Women Security

(فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

یوپی: شیلٹر ہوم  کی 57 لڑکیاں کورونا پازیٹو،  پانچ حاملہ بھی شامل

معاملہ کانپور شیلٹر ہوم کا ہے، جہاں 12 جون کو رینڈم سیمپلنگ کے دوران ایک لڑکی کو رونا پازیٹو پائی گئی تھی، جس کے بعد تمام171 لڑکیوں کا ٹیسٹ کرایا گیا۔ اب تک یہاں 57 لڑکیاں اور ایک اسٹاف کو رونا پازیٹوپائی گئی ہیں۔

مظفرپور کے ایک سرکاری شیلٹر ہوم میں پولیس اس مقام کی تفتیش کرتی ہوئی، جہاں ایک ریپ  متاثرہ کو مبینہ طور پر دفنایا گیا تھا(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

مظفر پور شیلٹر ہوم میں بچوں کے قتل کا کوئی ثبوت نہیں: سی بی آئی

گزشتہ چھ جنوری کو سی بی آئی نے بہار میں 17 شیلٹر ہوم کی جانچ‌کر ان میں سے 13 معاملوں میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ سی بی آئی نے بہار کے 25 ڈی ایم اور دیگر سرکاری ملازمین‎ کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔ سی بی آئی کے مطابق، مختلف شیلٹر ہوم میں بچوں کے جنسی استحصال اور ظلم و ستم کو روکنے میں سرکاری افسر ناکام رہے ہیں۔

فوٹو: ویکی پیڈیا

بہار: 17 شیلٹر ہوم کی جانچ‌ کے بعد 25 کلکٹر سمیت 71 افسروں پر کارروائی کی سفارش

بہار کے مظفر پور بالیکا گریہہ میں جنسی استحصال کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ریاست کے 17 شیلٹر ہوم میں بچوں کے جنسی استحصال اور ظلم و ستم کے معاملے سامنے آئے تھے۔ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو ان کی جانچ‌کا حکم دیا تھا۔

بہار کے مظفرپور واقع بالیکا گریہہ میں بچوں سے ریپ معاملے کا اہم ملزم برجیش ٹھاکر۔ (فوٹو بشکریہ : فیس بک / ٹوئٹر)

مظفر پور شیلٹر ہوم معاملہ: سی بی آئی نے بتایا، بچیوں کو فحش گانوں پر نچایا، مہمانوں نے ریپ کیا

سی بی آئی نے 73 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے بالیکا گریہہ کے مالک برجیش ٹھاکر نے لڑکیوں کو کھلے کپڑے پہننے ،بھوجپوری گانوں پر ناچنے، نشہ کرنے اور مہمانوں کے ذریعے ریپ کرنے کے لیے مجبور کیا۔

علامتی تصویر، ٖفوٹو : رائٹرس

شیلٹر ہوم میں بچوں کے جنسی استحصال  سے نپٹنے کے لئے موجودہ نظام ناکافی: سپریم کورٹ

بہار کے مظفرپور کے شیلٹر ہوم میں بچیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر موجودہ نظام کافی ہوتا، تو مظفرپور میں جو بھی ہوا، وہ نہیں ہوتا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

چائلڈ شیلٹر ہوم کے سوشل آڈٹ کرنے کی مخالفت کر رہی ہیں یوپی اور بہار کی حکومت

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال تمام ریاستوں کے چائلڈ شیلٹر ہوم کے سوشل آڈٹ کا حکم دیا تھا۔بہار اور اتر پردیش کے علاوہ ہماچل پردیش، منی پور، میگھالیہ، کیرل، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ اور دہلی بھی سوشل آڈٹ کی مخالفت کر رہی ہے۔

ہردوئی کا این جی او کے ذریعے  چلایا جارہا شیلٹر ہوم۔ (فوٹو بشکریہ : اے بی پی نیوز)

اتر پردیش : دیوریا کے بعد ہردوئی کے ایک شیلٹر ہوم سے 19 خواتین غائب

ہردوئی ضلع مجسٹریٹ کی جانچ میں ایک این جی او کے ذریعے بےسہارا خواتین کے لئے چلائے جا رہے شیلٹر ہوم میں 21 میں سے 19 خواتین غائب پائی گئیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گرانٹ پانے کے لئے ادارے نے رجسٹر میں خواتین کے فرضی نام دکھائے تھے۔

Don`t copy text!