Doordarshan

ڈی ڈی اردو السٹریشن: دی وائر

ملازمین کا دعویٰ؛ اُردو نیوز بلیٹن کی تعداد کم کرنے کے معاملے میں پرسار بھارتی کی ’تردید‘ گمراہ کن  

دی وائر نے مرکزی ڈی ڈی اُردو چینل پر بلیٹن کے گھٹائے جانے کے بارے میں ویڈیو اسٹوری کی تھی، اس پر جواب دیتے ہوئے پرسار بھارتی نے اُردو بلیٹن سے متعلق ایک ایسی فہرست پیش کی ہے جو نیٹ ورک کے دوسرے چینلوں پر نشر ہو رہے ہیں۔

1301 Mukul Mono.00_09_08_20.Still006

کیا پرسار بھارتی اُردو  کو نظر انداز کر رہی ہے؟

ویڈیو: کووڈ-19 سے پہلے ڈی ڈی نیوز اورآل انڈیا ریڈیو، دونوں سے اردو کے دس بلیٹن نشر ہو رہے تھے۔ 2020 میں مہاماری کی پہلی لہر کے دوران کووڈ پروٹوکول کی وجہ سے ہندی، انگریزی، اردو ڈیسک پر بلیٹن کی تعداد کم کردی گئی تھی۔ بعد میں تمام زبانوں میں پروگرام بحال کر دیے گئے، لیکن ڈی ڈی نیوز پر اردو کے صرف دو اور آل انڈیا ریڈیو پر تین بلیٹن شروع کیے گئے۔

(فوٹو بہ شکریہ : وکی پیڈیا)

دوردرشن نے سی پی آئی کی انتخابی تقریر سے’ آر ایس ایس‘ لفظ ہٹانے کو کہا، پارٹی نے کیا انکار

سی پی آئی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دوردرشن نے تقریر سے آر ایس ایس اور فاشزم جیسے الفاظ کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی بتاتے ہوئے ہٹانے کے لئے کہا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ مودی حکومت کے اشارے پر ایسی متعصب کارروائی ہو رہی ہے۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

ڈی ڈی نیوز پر بی جے پی کو 1 مہینے میں 160 گھنٹے اور کانگریس کو 80 گھنٹے کا کوریج ملا

سی پی ایم 8 گھنٹے کی کوریج کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ الیکشن کمیشن نے اسی بنیاد پر ڈی ڈی نیوز کو نصیحت دی تھی کہ وہ کسی بھی پارٹی کو خصوصی توجہ دینے یا غیر مساوی ایئرٹائم کوریج دینے سے بچے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سیاسی پارٹیوں کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لانے کے لیے سپریم کورٹ میں عرضی دائر

بی جے پی رہنما اور وکیل اشونی اپادھیائے نے عرضی دائر کرتے ہوئے اس معاملے میں ہدایت دینے کا مطالبہ کیا ہے کہ سبھی رجسٹرڈ اور منظور شدہ پارٹیاں 4 ہفتے کے اندر پبلک انفارمیشن آفیسر ، پبلک اتھارٹی کی تقرری کریں اور آرٹی آئی قانون 2005 کے تحت جانکاریوں کو عام کریں۔

وزیر اعظم نریندر مودی(فوٹو بشکریہ : پی ائی بی)

مشن شکتی  پر مودی کے خطاب کی نہیں تھی جانکاری: الیکشن کمیشن

ڈپٹی کمشنرآف الیکشن کمیشن سندیپ سکسینا نے لوک سبھا انتخاب کی تیاریوں کے بارے میں جمعرات کو منعقد پریس کانفرنس میں یہ بات بتائی۔سکسینا نے کہا، ‘ وزیر اعظم دفتر کی طرف سے کمیشن کو اس معاملے میں نہ تو مطلع کیا گیا تھا اور نہ ہی اجازت مانگی گئی تھی۔

Don`t copy text!