انڈین اکانومی

منموہن سنگھ/ فوٹو: رائٹرس

میں ایسا وزیر اعظم نہیں تھا جو میڈیا سے بات کرنے میں ڈرتا ہو: منموہن سنگھ

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ وہ باقاعدگی سے پریس سے بات کرتے تھے اور ہر غیر ملکی سفر کے بعد پریس کانفرنس کرتے تھے۔ سنگھ کے اس بیان کو میڈیا سے بات چیت نہ کرنے کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Jobs-Mange-India_CPIML

رویش کا بلاگ: 5 ہزار کروڑ کے اشتہارات کے نیچے چھپا ہے 35 لاکھ لوگوں پر نوٹ بندی کی مار کا درد

میں گزشتہ دنوں دہلی اور ممبئی میں کئی لوگوں سے ملا ہوں جن کا نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے پہلے اچھاخاصہ کاروبار چل رہا تھا مگر اس کے بعد وہ برباد ہو گئے۔ کسی کا 60 لاکھ کا پیمنٹ پھنس گیا تو کسی کا آرڈر اتنا کم ہو گیا کہ وہ برباد ہو گیا۔ ان میں سے کئی لوگ اولا ٹیکسی چلاتے ملے جو نوٹ بندی کے پہلے 200سے300 لوگوں کو کام دیا کرتے تھے۔

سابق انفارمیشن کمشنر شری دھر آچاریولو۔ (فوٹو بشکریہ : فیس بک)

حکومت سینٹرل انفارمیشن کمشنر کو مقدموں کے ذریعے ڈرا رہی ہے: سابق انفارمیشن کمشنر

سابق انفارمیشن کمشنر شری دھر آچاریولو نے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو خط لکھ‌کر کہا ہے کہ سینٹرل انفارمیشن کمیشن کو حکومت کے ذریعے اس کے خلاف دائر مقدموں کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

پی ایم او نے وزراء کے خلاف کرپشن کی شکایتوں کی جانکاری دینے سے کیا انکار

گزشتہ اکتوبر مہینے میں سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے وزیر اعظم دفتر کو 2014 سے 2017 کے درمیان مرکزی وزراء کے خلاف ملی بد عنوانی کی شکایتوں، ان پر کی گئی کارروائی اور بیرون ملک سے لائے گئے بلیک منی کے بارے میں جانکاری دینے کا حکم دیا تھا۔

انفارمیشن کمشنر شری دھر آچاریولو (فوٹو :بشکریہ  فیس بک / رائٹرس)

سی آئی سی کو شرمندہ ہونا چاہیے کہ آر بی آئی اس کے حکم کو نہیں مان رہا: انفارمیشن کمشنر

انفارمیشن کمشنر شری دھر آچاریولو نے چیف انفارمیشن کمشنر آر کے ماتھر کو خط لکھ‌کر کہا کہ آر بی آئی کے ذریعے جان بوجھ کر قرض نہ چکانے والے لوگوں کی جانکاری نہیں دینے پر سینٹرل انفارمیشن کمیشن کو سخت قدم اٹھانا چاہیے۔

FILE PHOTO: A security personnel member stands guard at the entrance of the Reserve Bank of India (RBI) headquarters in Mumbai, India, August 2, 2017. REUTERS/Shailesh Andrade/File Photo

سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی، آر بی آئی نے 3 سال بعد بھی نہیں بتایا ٹاپ 100 ڈیفالٹرس کے نام

اسپیشل رپورٹ : سپریم کورٹ نے تین سال پہلے دسمبر 2015 میں آر بی آئی کی تمام دلیلوں کو خارج کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آر بی آئی ملک کے ٹاپ 100 ڈفالٹرس کے بارے میں جانکاری دے اور اس سے متعلق اطلاع ویب سائٹ پر اپلوڈ کرے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

سی آئی سی کا حکم،رگھو رام راجن کے ذریعے بھیجی گئی گھوٹالے بازوں کی فہرست پر حکومت جانکاری دے

سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) نے 50 کروڑ روپے اور اس سے زیادہ کا قرض لینے اور جان بوجھ کر اس کو ادا نہیں کرنے والوں کے نام کے بارے میں اطلاع نہیں مہیا کرانے کو لے کر آر بی آئی گورنر ارجت پٹیل کو وجہ بتاؤ نوٹس بھیجا ہے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

آر ٹی آئی میں ہوا انکشاف : رگھو رام راجن نے مودی کو بھیجی تھی این پی اے گھوٹالےبازوں کی فہرست، کارروائی پر حکومت کی چپی

دی وائر کی اسپیشل رپورٹ: ایک آر ٹی آئی کے جواب میں آر بی آئی نے بتایا کہ سابق آر بی آئی گورنر رگھو رام راجن نے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت وزارت خزانہ کو این پی اے گھوٹالےبازوں کی فہرست بھیجی تھی۔ فہرست کے تعلق سے ہوئی کارروائی پر جانکاری دینے سے مرکزی حکومت نے انکارکیاہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ : مالیا کو’مالیا‘کس نے بنایا ؟

وجے مالیا نے ہر پارٹی کی مدد سے خود کو راجیہ سبھا میں پہنچا کر ہندوستان کی پارلیامانی روایت پر احسان کیا ۔میں مالیا کا اس وجہ سے احترام کرتا ہوں ۔ اس معاملے میں میں پرو-مالیا ہوں ۔کیا مالیا بہت بڑے سیاسی مفکر تھے؟ جن جن لوگوں نے ان کو پارلیامنٹ پہنچایا وہ آکر سامنے بولیں تو ون سنٹینس میں !

(فوٹو : پی ٹی آئی / رائٹرس)

رویش کا بلاگ : NPA تنازعہ میں عوام اسی طرح الو بن رہی ہے جیسے ہندومسلم معاملے میں بنتی ہے

اگر یہ سیاسی تنازعہ کسی بھی طرح سے اقتصادی جرم کا ہے تو دس لاکھ کروڑ روپے لےکر فرار مجرموں کے نام لئے جانے چاہیے۔ کس کی حکومت میں لون دیا گیا یہ تنازعہ ہے، کس کو لون دیا گیا اس کا نام ہی نہیں ہے۔

نریندر مودی کے ساتھ رگھو رام راجن (فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ : این پی اے کو لےکریو پی اے اور این ڈی اے کی پالیسیوں کوئی فرق نہیں ہے

کچھ امیر صنعت کار اور امیر ہوتے رہے، عوام ہندو-مسلم کرتی رہی، اس لئے کانگریس بھی نہیں بتاتی ہے کہ وہ جب اقتدار میں آئے‌گی تو اس کی الگ اقتصادی پالیسی کیا ہوگی۔ بی جے پی بھی یہ سب نہیں کرتی ہے جبکہ وہ اقتدار میں ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ رگھو رام راجن (فائل فوٹو : پی آئی بی)

رگھو رام راجن نے پی ایم او کو دی تھی این پی اے سے جڑے گھوٹالےبازوں کی فہرست، لیکن نہیں ہوئی کارروائی

پارلیامنٹ کی Estimates Committee کو بھیجے خط میں آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے ان طریقوں کے بارے میں بتایا ہے جن کے ذریعے بےایمان بزنس گھرانوں کو حکومت اور بینکنگ نظام سے گھوٹالہ کرنے کی کھلی چھوٹ ملی۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور صنعت کار مکیش امبانی کی ایک پروگرام کے دوران کی تصویر/ (فوٹو : رائٹرس)

رویش کا بلاگ : کیا ’چوکیدار جی ‘نے امبانی کے لئے چوکیداری کی ہے؟

وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے شروعاتی اصولوں میں امبانی کے جیو انسٹی ٹیوٹ کو مشہور ادارے کا ٹیگ نہیں مل پاتا۔ یہاں تک کہ وزارت خزانہ نے بھی خبردار کیا تھا کہ جس ادارے کا کہیں کوئی وجود نہیں ہے اس کو’ انسٹی ٹیوٹ آف ایمننس ‘ کا درجہ دینا دلیلوں کے خلاف ہے۔

فوٹو: رائٹرس

ریزرو بینک کے ذریعے این پی اے روکنے کے لیے کارروائی نہیں کرنے پر پارلیامانی کمیٹی نے اٹھائے سوال

سینئر کانگریسی رہنما ایم ویرپا موئلی کی قیادت والی فنانس پر پارلیامنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی اس رپورٹ کو منظور کرلیا ہے ۔ اس کو پارلیامنٹ کے ونٹر سیشن میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

سابق آر بی آئی گورنر وائی وی ریڈی (فوٹو : پی ٹی آئی)

ریزرو بینک کے سابق گورنر نے پی این بی گھوٹالے  پر حکومت کو لتاڑا

سابق گورنر وائی وی ریڈی نے کہا کہ بینکنگ گھوٹالوں میں ہونے والے نقصان کی بھرپائی ٹیکس دینے والے کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت کی ملکیت والے بینکوں کو اپنا پیسہ سونپا، ان کو حکومت سے اس پر جواب مانگنا چاہیے۔