Haryana Govt

Haryana-Ajay-Thumb

نوح تشدد سے متعلق واقعات بتاتے ہیں کہ فساد ہوا نہیں بلکہ کروایا گیا

ویڈیو: نوح میں فرقہ وارانہ جھڑپوں اور اس کے بعد ریاست کے کچھ دوسرے حصوں میں تشدد سے پہلے، اس کے لیے ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے ماحول بنایا گیا تھا، جس کی تصدیق کئی میڈیا رپورٹ سے ہوتی ہے۔ تمام ویڈیو عوامی طورپر دستیاب ہیں، جن سے سوال اٹھتا ہے کہ اگر حکومت چاہتی،تو ایسا نہیں ہوتا۔

ہریانہ کے بھوانی ضلع میں جلی ہوئی بولیرو کار، جس کے اندر سے جنید اور ناصر کی جلی ہوئی لاشیں ملی تھیں۔ (فوٹو بہ شکریہ: اے این آئی)

ہریانہ پولیس کے تھانے سے لوٹانے کے بعد گئو رکشکوں نے جنید اور ناصر کا قتل کیا تھا: راجستھان پولیس کی چارج شیٹ

راجستھان کے باشندوں جنید اور ناصر کی جلی ہوئی لاشوں کے معاملے میں راجستھان پولیس نےچارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مبینہ گئو رکشک دونوں کو پیٹنے کے بعد ہریانہ کے نوح ضلع کے تھانے لے گئے تھے،لیکن جب پولیس نے انہیں لوٹا دیا تو انہوں نے ان کا قتل کر دیا۔

جنید اور ناصر قتل کیس سے متعلق مبینہ سفید اسکارپیو۔

جنید-ناصر کو اغوا کرنے کے لیے استعمال کی گئی کار ہریانہ حکومت کی گاڑی کے طور پر لسٹڈ

آن لائن کارآنر شپ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جنید–ناصر کو اغوا کرنے کے لیے استعمال کی گئی سفید رنگ کی اسکارپیو کار ہریانہ حکومت کے پنچایت اورڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی ہے۔ تاہم، پولیس نے دی وائر کو بتایا کہ حال ہی میں اس کی ‘نیلامی ‘ کر دی گئی تھی۔ بتادیں کہ گائے اسمگلنگ کے الزام میں دونوں مسلم نوجوانوں کوزندہ جلا دیا گیا تھا۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

بچوں کو صبح جلدی بیدار کرنے کے لیے مندر-مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کریں: ہریانہ محکمہ تعلیم

دسویں اور بارہویں بورڈ کے امتحانات کے پیش نظر ہریانہ محکمہ تعلیم نے سرکاری اسکولوں کے پرنسپل سے کہا ہے کہ وہ گھروں میں بچوں کے لیے مطالعہ کا سازگار ماحول بنانے کی غرض سےگرام پنچایتوں سے رابطہ کریں۔ اس طرح کی کوشش کریں کہ گاؤں میں صبح کے وقت پڑھائی کرنے کا ماحول بنے۔

WhatsApp Image 2021-06-26 at 14.14.20

 طلائی تمغہ جیتنے کے بعد سرکار نے وعدہ کیا تھا، لیکن کوئی مدد نہیں ملی: ویٹ لفٹر سنیتا کشیپ

ویڈیو: ہریانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سسر خاص میں رہنے والی سنیتا کشیپ نےصوبے کا ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا نام روشن کیا ہے۔انہوں نے ہندوستان کےلیے2020 میں ویٹ لفٹنگ مقابلے میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔ حالانکہ یہ کھلاڑی آج لوگوں کے گھر گھر جاکر کام کرنے کو مجبور ہے۔