Author Archives

اپوروانند

راہل گاندھی، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

رام مندر تحریک کو ہرانے کی بات کہنا حقیقت سے زیادہ راہل گاندھی کے ارادے کا بیان ہے

راہل گاندھی کا یہ کہنا کہ ‘ہم نے رام مندر تحریک کو ہرا دیا ہے، وہی لال کرشن اڈوانی نے جس کی قیادت کی تھی’، آئیڈیالوجیکل وارننگ ہے۔ اصل لڑائی اس نظریے سے ہے جس نے رام جنم بھومی تحریک کو جنم دیا۔ یعنی لڑائی آر ایس ایس کے ہندو راشٹر کے تصور سے ہے۔

نریندر مودی اور سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت۔(تصویر بہ شکریہ: YouTube/narendra modi)

مودی آر ایس ایس کے حقیقی ’سپوت‘ ہیں اور سنگھ مودی سے سب سے زیادہ فیض اٹھانے والا

بھاگوت نے اپنے حالیہ ‘پروچن’ میں کہا کہ الیکشن میں کیا ہوتا ہے اس میں آر ایس ایس کے لوگ نہیں پڑتے، لیکن مہم کے دوران وہ لوگوں کے خیال اور نظریے کی تطہیر کرتے ہیں۔ تو اس بار جب ان کے سابق پرچارک نریندر مودی اور بی جے پی نفرت کا پرنالا بہا رہے تھے تو سنگھ کس طرح کی تطہیرکر رہا تھا؟

2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں نریندر مودی۔ (تصویر بہ شکریہ: Facebook/@JagatPrakashNadda)

عوام نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ انہیں وزیر اعظم کے طور پر کوئی شہنشاہ نہیں چاہیے

مودی نے اپنے ووٹروں سے مسلم مخالف مینڈیٹ مانگا تھا۔ انہوں نے یہ کہہ کر ڈرایا تھا کہ اپوزیشن پارٹی کانگریس ان کی جائیداد اور دیگر وسائل چھین کر مسلمانوں میں تقسیم کر دے گی۔ بی جے پی کو واضح اکثریت نہ ملنا اس بات کا اشارہ ہے کہ ہندوستان کو نفرت کی یہ سیاست قبول نہیں ہے۔

Illustration: Pariplab Chakraborty

لوک سبھا انتخابات اور ’دی ڈکٹیٹر‘ کی دوڑ

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت انتخابات کے آغاز کے اعلان سے پہلے سرکاری اخراجات پر بڑے پیمانے پر انتخابی مہم چلا چکی ہے۔ اس طرح وہ اس ریس میں پہلے ہی دوڑنا شروع کر چکی تھی جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس کے آغاز کے اعلان کا انتظار کر رہی تھیں۔

ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر۔ (تصویر بہ شکریہ: شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ)

کیا اس وقت رام مندر ہندوؤں کی مذہبیت کو ظاہر کر رہا ہے؟

ایودھیا کو ہندوستان کی ، یا کہیں کہ ہندوؤں کی مذہبی راجدھانی کے طور پر قائم کرنے کے لیے سرکار کی سرپرستی میں مہم چل رہی ہے۔ 22 جنوری 2024 کو لوگوں کے ذہنوں میں 26 جنوری یا 15 اگست سے بھی بڑا اور اہم دن بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

دیوالی 2023 کے لیے سجائے گئے ایودھیا کا زیر تعمیر رام مندر۔ (تصویر بہ شکریہ: شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ)

بائیس جنوری 2024 ایک طرح سے سیاست کی حقیقت اور سچائی کا امتحان ہے

چار شنکراچاریوں نے رام مندر کی تقریب میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ یہ کوئی مذہبی تقریب نہیں ہے، یہ بی جے پی کی سیاسی تقریب ہے۔ پھر یہ سادہ سی بات کانگریس یا دیگر پارٹیاں کیوں نہیں کہہ سکتیں؟

 (تصویر بہ شکریہ: وکی پیڈیا/دی وائر)

فصیح البیانی کا مطلب راست گوئی اور ایمانداری نہیں ہے

سی جے آئی کا انٹرویو یاد دلاتا ہے کہ اپنی باتوں میں فصاحت اور بلاغت پیداکرنا ایک فن ہے اور لوگ اس میں ماہر ہوسکتے ہیں، لیکن کیا وہ ایمانداری سے بول رہے ہیں؟ چالاک مقرر اپنے لیے ایک خاص پہلو کا انتخاب کرتے ہیں یا دیے گئے پہلو کے لیے دلائل اکٹھا کرتے ہیں۔ وہ یہ کہہ کر اس ذمہ داری سے خود کو بری نہیں کر سکتے کہ یہ خیال ان کا نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنے لیے ایک خاص پہلو کا انتخاب کیا ہے۔

ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر۔ (تصویر بشکریہ: شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ)

کانگریس کی بزدلی کے بغیر رام مندر نہیں بن سکتا تھا …

کانگریس والے ٹھیک کہتے ہیں کہ ان کے بغیر رام مندر نہیں بن سکتا تھا۔ لیکن یہ فخر کی نہیں بلکہ شرم کی بات ہونی چاہیے۔ کانگریس کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 1949 میں بابری مسجد میں سیندھ ماری یا کوئی نقب زنی نہیں ہوئی تھی، سیندھ ماری سیکولر ہندوستانی جمہوریہ میں ہوئی تھی۔

(تصویر بہ شکریہ: نیوز کلک/وکی میڈیا کامنز)

’نیوز کلک‘ کو عوام کو باخبر رکھنے اور خبردار کرنے کی سزا مل رہی ہے

حکومت کے جس قدم سے ملک کا نقصان ہو، اس کی تنقید ہی ملک کا مفاد ہے۔ ‘نیوز کلک’ کی تمام رپورٹنگ سرکاری دعووں کی پڑتال کرتی ہے، لیکن یہی تو صحافت ہے۔ اگرسرکار کے حق میں لکھتے اور بولتے رہیں تو یہ اس کا پروپیگنڈہ ہے۔ اس میں صحافت کہاں ہے؟

بی جے پی ایم پی رمیش بدھوری وزیر اعظم نریندر مودی کے ہمراہ۔ (تصویر بہ شکریہ: Twitter/@rameshbidhuri)

نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی مسلمانوں کے خلاف منظم طریقے سے یاوہ گوئی اور دشنام طرازی کے کلچر کو فروغ دے رہی ہے

بی جے پی کی تہذیب بد زبانی اور بدتمیزی کی تہذیب ہے۔ مخالفین اور مسلمانوں کی توہین کرکے انہیں یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ بی جے پی لیڈر کہلانے کےاہل ہیں۔ بدھوڑی اس کی تازہ ترین مثال محض ہیں۔

(السٹریشن : پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

آج کا ہندوستان 1938 کا جرمنی بن چکا ہے، یہ بار بار ثابت ہو رہا ہے

مظفر نگر کی معلمہ سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ طالبعلم کے لیے ‘محمڈن’ کی صفت کیوں استعمال کر رہی ہیں؟ وہ کہہ سکتی ہیں کہ ان کی ساری فکرمسلمان بچوں کی پڑھائی کے حوالے سے تھی۔ ممکن ہے کہ اس کااستعمال یہ پروپیگنڈہ کرنے کے لیےہو کہ مسلمان تعلیم کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہیں اور جب تک انہیں سزا نہیں دی جائے گی، وہ نہیں سدھریں گے۔

(السٹریشن: پری پلب کرورتی/ دی وائر)

پندرہ اگست 1947 کے ہندوستان کے مقابلے آج ملک میں کہیں زیادہ بٹوارہ ہے

ہندوستان میں جگہ جگہ دراڑیں پڑ رہی ہیں یا پڑ چکی ہیں۔ یہ کہنا بہتر ہو گا کہ یہ دراڑیں ڈالی جا رہی ہیں۔ ماضی کی تقسیم کو یاد کرنے سے بہتر کیا یہ نہیں ہوگا کہ ہم اپنے زمانے میں کیے جارہےسلسلے وار بٹوارے پر غور کر یں اور اسے روکنے کے لیے کچھ کریں؟

وزیر اعظم نریندر مودی تحریک عدم اعتماد پر لوک سبھا میں اپنی تقریر کے دوران۔ (اسکرین گریب بہ شکریہ: یوٹیوب/سنسد ٹی وی)

پی ایم کے خطاب پر بھلے تالیاں بجیں، عوام کو اپنے حکمراں کی شدید نرگسیت کے حوالے سے فکرمند ہونا چاہیے

افسوس کی بات تھی کہ ایک ایسے نازک وقت میں ایوان کے اندر سرکارکے لوگ ہنسی مذاق اور چھینٹا کشی کر رہے تھے، جب منی پور میں گزشتہ تین ماہ سے لاشیں دفن کیے جانے کا انتظار کر رہی ہیں۔ اتنی سنگدلی، بے رحمی اور بے حسی کے ساتھ کوئی معاشرہ کس قدر اور کب تک زندہ رہ سکتا ہے؟

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

اکثریت پسندی سے ہندوؤں کو وہ تکلیف کبھی نہیں ہو گی جو مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہوتی ہے

اکثریت پسندی (میجوریٹیرین ازم) کا جو مطلب مسلمانوں کے لیے ہے، وہی ہندوؤں کے لیے نہیں ہے ۔ وہ اس کی ہولناکی کو کبھی محسوس نہیں کر سکتے۔ مثلاً، ڈی یو کی صد سالہ تقریبات میں جئے شری رام سن کر ہندوؤں کو وہ خوف محسوس نہیں ہوگا، جو مسلمانوں کو ہو گا، کیونکہ انہیں یاد ہے کہ ان پر حملہ کرتے وقت یہی نعرہ لگایا جاتا ہے۔

Umar-Khalid

اس ملک میں ہم مسلمانوں کو مجرم مان کر کارروائی کر رہے ہیں: پروفیسر اپوروانند

ویڈیو: جے این یو کے سابق طالبعلم عمر خالد نے شمال–مشرقی دہلی میں پھوٹنے والے 2020 فسادات سے متعلق ایک کیس میں جیل میں 1000 دن پورے کر لیے ہیں۔ حال ہی میں دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند نے ان کی رہائی کی حمایت اور مطالبہ کے لیے منعقدہ میٹنگ میں اپنے خیالات پیش کیے تھے۔

فلم دی کیرالہ اسٹوری  کا پوسٹر اور فلم کے پروڈیوسرز اور دیگر اداکار اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان سے ملاقات کر تے ہوئے۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

’دی کیرالہ اسٹوری‘ سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ کے لیے دوسرے فلمسازوں کو تحریک ملے گی

‘دی کشمیر فائلز’کے بعد ‘دی کیرالہ اسٹوری’ کا بنایا جانا ایک سلسلے کی شروعات ہے۔ کم پیسوں میں، ناقص اداکاری اور ہدایت کاری کے باوجودصرف مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈے کی مدد سے اچھی کمائی کی جاسکتی ہے، کیونکہ ایسی فلموں کی تشہیر میں اب اسٹیٹ مشینری لگائی جاتی ہے اور بی جے پی کی پوری مشینری اس کے لیے کام کرتی ہے۔

(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@AkashvaniAIR)

’من کی بات‘ اسی طرح کی خود پسندی اور نرگسیت ہے جو اسٹالن یا ہٹلر کو تھی

بتایا جاتا ہے کہ سوویت یونین میں آپ اسٹالن کی آواز سے بچ نہیں سکتے تھے۔ اسٹالن کی آواز سڑکوں پر لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے آپ کا پیچھاکرتی تھی۔ ہٹلر نےسیلف پروپیگنڈے کے لیے ریڈیو کو کس طرح استعمال کیا، یہ ایک معروف حقیقت ہے۔ ہندوستان بھی اب ہٹلر اور اسٹالن کے راستے چل رہا ہے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

اب ہندوؤں کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہے

اجتماعی تشدد یا نفرت کے علاوہ بغیرکسی تنظیم کےبھی بہت سے ہندوؤں میں دوسروں کے لیےنفرت ظاہر کرنے کی ہوس فحاشی کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ان ہندوؤں میں ایسے ‘باکمال’ خطیبوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جو کھلے عام تشدد کو فروغ دیتے ہیں۔ خطیبوں کے ساتھ ساتھ ان کے سامعین کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

عتیق احمد قتل: کیا ہمیں واقعی اس قتل پر بات نہیں کرنی چاہیے؟

مجرم کے حمایتی مجرم ہی ہو سکتے ہیں اور وہ ہیں۔ اسٹیٹ کے ذریعے سماج کے ایک حصے کو قتل کاساجھے دار بنا دینے کی سازش ہمارے لیے باعث تشویش ہے۔اس کے ساتھ ہی ہماری تشویش یہ بھی ہے کہ قانون کی حکمرانی کا مفہوم عوام کے ذہنوں سے غائب ہو گیا ہے۔

(السٹرین : پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

مسلمان اتنے ہی اور اسی طرح مسلمان ہو سکتے ہیں، جتنا اور جس طرح ہندوتوادی اجازت دیں !

اتر پردیش کی مرادآباد پولیس نے بجرنگ دل کے احتجاج اور دھمکی کے بعد ایک مسلمان کی اپنی نجی عمارت میں ہو رہی نماز تراویح کو بند کروادیا۔ کیا اب یہ حقیقت نہیں ہے کہ مسلمان یا عیسائی کا چین و سکون تب تک ہے جب تک آر ایس ایس کی تنظیمیں کچھ اور طے نہ کریں؟ کیا اب ان کی زندگی غیریقینی نہیں ہو گئی ہے؟

راہل گاندھی۔ (فوٹو بہ شکریہ: Facebook/@rahulgandhi)

راہل گاندھی پر حملے کا مطلب کیا ہے؟

راہل گاندھی آر ایس ایس کی سیاست کے خلاف بولتے رہے ہیں، اس لیے انہیں تباہ یا بے اثر کیے بغیر آر ایس ایس کا ہندوستان کو ایک اکثریتی ریاست میں تبدیل کرنے کا خواب مکمل نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اور مرکزی حکومت ان پر پوری طاقت سے حملہ کر رہی ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

ہندوؤں کو ریڈیکل بنانے کی منظم کوششوں کی وجہ سے ایماندار پولیس افسران کا تشویش میں مبتلا ہونا فطری ہے

گزشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل پولیس اور انسپکٹر جنرل کی میٹنگ میں وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے بھی شرکت کی تھی۔ یہاں ریاستوں کے سب سے بڑے پولیس افسران خبردار کر رہے تھے کہ ہندوتوا دی ریڈیکل تنظیمیں ملک کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ تاہم جیسے ہی یہ خبر باہر آئی، اس رپورٹ کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

جامعہ کیمپس میں بی بی سی کی دستاویزی فلم کی اسکریننگ کے اعلان کے بعد کیمپس کے گیٹ کے باہر تعینات سکیورٹی اہلکار۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

بی بی سی ڈاکیومنٹری: ہماری یونیورسٹی کے وی سی اکثریت کی آمریت کے محافظ ہیں  

غیرت نہایت ہی غیر ضروری اور فضول شے ہے۔ اس کے بغیر انسان بنے رہنا بھلے مشکل ہو، غیرت کے ساتھ وائس چانسلر بنے رہنا ناممکن ہے۔ جامعہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وی سی وقتاً فوقتاً اس کی تصدیق کرتے رہتے ہیں۔

بابری مسجد کیس کی سماعت کرنے والی سپریم کورٹ کی بنچ میں اس وقت کے چیف جسٹس رنجن گگوئی (درمیان میں) (بائیں سے دائیں) جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس دھننجے وائی چندر چوڑ اور جسٹس ایس عبدالنذیر شامل تھے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

ہندوستان میں مسلمان یا عیسائی کے سیکولر ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ اکثریتی مطالبات کو تسلیم کرلے

جسٹس ایس اے نذیر کی الوداعی تقریب میں سپریم کورٹ بار کونسل کے صدر نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیکولر ہیں۔ ان کے خیال میں جسٹس نذیرکے سیکولر ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ بابری مسجد کے تنازعہ میں فیصلہ کرنے والی سپریم کورٹ کی بنچ کے واحد مسلمان رکن تھے، لیکن انھوں نےمندر بنانے کے لیے مسجد کی زمین کو مسجد توڑنے والوں کے ہی سپرد کرنے کے فیصلے پر دستخط کیا۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

’لو جہاد‘ کی سازشی تھیوری اب عام سماجی تاثر کا حصہ بن چکی ہے

ٹی وی آرٹسٹ تونیشا شرما کی خودکشی کے بعد بحث ذہنی صحت پر ہونی چاہیے تھی کہ اس عمر میں اتنا کام کرنے کا دباؤ کسی کے ساتھ کیا کر سکتا ہے، وہ بھی ایسی دنیا میں جہاں مقابلہ آرائی غیر معمولی ہے۔ لیکن بحث کو ‘لو جہاد’ کا زاویہ دے کر آسان سمت میں موڑ دیا گیا ہے۔

(علامتی  تصویر: پی ٹی آئی)

نیا سال: کیا کہیں کوئی امید ہے …  

نئے سال میں اصل تشویش ہندوستان میں ہندو ذہن کی تشکیل ہے جو احساس برتری کے نشے میں دھت ہے۔ مسلمان بےیارومددگارہیں۔ چند دانشور ہی ان کے ساتھ ہیں۔ کشمیر میں مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ آسام میں ان کو حاشیے میں دھکیلا جا رہا ہے اور پورے ملک میں قانون اور غنڈوں کی ملی بھگت سے ان کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

سادھوی پرگیہ/ فوٹو: پی ٹی آئی

اب نفرت کا کاروبار اور فرقہ وارانہ ایجنڈہ چلانا ہی سنت – سادھوی ہونے کی اولین شرط ہے

پچھلی صدی کی آخری دو دہائیوں میں اس بات پر بحث ہوتی تھی کہ سادھوی اوما بھارتی زیادہ پرتشدد ہیں یا سادھوی رتمبھرا۔ ان دونوں کی روایت خوب پروان چڑھی۔ اس لیے سادھوی پراچی، سادھوی پرگیہ ٹھاکر جیسی شخصیات کے لیے صرف لوگوں کے دلوں میں ہی نہیں ، بلکہ قانون ساز اسمبلیوں اور پارلیامنٹ میں بھی جگہ بنی۔

(فوٹوبہ شکریہ: پی آئی بی)

سکھ ہندوتوا کا ہتھیار بننے سے انکار کر رہے ہیں، ہندو کب اس دھوکے کو پہچان پائیں گے؟

مغلوں اور سکھ رہنماؤں کے درمیان تصادم ہوا، لیکن سکھوں نے آج اس حقیقت کو مسلمانوں کے خلاف تشدد کی سیاست کے لیے استعمال کرنے سے گریز کیا ہے۔ یہ بات آر ایس ایس اور بی جے پی کو پریشان کرتی رہی ہے۔ وہ سکھوں کو مسلمانوں کے خلاف تشدد میں ملوث کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے وہ گرو گوبند سنگھ یا گرو تیغ بہادر کو یاد کرتے ہیں۔ ارادہ انہیں یاد کرنے کا جتنا نہیں، اتنا مغلوں کی’ بربریت’ کی یاد کو زندہ رکھنے کا ہے۔

(السٹریشن: پری پلب  چکرورتی)

حکومتیں بین مذہبی رشتوں  کے لیے فکرمند ہیں، تاکہ ’لو جہاد‘ کے پروپیگنڈے کو زندہ رکھ سکیں

لڑکیاں اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہیں۔ اپنی مرضی سے رشتے بنانا چاہتی ہیں۔ اس کے لیے انہیں اپنے لوگوں سے بھاگنے کی ضرورت نہ پڑے، ایسا معاشرہ بنانے کی ضرورت ہے۔ جب تک وہ نہ بنے، تب تک ان خواتین کو اگر بچایا جانا ہے تو ان کے خاندانوں سے، بابو بجرنگی جیسے غنڈوں سے اور بجرنگ دل جیسی پرتشدد تنظیموں سے۔ لیکن اب اس فہرست میں شامل کرنا ہوگا کہ انہیں اسٹیٹ سے بھی بچانے کی ضرورت ہے۔

کےآئی ایف ایف میں امیتابھ بچن، گن شترو فلم کا پوسٹر۔ (تصویر: پی ٹی آئی/وکی پیڈیا) (درمیان میں السٹریشن: دی وائر/پری پلب چکرورتی)

جو عوام کے حق میں ناپسندیدہ سچ بولتا ہے، اقتدار اس کو عوام کا دشمن بنادیتی ہے

کولکاتہ میں منعقد فلم فیسٹیول میں ستیہ جیت رے کی ‘گن شترو’ کا ذکر کرتے ہوئے امیتابھ بچن کی یہ قیاس آرائی بالکل ٹھیک ہے کہ آج عوام کے لیے آواز اٹھانے والےلوگ رے کی فلم کے ‘ڈاکٹر گپتا’ ہی ہیں، جوعوام کو خبردار کرنا چاہتے ہیں، لیکن اقتدار اس وقت کامیاب ہو جاتی ہے جب عوام انہیں ہی اپنا دشمن سمجھ کر انہیں قتل کرنے کے لیےآمادہ ہوجائے۔

 (علامتی تصویر: رائٹرس)

ہندوؤں کو اسلام اور دوسرے مذاہب کے بارے میں کیوں جاننا چاہیے؟

آج کے ہندوستان میں، خاص طور پر ہندوؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ غیر ہندوؤں کے مذاہب، صحیفے، شخصیتوں اور ان کے مذہبی طرز عمل کو جانیں۔ مسلمان، عیسائی، سکھ یا آدی واسی تو ہندو مت کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں، لیکن ہندو اکثر اس معاملے میں صفر واقع ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگ محرم پر بھی مبارکباد دے ڈالتے ہیں۔ ایسٹر اور بڑاد دن میں کیا فرق ہے؟ اورآدی واسی عقائد کے بارے میں تو کچھ بھی نہیں معلوم ۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

حالیہ انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ مزاحمت کا وقفہ ابھی اور طویل ہونے والا ہے

ہندوستان کے لیے گجرات کے انتخابی نتائج کے نظریاتی مضمرات بہت سنگین ہوں گے۔ مسلمان اور عیسائی مخالف نفرت اور تشدد گجرات کے باہر بھی شدت اختیار کریں گے۔ مزدوروں، کسانوں، طلبہ وغیرہ کے حقوق کو محدود کرنے کے لیے قانونی طریقے اپنائے جائیں گے۔ آئینی اداروں پر بھی دباؤ بڑھے گا۔

ونایک دامودر ساورکر۔ (تصویر بہ شکریہ: savarkarsmarak.com)

کیا راہل گاندھی کو اس وقت ساورکر کی تنقید کرنی چاہیے تھی …

‘معافی ویر’ کہہ کر ساورکر کو تمسخر کا نشانہ بنانے کے بجائےہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ساورکر واد (ازم) کے معنی ومفہوم پر بات کریں۔ اگر وہ کامیاب ہو ا تو ہم سب انتخابات کے ذریعے راجا کا انتخاب کرتے رہیں گے اور ہمیں فرمانبردار رعایا کی طرح اس کے ہر حکم کی تعمیل کرنی ہوگی۔

(السٹریشن: پرپلب چکرورتی/ دی وائر)

ای ڈبلیو ایس ریزرویشن: جن کو ’وہ‘ ساتھ بٹھانا نہیں چاہتے، ان سے داخلوں اور نوکریوں میں برابری کیوں

صلاحیت کی وجہ سےمواقع ملتے ہیں۔ یہ جملہ غلط ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ موقع ملنے سے صلاحیت نمایاں ہوتی ہے۔ صدیوں سے جنہوں نے تمام مواقع اپنے لیےمحفوظ کر رکھے ہیں، وہ اپنی صلاحیتوں کو فطری اور قدرتی تصور کرنے لگے ہیں۔ وہ نت نئی چالیں اور ترکیبیں ایجاد کرتے ہیں کہ جمہوریت کی وجہ سے جو مواقع ان سے لے لیے گئے ہیں، وہ پھر سے ان کو واپس ان کو مل جائیں۔

برطانوی وزیر اعظم رشی سنک اپنی سرکاری رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر۔ (تصویر: رائٹرس)

رشی سنک کا عہدہ ہندوپن یا ہندوستانیت کی شان نہیں، برطانیہ کی تنوع پسندی ہے

رشی سنک کا وزیر اعظم بننا برطانیہ کے لیےضرور ایک قابل فخر لمحہ ہے، کیونکہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ‘بیرونی لوگوں’ کے ساتھ دوستی میں بڑی ترقی حاصل کرلی ہے۔ اس میں ہندو مذہب یا اس کے پیروکاروں کا کوئی خاص کمال نہیں ہے۔ یہ کہنا کہ برطانیہ کو بھی ہندو مذہب کا لوہا ماننا پڑا، احساس کمتری کا اظہار ہی ہے۔

 (تصویر ، بہ شکریہ: Facebook/@RSSOrg)

آبادی کے عدم توازن پر موہن بھاگوت کی تشویش: کسی کمیونٹی کا نام نہیں لیا، لیکن سنگھ کے عقلمندوں کو اشارہ ہی کافی ہے …

موہن بھاگوت نے کسی بھی برادری کا نام لیے بغیر ملک میں برادریوں کے درمیان آبادی کے بڑھتے ہوئے عدم توازن پرتشویش کا اظہارکیا۔ سنگھ شروع سے ہی اشاروں میں بات کرتا رہا ہے۔ اس سے وہ قانون کی گرفت سے بچتا رہا ہے۔ ساتھ ہی اشاروں کی زبان کی وجہ سے دانشور حضرات بھی ان کے دفاع میں کود پڑتے ہیں، جیسا کہ اس وقت سابق الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کر رہے ہیں۔

فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@AlinejadMasih

ایران میں خواتین کی بغاوت اپنے طریقے سے جینے کے حق کو پامال کیے جانے کے خلاف غم و غصے کا اظہار ہے

ایران میں اگر گشتی دستے زبردستی حجاب پہنا رہے ہیں ہیں توہندوستان میں سرکاری گشتی دستے زبردستی حجاب اتار رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ایران میں اسلامی حکومت مسلمانوں کو اپنے حساب سے پابندکرنا چاہتی ہے اور ہندوستان میں ایک ہندو حکومت مسلمانوں کو اپنے قاعدوں میں قید کرنا چاہتی ہے۔