Indian Freedom Struggle

بھگت سنگھ، فوٹو: وکی میڈیا کامنس

بھگت سنگھ کے فکر و فلسفہ کو نہیں ماننے والا رائٹ ونگ ان کو اپنا ہیرو کیوں بنانا چاہتا ہے؟

بھگت سنگھ کو اپنا ہیرو بنانے کی کوشش وہ لوگ کر رہے ہیں، جن کے اسلاف ہندوستان کی جدو جہد آزادی میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے بھگت سنگھ جیسے انقلابی لیڈروں کے فلسفے سے نہ صرف خود کو الگ تھلگ رکھا تھا بلکہ ان کی پھانسی کے وقت مجرمانہ خاموشی بھی اختیار کر لی تھی۔

بھگت سنگھ، فوٹو: وکی میڈیا کامنس

بھگت سنگھ اور نیشنل کالج

بھگت سنگھ اپنے کھلے جسم اور قد کاٹھ کی وجہ سے ہر طرح سے ہیرو لگتا تھا۔ چنانچہ جب وہ اپنی پاٹ دار آواز میں ڈائیلاگ کی ادائیگی کرتا تو ڈرامہ سامعین کے دلوں میں اُتر جاتا۔ ان ڈراموں کا مقصد بھی یہی تھاکہ انگریزوں کے خلاف آواز بلند کی جائے اور لوگوں میں دیش بھگتی کے جذبات اُبھارے جائیں۔ جلد ہی حکومت نے کالجوں میں ایسے ڈرامے کرنے پر پابندی لگادی جن میں دیش بھگتی کا پیغام ہوتا تھاکیونکہ دیش بھگتی سے مراد انگریز حکومت سے بغاوت کے سوا اور کچھ نہ تھا۔

Bhagat-Singh-3-1

بھگت سنگھ اور آج کا ہندوستان

بھگت سنگھ کی تحریروں  سے سن و سال مٹا دیجیے ،اس کے بعد  پڑھیے ،ایسا محسوس ہوگا کہ بھگت سنگھ ہمارے زمانے میں لکھ رہے ہیں موجودہ سیاسی منظر نامے اور اس کی “گودی میڈیا” کی بات کر رہے ہیں۔ بھگت سنگھ آج ہی کے دن1907کوبنگا میں پیدا […]

حکومت ہند کے چیف اکانومک ایڈوائزرسنجیو سانیال(فوٹو : ٹوئٹر /sanjeevsanyal@)

بھگت سنگھ کو بچانے کی گاندھی نے کوئی کوشش نہیں کی تھی: چیف اکانومک ایڈوائزر

گجرات یونیورسٹی میں’دی ریولیوشنریز: اے ری ٹیلنگ آف انڈیاز ہسٹری’پرتقریر کرتے ہوئے حکومت ہند کے چیف اکانومک ایڈوائزرسنجیو سانیال نے کہا کہ اگر پہلی عالمی جنگ کے لئے وہ ہندوستانی فوجیوں کو برٹش فوج میں بھیجنے کو تیار تھے تب ان کو اسی طرح کا کام کرنے کو لےکر بھگت سنگھ سے دقت کیوں تھی؟

فوٹو بہ شکریہ : وکی پیڈیا

سیڈیشن کا الزام عائد کیے جانے پر مولانا آزاد نے کیا کہا تھا

میں یقیناً یہ کہتا رہا ہوں کہ ہمارے فرض کے سامنے دو ہی راہیں ہیں؛ گورنمنٹ نا انصافی اور حق تلفی سے باز آ جائے، اگر باز نہیں آ سکتی تو مٹا دی جائے گی۔ میں نہیں جانتا کہ اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے ؟ یہ تو انسانی عقائد کی اتنی پرانی سچائی ہے کہ صرف پہاڑ اور سمندر ہی اس سے کم عمر کہے جا سکتے ہیں۔

فوٹو : پی ٹی آئی

سیڈیشن جیسا ظالمانہ قانون کیوں ختم نہیں کیا جا رہا ہے؟

اس کتاب میں سیڈیشن جیسے پیچیدہ موضوع پراس طرح اور عام فہم زبان میں بات کی گئی ہے کہ پرائمر بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔اس میں میں کچھ ایسے بھی اہم سیڈیشن معاملات پر گفتگو کی گئی ہے جس کا عام طور پر سیڈیشن سے متعلق مباحث میں ذکر نہیں ہوتا۔

علامتی تصویر /فوٹو : سوشل میڈیا

چودھری زبردست خاں : وہ گمنام مجاہد آزادی جن کو تین بار پھانسی کا پھندہ ٹوٹنے کے بعد گولی ماری گئی

ہا پوڑ میں زبردست خاں اور دوسرےشہیدوں کی یاد میں ہر برس ایک میلہ لگتا ہے جو 10مئی سے شروع ہوکر پورے ایک ماہ چلتا ہے، لیکن تعجب کی بات ہے کہ آج ہاپوڑ کے بیشتر لوگ شہید زبردست خاں کی قربانی تو کیا ان کے نام تک سے واقف نہیں ہیں۔

PTI9_25_2017_000050B

دین دیال اپادھیائے:مسلم مخالف ذہنیت کوسرکاری فلاسفرکیوں بنایا جارہا ہے؟

ان کواس طرح پیش کر نے کی کوشش کی جارہی ہے جیسے اس ملک میں گاندھی کے بعدوہی سب سے بڑے دانشور /فلاسفر ہوں ،جن کو پہچانا نہیں گیا۔تو پہلا سوال یہی ہے کہ وہ کس قسم کے فلاسفر ہیں،جن کو ان کے جنم کے 100ویں سال میں […]

Don`t copy text!