یوگی آدتیہ ناتھ کے دور اقتدار میں اتر پردیش میں بلڈوزر تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والے اوزار سے بدل کر مسلمانوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے والے ہتھیار اور سیاسی تماشے کا حصہ بن گیا۔ یہ طریقہ ایک قومی ماڈل بن گیا، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی نے سراہا اور دیگر بی جے پی مقتدرہ ریاستوں کے ساتھ ساتھ کانگریس مقتدرہ کرناٹک میں بھی اپنایا گیا۔
دہلی کی بی جے پی حکومت بھلے ہی خود کو ’وعدوں کی نہیں، بلکہ کام کی حکومت‘ بتا رہی ہو، لیکن مہیلاسمردھی یوجنا سے لے کر بزرگوں کی پنشن بڑھانے تک کے ادھورے وعدوں کے حوالے سے لوگ سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی دارالحکومت کے کئی علاقوں میں لوگ بجلی-پانی، خراب سڑکیں اور کوڑے کے مسائل سے بھی جوجھ رہے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں بلڈوزر کو تعزیری کارروائی کے طور پر استعمال کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کارروائی میں اکثر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 2022 اور 2023 میں گرائے گئے گھروں میں سے 44 فیصد گھرمسلمانوں کے تھے۔ دراصل یہ پیٹرن بن گیا ہے کہ مسلسل قانونی عمل کو نظرانداز کرتے ہوئے اور آئینی تحفظات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔
اتر پردیش کی حکومت نے پریاگ راج کے ایک ایکٹوسٹ کی فیملی کے گھر کو منہدم کر دیا، جنہوں نے بغیر کسی جرم کے 21 ماہ جیل میں گزارے۔ جب وہ پولیس کی حراست میں ہسپتال میں تھے، تب بلڈوزر سے گھر کو توڑا گیا، یہ گھر ان کی اہلیہ کا تھا۔