ کی وجہ سے سزا کاٹ رہے رائٹرس کے دو صحافی رہا

میانمار کے رخائن میں فوجی کارروائی کے دوران روہنگیا مسلمانوں پر ہوئے ظلم و تشدد کی رپورٹنگ کرتے ہوئے 32 سالہ وا لون اور 28 سالہ کیاؤ سوئے او کو سرکاری پرائیویسی قانون توڑنے کے لئے گزشتہ سال ستمبر میں سات-سات سال کی جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔

علامتی تصویر

بی جے پی حکومت میں صحافیوں پر حملے میں اضافہ: رپورٹ

رپورٹرس ودآؤٹ بارڈرس کی طرف سے جاری ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ہندوستان 180 ممالک میں سے 140ویں مقام پر ہے۔ 2018 میں اپنے کام کی وجہ سے ہندوستان میں کم سے کم 6 صحافیوں کی موت ہوئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں 2019 کے عام انتخابات کے دوران حکمراں بی جے پی کے حامیوں کے ذریعے صحافیوں پر حملے بڑھے ہیں۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

رویش کا بلاگ: نیوزچینل صرف مودی کے لیے راستہ بنا رہے ہیں،ڈھائی مہینے کے لیے چینل دیکھنا بند کر دیجیے

کیا آپ پبلک کے طور پر ان چینلوں میں پبلک کو دیکھ پاتے ہیں؟ ان چینلوں نے آپ پبلک کو ہٹا دیا ہے۔ کچل دیا ہے۔ پبلک کے سوال نہیں ہیں۔ چینلوں کے سوال پبلک کے سوال بنائے جا رہے ہیں۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

رویش کا بلاگ: نیوز چینل اب عوام کا نہیں، حکومت کا ہتھیار ہے

2019 کا انتخاب عوام کے وجود کا انتخاب ہے۔اس کو اپنے وجود کے لئے لڑنا ہے۔جس طرح سے میڈیا نے ان پانچ سالوں میں عوام کو بے دخل کیا ہے، اس کی آواز کو کچلا ہے، اس کو دیکھ‌کر کوئی بھی سمجھ جائے‌گا کہ 2019 کا انتخاب میڈیا سے عوام کی بے دخلی کا آخری دھکا ہوگا۔

وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا اقتدار کے سامنے ہندوستانی میڈیا رینگنے لگا ہے؟

مدیران کا کام اقتدار کے لحاظ سےمواد کو بنائے رکھنے کا ہے اور حالات ایسے ہیں کہ اقتدار کے موافق تشہیر کی ایک ہوڑ مچی ہوئی ہے۔ آہستہ آہستہ حالات یہ بھی ہو چلے ہیں کہ اشتہار سے زیادہ تعریف نیوز رپورٹ میں دکھائی دے جاتی ہے۔

Narendra-Modi-Amit-Shah-Media1-1200x600

نریندر مودی اور امت شاہ کیسے اور کیوں کر رہے ہیں میڈیا کی نگرانی

مانیٹرنگ کےطریقوں پر غور کرنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ مانیٹرنگ کا چہرہ مودی حکومت کی ہی دین ہے ایسا نہیں ہے،لیکن مودی حکومت کے دور میں مانیٹرنگ کے معنی اور مانیٹرنگ کے ذریعہ میڈیا پر نکیل کسنے کا انداز ہی سب سے اہم ہو گیا ہے۔

2015 میں بی جے پی کی دیوالی ملن تقریب میں صحافیوں سے ملتے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ /فوٹو : org bjp.)

پریس کی آزادی کے اصلی دشمن باہر نہیں، بلکہ اندر ہی ہیں

مودی کے انتخاب جیتنے کے بعد یا پھر اس سے کچھ پہلے ہی میڈیا نے اپنا غیر جانبدارانہ رویہ طاق پر رکھنا شروع کر دیا تھا۔ ایسا تب ہے جب حکومت اور وزیر اعظم نے میڈیا کو پوری طرح سے نظرانداز کیا ہے۔ میڈیا اہلکاروں کی جتنی زیادہ توہین کی گئی ہے، وہ اتنا ہی زیادہ اپنی وفاداری دکھانے کے لئے بےتاب نظر آ رہے ہیں۔

MediaBol_Episode 47

میڈیا بول: ظالم ہوتی جمہوریت اور محدود ہوتی پریس کی آزادی

میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے متنازعہ علاقوں میں ماؤوادیوں کا قتل اور پریس فریڈم انڈیکس میں ہندوستان کے مقام میں آئی گراوٹ پر وکیل اور ہیومن رائٹس کارکن سدھا بھاردواج اور نیوز لانڈری کی کنسلٹنگ ایڈیٹر براج سوین کے ساتھ ارملیش کی بات چیت

arab nama 3

عرب نامہ : پریس کی آزادی اور مصر کا صدارتی الیکشن

عرب نامہ : ٹائمز کی صحافی سینٹرل قاہر ہ میں ایک انٹرویو کرنے جارہی تھی اسی وقت پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا ۔ تقریباً 24 گھنٹے حراست میں رکھا گیا اور اس کے بعد لندن جانے والی پرواز میں انہیں بٹھادیا گیا۔ برطانوی رپورٹر کی ملک بدری کے واقعہ کو […]