The Wire
  • ہمارے بارے میں
  • خبریں
  • فکر و نظر
  • حقوق انسانی
  • ادبستان
  • گراؤنڈ رپورٹ
  • ویڈیو
  • Support The Wire

تازہ ترین

  • ڈی یو کے ’سمتا اتسو‘ میں تاریخ داں ایس عرفان حبیب پر حملہ، آئیسا کا الزام – اے بی وی پی ذمہ دار
  • فیض احمد فیض: اے خاک نشینوں اٹھ بیٹھو
  • آر ٹی آئی میں انکشاف – وزارت داخلہ کے پاس ’دراندازوں‘ کا ڈیٹا نہیں
  • آسام نفرت کے حصار سے کیسے نکلے گا؟
  • ’جمہوریت اُس وقت کمزور ہوتی ہے، جب ارباب اقتدار ہنسی سے ڈرتے ہیں اور اُس کے خلاف کارروائی شروع کر تے ہیں‘

ٹاپ اسٹوریز

  • آر ٹی آئی میں انکشاف - وزارت داخلہ کے پاس ’دراندازوں‘ کا ڈیٹا نہیں
    آر ٹی آئی میں انکشاف - وزارت داخلہ کے پاس ’دراندازوں‘ کا ڈیٹا نہیں
  • ڈی یو کے ’سمتا اتسو‘ میں تاریخ داں ایس عرفان حبیب پر حملہ، آئیسا کا الزام - اے بی وی پی ذمہ دار
    ڈی یو کے ’سمتا اتسو‘ میں تاریخ داں ایس عرفان حبیب پر حملہ، آئیسا کا الزام - اے بی وی پی ذمہ دار
  • آسام نفرت کے حصار سے کیسے نکلے گا؟
    آسام نفرت کے حصار سے کیسے نکلے گا؟
  • ہمنتا بسوا شرما: نفرت کی سیاست کا چہرہ
    ہمنتا بسوا شرما: نفرت کی سیاست کا چہرہ
  • جنرل نرو نے کی یادداشتیں اور مودی حکومت کی پریشانیاں
    جنرل نرو نے کی یادداشتیں اور مودی حکومت کی پریشانیاں
خبریں

بی جے پی کی کرناٹک اکائی کے ایکس پوسٹ میں ’گوبھی‘ کا معنی و مفہوم کیا ہے؟

علی شان جعفری 24/05/2025

شیئر کریں

  • Tweet
  • WhatsApp
  • Print
  • More
  • Email
  • Reddit
  • Pocket

کرناٹک بی جے پی کی ایک ایکس پوسٹ میں نکسلائٹ کی قبر کے پاس مرکزی وزیر داخلہ کے کیریکیچرکوایک گوبھی کے ساتھ دکھایا گیاہے۔ گوبھی کو علامتی طور پر 1989 کے بھاگلپور کے مسلم مخالف فسادات کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتاہے۔ حالیہ برسوں میں اس علامتی تناظر کو شدت پسند دائیں بازو کے گروہوں کی جانب  سے بڑے جوش و خروش سےپیش کیا گیا ہے۔

ایکس/@بی جے پی کرناٹک کی طرف سے پوسٹ کی گئی تصویر، جس میں امت شاہ گوبھی پکڑے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

ایکس/@بی جے پی کرناٹک کی طرف سے پوسٹ کی گئی تصویر، جس میں امت شاہ گوبھی پکڑے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی کی کرناٹک یونٹ کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے 23 مئی (جمعہ) کو ایک تصویر پوسٹ کی گئی ،جس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک قبر کے پاس گوبھی اٹھائے ہوئے دکھایا گیا ہے،اس قبر پر لکھا ہے – ‘آر آئی پی  نکسل واد’۔

اس پوسٹ کے ساتھ کیپشن تھا، ‘لول(ایل او ایل) سلام، کامریڈ۔’ اس کو  بائیں بازو کے نعرے ‘لال سلام’ کے خلاف طنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ پوسٹ سی پی آئی (ایم ایل) کی جانب سے ‘آپریشن کگار’کے تحت ابوجھاماڑکے جنگلات میں حالیہ ‘انکاؤنٹر’ کی مذمت کرتے ہوئے جاری کیے گئےبیان جواب میں کی گئی ہے۔

معلوم ہو کہ اس آپریشن کونیم فوجی دستوں، ریاستی پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر تلنگانہ اور چھتیس گڑھ کے گھنے اور پہاڑی جنگلات میں انجام دیا تھا، جس میں حکام کے مطابق، 27 مبینہ ماؤنواز کو مار گرایا گیا۔

“Lol” Salaam, Comrade!! https://t.co/WkzYoHIOUQ pic.twitter.com/ngYyVKYCll

— BJP Karnataka (@BJP4Karnataka) May 23, 2025

سی پی آئی (ایم ایل) نے نارائن پور-بیجاپورمیں ماؤنوازوں اور قبائلیوں کے ‘وحشیانہ ماورائے عدالت قتل’ کی مذمت کی ہے ۔

پارٹی کے بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ امت شاہ کی جشن مناتی پوسٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ‘ریاست آپریشن کگار کو ایک ماورائے عدالت نسل کشی مہم کے طور پر چلا رہی ہے اور شہریوں کے قتل اور کارپوریٹ لوٹ مار اور عسکریت پسندی کے خلاف آدیواسیوں کے احتجاج کو کچلنے کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔’

گوبھی کا علامتی مفہوم

اس پوسٹ میں گوبھی کے استعمال نے سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں کو حیران کردیا۔

گوبھی کا استعمال اب مسلمانوں کی  نسل کشی کے علامتی اظہار کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔

آن لائن ہیٹ اسپیچ سےمتعلق قوانین سے بچنے کی صلاحیت رکھنے والی یہ علامت  (گوبھی)حال ہی میں ناگپور میں ہوئے فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد بی جے پی کے حامی سیاسی مبصرین نے بڑے پیمانے پر شیئر کی تھی۔

اس علامت کوبہار میں 1989 کے بھاگلپور فسادات سے جوڑکر دیکھا جاتا ہے، جس میں 900 سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے۔ بھاگلپور کے لوگائن گاؤں میں 110 مسلمانوں کو قتل کر کے کھیتوں میں دفن کر دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی لاشوں پر بھی گوبھی کے پودے لگائے گئے تھے۔

The idea of “cauliflower farming” as a call for Muslim genocide has its origin in 1989 Bhagalpur anti Muslim riots. For reference:

Pandey, Gyanendra. 1992. “In Defense of the Fragment: Writing About Hindu-Muslim Riots in India Today.” Representations 37. https://t.co/2DlUMted9j

— Adil Hossain (@adilhossain) January 5, 2022

حالیہ برسوں میں اس علامتی  تناظر کو الٹرا رائٹ  اور ہندوتوا گروپوں، خاص طور پر ٹریڈز نے دوبارہ اٹھایا ہے۔ ان گروہوں کی طرف سے بنائے گئے کچھ گرافکس میں برقع پوش مسلم خواتین کو بھی گوبھی کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

بہت سی ہندوتوا ٹریڈز اپنے سوشل میڈیا بایو میں خود کو ‘گوبھی کا کسان’ بتاتے ہیں۔

ہندوتوا ٹریڈز کون ہیں؟

‘ٹریڈز’ کو ہندوتوا کا انتہائی بنیاد پرست طبقہ سمجھا جاتا ہے – وہ نوجوان جو خود کو تہذیب کا جنگجوتصور کرتے ہیں اور آن لائن ‘جنگ’ لڑتے ہیں۔ وہ دائیں بازو کے دوسرے لوگوں کو’انتہائی لبرل’ مانتے ہیں اور انہیں ‘ریتا’ کہہ کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

یہی نہیں، وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی کمزور سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق مودی دلتوں کے حوالے سے ‘اپیزمنٹ’ کرتے ہیں اور مسلمانوں پر ‘سخت’ موقف اختیار نہیں کرتے۔

مین اسٹریم کی جانب گامزن ٹریڈکی علامتیں

اب تک، بی جے پی اس طرح کے انتہا پسندانہ ڈسکورس اور ٹریڈکی پرتشدد علامتوں سے دوری بناکر  رکھتی  تھی ، لیکن حالیہ پوسٹ بتاتی ہے کہ پارٹی اب اسے اپنا رہی ہے۔

پچھلے ایک سال میں ٹریڈ کی  علامتوں کو مرکزی دھارے کے ہندوتوا کی زبان میں، خاص طور پر مسلمانوں کے تناظر میں زیادہ آسانی سے شامل کیا گیا ہے۔ جنوری2024 سے اب تک بی جے پی کی طرف سے پوسٹ کیے گئے بہت سے کارٹون میں یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، مثلاً پی ایم مودی کو بھگوا لباس میں مسلمانوں کے ساتھ متصادم دکھانا، یا مسلمانوں کو دلتوں کی جائیداد چھینتے ہوئے دکھانا۔

A Battle of Billions of Hindus since time immemorial.
A story of Sacrifice, Valor, Worship & Victory.
The Saga of Ayodhya Ram Mandir.#RamNavami #JaiShriRam pic.twitter.com/VPNMLc7mPl

— BJP Telangana (@BJP4Telangana) April 16, 2024

سال 2022 میں، گجرات بی جے پی کے آفیشیل ایکس ہینڈل سے ایک پوسٹ شیئر کی گئی تھی، جس میں’ستیہ میو جیتے’ کیپشن کے ساتھ درجن  بھرداڑھی ٹوپی والے لوگوں  کو پھانسی پر لٹکتا دکھایا گیاتھا۔ سوشل میڈیا پر اس کا موازنہ نازی کارٹون سے کیا گیا اور بعد میں اس ٹوئٹ کو ہٹا لیا گیا۔

تاہم، بی جے پی کا کہنا تھا کہ وہ کسی مذہب کو نشانہ نہیں بنا رہی تھی اور یہ پوسٹ 2006 کے احمد آباد دھماکوں میں قصوروار قرار دیے گئے  دہشت گردوں کے حوالے سے تھی۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں ۔)

تازہ ترین

  • ڈی یو کے ’سمتا اتسو‘ میں تاریخ داں ایس عرفان حبیب پر حملہ، آئیسا کا الزام – اے بی وی پی ذمہ دار
  • فیض احمد فیض: اے خاک نشینوں اٹھ بیٹھو
  • آر ٹی آئی میں انکشاف – وزارت داخلہ کے پاس ’دراندازوں‘ کا ڈیٹا نہیں

شیئر کریں

  • Tweet
  • WhatsApp
  • Print
  • More
  • Email
  • Reddit
  • Pocket

Related

Categories: خبریں, فکر و نظر

Tagged as: 1989 Bhagalpur anti-Muslim riots, Bharatiya Janata Party, BJP, cauliflower, cauliflower farmers, chhattisgarh, CPI(ML), gravestone, Hindutva trads, Karnataka wing, lal selam, LOL Salam Comrade, Maoists, Muslim Genocide, Narayanpur-Bijapur, official X account, Operation Kagar, PM Narendra Modi, red salute, RIP Naxalism, security forces, state police, Telangana, The Wire, Union Home Minister Amit Shah

Post navigation

راہل گاندھی کا ایس جئے شنکر پر نشانہ، کہا – ہندوستان کی خارجہ پالیسی تباہ ہو چکی ہے
ماؤنواز تحریک آخری مرحلے میں: کیا بسواراجو کے انکاؤنٹر کے بعد بستر میں امن لوٹ آئے گا؟

Support Free & Independent Journalism

Contribute Now
  • Top categories: خبریں/فکر و نظر/ویڈیو/ادبستان/عالمی خبریں/گراؤنڈ رپورٹ/الیکشن نامہ/حقوق انسانی/خاص خبر
  • Top tags: The Wire/ اردو خبر/ News/ Urdu News/ دی وائر اردو/ The Wire Urdu/ BJP/ دی وائر/ Narendra Modi