خبریں

مظفر پور شیلٹر ہوم معاملہ: ناگیشور راؤ ہتک عزت کے مجرم، کارروائی پوری ہونے تک کورٹ میں بیٹھنے کی سزا

اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال کے ذریعے سی بی آئی کے سابق عبوری ڈائریکٹر این ناگیشور راؤ کا بچاؤ کیے جانے پر چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا کہ گزشتہ 20 سالوں میں میں نے ہتک عزت کے اختیار کا استعمال نہیں کیا اور کسی کو بھی سزا نہیں دی۔ لیکن یہ تو حد ہے۔

فوٹو بہ شکریہ ، فیس بک

فوٹو بہ شکریہ ، فیس بک

نئی دہلی: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے سی بی آئی کے سابق عبوری ڈائریکٹر ایم ناگیشور راؤ کو بہار کے مظفر پور شیلٹر ہوم معاملے کی جانچ کرنے والے افسر اے کے شرما کا تبادلہ کرنے کے لیے عدالت کی ہتک عزت کا مجرم ٹھہرایا ہے۔ عدالت نے ان کو کورٹ کی کارروائی پوری ہونے تک کورٹ میں ایک کونے میں بیٹھے رہنے کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ ان پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی لگایا ہے۔

لائیو لاء کے مطابق؛ تبادلے میں قانونی صلاح دینے والے سی بی آئی Director of Prosecution انچارج ایس بھاسو رام کو بھی عدالت نے ہتک عزت کا مجرم پایا اور ان کو بھی وہی سزا سنائی۔ راؤ کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے عدالت سے نرمی برتنے کی گزارش کرتے ہوئے کہا کہ راؤ نے یہ غلطی جان بوجھ کر نہیں کی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا،’ عدالت کے خرچ پر ایک مجرم کا بچاؤ کیوں کیا جا رہا ہے۔ راؤ نے جو کارروائی کی ہے وہ صاف طور پر ہتک عزت ہے اور اس لیے وہ ہمدردی کے قابل  نہیں ہیں۔’سی بی آئی کے عبوری ڈائریکٹر کے طور پر راؤ کے ذریعے جاری کیے گئے تبادلے کے حکم پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا،’ اگر سپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کے بعد حکم جاری کیا جاتا تو کیا آسمان گر جاتا۔’

راؤ کی کارروائی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا ‘ گزشتہ 20 سالوں میں ،میں نے ہتک عزت کے اختیار کا استعمال نہیں کیا اور کسی کو بھی سزا نہیں دی۔ لیکن یہ تو حد ہے۔’اٹارنی جنرل نے کہا کہ کارروائی کرنے سے راؤ کا کیریئر ریکارڈ خراب ہو جائے گا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا،’ اگر ہم ان کا معافی نامہ قبول کر لیتے ہیں تب بھی ان کا کیریئر ریکارڈ داغداد ہی رہے گا کیوں کہ انھوں نے خود ہتک عزت کرنے کی بات قبول کر لی ہے۔’

اس سے پہلے سی بی آئی کے عبوری ڈائریکٹر ناگیشور  راؤ نے سوموار کو قبول کیا کہ انہوں نے غلطی کی اور اس کے لئے انہوں نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ان کی سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی  کی کوئی منشاء نہیں تھی۔راؤ نے 7 فروری کو ان کو جاری کئے گئے ہتک عزت  نوٹس کے جواب میں حلف نامہ دائر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سپریم کورٹ سے بنا کسی شرط کے معافی مانگ رہے ہیں۔

راؤ نے اپنے معافی نامہ میں کہا، ‘ میں اپنی غلطی محسوس کرتا ہوں اور میں بنا کسی شرط کے معافی مانگتا ہوں۔ میں خاص طورپر کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے جان بوجھ کر عدالت کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی کیونکہ میں خواب میں بھی سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے کے بارے میں نہیں سوچ سکتا۔ ‘

سپریم کورٹ نے  شرما کا سی بی آئی سے باہر تبادلہ کرنے کے لئے 7 فروری کو سی بی آئی کو پھٹکار لگائی تھی اور راؤ کو ذاتی طور پر کورٹ کے سامنے پیش ہونے کو کہا تھا۔ اے کے شرما بہار کے مظفرپور شیلٹر ہوم  معاملے کی جانچ‌کر رہے تھے۔چیف جسٹس رنجن گگوئی کی قیادت والی بنچ نے کہا تھا کہ سی بی آئی سے باہر شرما کا تبادلہ کرنا سپریم کورٹ کے احکام کی خلاف ورزی ہے اور یہ ہتک عزت  کا معاملہ ہے۔

بنچ نے سی بی آئی کے موجودہ ڈائریکٹر رشی کمار شکلا سے اس تبادلے سے دیگر افسروں کے جڑے ہونے کی تفتیش کرنے اور 11 فروری تک جواب دینے کو کہا تھا۔ راؤ کی منگل کو سپریم کورٹ میں پیشی سے پہلے ان کا یہ معافی نامہ آیا ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے شرما کے تبادلے  میں شامل سی بی آئی کے دیگر افسروں سے بھی 12 فروری سے پہلے پیش ہونے کی ہدایت دی تھی۔چیف جسٹس گگوئی نے کہا، ‘ ہم اس کو بہت ہی سنجیدگی سے لینے جا رہے ہیں۔ آپ نے ملک کے سپریم کورٹ کے حکم کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ بھگوان آپ کی مدد کرے۔ سپریم کورٹ کے حکم سے کبھی کھلواڑ مت کیجئے۔ ‘

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)