Buldozer action

کیسے ’یوگی‘ نے مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کے غیر قانونی استعمال کا قومی ماڈل تیار کیا

یوگی آدتیہ ناتھ کے دور اقتدار میں اتر پردیش میں بلڈوزر تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والے اوزار سے بدل کر مسلمانوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے والے ہتھیار اور سیاسی تماشے کا حصہ بن گیا۔ یہ طریقہ ایک قومی ماڈل بن گیا، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی نے سراہا اور دیگر بی جے پی مقتدرہ ریاستوں کے ساتھ ساتھ کانگریس مقتدرہ کرناٹک میں بھی اپنایا گیا۔

سال بھر بعد دہلی کی امیدوں پر کتنی کھری اتری ریکھا گپتا کی حکومت؟

دہلی کی بی جے پی حکومت بھلے ہی خود کو ’وعدوں کی نہیں، بلکہ کام کی حکومت‘ بتا رہی ہو، لیکن مہیلاسمردھی یوجنا سے لے کر بزرگوں کی پنشن بڑھانے تک کے ادھورے وعدوں کے حوالے سے لوگ سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی دارالحکومت کے کئی علاقوں میں لوگ بجلی-پانی، خراب سڑکیں اور کوڑے کے مسائل سے بھی جوجھ رہے ہیں۔

ہندوستان میں انہدام نیا نہیں، مگر پانچ سالوں میں 379 فیصد اضافہ جمہوریت کے ’بلڈوزر راج‘میں تبدیل ہونے کی کہانی ہے

گزشتہ چند برسوں میں بلڈوزر کو تعزیری کارروائی کے طور پر استعمال کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کارروائی میں اکثر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 2022 اور 2023 میں گرائے گئے گھروں میں سے 44 فیصد گھرمسلمانوں کے تھے۔ دراصل یہ پیٹرن بن گیا ہے کہ مسلسل قانونی عمل کو نظرانداز کرتے ہوئے اور آئینی تحفظات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

مودی کے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائی: ملبے کا ڈھیر بنا پروین فاطمہ کا گھر

اتر پردیش کی حکومت نے پریاگ راج کے ایک ایکٹوسٹ کی فیملی کے گھر کو منہدم کر دیا، جنہوں نے بغیر کسی جرم کے 21 ماہ جیل میں گزارے۔ جب وہ پولیس کی حراست میں ہسپتال میں تھے، تب بلڈوزر سے گھر کو توڑا گیا، یہ گھر ان کی اہلیہ کا تھا۔