خبریں

دہلی : شجاعت بخاری کی یاد میں تعزیتی تقریب کا انعقاد

شجاعت کا سب سے اہم کام یہ تھا کہ وہ کشمیری مسلمانوں اور پنڈتوں کو ملانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔

Press club.jpg 2

نئی دہلی:سینئر صحافی اور رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر ان چیف شجاعت بخاری کی یاد میں آج یہاں پریس کلب آف انڈیا میں ایک تعزیتی جلسے کا اہتمام کیا گیا۔واضح ہو کہ جمعرات کی شام شرینگر میں کچھ نامعلوم افراد نے  شجاعت بخاری کو گولی ماردی تھی ۔ پروگرام کےآغاز میں شرکاء نے شجاعت بخاری کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔پریس کلب کے صدر اور بخاری کے دوست گوتم لاہیری نے کہا کہ شجاعت کے قتل کے ساتھ ہم نے ایک اچھے صحافی کو کھو دیا ہے۔ان کی بے وقت اور جارحانہ قتل نے ایک بار پھر سے یہ ثابت کردیا  ہے کہ کشمیر میں صحافت کتنی مشکل ہے۔

دہلی میں رائزنگ کشمیر کے نمائندے عبدالباری مسعود نے کہا کہ شجاعت نہ صرف ایک اچھے صحافی تھے بلکہ بہترین انسان بھی تھے۔انہوں نے اپنے پروفیشنل رشتہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شجاعت نے کبھی میرے اوپر یہ پریشر نہیں ڈالا کہ کون سی سٹوری کرنی ہے اور کون سی نہیں۔مسعود نے مزید کہا کہ شجاعت کو اپنے رپورٹرس پر پورا یقین تھا اور وہ پورا معاملہ ان کے صوابدید پر چھوڑ دیتے تھے۔ ان کے بے وقت چلے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پورا کرنا بہت مشکل ہے۔

سینئر صحافی اور ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کی خزانچی شیلا بھٹ نے اپنے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شجاعت کی دیرینہ خواہش تھی کہ مسئلہ کشمیر حل ہو اور اس کو لیکر دہلی اور جموں و کشمیر کی حکومتیں آپس میں بات چیت کریں۔اس موقع پر این ڈی ٹی وی کی ندھی راجدان نےکہا کہ ذاتی طور پر میرے لئے شجاعت کا سب سے اہم کام یہ تھا کہ وہ کشمیری مسلمانوں اور پنڈتوں کو ملانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے،اس کی ہمیشہ کوشش ہوتی تھی کہ مفاہمت اور مل بیٹھنے کی کوئی راہ نکلے۔

دریں اثنا، کولکاتہ پریس کلب کی جانب سے بھی آج دوپہر ان کی یاد میں ایک تعزیتی تقریب منعقد  ہوئی جس میں شہر کے سرکردہ صحافیوں نے شرکت کی۔