Higher Education

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (فوٹو : پی ٹی آئی)

مودی حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے پی آر کےدفتر  نہیں ہوتے

سی سی ایس جیسے قانون کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے مقاصد کو ہی تباہ کر دینا ہے۔اعلیٰ تعلیم میں ترقی تب تک ممکن نہیں ہے جب تک خیالات کے لین دین کی آزادی نہ ہو۔اگر ان اداروں کا یہ رول ہی ختم ہو جائے تو اعلیٰ تعلیم کی ضرورت ہی کیا رہے‌گی؟ ٹیچر اور ریسرچ اسکالر سرکاری ملازم کی طرح عمل نہیں کر سکتے۔

Kancha_Ilaiah-wikipedia

کانچہ ایلیا کا انٹرویو؛ یونیورسٹی کوئی مذہبی ادارہ نہیں، جہاں ایک ہی طرح کی مذہبی فکر پڑھائی جائے

انٹرویو: دہلی یونیورسٹی کے ایم اے کے نصاب سے مصنف اور مفکر کانچہ ایلیا شیفرڈ کی کتاب ہٹانے کی تجویز پر ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی الگ الگ خیالات کو پڑھانے، ان پر بحث کرنے کے لئے ہوتی ہیں، وہاں سو طرح کے خیالات پر بات ہونی چاہیے۔ یونیورسٹی کوئی مذہبی ادارہ نہیں ہیں، جہاں ایک ہی طرح کے مذہبی افکار پڑھائے جائیں۔

(فوٹو بشکریہ : فیس بک)

بہار میں طلبا کے مستقبل کے ساتھ کیوں کیا جا رہا ہے کھلواڑ؟

علم کی جب بھی بات ہوتی ہے تو بہار کے تاریخی نالندہ اور وکرم شلا یونیورسٹی کا ذکر کئے بغیر پوری نہیں ہوتی ، لیکن اسی بہار میں آج تعلیمی نظام کا حال یہ ہے کہ آدھا درجن یونیورسٹیوں میں مختلف سیشن کے امتحان کئی سالوں سے التوا میں ہیں۔

علامتی تصویر (فوٹو : پی ٹی آئی)

حکومت اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ’ پریشر کوکر ‘میں تبدیل کر رہی ہے 

جس طرح زراعتی شعبے میں قرض سے بڑھتی کشیدگی نے کسان خودکشی کا مسئلہ پیدا کیا، اسکولی تعلیم میں امتحانات اور میرٹ کے دباؤ نے اسکولی طالب علموں میں خودکشی کے رجحان کو جنم دیا، ذہنی دباؤ کی اسی کڑی میں حکومت نے کالج اور یونیورسٹی کے طالب علموں اور اساتذہ کو جھونکنے کی تیاری کر لی ہے۔

Photo : StandWithJNU.org

جے این یو بدل رہا ہے،لیکن…

بی جے پی کے2014 میں حکومت میں آنے کے بعد سے اس نے جیسےفیصلہ کر لیاہے کہ جےاین یو کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے تعلیمی معیار کو بہتر کر نے کے بجائے ، لیفٹ ونگ اسٹوڈنٹ پا لیٹکس اور لیفٹ ونگ خیالات کو ختم کر نے پر ان کا سارا زور ہے۔