lashkar e taiba

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (فوٹو : رائٹرس)

پاکستان میں 30 سے 40 ہزار دہشت گرد اب بھی ہیں: عمران خان

امریکہ کے دورے پر گئے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے قبول کیا ہے کہ پچھلے 15 سالوں میں ان کے ملک میں 40 دہشت گردوں کے گروپ فعال رہے۔ ان کا الزام ہے کہ پچھلی حکومتوں نے پاکستان میں فعال دہشت گرد گروپوں کے بارے میں امریکہ کو سچ نہیں بتایا۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

لشکر طیبہ سے جڑے ہونے کے الزام میں بند شخص  نے رہا ہونے کے بعد کہا؛ این آئی اے کے مشورہ پر الزام قبول‌ کر لیا تھا

سال 2012 میں پانچ لوگوں کو لشکر طیبہ سے جڑے ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 7 سال بعد اس ہفتے بامبے ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا ہونے والے ان میں سے ایک محمد عرفان غوث نے دعویٰ کیا ہے کہ ہ وہ بےقصور تھے اور لمبی سماعت سے بچنے اور اپنی فیملی کو بگڑتے اقتصادی حالات سے بچانے کے لئے انہوں نے جرم قبول‌کر لیا تھا۔

علامتی تصویر : پی ٹی آئی

ایران-امریکہ تنازعہ: عام انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کا پہلا چیلنج

امریکہ نے یہ کہتے ہوئےہندوستان پر دباؤ بنایا ہے کہ اس نے پلواما حملے کے بعد جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کے ذریعہ دہشت گرد قرار دئے جانے میں ہندوستان کا ساتھ دیا تھا لہٰذا اب وہ ایران کے معاملے میں اس کا ساتھ دے۔اس بحث سے قطع نظر کہ یہ دلیل کتنی صحیح یا غلط ہے، ہندوستان کے لئے امریکی مانگ کو خارج کرنا آسان نہیں۔

فوٹو: رائٹرس

کیا پاکستان مودی کی جیت کے لئے جیش محمد کا استعمال کر رہا ہے؟

پاکستان کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کے لئے نریندر مودی کی ایک اور جیت سے اچھا کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ان کی پالیسیوں نے پاکستانیوں کو یہ یقین دلانے کا کام کیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان کبھی بھی محفوظ نہیں رہ سکتے ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

گذشتہ تین برسوں میں 280 کشمیری نوجوانوں نے ہتھیار اٹھائے: جموں وکشمیر حکومت

’حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد سے اب تک قریب دو سو مقامی نوجوانوں نے بندوقیں اٹھاکر جنگجو تنظیموں بالخصوص حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔‘

Don`t copy text!