تشدد کے تئیں ریاست کی رواداری کی پالیسی کے پیش نظر معاشرے میں تشدد کے کلچر کا پھیلنا کوئی حیران کن واقعہ نہیں ہے۔ کشمیری طلباء اور تاجروں پر حملے پر قومی خاموشی سے پتہ چلتا ہے کہ چونکہ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ وہ پورے ہندوستانی نہیں ہیں، اس لیے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ہم کسی نہ کسی طرح کسی کمیونٹی اور افراد پر غیر ہندوستانیت کا الزام لگا سکتے ہیں اور انہیں مار سکتے ہیں۔

‘میں ہندوستانی ہوں، چینی نہیں’ : مرنے سے پہلے اینجل چکما کے یہ آخری الفاظ تھے۔ کیا ہندوستان کے لوگ ان الفاظ کو سن پا رہے ہیں اور ان کے معنی سمجھ پا رہے ہیں؟ کچھ لیڈروں نے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اینجل ایک قابل فخر ہندوستانی تھا۔ تقریباً سب نے کہا کہ شمال-مشرق کے لوگوں کو ہندوستانی نہیں سمجھا جاتا، ان کے خلاف تعصب کارفرما ہے جو اس قتل کے پیچھے بھی تھا۔ ان باتوں سے ایک نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستانیوں کو ہندوستانیوں کا قتل نہیں کرنا چاہیے۔
ہندوستانیوں میں بہت زیادہ تنوع ہے، لیکن سب ہندوستانی ہیں، اس لیے ہمیں ایک دوسرے کو نہیں مارنا چاہیے۔ شمال-مشرق کے لوگوں نے بھی اس قتل کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’ہم ہندوستانی ہیں، چینی نہیں‘۔
دہرادون میں تریپورہ کے چکما کمیونٹی کے اینجل چکما کےقتل کے بعد سامنے آئے رد عمل ہمارے معاشرے کے بارے میں کچھ ایسا ظاہر کرتے ہیں جس پر ہمیں فکرمند ہونا چاہیے۔ اس میں اینجل کے قتل کے خلاف بولتے ہوئے بار بار اس کےہندوستانی ہونے کی حقیقت پر زور دیا گیا ہے۔ لیکن ہر کوئی اپنی سہولت اور سیاسی وجوہات کی بنا پر اپنے حقائق خود ایجاد کر سکتا ہے۔
اس قتل کو نسلی تعصب کی بنیادوں پر کیا گیاقتل بتایا گیا تھا۔ اینجل کے بھائی نے بتلایا کہ انہیں ‘چنکی، چینی اور مومو’ کہا گیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اینجل کے خلاف تشدد کے پیچھے نسلی نفرت ہی کارفرما تھی۔ شمال-مشرق کے لوگ پورے ہندوستان میں سڑکوں پر اس طرح کے طعنے سننے کے عادی ہیں۔ اس لیے اینجل کے ساتھ یہی ہوا تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔
لیکن دہرادون پولیس چیف کا کہنا ہے کہ اینجل چکما کا قتل نسلی نفرت کی وجہ سے نہیں ہوا تھا۔ ان کی تحقیقات کے مطابق، حملہ آوروں میں سے ایک خود شمال-مشرق سے ہے اور ایک نیپالی ہے، اس لیے اس قتل کی وجہ شمال-مشرق کے لوگوں سے نفرت نہیں ہو سکتی۔ پولیس کے مطابق، وہ ایک دوسرے کو مذاق میں ‘چنکی، مومو’ کہہ رہے تھے جس پر اینجل اور اس کے بھائی نے اعتراض کیا۔ بات بڑھ گئی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جھگڑے میں ان لڑکوں نے اینجل پر حملہ کر دیاجو جان لیوا ثابت ہوا۔ اس لیے اسے نسلی یا شناخت پر مبنی تشدد نہیں سمجھا جا سکتا۔
ممکن ہے، پولیس ٹھیک کہہ رہی ہو، لیکن اینجل کے خاندان اور شمال-مشرق کے لوگ ان کی بات ماننے کو تیار نہیں۔
آج ہم ہندوستانیوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی پولیس پر بھروسہ نہیں کر پاتے۔ کیا وہ اس کے لیے ذمہ دارنہیں؟ دوسرے ممالک میں ہم اس کا انتظار کرتے ہیں کہ پولیس اپنی تفتیش میں کیا کہتی ہے۔ ہندوستان میں اس کا انتظار نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر، جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں 2016 کے تشدد کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بغیر کسی تحقیقات کے اعلان کر دیا کہ عمر خالد کے سرحد پار دہشت گردوں سے تعلقات ہیں۔ اس کے بعد سے ہم نے اکثر وزیر داخلہ اور دیگر وزراء کو اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ پولیس بھی بغیر تفتیش کے بیانات جاری کرتی رہی ہے۔
پولیس چیف کے بیان کو مان بھی لیں تو اس واقعہ سے کیا پتہ چلتا ہے؟
یہ کہ ہندوستان میں قانون کی حکمرانی کا خوف ختم ہو گیا ہے۔ تشدد کی ایک خاص قسم کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ اگر یہ مسلمانوں یا عیسائیوں کے خلاف ہے، تو پولیس اکثر نرمی سے کام لیتی ہے یا اس کے لیے کوئی بہانہ تلاش کرتی ہے۔ اگر بہت زیادہ شور ہو اور تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہو تو وہ متاثرین کے خلاف مقدمات بھی درج کرتی ہے۔ اس طرح تشدد کی شدت کو کم کیا جاتا ہے اور اس کا جواز تلاش کیا جاتا ہے۔
ایسے بہت سے واقعات میں تشدد کرنے والے ہی مظلوم نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اخلاق احمد قتل کیس کے ملزمان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اتر پردیش کی حکومت نے عدالت سے کہا کہ بیچارےملزمان برے لوگ نہیں ہیں اس لیے ان کےخلاف مقدمہ واپس لے لینا چاہیے۔
مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد کوئی اپنے آپ نہیں ہو رہا۔ بچے اور نوجوان دیکھتے ہیں کہ جواقتدار میں ہیں، وہ نفرت اور تشدد کی تشہیر کرتے ہیں اور ان کے بڑے بزرگ ان کی تعریف کرتے ہیں۔ اس طرح معاشرے میں نفرت اور تشدد کے لیے نہ صرف رواداری بڑھ رہی ہے بلکہ یہ قابل قبول اور قابل ستائش بھی ہوتی جا رہی ہے۔
تشدد کے تئیں ریاست کی رواداری اور ایک خاص قسم کے تشدد کی حوصلہ افزائی کی اس کی پالیسی کی وجہ سے معاشرے میں تشدد کے کلچر کا پھیلنا کوئی حیران کن واقعہ نہیں ہے۔
لیکن اینجل کا قتل ذرامختلف تھا۔ وہ تریپورہ کا تھا اور چکما قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سیاست میں چکما ابھی تک دشمن کے طور پر نشان زد نہیں گئے ہیں۔ شمال-مشرق بھی بی جے پی کی سیاست کے لیے اہم ہے۔ وہاں ’بیرونی لوگوں‘ کی مخالفت کی آڑ میں مسلم مخالف نفرت کو آسانی سے متحرک کیا جا سکتا ہے۔ اور اینجل اس کمیونٹی سےبھی نہیں تھا جس کے خلاف تشدد بی جے پی کی سیاست کے لیے کارآمد ہو۔ نتیجتاً جیسے جیسے ہنگامہ بڑھتا گیا، بی جے پی لیڈروں اور وزراء کو ان کے خلاف بولنے پر مجبور ہونا پڑا۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے ایک مکمل بیان جاری کیا، اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ نے تریپورہ کے وزیر اعلیٰ اور اینجل کے اہل خانہ کو فون کرتے ہوئے اپنا ایک ویڈیو جاری کیا۔
یہ سب اتنا غیر معمولی تھا کہ اس نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ ہمیں یاد نہیں ہے کہ بی جے پی کے لیڈروں یا وزراء نے اتراکھنڈ میں تشدد کے دیگر واقعات کے بارے میں اس سےپہلے کچھ کہا ہو: یہ بھی نہیں کہ قانون کی حکمرانی میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے، کہ لوگ اپنے تعصبات کی وجہ سے قتل نہیں کر سکتے۔ جب شال فروش کشمیریوں پر حملے ہوئے تو وزیر اعلیٰ، پولیس چیف اور بی جے پی لیڈروں نے برا نہیں مانا۔ یہ حملے جاری ہیں اور روزمرہ کا واقعہ بن چکے ہیں، اس قدر کہ ان پر بات کرنا اپنے آپ کو دہرانے کے مترادف ہے۔
اپریل 2025 میں الجزیرہ میں کوشک راج اور سرشٹی جیسوال نے اتراکھنڈ کے ایک شہر نندا نگر میں مسلم مخالف تشدد کو سمجھنے کے لیے احمد حسن کی کہانی لکھی۔ ان کی ڈرائی کلیننگ کی دکان ہے۔ شہر کے ایک مسلمان حجام پر ‘لو جہاد’ کا الزام لگا کر وہاں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف تشدد کا منصوبہ بنایا گیا۔ جو چند مسلمان شہر میں رہ گئے تھے وہ بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ احمد حسن نے ہمت کی اور واپس آئے، لیکن ایک طویل عرصے تک انہیں ہندوؤں کے معاشی اور سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
کہانی کے آخر میں کوشک اور سرشٹی بتاتے ہیں کہ طویل عرصے تک بائیکاٹ کے بعد ان کی دکان پر وہ ہندو آیاجس نے شہر سے مسلمانوں کو باہر کرنے کے نعرے لگاتے ہوئے جلوس نکالا تھا ۔ حسن کی بیوی نے اس سے پوچھا،’آپ نے مجھے بہن کہا تھااورآپ مسلمانوں کو شہر چھوڑنے کو کہہ رہے تھے؟’ اس نے کہا جو ہوا اسے بھول جاؤ۔ تمہارا کام بہت اچھا ہے اسی لیے میں تمہارے پاس آیا ہوں۔’
اگر کام نہ ہو؟ اگر احمد معاشی طور پر اس کے لیے مفید نہ ہو؟ پھر اسے شہر میں رہنے کا حق دیا جائے گا یا نہیں؟ کون کہہ سکتا ہے کہ کب اس افادیت پر قوم پرست نفرت کا سایہ حاوی ہوجائے گا؟ جس نے نفرت پھیلائی، وہ حق کے ساتھ اس کے پاس آ سکتا ہےجو اس نفرت کی وجہ سے تشدد کا شکار ہوا؟ اسے اس نفرت انگیز پروپیگنڈے کی کوئی قیمت ادا نہیں کرنی پڑی۔ وہ نفرت، تشدد اور سخاوت کے تمام حقوق سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ اس کے پاس نفرت پھیلانے کی وجہ ہے، اور اس کے پاس بعد میں سخی بننے کی وجہ بھی ہے۔
احمد حسن دیکھنے میں’ہندوستانی‘ہیں۔ انہیں خود کے لیے’چنکی یا مومو’ نہیں سننا پڑے گا۔ ان کے لیے دوسرے لفظ محفوظ ہیں:’پاکستانی،دہشت گرد، باہری، گھس پیٹھیا،دیمک،بابر کی اولاد’ اور دیگر بیہودہ اصطلاحات۔ ہندوستان میں ہندوؤں کو کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ وہ مسلمانوں کے لیے ایسے الفاظ استعمال نہ کریں۔ یہ کہہ کر کہ یہ ایک مذاق ہے، وہ نفرت کی اس سیاست کی مخالفت کرنے والوں سے بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنی چھپی ہوئی نفرت کو نظر انداز کر دیں۔ عیسائیوں کے لیے بھی گالیاں موجودہیں۔
یہ کسی نے نہیں کہا کہ ہندوستان میں کسی کی حفاظت کے لیے اس کا ہندوستانی ہونا اور نظر آنا شرط نہیں ہونا چاہیے۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہر انسان کو جینے کا حق ہے اور ہمیں کسی کو مارنے کا کوئی حق نہیں۔ کیا ہندوستانیت کی حفاظتی ڈھال کے بغیر ہندوستان میں زندہ رہنا ناممکن ہے؟ اگر ہم اس اصول کو مان لیں تو آج تشدد پر اجارہ داری رکھنے والے کہہ سکتے ہیں کہ ہم انہیں ہندوستانی نہیں مانتے۔ پھر؟ کیا ان پر تشدد جائز ہے؟
کشمیری طلباء اور تاجروں پر حملوں کے بارے میں قومی خاموشی یہ بتاتی ہے کہ چونکہ ان کے بارے میں فرض کر لیا گیا ہے کہ وہ پورے ہندوستانی نہیں ہیں، اس لیے ان پرتشدد کیا جا سکتا ہے۔ ہم کسی نہ کسی طرح کسی کمیونٹی پر، چند افراد پر غیر ہندوستانیت کا الزام لگا سکتے ہیں اور پھر انہیں قتل کر سکتے ہیں۔
جب تک مجھے اپنے اوپر تشدد کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے کہنا پڑے کہ ‘میں ہندوستانی ہوں’، اس وقت تک ہندوستانی ہونے پر فخر کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
اپوروانند دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔
