اجیت سنگھ سندھو اور میجر اوتار سنگھ کی داستانیں یہ یاد دلاتی رہیں گیں کہ جب دنیا کی عدالتیں اور حکومتیں اپنے خونی کارندوں کو بچانے کے لیے ڈھال بن جاتی ہیں، تو قدرت خود مدعی بن کر میدان میں اترتی ہے۔
سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ شہریت کا فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کا اختیار صرف ووٹر لسٹ تک محدود ہے۔ لیکن عدالت نے حکومتوں کو شہری حقوق میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت نہیں دی۔
انٹرویو:فلم ’ستلج‘ کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے بعد پہلی بار بات کرتے ہوئے فلمساز ہنی تریہن نے کہا کہ ’ستلج‘ پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، لیکن جسونت سنگھ کھالڑا کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تریہن کہتے ہیں کہ ’ستلج‘ پنجاب کے زخموں پر مرہم کی طرح ہے، لیکن اسے بین کیا گیا کیونکہ یہ پھوٹ ڈالو اورراج کرو کی سیاست کو بڑھاوا نہیں دیتی۔
ملک کے نوجوانوں میں نہ صرف وزیراعظم کے خلاف غصہ ہے بلکہ وہ عدلیہ کے ذریعہ حکومت کی کھلی طرفداری سے بھی مایوس ہیں۔ اور اب بات صرف کاکروچ پارٹی کا ساتھ دینے یا نہ دینے کی نہیں ہے۔ بات ملک کے مستقبل کی ہے جس سے مسلمانوں کا مفاد بھی اتنا ہی جڑا ہوا ہے جتنا دیگر برادران وطن کا۔ فیصلہ مشکل ہے لیکن زندہ قومیں مشکل وقت میں مشکل فیصلے لینے سے بھی نہیں گھبراتیں۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ سال جون میں بہار میں ایس آئی آر کرانے سے متعلق الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر عمل کے قانونی جواز کی توثیق کر دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور منصفانہ انتخابات کے لیے ضروری ہے۔
سی جے آئی سوریہ کانت نے جمعہ کو سینئر وکیل کا درجہ دیے جانے کے مطالبے سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ معاشرے میں کچھ پیراسائٹ ہیں، جو سسٹم پر حملہ کرتے ہیں۔ انہیں روزگار نہیں ملتا اور پیشہ ورانہ زندگی میں کوئی جگہ نہیں ملتی۔ ان میں سے کچھ میڈیا اہلکار بن جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا پر سرگرم ہو جاتے ہیں، کچھ آر ٹی آئی کارکن بن جاتے ہیں اور پھر ہر کسی پر حملہ شروع کر دیتے ہیں۔
ہندوستان کے حالیہ اسمبلی انتخابات نے صرف حکومتیں تبدیل نہیں کیں بلکہ سیاست کے فکری دھاروں، ریاستی شناختوں، مذہبی توازن، وفاقی ڈھانچے اور جمہوری اداروں کے مستقبل سے متعلق کئی بنیادی سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج اور آئینی اداروں پر جانبداری کے الزامات وغیرہ کے حوالے سے جے این یو کی پروفیسر زویا حسن اور سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
بنگال اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنے تمام وسائل بی جے پی کے لیے استعمال کیے۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو مکمل آزادی دے کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اگر عوام نے اس ماڈل کو قبول کر لیا تو ہندوستان میں انتخابات اسٹالن کے روس میں ہونے والے انتخابات جیسے ہو جائیں گے، جہاں نتیجہ ووٹنگ سے پہلے ہی سب کو معلوم ہوگا۔
سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ ان عرضیوں کے ایک گروپ پر فیصلہ سناتے ہوئے کیا، جن میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے رہنما اصول جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ یہ دلیل کہ ہیٹ اسپیچ کا دائرہ قانون سازی کے لحاظ سے خالی ہے، گمراہ کن ہے۔ موجودہ فوجداری قانون کا ڈھانچہ، جس میں تعزیرات ہند اور دیگر متعلقہ قوانین کی دفعات شامل ہیں، ان سرگرمیوں سے مؤثر طور پر نمٹتا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی نو رکنی آئینی بنچ نے سبریمالا معاملے کی سماعت کے دوران ایک اہم ریمارک دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مذہبی برادری کوپوجا -پاٹھ کرنے کے طریقوں میں خودمختاری حاصل ہے اور عدالت اس کے مذہبی معاملوں میں فیصلہ نہیں سنا سکتی ہے، لیکن اگر اس کا اثر کسی سیکولر سرگرمی پر پڑتا ہے تو حکومت اپنے اختیارات کے تحت مداخلت کر سکتی ہے۔
مہاراشٹرقانون ساز کونسل کی استحقاق کمیٹی کے سامنے اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا نے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو مبینہ طور پر ’غدار‘کہنے کے لیے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ کمیٹی نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا انہیں اپنے کیے پر افسوس ہے اور کیا وہ معافی مانگیں گے۔ کامرا نے صاف طور پر انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی معافی مخلصانہ نہیں ہوگی۔
پنجاب میں دیگر ریاستوں کے مقابلے دلتوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے، اور ان میں سے کئی لوگ عقیدے یا ثقافتی طور پر عیسائی ہیں۔ وہ اس امید میں ہیں کہ سپریم کورٹ میں جاری قانونی کارروائیوں کے ذریعے انہیں شیڈول کاسٹ (ایس سی) کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ تاہم، سپریم کورٹ کے ہندو، سکھ اور بدھ مت کے علاوہ کسی اور مذہب کو اختیار کرنے پر ایس سی کا درجہ رد ہو جانے سے متعلق فیصلے سے ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اروناچل پردیش کے سی ایم اور بی جے پی لیڈر پیما کھانڈو کے خاندان سے وابستہ کمپنیوں کو ملے سرکاری ٹھیکوں کی تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو حکم دیا ہے۔ سی ایم کھانڈو پر بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزامات ہیں۔ شنوائی کے دوران عدالت نے کہا کہ یہ ایک قابل ذکر ’اتفاق‘ہے کہ ورک آرڈر اور ٹینڈر کھانڈو خاندان کے ارکان کو ہی ملے۔
دہلی کے اتم نگر علاقے میں ہولی پر ایک مسلم خاتون پر غبارہ پھینکنے کے معاملے پر ہوئے جھگڑے میں 26 سالہ ترون کے قتل کے بعد اتوار کو ایم سی ڈی نے کلیدی ملزمین کے گھر کے کچھ حصوں کو تجاوزات قرار دیتے ہوئے منہدم کر دیا۔ وہیں، ملزم خاندان کا کہنا ہے کہ قتل انہوں نے نہیں کیا۔ ترون کا خاندان انصاف کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ملزم خاندان کی ایک رکن کا کہنا ہے کہ پڑوسیوں کے جھگڑے کو مذہبی جھگڑا بنا دیا گیا ہے۔
دہلی کی ایک عدالت نے مبینہ ایکسائز پالیسی گھوٹالے کے تمام 23 ملزمان – جن میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا بھی شامل ہیں – کو الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ایجنسی کے شواہد کی تائید کے لیے ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس مواد نہیں ملا ہے۔
ہوگلی ضلع سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن امت نندی کو 14 فروری کو گرفتار کیا گیا۔ ایک سب-انسپکٹر کی شکایت پر ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں فیس بک پوسٹ کا ذکر ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نندی نے ایک ٹریفک پوسٹ پر لگے سڑک تحفظ کے پیغام کا مذاق اڑایا تھا۔
سپریم کورٹ نے نوئیڈا واقع دوا ساز کمنی میرین بایوٹیک کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اگر دائرہ اختیار کی پابندی نہ ہوتی تو کمپنی پر اس سے بھی زیادہ سنگین الزامات عائد کیے جا سکتے تھے۔ عدالت نے مزید کہا کہ 2022 میں ازبیکستان میں 18 بچوں کی ہلاکت کے لیے ذمہ دار پائے جانے پر کمپنی کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی چلایا جانا چاہیے تھا۔
دہشت گردی کے معاملے میں اپنے موکلوں کی جانب سے اقرار جرم کی درخواستیں دائر کیے جانے کے بعد بھی ان کا دفاع کرنے کے حوالے سے وکیلوں کے پاس الگ-الگ وجوہات ہیں، لیکن وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ این آئی اے ہی ان درخواستوں کو فروغ دے رہی ہے اور حتیٰ کہ اس کے لیے دباؤ بھی بنا رہی ہے۔
وہ اونچائی، جہاں سے اسے دھکیلا گیا تھا، اتنی زیادہ تھی کہ گرتے وقت اسے چیخنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ جب پولیس والے اسے بازو سے پکڑ کر باہر لے جانے لگے، تو اس نے مڑ کر جج کے پیچھے لگی ہوئی اس ترازو کی تصویر کو دیکھا۔ اسے لگا کہ ترازو کے دونوں پلڑے برابر نہیں ہیں، بلکہ ایک پلڑے میں ریاست کا پورا بوجھ ہے اور دوسرے میں ایک نوجوان لاش، جو ابھی سانس لے رہی ہے۔
یو جی سی کے ضوابط میں کئی خامیاں موجود ہیں اور انہیں مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، تاہم، اعلیٰ ذات کی لابی اور اس کی پشت پناہی کرنے والے میڈیا نے ملک بھر میں ایسا مصنوعی اور گمراہ کن ماحول قائم کر دیا ہے، گویا یو جی سی نے اعلیٰ ذات کے خلاف امتیاز برتنے کا کوئی دروازہ کھول دیا ہو، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
این آئی اے کے متاثر کن کنوکشن ریٹ یعنی سزا یابی کی اعلیٰ شرح کے تناظر میں ملزمین، ان کے وکیل اور ایجنسی سے وابستہ رہے ایک شخص نے دی وائر کو بتایا کہ آخر کیوں این آئی اے کے اتنے سارے معاملے ملزمین کے اقرار جرم کی درخواستوں کے بعد انہیں قصوروار تسلیم کرلینے کے ساتھ ہی انجام کو پہنچتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے شوہر کو کھوچکی خاتون کو سسر کی طرف سے دیے جانے والے گزارہ بھتہ سے متعلق ایک کیس میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے منو اسمرتی کے اس اشلوک کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ماں، باپ، بیوی اور بیٹے کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے اور جو بھی ایسا کرتاہے اسے سزا ملنی چاہیے۔
سپریم کورٹ نے غیر سرکاری تنظیم لوک پرہری کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر غور کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کو قانونی چارہ جوئی سے تاحیات استثنیٰ دینے والے قانون کے حوالے سے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ایسی چھوٹ، جو صدر یا گورنرز کو بھی حاصل نہیں ہے، انتخابی عہدیداروں کو نہیں دی جانی چاہیے۔
فروری 2020 کے دہلی فسادات کے پس پردہ مبینہ ‘بڑی سازش’ کے معاملے میں پچھلے پانچ سالوں سے جیل میں بند گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، محمد سلیم خان اور شفا الرحمان کو بدھ کی شام رہا کر دیا گیا۔
گزشتہ دنوں اناؤ ریپ کیس میں سپریم کورٹ نے سروائیور کو بڑی راحت دیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ملزم کلدیپ سنگھ سینگر کو ضمانت دینے کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ دریں اثنا، متاثرہ کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی کارروائی ہندی میں ہو، تو وہ اپنا مقدمہ خود لڑتے ہوئے دنیا کے سامنے ساری سچائی لا دیں گی۔
حالیہ برسوں میں عیسائیوں کے خلاف مہم میں تیزی آئی ہے۔ ہندوستان کی آبادی کے صرف 2.3 فیصد عیسائی ہیں۔ ہندوستان کی آبادی میں ان کا حصہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی رہا ہے۔ تو پھر تبدیلی مذہب کی وجہ سے عیسائیوں کی آبادی میں دھماکہ خیز اضافہ کا خطرہ اتنا حقیقی کیوں لگتا ہے؟
سپریم کورٹ کی جانب سے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو غیر آئینی قرار دینے کے بعد الیکٹورل ٹرسٹ کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو ملنے والا کارپوریٹ چندہ 2024-25 میں تین گنا بڑھ کر 3,811 کروڑ روپے پہنچ گیا ہے۔ نو الیکٹورل ٹرسٹوں نے مجموعی طور پر3,811.37 کروڑ کا چندہ دیا ہے، جس میں سے مرکز میں حکمراں بی جے پی کو3,112.50 کروڑ روپے ملے، جو کل چندے کا تقریباً 82 فیصد ہے۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی آے) کی جانب سے 100 فیصد سزایابی کی شرح کا دعویٰ کرنے کے ایک سال بعد دی وائر کی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ طویل مدتی حراست، ضمانت سے انکار اور تفتیش کاروں کے دباؤ کی وجہ سے درجنوں ملزمین، جن میں بیشتر مسلمان ہیں، اپنا مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی خود کو مجرم مان لینے کو مجبور ہو رہے ہیں۔
بی جے پی کو 2024-25 میں مختلف الیکٹورل ٹرسٹوں سے 959 کروڑ روپے کا سیاسی چندہ ملا، جن میں سے تقریباً 757 کروڑ روپے، جو اس پارٹی کو موصول ہوئے کل چندے کا 83 فیصد ہے، ٹاٹا گروپ کے زیر کنٹرول پروگریسو الیکٹورل ٹرسٹ سے آئے۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 15 ستمبر 2025 کو بی جے پی آسام یونٹ نے اپنے آفیشل ایکس ہینڈل پر ایک ویڈیو شیئر کیا، جس میں یہ ‘گمراہ کن اور جھوٹا بیانیہ’ پیش کیا گیا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں نہیں رہی تو مسلمان آسام پر قبضہ کر لیں گے۔ اس ویڈیو کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ کے مطابق، اس وقت سپریم کورٹ میں 69,553 دیوانی اور 18,864 فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں۔ اگست 2025 میں دائر کیے گئے نئے مقدمات کی تعداد (7,080) نمٹائے گئے مقدمات کی تعداد – 5667 سے زیادہ رہی۔
سپریم کورٹ نے 22اگست کو دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن، کنسلٹنگ ایڈیٹر کرن تھاپر اور تمام ملازمین کو بی این ایس کی دفعہ 152 کے تحت گوہاٹی پولیس کی جانب سے درج کیس میں کسی بھی تعزیری کارروائی سے تحفظ فراہم کیا ہے۔ تین ماہ میں آسام پولیس کی طرف سے ادارے کے خلاف سیڈیشن کے قانون کے تحت درج کیا گیا یہ دوسرا معاملہ ہے۔
آسام پولیس کی طرف سے دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور کنسلٹنگ ایڈیٹر کرن تھاپر کو طلب کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی ایف آئی آر کئی دنوں کی آن لائن اور آف لائن کوششوں کے بعد بالآخر بدھ (20 اگست) کو مل سکی، جس میں دی وائر سے وابستہ کئی صحافیوں اور کالم نگاروں کو نامزد کیا گیاہے۔
گوہاٹی کرائم برانچ نے ریاستی پولیس کی جانب سے درج کیے گئے ایک نئے ‘سیڈیشن’ کیس میں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور سینئر صحافی کرن تھاپر کو سمن جاری کیا ہے۔ تاہم ،ایف آئی آر کی تاریخ، مبینہ جرم کی جانکاری اور ایف آئی آر کی کوئی کاپی فراہم نہیں کی گئی ہے۔
پریس کلب آف انڈیا اور انڈین ویمن پریس کور نے آسام پولیس کی طرف سے دی وائر اور اس کے صحافیوں کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر پر مایوسی کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی بی این ایس کی سخت دفعہ 152 کو ‘پریس کو خاموش کرنے کا ہتھیار’ قرار دیا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مذکورہ معاملے اسی دفعہ کے تحت درج کیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے تنازعہ اور ‘ووٹ چوری’ کے الزامات کی وضاحت پیش کی، لیکن اہم سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ راہل گاندھی سے حلف نامہ طلب کیا گیا، جبکہ بی جے پی ایم پی انوراگ ٹھاکر پر خاموشی اختیار کی گئی۔ غیر ملکی تارکین وطن، دستاویزوں اور ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں پر کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔
بہار کے ووٹر دیکھ رہے ہیں کہ کون ان کے حقوق کی حفاظت کر رہا ہے اور کون ان کی خاموشی کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔آنے والے انتخابات نہ صرف حکومت بدلنے کی لڑائی ہوں گے بلکہ اس میں اس بات کا بھی امتحان ہوگا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جمہوریت کی کسوٹی پر میں کون کھرا اترتا ہے۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ بہار ایس آئی آر کے ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ناموں کو اپنی ویب سائٹ پر ہٹانے کی وجوہات کے ساتھ شائع کرے۔ نیز، اس عمل کے لیے تسلیم شدہ دستاویزوں میں آدھار کو شامل کرے۔
سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں تقریباً تین سال پہلے ہوئے ہریانہ کے پانی پت کی ایک گرام پنچایت کے سرپنچ کے انتخاب کے نتائج کو تبدیل کر دیا ہے۔ یہ ملک کا پہلا معاملہ بتایا جا رہا ہے، جہاں عدالت عظمیٰ نے الیکشن میں استعمال ہونے والی ای وی ایم اور دیگر ریکارڈ کو طلب کیا اور اپنے احاطے میں ہی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروائی، جس کے بعد نتائج پلٹ گئے۔