نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی جانب سے عمر خالد کو لکھے گئے خط پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی نے کہا کہ ہندوستان اپنے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔

عمر خالد۔ (السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)
نئی دہلی: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی جانب سے عمر خالد کو لکھے گئے خط پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جمعہ کو کہا کہ ہندوستان اپنے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق،پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی ترجمان گورو بھاٹیہ نے کہا، ‘اگر کوئی کسی ملزم کی حمایت کرتا ہے اور ہندوستان کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرتا ہے تو ہندوستان اسے برداشت نہیں کرے گا۔ ہندوستان کے ہر شہری کو ملک کی عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے ۔’
انہوں نے مزید کہا،’ باہری شخص ہماری جمہوریت اور عدلیہ پر سوال اٹھانے والا کون ہوتاہے؟ وہ بھی کسی ایسے شخص کی حمایت میں جو ہندوستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے؟ یہ ٹھیک نہیں ہے… جب بات ہندوستان کی خودمختاری کی ہو گی تو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں 140 کروڑ ہندوستانی اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔’
واضح ہو کہ اس دوران امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے ہندوستان کے امریکہ میں مقیم سفیر ونے کواترا کو ایک خط لکھ کر عمر خالد کی ضمانت اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ‘منصفانہ اور بروقت ٹرائل’ کا مطالبہ کیا ہے۔
جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے سابق رہنما عمر خالد – جو 2020 کے شمال-مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مجرمانہ معاملات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں جیل میں ہیں – کو ہاتھ سے لکھے ایک خط میں ممدانی نے کہا کہ وہ اکثر تلخی پر خالد کے خیالات کے بارے میں سوچتے ہیں۔
‘پیارے عمر’ سے مخاطب کیا گیا یہ خط، خالد کے والدین کو دسمبر 2025 میں ان کے امریکہ کے دورے کے دوران دیا گیا تھا۔ یہ خط جمعرات کو عام کیا گیا- اسی دن جب ہندوستانی نژاد ممدانی نے نیویارک کے میئر کے طور پر حلف اٹھایا۔
اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر بھاٹیہ نے کہا کہ ہندوستان اس طرح کی ‘مداخلت’ کو ‘برداشت نہیں کرے گا۔’ بھاٹیہ نے راہل گاندھی پر بھی حملہ کیا اور الزام لگایا کہ کانگریس لیڈر اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران ‘ہندوستان مخالف قوتوں اور ہندوستان کے دشمنوں’ سے ملتے ہیں اور انہیں ملک کے خلاف ‘جھوٹ پھیلانے’ کی ترغیب دیتے ہیں۔
خالد کی ساتھی بنجیوتسنا لاہری کی جانب سے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کیے گئے خط کی تصویر میں لکھا تھا،’میں اکثر کرواہٹ پرآپ کے الفاظ اور اسے اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دینے کی اہمیت کے بارے میں سوچتا ہوں۔ آپ کے والدین سے ملنا خوشی کی بات تھی، ہم سب آپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔’
لاہری نے بتایا کہ خالد کے والدین – صاحبہ خانم اور سید قاسم رسول الیاس – خاندان میں ہونے والی ایک شادی سے قبل اپنی بیٹی سے ملنے امریکہ گئے تھے۔
انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے الیاس (70) نے کہا، ‘ہم نے 9 دسمبر کو ممدانی سے ان کے امریکہ کے دورے کے دوران ملاقات کی تھی… اس سے قبل (2023 میں) ہم نے انہیں عمر کی ڈائری سے ایک خط پڑھتے ہوئے سنا تھا اور ہم ان سے ملنا چاہتے تھے، انہوں نے ہمیں 25 منٹ کا وقت دیا، ملاقات کے اختتام پر، انہوں نے کہا کہ وہ عمر کے ساتھ ایک خط شیئر کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے جانے سے پہلے چند سطریں لکھیں۔’
انہوں نے کہا کہ جب عمر اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے چند دنوں کے لیے گھر آیا تو ہم نے اسے خط دکھایا۔
غور طلب ہے کہ عمر خالد کو بہن کی شادی میں شرکت کے لیے دو ہفتے کی عبوری ضمانت دی گئی تھی۔
ہندوستانی سفیر کو خط
امریکی نمائندے جم میک گورن اور جیمی ریسکن ان آٹھ قانون سازوں میں شامل ہیں، جنہوں نے سفیر کواترا کو خط لکھ کر’فروری 2020 کے دہلی تشدد سے متعلق مقدمات میں ملزمان کی طویل زیر التوا حراست ‘ پر’مسلسل تشویش’ کا اظہار کیا ہے ، جن میں خالد بھی شامل ہیں۔
خط میں کہا گیا،’امریکہ اور ہندوستان کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری ہے، جو تاریخی طور پر جمہوری اقدار، آئینی طرز حکمرانی اور عوام سے عوام کے مضبوط روابط پر مبنی ہے۔’
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے دونوں ممالک آزادی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور تکثیریت کے تحفظ اور اس کوبرقرار رکھنے میں مشترکہ مفاد رکھتے ہیں۔ ‘اسی احساس کے ساتھ ہم’ نے خالد کی حراست کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ خالد کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت لگائے گئے الزامات میں پانچ سالسے بغیر ضمانت کے حراست میں رکھا گیا ہے،جبکہ انسانی حقوق کے آزاد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ بین الاقوامی معیارات – جیسے قانون کے سامنے مساوات، مناسب عمل، اور تناسب -کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے ۔
