پارلیامانی کمیٹی

(فائل فوٹو : رائٹرس)

این پی اے معاملہ : رگھو رام راجن کی رپورٹ رسوخ داروں پر سرکاری مہربانی کا دستاویز ہے

اب یہ دیکھا جانا باقی ہے کہ کیا مودی حکومت ان بڑے کارپوریٹ گھرانوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے، جو آنے والے عام انتخابات میں نامعلوم انتخابی بانڈس کے سب سے بڑے خریدار ہو سکتے ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ : مالیا کو’مالیا‘کس نے بنایا ؟

وجے مالیا نے ہر پارٹی کی مدد سے خود کو راجیہ سبھا میں پہنچا کر ہندوستان کی پارلیامانی روایت پر احسان کیا ۔میں مالیا کا اس وجہ سے احترام کرتا ہوں ۔ اس معاملے میں میں پرو-مالیا ہوں ۔کیا مالیا بہت بڑے سیاسی مفکر تھے؟ جن جن لوگوں نے ان کو پارلیامنٹ پہنچایا وہ آکر سامنے بولیں تو ون سنٹینس میں !

(فوٹو : پی ٹی آئی / رائٹرس)

رویش کا بلاگ : NPA تنازعہ میں عوام اسی طرح الو بن رہی ہے جیسے ہندومسلم معاملے میں بنتی ہے

اگر یہ سیاسی تنازعہ کسی بھی طرح سے اقتصادی جرم کا ہے تو دس لاکھ کروڑ روپے لےکر فرار مجرموں کے نام لئے جانے چاہیے۔ کس کی حکومت میں لون دیا گیا یہ تنازعہ ہے، کس کو لون دیا گیا اس کا نام ہی نہیں ہے۔

نریندر مودی کے ساتھ رگھو رام راجن (فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ : این پی اے کو لےکریو پی اے اور این ڈی اے کی پالیسیوں کوئی فرق نہیں ہے

کچھ امیر صنعت کار اور امیر ہوتے رہے، عوام ہندو-مسلم کرتی رہی، اس لئے کانگریس بھی نہیں بتاتی ہے کہ وہ جب اقتدار میں آئے‌گی تو اس کی الگ اقتصادی پالیسی کیا ہوگی۔ بی جے پی بھی یہ سب نہیں کرتی ہے جبکہ وہ اقتدار میں ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ رگھو رام راجن (فائل فوٹو : پی آئی بی)

رگھو رام راجن نے پی ایم او کو دی تھی این پی اے سے جڑے گھوٹالےبازوں کی فہرست، لیکن نہیں ہوئی کارروائی

پارلیامنٹ کی Estimates Committee کو بھیجے خط میں آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے ان طریقوں کے بارے میں بتایا ہے جن کے ذریعے بےایمان بزنس گھرانوں کو حکومت اور بینکنگ نظام سے گھوٹالہ کرنے کی کھلی چھوٹ ملی۔

فوٹو: رائٹرس

ریزرو بینک کے ذریعے این پی اے روکنے کے لیے کارروائی نہیں کرنے پر پارلیامانی کمیٹی نے اٹھائے سوال

سینئر کانگریسی رہنما ایم ویرپا موئلی کی قیادت والی فنانس پر پارلیامنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی اس رپورٹ کو منظور کرلیا ہے ۔ اس کو پارلیامنٹ کے ونٹر سیشن میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

Children-March-against-alarming-levels-of-pollution-in-Delhi-PTI-2

دہلی : پانچ سالوں میں فضائی آلودگی نے لی 981 لوگوں کی جان، 17 لاکھ لوگ ہوئے متاثر

دہلی میں 2013 سے 2017 کے بیچ اکیوٹ ریسپریٹری انفیکشن (اے آر آئی )کی وجہ سے 981 لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی اور قریب 17 لاکھ لوگ اس بیماری سے متاثر پائے گئے۔ پارلیامنٹ میں منگل کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی ایک رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے۔

Photo: wikimedia commons

ثقافتی اداروں کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہےحکومت: پارلیامانی کمیٹی

نیشنل میوزیم آف ماڈرن آرٹ، نیشنل لائبریری سمیت ملک کے کئی اہم ثقافتی اداروں میں، ڈائرکٹر کے عہدے خالی ہیں۔ نئی دہلی:نیشنل میوزیم آف ماڈرن آرٹ،نیشنل لائبریری،سالار جنگ میوزیم سمیت ملک کے کئی اہم ثقافتی اداروں میں ڈائرکٹروں کے عہدےخالی ہونے پر اپنی تشویش کااظہار کرتے ہوئے ایک […]