National Commission for Protection of Child Rights

دارالعلوم دیوبند۔ (فوٹو بہ شکریہ: وکی پیڈیا)

دارالعلوم دیوبند میں داخلہ: رجسٹریشن کے لیے اب پولیس کی تصدیق لازمی

اتر پردیش میں سہارنپور ضلع کے دیوبند میں واقع  ممتاز اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم کے مہتم نے کہا ہے کہ داخلہ لینے والے طلبا کو آدھار کے ساتھ اپنے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی بھی جمع کرانی ہوگی ، جس کی تصدیق سرکاری ایجنسیوں سے کرائی جائے گی۔ […]

دارالعلوم دیوبند۔ (فوٹو بہ شکریہ: وکی پیڈیا)

اتر پردیش: دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر پابندی

گزشتہ جنوری میں نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس نے اتر پردیش کی حکومت سے کہا تھا کہ وہ اسلامی مدرسہ دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر مبینہ طور پر’غیر قانونی اور گمراہ کن’ فتویٰ شائع کرنے کے معاملے کی جانچ کرے، جس کے بعد سہارنپور کے ضلع مجسٹریٹ نےویب سائٹ تک رسائی پر پابندی لگا دی ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

بہار: بچوں کو سی اے اے اور این آرسی کے بارے میں پڑھانے پر دو رضا کارانہ تنظیموں کے خلاف سیڈیشن کا معاملہ درج

نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر)نے از خود نوٹس لیتے ہوئے دو رضاکارانہ تنظیموں کے خلاف سیڈیشن کا معاملہ درج کیا ہے۔ این سی پی سی آر نے کہا کہ انہوں نے معائنہ کے دوران کچھ طلبا کے ہوم ورک رجسٹر دیکھے، جن سے پتہ چلا کہ انہیں غلط طریقے سے سی اے اے اور این آرسی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

(فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

چائلڈ پروٹیکشن کمیشن نے نیٹ فلکس سے ’بامبے بیگمس‘ کی اسٹریمنگ پر روک لگانے کے لیے کہا

نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کے پاس شکایت آئی تھی کہ نیٹ فلکس پر نشر ہونے والی ویب سیریز بامبے بیگمس میں دکھایا گیا ہے کہ نابالغوں کا جنسی سرگرمیوں اورمنشیات کے استعمال میں ملوث ہوناعام بات ہے۔

محمد زبیر۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

آلٹ نیوز کے شریک بانی کو راحت، عدالت نے کہا-کوئی بھی سخت کارروائی نہ کرے پولیس

آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کی جانب سے آن لائن بحث کے دوران ایک نابالغ بچی کی بلر کی ہوئی تصویر پوسٹ کرنے پر نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی شکایت پر ان کے خلاف آئی ٹی ایکٹ اور پاکسو ایکٹ کی دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

محمد زبیر۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی شکایت پر آلٹ نیوز کے شریک بانی کے خلاف مقدمہ

آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نے ٹوئٹر پر ایک شخص کے ساتھ ہوئی بحث میں اس کی نابالغ بیٹی کی بلر کی ہوئی تصویر پوسٹ کی تھی۔ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی شکایت پر ان کے خلاف آئی ٹی ایکٹ اور پاکسو ایکٹ کی دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

مظفرپور کے ایک سرکاری شیلٹر ہوم میں پولیس اس مقام کی تفتیش کرتی ہوئی، جہاں ایک ریپ  متاثرہ کو مبینہ طور پر دفنایا گیا تھا(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

مظفر پور شیلٹر ہوم میں بچوں کے قتل کا کوئی ثبوت نہیں: سی بی آئی

گزشتہ چھ جنوری کو سی بی آئی نے بہار میں 17 شیلٹر ہوم کی جانچ‌کر ان میں سے 13 معاملوں میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ سی بی آئی نے بہار کے 25 ڈی ایم اور دیگر سرکاری ملازمین‎ کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔ سی بی آئی کے مطابق، مختلف شیلٹر ہوم میں بچوں کے جنسی استحصال اور ظلم و ستم کو روکنے میں سرکاری افسر ناکام رہے ہیں۔

فوٹو: ویکی پیڈیا

بہار: 17 شیلٹر ہوم کی جانچ‌ کے بعد 25 کلکٹر سمیت 71 افسروں پر کارروائی کی سفارش

بہار کے مظفر پور بالیکا گریہہ میں جنسی استحصال کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ریاست کے 17 شیلٹر ہوم میں بچوں کے جنسی استحصال اور ظلم و ستم کے معاملے سامنے آئے تھے۔ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو ان کی جانچ‌کا حکم دیا تھا۔

بہار کے مظفرپور واقع بالیکا گریہہ میں بچوں سے ریپ معاملے کا اہم ملزم برجیش ٹھاکر۔ (فوٹو بشکریہ : فیس بک / ٹوئٹر)

مظفر پور شیلٹر ہوم معاملہ: سی بی آئی نے بتایا، بچیوں کو فحش گانوں پر نچایا، مہمانوں نے ریپ کیا

سی بی آئی نے 73 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے بالیکا گریہہ کے مالک برجیش ٹھاکر نے لڑکیوں کو کھلے کپڑے پہننے ،بھوجپوری گانوں پر ناچنے، نشہ کرنے اور مہمانوں کے ذریعے ریپ کرنے کے لیے مجبور کیا۔

علامتی تصویر، ٖفوٹو : رائٹرس

شیلٹر ہوم میں بچوں کے جنسی استحصال  سے نپٹنے کے لئے موجودہ نظام ناکافی: سپریم کورٹ

بہار کے مظفرپور کے شیلٹر ہوم میں بچیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر موجودہ نظام کافی ہوتا، تو مظفرپور میں جو بھی ہوا، وہ نہیں ہوتا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

چائلڈ شیلٹر ہوم کے سوشل آڈٹ کرنے کی مخالفت کر رہی ہیں یوپی اور بہار کی حکومت

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال تمام ریاستوں کے چائلڈ شیلٹر ہوم کے سوشل آڈٹ کا حکم دیا تھا۔بہار اور اتر پردیش کے علاوہ ہماچل پردیش، منی پور، میگھالیہ، کیرل، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ اور دہلی بھی سوشل آڈٹ کی مخالفت کر رہی ہے۔

Don`t copy text!