Encephalitis

بہار کے ہری ونش پور گاؤں میں گرفتار کئے گئے لوگوں کے رشتہ دار (فوٹو بہ شکریہ: اے این آئی)

بہار : چمکی بخار سے بچوں کی موت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے 39 لوگوں پر مقدمہ درج

گزشتہ18 جون کو وزیراعلی نتیش کمار کے مظفرپور دورے پر جانے کے دوران ہری ونش پور گاؤں کے لوگوں نے چمکی بخار سے بچوں کی موت اور پانی کی کمی کو لےکر سڑک کا گھیراؤ کیا تھا، جس کی وجہ سے پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے۔ نامزدلوگوں میں تقریباً آدھے درجن وہ لوگ ہیں جن کے بچوں کی موت چمکی بخار سے ہوئی ہے۔

Media Bol 24 June Thumbnail without text

میڈیا بول: مظفر پور میں بچوں کی موت پر حکومت کی بے فکری اور میڈیا کا مزاج

ویڈیو: بہار کے مظفر پور میں چمکی بخار سے ہو رہی بچوں کی موت پر حکومت کی بے فکری اور مین اسٹریم میڈیا کی سطحی صحافت پر جے این یو کے پروفیسر ڈاکٹر وکاس باجپئی اور سینئر صحافی براج سوین سے ارملیش کی بات چیت۔

safe_image

چمکی بخار: مرض تو پرانا ہے پھر حکومتوں کی جانب سے اتنی لاپروائی کیوں ؟

اے ای ایس/جے ای کے بارے میں جب مرکز-ریاستی حکومتیں اور ان کے وزیر بڑے-بڑے اعلان کرتے ہیں تو ان حقائق کو ضرور دھیان میں رکھانا چاہیے اور ان سے سوال پوچھا جانا چاہیے کہ اس بیماری سے جب اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی موت ہو رہی ہے تو اس بیماری کی روک تھام کی تدبیروں پر عمل کرنے میں اتنی سستی کیوں ہے

فوٹو: پی ٹی آئی

کیا ہے چمکی بخار، جس نے بہار کے 100 سے زائد بچوں کی جان لے لی؟

ایکیوٹ انسفلائٹس سنڈروم (Acute Encephalitis Syndrome) یعنی اے ای ایس(دماغی بخار )کا دائرہ بہت وسیع ہے، جس میں کئی انفیکشن شامل ہوتے ہیں اور یہ بچوں کو متاثر کرتا ہے۔بہار میں گزشتہ 20 دنوں میں اس کے 350 سے زیادہ معاملے سامنے آچکے ہیں ۔

نتیش کمار/ (فوٹو بشکریہ : ٹوئٹر / @thevoiceofbihar)

بہار: دماغی بخار سے موت کا سلسلہ جاری،18 دن بعد مظفر پور پہنچے نتیش کمار

وزیر اعلیٰ کے دورے کے مد نظر ہاسپٹل میں سکیورٹی کے پختہ انتظامات کیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود لوگوں نے ہاسپٹل کیمپس کے باہر جم کر نعرے بازی کی۔لوگوں نے نتیش واپس جاؤ، مردہ باد اور ہائے ہائے کے نعرے لگاتے ہوئے احتجاج کیا۔

gorakhpur

گورکھپور میڈیکل کالج میں دماغی بخار سے مرنے والوں کی تعداد میں  کمی کا سچ کیا ہے؟

اترپردیش حکومت اگر دماغی بخار سے اموات میں کمی آنے کا دعویٰ کر رہی ہے تو اس کو پچھلے پانچ سالوں کی اگست مہینے تک گورکھپور واقع بی آر ڈی میڈیکل کالج میں مریضوں کی تعداد اور اموات کی رپورٹ جاری کرنی چاہیے۔