خاص خبر

امریکی قانون سازوں نے عمر خالد کی طویل حراست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستانی سفیر کو خط بھیجا

امریکی قانون سازوں نے عمر خالد کو بغیر مقدمہ چلائے طویل عرصے سے حراست میں رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور واشنگٹن میں ہندوستانی سفیر ونے موہن کواترا کو خط لکھ کر ان کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی قانون سازوں نے عمر خالد کو بغیر کسی مقدمے کے طویل عرصے تک حراست میں رکھنے پر واشنگٹن میں ہندوستانی سفیر ونے موہن کواترا کو خط لکھا ہےاور ضمانت دینے کا مطالبہ کیاہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ اور اسکالر عمر خالد کو بغیر مقدمہ چلائے طویل عرصے تک حراست میں رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس معاملے پر واشنگٹن میں ہندوستانی سفیر ونے موہن کواترا کو خط لکھا ہے  ۔

دی ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، ضمانت کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی کانگریس اور سینیٹ کے اراکین نے خط میں کہا ہے کہ تقریباً پانچ سال سے خالد کا جیل میں بند رہنا ‘عدالتی عمل، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے تحت ہندوستان کی ذمہ داریوں پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔’

خط پر دستخط کرنے والوں میں سینئر ڈیموکریٹک رہنما اور کانگریس مین جیمز پی میک گورن اور جیمی ریسکن، سینیٹر کرس وین ہولین اور پیٹر ویلچ اور کانگریس ممبر پرمیلا جئے پال، جین شاکوسکی، راشدہ طلیب اور لائیڈ ڈوگیٹ شامل ہیں۔

دستخط کنندگان نے ہندوستان-امریکہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے تناظر میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ہونے کے ناطے دونوں ممالک کی آزادی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور تکثیریت کے تحفظ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ‘اسی احساس کے ساتھ ہم ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔’

اراکین پارلیامنٹ نے یہ بھی ذکرکیا کہ خالد کی گرفتاری 2019 کے آخر میں منظور ہونے والے شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے)کے خلاف مظاہروں کے بعد ہوئی۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے ترجمان نے اس گرفتاری کو ‘بنیادی طور پر امتیازی’ قرار دیا تھا۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں، قانونی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے تحقیقات اور ٹرائل کی شفافیت پر بارہا سوال اٹھایا گیا ہے۔

امریکی قانون سازوں نے یہ بھی کہا کہ خالد کے خلاف دہشت گردی کے الزامات ‘خفیہ گواہوں اور غلط انداز میں تشریح کی گئی تقاریر’ پر مبنی ہیں، جبکہ آزادانہ تحقیقات میں ان کے کسی دہشت گردانہ سرگرمی سے منسلک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

یہ خط نیویارک شہر کے نئے میئر ظہران ممدانی کی طرف سے بھیجے گئے ایک علیحدہ خط کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے عمر خالد کو یاد کرتے ہوئے ان کے والدین سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے ایک نوٹ لکھا تھا۔

بی جے پی نے راہل گاندھی کو نشانہ بنایا

اس خط کے سامنے آنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس خط پر سخت اعتراض ظاہر کیا اور اس کے لیے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو ذمہ دار ٹھہرایا  ہے۔

بی جے پی کے رہنما پردیپ بھنڈاری نے کہا کہ خط پر دستخط کرنے والے آٹھ امریکی قانون سازوں میں شامل امریکی نمائندے جین شاکوسکی نے 2024 میں راہل گاندھی اور ‘ہندوستان مخالف’ الہان ​​عمر سے ملاقات کی تھی۔

بھنڈاری نے اس میٹنگ کی ایک تصویر شیئر کی، جس میں راہل گاندھی، جین شاکوسکی، سیم پترودا اور دیگر نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا،؛ جب بھی ہندوستان مخالف بیانیہ بیرون ملک پھیلایا جاتا ہے تو بار بار راہل گاندھی کا نام پس منظر میں آتا ہے۔’

بھنڈاری کا دعویٰ ہے کہ 2024 میں راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد جین شاکوسکی نے اگلے سال ‘کمبیٹنگ انٹرنیشنل اسلامو فوبیا ایکٹ ‘متعارف کرایا تھا، جس میں ہندوستان کے اوپر’مسلم برادریوں کے خلاف کارروائیوں’ کا الزام لگایا گیا تھا۔

انہوں نے  مزید کہا،’وہی جین شاکوسکی اب ہندوستانی حکومت کو خط لکھ کر عمر خالد کے بارے میں ‘تشویش’ کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ خالد یو اے پی اے کے تحت فسادات اور تشدد سے متعلق سنگین مقدمات میں ملزم ہیں۔’

بھنڈاری نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جو لوگ ‘ہندوستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، اس کی منتخبہ حکومت کو بدنام کرنا چاہتے ہیں اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، وہ سب راہل گاندھی کےارد گرد کسی نہ کسی طریقے سے جمع ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔’

قابل ذکر ہے کہ 11 دسمبر کو دہلی کی ایک عدالت نے عمر خالد کو بہن کی شادی میں شرکت کے لیے دو ہفتے کی عبوری ضمانت دی تھی۔ خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اور میران حیدر کے ساتھ 2020 کے شمال-مشرقی دہلی فسادات سے متعلق ‘بڑی سازش’ کیس کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔