women empowerment

AKI 5 June.00_16_12_22.Still003

پہلے میں نریندر مودی کی قائل تھی…

ویڈیو: ہندوستانی فضائیہ میں ونگ کمانڈر رہیں انوما آچاریہ کو بی جے پی نے اتنامتاثر کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور پارٹی کے لیے کام کرنے کا فیصلہ کر لیا، لیکن کچھ عرصے میں ہی وہ پارٹی سے مایوس ہو گئیں۔ انوما آچاریہ کی مودی پرستار سے مودی نقاد بننے کی کہانی۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

نریندر مودی کے بارے میں میری رائے کیوں بدل گئی…

میں نریندر مودی سے متاثر تھی، گجرات میں رہتے ہوئے میں نے اچھی سڑکیں، چھوٹی صنعتیں دیکھی تھیں، ان کی تعریف بھی سنی تھی۔ سیاست میں جانے کا سوچنے کے بعد میں نے بی جے پی سے رابطہ بھی کیا اور پارٹی کے لیے کام بھی کیا۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں رونما ہوئے واقعات نے وزیر اعظم مودی کے بارے میں میری رائے بدل کر رکھ دی۔

 (علامتی فوٹو : رائٹرس)

ویمن امپاورمنٹ پر بی جے پی کے کھانے کے دانت الگ ہیں اوردکھانے کے الگ

ایسے میں جب ملک میں خواتین کی کوئی حقیقی نمائندگی ہی نہیں بچی اور حکومت میں ویمن پاور کی مثال مانی جانے والی نام نہاد رہنما بی جے پی رہنماؤں یاحامیوں کے ذریعے کئےاستحصال کے کئی معاملوں پر منھ سل‌کر بیٹھ چکی ہیں، تو کیسےحکومت سے کسی انصاف کی امید لگائی جائے؟

علامتی تصویر (فوٹو بہ شکریہ : ڈی ڈی نیوز)

مہیلا شکتی کیندر: 2019 تک بنانے تھے 440 مرکز، لیکن اب تک صرف 24 ہی بنے

مودی حکومت کے دعوے اور ان کی زمینی حقیقت پر اسپیشل سیریز: نومبر 2017 میں مودی حکومت نے وومین امپاورمنٹ کے لئے مہیلا شکتی کیندر نام کی ایک اسکیم شروع کی، جس کے تحت ملک کے 640 ضلعوں میں مہیلا شکتی کیندر بنائے جانے تھے۔ 2019 تک ایسے 440 مرکز بنانے کا ہدف تھا، لیکن اب تک صرف 24 مرکز ہی بنے ہیں۔ ساتھ ہی کسی بھی ریاست نے ان مراکز میں کام شروع ہونے کی رپورٹ نہیں دی ہے۔

banat live facebook2

’بنات‘کی صدر نگار عظیم کا انٹرویو: بہناپا کو فروغ دینا ہی تو اس تنظیم کا اصل مقصد ہے

نئے لکھنے والے یا لکھنے والیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے،یہ مسٹری پیدا کر دی گئی ہے،کچھ ناقدین کے ذریعہ کیوں کہ وہ پڑھتے نہیں۔اردو کی خواتین قلمکاروں کو ہمیشہ سے حاشیے پر رکھا گیا۔ حال ہی میں بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم ’بنات‘ کا قیام […]

Don`t copy text!