Gandhi

بھانو اتھیا۔ (فوٹو بہ شکریہ : فیس بک/@ThirdVantagePoint)

ہندوستان کی پہلی آسکر ایوارڈ جیتنے والی بھانو اتھیا کا انتقال

بھانو اتھیانےپانچ دہائی کےاپنےلمبےکریئرمیں100سےزیادہ فلموں کےلیے بطورکاسٹیوم ڈیزائنر اپنی خدمات دیں تھیں۔ انہیں گلزار کی فلم ‘لیکن’ اور آشوتوش گواریکر کی فلم ‘لگان’کے لیے نیشنل ایوارڈ بھی مل چکا تھا۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ کا مہاتما گاندھی کو بھارت رتن دینے کو لے کر دائر عرضی پر غور کرنے سے انکار

سپریم کورٹ نے درخواست گزار کی اپیل سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی عوام بابائے قوم مہاتما گاندھی کو کسی بھی رسمی اعزاز سے زیادہ بلند مقام پر رکھتی ہے۔ سماعت سے انکار کرتے ہوئے عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بارے میں مرکزی حکومت کو رپورٹ دے سکتے ہیں۔

(فوٹو : وکی میڈیا کامنس)

رام چندر گہا کا کالم:کیا ہندوستانی کمیونسٹ پارٹیوں کا کوئی مستقبل ہے؟

لوک سبھا چناؤکے بعد مختلف کمیونسٹ پارٹیوں کو ‘متحد’ کرنے اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر لانے کی بات ہو رہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ایک نئی اور متحدہ پارٹی کے لیے ایک نئے نام کی ضرورت ہوگی۔ میرا مشورہ ہے کہ اس نئی پارٹی کے نام میں سے ‘کمیونسٹ’ کا لفظ ہٹا دیا جائے۔ اس کے بجائے اسے ‘ڈیموکریٹک سوشلسٹ’ سے منسوب کیا جائے۔ یہ لیفٹ کے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی جانب پہلا قدم ہوگا۔

(علامتی فوٹو : پی ٹی آئی)

رام چندر گہا کا کالم: سچی حب الوطنی کو دکھاوے کی ضرورت کیا ہے؟

راقم کی کام کاجی زندگی کا بیشتر حصہ ایسے مرد و خواتین کے بارے میں لکھتے ہوئے گزرا، جنہوں نے اس ملک کی تعمیر کی۔ ایسے مرد و خواتین جنہیں اپنی خدمات کا مظاہرہ کرنے کے لیے کبھی ‘دیش بھکتی’ کا لبادہ اوڑھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔یہ ان کے کام تھے، جنہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ ہندوستان کے کیسے خدمت گزار سپوت تھے۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے منہ سے کبھی کچھ نہیں کہا۔

مارٹن لوتھر کنگ، فوٹو: وکیپیڈیا

رام چندر گہا کا کالم: مارٹن لوتھر کنگ کے نام ایک دلت ہندوستانی کا خط

ہندوستان میں دلت طلبا کے لیے ریزرویشن کی سہولت ہے، لیکن جو ملک سے باہر پڑھائی کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے کوئی سہولت نہیں ہے۔ ہندوستانی سرکار ہر سال کچھ لوگوں کو پڑھائی کے لیے باہر بھیجتی ہے، لیکن اس میں پسماندہ طبقات کو کوئی خصوصی رعایت نہیں دی گئی ہے۔ اسکالرشپ عموماً سماج کے اونچے اور مالدار طبقے کے لوگ لے جاتے ہیں۔

فوٹو : سوشل میڈیا

رام چندر گہا کا کالم: نریندر مودی اور امت شاہ کی آمرانہ گرفت میں آنے سے قبل بھی ایک گجرات تھا…

آمر اور آمریت آنی جانی چیزیں ہیں؛ جبکہ جذبہ حریت و آزادی پائیدار اور مستحکم ہوتا ہے۔ نریندر مودی و امت شاہ کی آمرانہ گرفت میں آنے سے قبل ایک گجرات تھا۔ جیسے ہی یہ گرفت کمزور ہوگی؛ ایک نئے اور آزاد گجرات کا طلوع ہوگا۔ میں اسی گجرات کو دیکھنے اور (اس میں بولنے) کے انتظار میں ہوں۔

مہاتما گاندھی۔  (فوٹو : رائٹرس)

’ گاندھی کے قتل سے متعلق دستاویز تک رسائی کو ممکن بنایا جائے‘

ایک آر ٹی آئی کے حوالے سےکمیشن  نے کہا ؛ نیشنل آرکائیو آف انڈیاکو مہاتما گاندھی کے قتل کے رکارڈ تک آسانی سے رسائی کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی اور قومی تحریک کے بارے میں اطلاعات کو لےکر ایک میکانزم تیار کرنا چاہئے۔ نئی دہلی:سینٹرل انفارمیشن کمیشن […]

Don`t copy text!