ایس آئی آر پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ ایس آئی آر آرڈر میں واضح طور پر یہ نہیں لکھا گیا تھا کہ اس عمل کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کرنا بھی ہے۔ جسٹس باگچی نے تبصرہ کیا کہ کمیشن نے ایس آئی آر کے لیے وجہ کے طور پر صرف ‘بار بار نقل مکانی’ کو لسٹ کیا ہے، سرحد پار سے غیر قانونی نقل و حرکت کو نہیں۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات (22 جنوری) کو ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی ار) نوٹیفکیشن میں غیر قانونی امیگریشن (غیر قانونی تارکین وطن کی پہچان)کو صاف لفظوں میں مقصد کے طور پر ذکر نہ کرنے پر الیکشن کمیشن آف انڈیا سے سوال کیا۔
عدالت نے کہا کہ آرڈر میں واضح طور پر یہ نہیں کہا گیا تھاکہ شہریت کی تصدیق اس عمل کاایک مقصدہے۔
قابل ذکر ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوائےمالیہ باگچی کی بنچ نے یہ سوال کمیشن کے سامنے اس وقت رکھا ہے جب نو ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے 65 لاکھ ناموں کو ہٹا دیا گیاہے۔
معلوم ہو کہ اتر پردیش میں ایس آئی آر کے دوسرے مرحلے کے دوران 32 لاکھ ووٹروں کو شہریت کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے نوٹس بھیجے گئے ہیں۔
جسٹس باگچی نے ریمارکس دیے کہ کمیشن نے ایس آئی آرکے لیے وجہ کے طور پرے صرف ‘بار بار نقل مکانی’ کو درج کیا ہے نہ کہ سرحد پار سے غیر قانونی نقل و حرکت کو۔
انہوں نے کہا کہ بین ریاستی نقل مکانی ایک قانونی اور بنیادی آزادی ہے، جبکہ ‘غیر قانونی’ کا پہلو صرف امیگریشن پر لاگو ہوتا ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا الیکشن کمیشن اب غیر قانونی امیگریشن کا معاملہ اٹھا کر ایس آئی آر نوٹیفکیشن پر دوبارہ غور کر رہا ہے؟
کمیشن کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل راکیش دویدی نے دلیل دی کہ ‘مائیگریشن’ کی اصطلاح میں بین ریاستی اور سرحد پار نقل و حرکت دونوں شامل ہیں۔
دویدی نے استدلال کیا کہ 2025 کا ایس آئی آر شہریت ایکٹ میں 2003 کی ترامیم کو لاگو کرنے کا مناسب وقت تھا، جس کے تحت رائے دہندگان کے والدین کا ہندوستانی شہری ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کی اجازت آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت دی گئی ہے۔
بدھ کو عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگرچہ الیکشن کمیشن کے پاس وسیع صوابدیدی اختیار ہے، لیکن یہ اختیار ‘لامحدود’ نہیں ہے۔
جسٹس باگچی نے ووٹر کے رجسٹریشن رول، 1960 کے قاعدہ 25 کا حوالہ دیا، جو مقررہ طریقہ کار کے مطابق مکمل جانچ پڑتال کو لازمی بناتا ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن نے مطلوبہ دستاویزکی تعداد چھ سے بڑھا کر 11 کیوں کر دی اور ابتدائی طور پر آدھار کارڈ کو کیوں شامل نہیں کیا گیا۔
مغربی بنگال سے متعلق ایک حلف نامے میں الیکشن کمیشن نے ‘منطقی تضادات’ کی اطلاع دی، جنہیں اس نے ‘منطق کے خلاف’ قرار دیا۔
الیکشن باڈی کو 459,054 ایسے معاملے ملے جن میں رائے دہندگان کو پانچ سے زائد بچوں سے جوڑا گیاتھا۔ ان میں ایسے افراد کے کیس بھی شامل تھے جن کے مبینہ طور پر 200 سے زیادہ بچے تھے اور والدین اور بچوں کے درمیان عمر میں 50 سال کا فرق تھا۔
دویدی نے کہا کہ اس طرح کے معاملات کی مکمل جانچ کی ضرورت ہے۔
الیکشن کمیشن نے درخواست گزاروں بشمول ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) ایم پی ڈولا سین کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ یہ عمل اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا تھا۔
کمیشن نے واضح کیا کہ مغربی بنگال میں 58 لاکھ رائے دہندگان کو فہرست سے خارج کرنے کی وجہ موت، مستقل منتقلی یا نام کا دہراؤتھا، نہ کہ سافٹ ویئر کی بنیاد پر حذف کرنا۔
قبل ازیں، عدالت نے مغربی بنگال میں عوام کے لیے پیدا ہونے والے ‘تناؤ اور پریشانی’ پر تشویش کا اظہار کیا، جہاں 1.36 کروڑ افراد – تقریباً 20 فیصد آبادی کو نوٹس موصول ہوئے۔
جسٹس باگچی نے بچپن کی شادی کا حوالہ دیتے ہوئے والدین اور بچے کے درمیان 15 سال کی عمر کے فرق جیسے معیار کی ‘منطقی عدم مطابقت’ پر سوال اٹھایا۔
درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل اور شیام دیوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اس طرح کی پروفائلنگ کے لیے قانونی منظوری کا فقدان تھا۔
سبل نے استدلال کیا کہ 1.36 کروڑ سماعتوں کے لیے صرف 500 مقامات دستیاب تھے، جس سے حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت سے قبل انتظامی رکاوٹیں پیدا ہو رہی تھیں۔
عوام کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے عدالت نے حکم دیا کہ بے ضابطگیوں کے لیے نشان زد افراد کی فہرستیں گرام پنچایت کی عمارتوں اور وارڈ دفاتر میں آویزاں کی جائیں۔
عدالت نے اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ میں 10 دن کی توسیع کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اسکول بورڈ کے ایڈمٹ کارڈ جیسے قانونی دستاویز کو بطور ثبوت قبول کرنے کی ہدایت کی۔
بنچ نے یہ بھی حکم دیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بوتھ لیول ایجنٹوں کو تصدیق کے دوران درخواست گزاروں کی مدد کرنے کی اجازت دی جائے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔
