Author Archives

اپوروانند

کیا ووٹ اب ہر شہری کا حق نہیں رہا …

جمہوری حق سے محروم رائے دہندگان کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اہم نہیں تھے۔ یہ جمہوریت میں کسی کے ساتھ کی جانے والی  سب سے بڑی ناانصافی تھی، مگر غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا کہ وہ یہ اعلان کرتیں کہ جب تک ان لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق نہیں دیا جاتا، وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔ اگر سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ رائے دہندگان ان کے ساتھ کھڑے ہوں، تو پہلے انہیں یہ دکھانا ہوگا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔

ہندوستان میں انتخابات کی شفافیت پر اٹھتے سوال

بنگال اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنے تمام وسائل بی جے پی کے لیے استعمال کیے۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو مکمل آزادی دے کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اگر عوام نے اس ماڈل کو قبول کر لیا تو ہندوستان میں انتخابات اسٹالن کے روس  میں ہونے والے انتخابات جیسے ہو جائیں گے، جہاں نتیجہ ووٹنگ سے پہلے ہی سب کو معلوم ہوگا۔

جنگ بندی سے آگے کا سوال: مستقل امن اور ہندوستان کی خاموشی

ایران بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے کہ سوال صرف جنگ بندی کا نہیں ، جنگ کبھی نہ ہو، اس کا ہے۔ اس کی ضمانت کون دے گا؟ دنیا میں ایسی کوئی اخلاقی قوت موجود نہیں جو مستقل امن کے لیے پہل کرنے کی ہمت رکھتی ہو۔ کبھی پوری دنیا میں اپنی اخلاقی آواز کی وجہ سے سنے  جانے والے ہندوستان کی بولتی بند ہے۔

اتم نگر میں نفرت کا ریلا اور سرکاری خاموشی

اتم نگر میں جو کچھ ہو رہا ہے – ہونے دیا جا رہا ہے یا کیا جا رہا ہے – وہ صرف غلط نہیں، جرم ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانا جرم ہے اور اس نفرت کو پھیلانے کی اجازت دینا اس جرم میں شریک ہونا ہے۔ معاشرے کے ہر طبقے کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں اس کا احساس دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پھر  وہ کیوں مسلمانوں کی حفاظت کے لیے خود کو جوابدہ نہیں مانتی؟

آسام نفرت کے حصار سے کیسے نکلے گا؟

ہمنتا بسوا شرما بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں، اسے وہ یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیتے ہیں کہ یہ مقامی اسامیا مسلمانوں کے خلاف نہیں صرف دراندازوں کے خلاف ہے۔ اگر مان بھی لیں کہ یہ مسلمان ٹھیٹ اسامیا نہیں ہیں، تو بھی ان کے خلاف تشدد کی ترغیب اور تشدد کی – کیا قانون اجازت دیتا ہے؟

اینجل چکما کی موت: کیا ہندوستان میں ہندوستانیت کی ڈھال کے بغیر زندہ رہنا محال ہے؟

تشدد کے تئیں ریاست کی رواداری کی پالیسی کے پیش نظر معاشرے میں تشدد کے کلچر کا پھیلنا کوئی حیران کن واقعہ نہیں ہے۔ کشمیری طلباء اور تاجروں پر حملے پر قومی خاموشی سے پتہ چلتا ہے کہ چونکہ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ وہ پورے ہندوستانی نہیں ہیں، اس لیے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ہم کسی نہ کسی طرح کسی کمیونٹی  اور افراد پر غیر ہندوستانیت کا الزام لگا سکتے ہیں اور انہیں مار سکتے ہیں۔

کرسمس سے پہلے تشدد اور حملے: کیا عیسائی ہندوستان کے لوگ نہیں ہیں؟

حالیہ برسوں میں عیسائیوں کے خلاف مہم میں تیزی آئی ہے۔ ہندوستان کی آبادی کے صرف 2.3 فیصد عیسائی ہیں۔ ہندوستان کی آبادی میں ان کا حصہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی رہا ہے۔ تو پھر تبدیلی مذہب کی وجہ سے عیسائیوں کی آبادی میں دھماکہ خیز اضافہ کا خطرہ اتنا حقیقی کیوں لگتا ہے؟

کیا وزیر اعلیٰ کو کسی کا چہرہ اس کی مرضی کے خلاف دیکھنے اور دکھانے کا حق حاصل ہے؟

نتیش کمار کی بدتمیزی اور بے حیائی کے دفاع میں دلائل پیش کیے جا رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کو خواتین مخالف یا مسلم مخالف نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انہوں نے دونوں کے حق میں بہت کام کیے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے کسی طرح میری مدد کی ہے تو میں آپ کو  اپنے ساتھ بدتمیزی کرنے کا حق دے دوں؟

اسکول کی ٹنکی میں کیڑے مار دوا: کیا بچوں سے محبت سے زیادہ مسلمانوں سے نفرت کا جذبہ قوی ہو چکا ہے؟

کرناٹک کا واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ کیا ہندو سماج نفرت میں اس قدر خودکش ہوچکا ہے کہ اپنے بچوں کی قربانی دینے کو تیار ہے اگر اس سے مسلمانوں کو اور ہراساں کرنے کا کوئی بہانہ ملتا ہو ؟

 خاموش عدالت جاری ہے، ہندوتوادیوں کی زبان بولتی ہے !

عدالت  اور سڑک کی بھیڑکے درمیان کافرق مٹ جانا تشویشناک ہے۔ یہ ایک نئی قوم پرستی کا بے ساختہ جنم ہے۔ نہرو پلیس کی بھیڑ منظم نہیں تھی۔ وہ لوگ شاید بجرنگ دل کے رکن نہیں تھے۔ لیکن جس طرح غزہ سے ہمدردی کی بات سن کر عدالت مشتعل ہوئی اسی طرح یہ  بھیڑ فلسطینی پرچم دیکھ کر بھڑک گئی۔

محمود آباد کے بہانے اب اشوکا یونیورسٹی پر حملہ

محمود آباد کے بہانے اب اشوکا یونیورسٹی پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ کیا ہم اس ادارے سےامید کر سکتے ہیں کہ یہ ہارورڈ کی طرح حکومت کے سامنے اٹھ کرکھڑا ہوجائے؟ شاید وہ روایت یہاں نہیں ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اس بار پھر سے اس ادارے کے آقا بی جے پی کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی قربانی دے دیں گے۔

آپریشن سیندور: بحران کے دوران قوم پرستی اور اجتماعی شعور کا امتحان

بائیس  اپریل کے بعد کے ہفتوں میں ثابت ہوا کہ ہم ایک سماج کے طور پر ہوش مند اور ذی شعور نہیں ہیں۔ کوئی بھی غیر معمولی واقعہ ہمیں جڑ سے ہلا دے سکتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں غصے کی جو نئی لہر دہشت گردی اور پاکستان مخالف جذبات کے نام پر دیکھی گئی اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ مسلمانوں سے نفرت ہے۔

مسلمان افسر محض علامت، اس سے کمیونٹی کے تئیں حکومت کی بے رخی نہیں دھل پائے گی

جس حکومت نے اب صوفیہ قریشی کو اپنا چہرہ بناکرپیش کیا ہے، وہ ایک فوجی کی بیوی کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔ صرف اس لیےاسےتنہا چھوڑ دیا گیا کہ وہ اپنی  تکلیف کے ساتھ اور اس کے باوجودمسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی۔

ٹرول کی منظم مہم میں ہمانشی کی فطری انسانی اخلاقیات کا سامنا کرنے کی قوت نہیں ہے

ہمانشی نروال کے بیان میں انسانیت کو بیدار کرنے کی جو طاقت تھی، اس  سے خوفزدہ ہندوتوا  گروہ کی جانب سے ان  کی ساکھ کو ختم کرنے کے لیےمذمتی مہم چلائی جا رہی ہے۔ یہ ایک عام ہندو کے لیے آزمائش کا وقت ہے؛  وہ ہمانشی کے ساتھ کھڑا ہوگا یا ان پر حملہ آور اس گروہ کے ساتھ؟

جب زندگی کے تمام فیصلے ذات پات کی بنیاد پر، تو پھر ذات پر مبنی مردم شماری کی مخالفت کیوں؟

پہلگام میں دہشت گردانہ تشدد کے اشتعال کے درمیان ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کیا گیا ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ پانچ سال تک کشمیر کو اپنے قبضے میں رکھنے کے بعد بھی بی جے پی حکومت سیاحوں کی حفاظت کیوں نہیں کر سکی؟ اس سوال سے توجہ ہٹانے کے لیے حکومت نے اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو موضوع دیتے ہوئے ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کر دیا ہے۔

مودی آر ایس ایس کے حقیقی ’سپوت‘ ہیں اور سنگھ مودی سے سب سے زیادہ فیض اٹھانے والا

آر ایس ایس کے جن خیالات کو پردے میں رکھ کر اٹل بہاری یا لال کرشن اڈوانی پیش کیا کرتے تھے، ان کو مودی کے منہ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سنا جا سکتا ہے۔ اور مودی کی وجہ سے بہت سے دانشور اور صنعتکار آر ایس ایس کی سلامی بجاتے ہیں۔ آر ایس ایس کواور کیا چاہیے؟

ہندوستانی ریاست مسلمانوں کی ہر سرگرمی کو مجرمانہ فعل کی طرح  پیش کر رہی ہے

پہلے ہم ہندوتوا کے حامیوں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد پھیلاتے ہوئے دیکھتے تھے، اب ہم پولیس اور انتظامیہ کو یہی کرتے دیکھ رہے ہیں۔ پولیس مسلمانوں کو اندھیرے میں دھکیلنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ہندوستان کے ہندوائزیشن کا یہ آخری مرحلہ ہے، جہاں سرکاری مشینری مسلمانوں کو مجرم بنانے کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہے۔

سوغات مودی: خون سے لتھڑا ہاتھ اپنے شکار کے منہ میں مٹھائی ٹھونس رہا ہے

مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہندو سماج کے مزاج کا لازمی عنصر بنانے کی مہم نریندر مودی کی قیادت میں کامیاب رہی ہے۔ قاتل کو مقتول کا سرپرست بناکر پیش کرنے سے بڑھ کر بے شرمی بھلا اور کیا ہو سکتی ہے۔

تہوار کی نئی تعریف: مسلم مخالف ہندو اجتماعیت کا جشن

پچھلے دس سالوں سے ہندو تہوار مسلمانوں کی مخالفت کا وسیلہ بن چکے ہیں۔ ہندوؤں کے لیے تہوار منانے کا مطلب یہی رہ گیا ہے وہ جلوس نکالیں اور مسلمانوں کو گالی دیں۔ مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے گانے بجائیں اور ان کے خلاف تشدد کے لیے اشتعال پیدا کریں۔

ہولی اور مسلمان: کیا نفرت کا بُرا نہ مانیں، جیسے ہولی کی گالیوں کا نہیں مانتے !

انج چودھری نے جمعہ کا ذکر کرتے ہوئے اشارہ کیا کہ مسلمانوں کو ہولی کے رنگ سے اعتراض ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اعتراض دوسروں کو بھی ہو سکتا ہے- کچھ کو رنگ سے الرجی ہو سکتی ہے، کچھ کو رنگ پسند نہیں ہو سکتا۔ ضروری نہیں کہ یہ سب مسلمان ہوں۔ جو نہیں چاہتے انہیں رنگ لگانے کی ضد کیوں؟

نصاب میں منواسمرتی اور بابر نامہ: یونیورسٹی پڑھائی کی جگہ ہے، کیرتن کی نہیں

کسی بھی شخص یا متن کو مطالعہ کا موضوع بنانے کا مطلب اس کا تنقیدی جائزہ لینا ہے۔ تعلیم کا مطلب تبلیغ نہیں ہے۔ مذہب کے مطالعہ کے حوالے سے ایک بحران پیدا ہوتا ہے کیونکہ مذہبی لوگ مذہب کو عقیدے کا موضوع سمجھتے ہیں تنقید کا نہیں۔ لیکن عقیدت اور جذبے سے آزادی کلاس میں داخل ہونے کی پہلی شرط ہے۔

فرقہ پرست سیاست کی حکمت عملی کے سہارے عام آدمی پارٹی کہاں تک جا سکتی تھی؟

‘انڈیا اگینسٹ کرپشن’ کی بے اُصولی سے قطع نطر اپنی فرقہ پرست سیاست کی ہوشیاری کا مظاہرہ عآپ نے گزشتہ 11 سالوں میں بارہا کیا۔ ہر بار کہا گیا کہ وہ اپنے آئیڈیل ازم یا مثالیت پسندی کی منکر ہے۔ لیکن آج تک کسی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ آئیڈیل ازم کیا تھا۔ پھر ہم کس آئیڈیل سیاست سے دھوکے پر ماتم کناں ہیں؟

شاہین باغ سے پارلیامنٹ تک: تشدد بی جے پی کا سیاسی حربہ

بی جے پی نے 19 دسمبر کو جو کچھ بھی کیا اس کی سنگینی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تشدد کے بعد ہمیشہ شک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ دو فریق بن جاتے ہیں۔ دوسرے فریق کو وضاحت پیش کرنی پڑتی ہے۔ بی جے پی ہر عوامی تحریک یا اپوزیشن کے احتجاج کے دوران تشدد کا سہارا لےکر یہی کرتی ہے۔

ہندو اپنے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

نسل در نسل ہم یہ مانتے رہے ہیں کہ ہندو کا متضاد لفظ مسلمان ہے۔ میں نے بچپن میں سنا تھا کہ مسلمان ہر کام ہندوؤں کے برعکس کرتے ہیں۔ یہی بات میری بیٹی کو اس کی ٹیچر نے بتایا۔ ہندو سمجھتے ہیں کہ مسلمان شدت پسند اور تنگ نظر ہوتے ہیں، ظالم ہوتے ہیں اور انہیں بچپن سے ہی تشدد کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کی مسجدوں میں اسلحے رکھے جاتے ہیں۔

کسی کے دین کی توہین سے بڑا کوئی گناہ نہیں؛ آج کا ہندو یہ کیوں بھول گیا ہے؟

اس نئے ہندو حق اور اختیارات کی بدولت کوئی بھی ہندو کسی بھی مسلمان سے کسی بھی موضوع پر پوچھ گچھ کرسکتا ہے۔ اسے ‘جئے شری رام’ کا نعرہ لگانے پر مجبور کر سکتا ہے ، کسی مسلمان کا ٹفن کھول کر دیکھ سکتا ہے، اس کا فریج چیک کر سکتا ہے، اس کی نماز میں خلل ڈال سکتا ہے۔

مسلمانوں کا اپنے لیے آواز اٹھانا شہری ہونے کے احساس کو بیدار کر رہا ہے

ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف غیر مسلم بھی بول رہے ہیں، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے کہ مسلمانوں کو اپنے حقوق کے لیے یا اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف تنہا آواز نہیں اٹھانی چاہیے۔

تاریخ جسٹس چندر چوڑ کو کیسے یاد رکھے گی، یہ انہوں نے خود طے کر دیا ہے

ہندوستان کی تاریخ میں یہ درج کیا جائے گا کہ جب ہندوستانی سیکولرازم کی عمارت گرائی جارہی تھی تو ہمارے کئی جج صاحبان نے اس کی بنیاد کھودنے کا کام کیا تھا۔ اس میں جسٹس چندر چوڑ کا نام سرخیوں میں ہوگا۔

شیخ حسینہ نے جو پولنگ بوتھ پر نہیں ہونے دیا، وہ آخرکار سڑکوں پر ہوکر رہا

شیخ حسینہ کے خلاف ہوئی بغاوت صرف اسی صورت میں اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکتی ہے کہ وہ طلبہ کی بات سنے؛ یہ تحریک ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی تحریک ہے جس میں کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیں ہوگا۔ کسی کے ساتھ کسی قسم کی تفریق نہیں کی جائے گی۔

کیا ساون میں یا کانوڑ یاترا کے دوران مسلمانوں کا چھوا کھانا ہندوؤں کے لیے ممنوع ہوگا؟

پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں نے جان بوجھ کر دکانوں کے نام ایسے رکھے جن سے کانوڑیوں کو بھرم ہوگیا۔ کیا پولیس کو ایسا کوئی کیس ملا ،جس میں کانوڑیوں کو مسلمانوں نے مومو میں بند گوبھی کی جگہ قیمہ کھلا دیا ہو؟ کیا کانوڑیے سبزی کا مطالبہ کر رہے تھے اور انہیں گوشت کی کوئی چیز بیچ دی گئی؟

رام مندر تحریک کو ہرانے کی بات کہنا حقیقت سے زیادہ راہل گاندھی کے ارادے کا بیان ہے

راہل گاندھی کا یہ کہنا کہ ‘ہم نے رام مندر تحریک کو ہرا دیا ہے، وہی لال کرشن اڈوانی نے جس کی قیادت کی تھی’، آئیڈیالوجیکل وارننگ ہے۔ اصل لڑائی اس نظریے سے ہے جس نے رام جنم بھومی تحریک کو جنم دیا۔ یعنی لڑائی آر ایس ایس کے ہندو راشٹر کے تصور سے ہے۔

عوام نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ انہیں وزیر اعظم کے طور پر کوئی شہنشاہ نہیں چاہیے

مودی نے اپنے ووٹروں سے مسلم مخالف مینڈیٹ مانگا تھا۔ انہوں نے یہ کہہ کر ڈرایا تھا کہ اپوزیشن پارٹی کانگریس ان کی جائیداد اور دیگر وسائل چھین کر مسلمانوں میں تقسیم کر دے گی۔ بی جے پی کو واضح اکثریت نہ ملنا اس بات کا اشارہ ہے کہ ہندوستان کو نفرت کی یہ سیاست قبول نہیں ہے۔

لوک سبھا انتخابات اور ’دی ڈکٹیٹر‘ کی دوڑ

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت انتخابات کے آغاز کے اعلان سے پہلے سرکاری اخراجات پر بڑے پیمانے پر انتخابی مہم چلا چکی ہے۔ اس طرح وہ اس ریس میں پہلے ہی دوڑنا شروع کر چکی تھی جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس کے آغاز کے اعلان کا انتظار کر رہی تھیں۔