اگست 2019 میں جموں و کشمیر سے الگ کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ بنائے جانے کے بعد سے اس کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اوریہاں کے باشندوں کو زمین اور ملازمت کے تحفظ کی ضمانت دینے کا مطالبہ آئے دن ہوتا رہتا ہے۔عام طور پر لداخ کےمسلم اکثریتی کارگل اور بودھ اکثریتی لیہہ کے علاقے ایک دوسرے سے بنٹے رہتے ہیں، لیکن اس بار لوگوں نے متحد ہو کر خطے کی آئینی سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سری نگر میں 24 نومبر کی شام پولیس انکاؤنٹرمیں تین مشبہ دہشت گردوں کو مار گرایا گیا تھا، لیکن مقامی لوگوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جن لڑکوں کو پولیس نے انکاؤنٹر میں مارا، وہ نہتے تھے اور سڑک کنارے کھڑے تھے۔
این آئی اے نےسوموار کو صوبے میں حقوق انسانی کے سرگرم کشمیری کارکن خرم پرویز کو گرفتار کیا ہے۔اس سے پہلےٹیررفنڈنگ سےمتعلق ایک معاملے میں رواں سال کی شروعات میں سری نگر میں ان کے گھر اور دفترکی تلاشی لی گئی تھی۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اس قدم کی تنقید کرتے ہوئے حراستی تشدد کے خطرے کے مدنظرتشویش کا اظہارکیا ہے۔
گزشتہ15نومبر کو سری نگر کے حیدر پورہ علاقے میں ایک شاپنگ کمپلیکس میں دہشت گردوں سے انکاؤنٹر کے دوران دو مشتبہ دہشت گردوں کی موت کے ساتھ ہی دو شہریوں کی بھی موت ہوئی تھی ۔ ان میں سے ایک شاپنگ کمپلیکس کے مالک محمد الطاف بھٹ اور دوسرے ڈینٹسٹ ڈاکٹر مدثر گل شامل ہیں۔ پولیس نے دونوں کےدہشت گردوں کا ساتھی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ان کے اہل خانہ کاالزام ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ان کا استعمال ‘ہیومن شیلڈ’کے طور پر کیا۔
اتر پردیش کےآگرہ میں انجینئرنگ کی پڑھائی کر رہےکشمیر کےتین طالبعلموں کو گزشتہ24 اکتوبر کو ہندوستان پاکستان کے بیچ ٹی20ورلڈ کپ کرکٹ میچ میں پاک کی جیت پر جشن منانے کے الزام میں سیڈیشن سے متعلقہ دفعات میں گرفتار کیا گیا ہے۔تینوں طالبعلم غریب گھروں سے ہیں اور پرائم منسٹر اسپیشل اسکالر شپ اسکیم کے تحت پڑھ رہے ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے انہیں معاف کرنے کی اپیل سرکار سے کی ہے۔
شوپیاں ضلع میں پیش آئے اس واقعہ میں مارے گئےشخص کی پہچان شاہد احمد راتھر کےطور پر ہوئی ہے، جو ایک مزدور تھے۔سی آر پی ایف نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں کی طرف سے ہوئی گولی باری کا جواب دیتے وقت یہ واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ پر وادی کے مین اسٹریم کی پارٹیوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئےغیرجانبدارانہ جانچ کی مانگ کی ہے۔
یہ واقعہ کلگام ضلع میں پیش آیا۔یہ جنگجو تنظیم ‘دی ریزسٹنس فرنٹ’کے بانی عباس شیخ کا آبائی ضلع ہے، جس نے سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ کشمیر میں رہنے والے مقامی اور غیر مقامی اقلیتوں پر حالیہ حملوں کی زیادہ تر ذمہ داری قبول کی ہے۔ رواں ماہ میں اب تک شہریوں کو نشانہ بنانے والی فائرنگ میں11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں گزشتہ سنیچر کو نامعلوم لوگوں نےمٹن علاقے میں پہاڑ پرواقع ماتا برگھ شکھابھگوتی مندرمیں توڑ پھوڑ کی۔یہ واقعہ ایسےوقت میں رونماہوا،جب مرکزی حکومت1990 کی دہائی کی شروعات میں گھاٹی چھوڑکر گئے کشمیری پنڈتوں کی بازآبادی کو لےکر قدم اٹھا رہی ہے۔
جموں وکشمیر کے جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے15ستمبر کو جاری کیے گئے نئے ضابطوں سے جموں وکشمیر کے چھ لاکھ سرکاری ملازمین کی اظہار رائے کی آزادی شدید طور پرمتاثر ہو سکتی ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ یو اے پی اے اور پی ایس اے کا استعمال اختلافات کو دبانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
پولیس کی جانب سےیہ کارروائی سخت یو اے پی اے قانون کے تحت پچھلے سال درج ایک معاملے کو لےکر کی گئی ہے، جو کشمیر کے صحافیوں اور کارکنوں کو جان سے مارنے کی دھمکی سے متعلق ہے۔
سابق حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پہلے جموں وکشمیر پولیس اس بات پر رضامند ہوئی تھی کہ ان کے اہل خانہ ان کی تجہیز وتکفین کے انتظامات کر سکیں گے، لیکن بعد میں پولیس ان کی لاش لے کر چلی گئی۔
گزشتہ دنوں جموں وکشمیر پولیس نے ایک انکاؤنٹر میں عمران قیوم نام کےایک شخص کو دہشت گرد بتاتے ہوئے مار گرانے کے بعد ان کو دفن کر دیا۔عمران کے اہل خانہ نے پولیس کے دعووں کی تردیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فرضی انکاؤنٹر تھا۔ انہوں نے معاملے کی جانچ کے لیےلیفٹیننٹ گورنراورسینئر پولیس افسران کو خط بھی لکھا ہے۔
سرینگر کے باہری علاقے لاوے پورہ میں29-30 دسمبر کو ایک مبینہ انکاؤنٹر میں تین مشتبہ دہشت گردوں کو مار گرایا گیا تھا، جس میں سے ایک16سال کا تھا۔ یہ اس طرح کا دوسرا واقعہ ہے، جس میں انکاؤنٹر میں مارے گئے مبینہ دہشت گرد کے اہل خانہ کے خلاف پولیس نے یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔